"MAHG" (space) message & send to 7575

بدلتا ورلڈ آرڈر اور شمالی کوریا

کِم اِل سنگ (Kim il Sung) نے نو ستمبر 1948ء کو ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا ‘ جسے شمالی کوریا بھی کہا جاتا ہے‘ کی بنیاد رکھی۔ موجودہ حکمران کِم جونگ اُن (Kim Jong Un) کا تعلق کِم خاندان کی تیسری نسل سے ہے جو 2011ء سے شمالی کوریا میں برسراقتدار ہیں۔ کِم جونگ اُن نے 2026ء کے پارلیمانی انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ کِم جونگ اُن اپنی سخت حکمرانی‘ فوجی طاقت اور عالمی سیاست میں اہم کردار کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں اور اقتصادی بحرانوں اور مسائل کے باوجود اپنی فوجی قوت کو وقت کے تقاضوں کے مطابق بڑھاتے رہے ہیں۔ شمالی کوریا بیلسٹک میزائلوں سے لے کر ایٹمی بم تک جدید ہتھیاروں سے لیس دنیا کی چوتھی بڑی فوج رکھتا ہے۔ آج شمالی کوریا دنیا کیلئے ایک اہم سٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے۔ شمالی کوریا 1991ء سے اقوام متحدہ کا رکن ہے‘ جی سیون اور آسیان سے بھی وابستگی رکھتا ہے۔
پندرہویں نو منتخب سپریم اسمبلی کے اجلاس میں کِم جونگ اُن کا حالیہ خطاب محض ایک رسمی تقریر نہیں بلکہ ایک جامع پالیسی دستاویز اور ریاست کے آئندہ پانچ برسوں کے عزائم اور ترجیحات کا آئینہ دار ہے‘ جس میں داخلی استحکام‘ معاشی ترقی‘ دفاعی حکمت عملی اور عالمی سیاست کے حوالے سے واضح سمت متعین کی گئی ہے۔ اس خطاب کا سب سے نمایاں پہلو خود انحصاری کا تصور ہے جسے شمالی کوریا کی بقا اور ترقی کی بنیاد قرار دیا گیا۔ کِم جونگ اُن نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی دباؤ‘ پابندیوں اور معاشی مشکلات کے باوجود ان کا ملک اپنی داخلی قوت کے ذریعے آگے بڑھا ہے۔ یہ بیانیہ نہ صرف داخلی سطح پر عوام کا حوصلہ بلند کرنے کیلئے ہے بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ شمالی کوریا بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔
اس خطاب میں ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ان کا مؤقف پہلے سے زیادہ سخت اور دوٹوک نظر آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی ہتھیار نہ صرف دفاعی ضرورت ہیں بلکہ ریاست کی خودمختاری اور بقا کی ضمانت بھی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق عالمی طاقتوں کی بالادستی نے چھوٹے ممالک کو اپنی حفاظت کیلئے غیر روایتی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس تناظر میں شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام محض عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔ اس خطاب میں معاشی میدان کے کئی اہم نکات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ صنعتی ترقی‘ زراعت میں بہتری‘ توانائی کے شعبے کی مضبوطی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو نئے دورِ حکومت کے منشور میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود‘ رہائش‘ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست اپنی ساکھ کو صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ عوامی سطح پر بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہتی ہے‘ جبکہ کِم حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ سیاسی جبر اور عوامی آزادیوں پر پابندی جیسے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
شمالی کوریا کی سرگرمیاں صرف فوجی اور سفارتی محاذ تک محدود نہیں ہیں بلکہ سائبر وار فیئر کے میدان میں بھی وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی‘ خصوصاً مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق پر زور یہ ظاہر کرتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے مخصوص نظریاتی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے جدید دنیا کی دوڑ میں شامل ہونے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ خارجہ پالیسی میں جنوبی کوریا کے حوالے سے خصوصاً سخت لہجہ اختیار کیا گیا‘ تاہم یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ شمالی کوریا عالمی سطح پر اپنے مفادات کے مطابق تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے۔ کِم جونگ اُن نے اپنی تقریر میں دفاعی اخراجات بڑھانے کا بھی عندیہ دیا کہ 2026ء کے بجٹ کا تقریباً 15.8فیصد دفاع پر خرچ کیا جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست‘ جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے‘ وہاں ایسے ممالک کیلئے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں جو اپنی پوزیشن کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا جانتے ہیں۔
اگر کمِ جونگ اُن کے اس خطاب کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ شمالی کوریا ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں معیشت اور عسکری طاقت کو بیک وقت فروغ دیا جا رہا ہے۔ برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام اور کاربن فائبر بم شمالی کوریا کی فوج کے خصوصی اثاثے قرار دیے جا رہے ہیں۔ کلسٹر میونیشنز کا استعمال بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ہی میزائل سے وسیع علاقے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے‘ جس سے دفاعی نظام کی مؤثریت کم ہو جاتی ہے۔ دراصل شمالی کوریا یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے سبق سیکھ رہا ہے‘ جہاں اسی نوعیت کے ہتھیاروں نے جنگی حکمت عملی کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ حکمت عملی اگرچہ خطرات سے خالی نہیں لیکن موجودہ عالمی حالات میں اسے دفاعی حقیقت پسندی (Defensive Realism) کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا نے 2019ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی ناکامی کے بعد اپنے جوہری صلاحیت کے حامل میزائل پروگرام کو تیز کر دیا تھا جس کے تحت شمالی کوریا ایشیا میں امریکی اتحادیوں اور امریکی سر زمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کِم جونگ اُن کا یہ خطاب نہ صرف داخلی پالیسیوں کی وضاحت کرتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کیلئے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ شمالی کوریا اپنی راہ خود متعین کرے گا‘ چاہے اس کیلئے اسے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ آنے والے برس اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ حکمت عملی شمالی کوریا کو استحکام اور ترقی کی طرف لے جاتی ہے یا مزید تنہائی اور دباؤ کا سبب بنتی ہے۔
شمالی کوریا اور چین کے تعلقات میں حالیہ پیشرفت خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ چینی وزیر خارجہ کے پیانگ یانگ کے حالیہ دورے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط کو مضبوط کیا بلکہ اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ یہ تعلقات محض رسمی نہیں بلکہ سٹریٹجک نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ 1961ء کے دفاعی معاہدے کی یاد دہانی اور اسکے تحت باہمی تعاون کو بڑھانے کا اعلان اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی ممکنہ عالمی یا علاقائی تنازع میں ایک دوسرے کیساتھ کھڑے ہونے کیلئے تیار ہیں۔ مزید برآں شمالی کوریا کی جانب سے وَن چائنا پالیسی کی کھل کر حمایت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ شمالی کوریا نے روس اور بیلاروس کیساتھ بھی اپنے تعلقات کو وسعت دی ہے۔
شمالی کوریا کو اگر ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت کا درجہ مل جاتا ہے تو یہ عالمی سطح پر ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ کیا دنیا ایک نئی سرد جنگ جیسے ماحول کی طرف بڑھ رہی ہے‘ جہاں براہِ راست جنگ کے بجائے سفارتی‘ اقتصادی اور تکنیکی محاذوں پر مقابلہ جاری ہے؟ کورین جزیرہ نما اس بڑی عالمی بساط کا ایک اہم مہرہ بن چکا ہے‘ اور آنے والے دنوں میں یہاں ہونے والی پیش رفت عالمی سیاست کی سمت کا تعین کرے گی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کورین جزیرہ نما کی موجودہ صورتحال محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ دنیا ایک بار پھر دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے جہاں ایک طرف چین‘ روس‘ شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی کھڑے ہیں۔ چین‘ روس‘ شمالی کوریا اور ایران کا یہ ممکنہ اتحاد مغربی طاقتوں کے مقابلے میں ایک متبادل بلاک کے طور پر ابھر سکتا ہے جو عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے‘ اور جس کے اثرات نہ صرف عالمی سیاست بلکہ معیشت‘ تجارت اور سکیورٹی کے شعبوں میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں