میں نے یہ قصہ یا واقعہ چند سال قبل کہیں پڑا تھا۔ یہ واقعہ کس ملک سے متعلق تھا اب مجھے پوری صحت کے ساتھ یاد نہیں تاہم واقعہ بیان کرنے اور کرنسی کا ذکر کرنے کی غرض سے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ یہ واقعہ برطانیہ کا ہے۔ وہاں کسی بینک کے ہیڈ آفس میں ڈیجیٹل بینکنگ کے شعبہ میں متعین دو تین سسٹم ماہرین نے بینک کے اکاؤنٹنگ سسٹم میں اپنی تکنیکی مہارت بروئے کار لاتے ہوئے اس طرح تبدیلی کی کہ اس بینک کے اکاؤنٹ ہولڈرز کی جمع شدہ رقم سے ہر ماہ دو چار پنس اپنے جعلی قائم کردہ اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنے شروع کر دیے۔ (یہاں پنس سے مراد کرنسی کی سب سے چھوٹی اکائی ہے۔ جیسے ہمارے پاکستان میں پیسہ‘ امریکی ڈالر اور یورپی یورو میں یہ بنیادی اکائی سینٹ ہے) خیر اب ہوا یوں کہ اس بینک کے لاکھوں اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹس میں سے ہر ماہ دو چار پنس نکل کر اس فراڈیے گروپ کے اکاؤنٹ میں چلے جاتے تھے۔ ان فراڈ کرنے والوں نے بطور اختیاط اپنے سسٹم میں ایسا کیا کہ ایسے کسی اکاؤنٹ سے یہ دو چار پنس ہرگز منہا نہ ہوں جس میں سے دو چار پنس نکلنے سے رقم کا بنیادی ہندسہ تبدیل ہو جائے۔ مثال کے طور پر اگر اس اکاؤنٹ میں 2410پاؤنڈ اور ایک پنس ہے تو اس اکاؤنٹ سے دو چار پنس ان کے قائم کردہ اکاؤنٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوں گے۔ اس احتیاط کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ رقم کا آخری ہندسہ تبدیل نہ ہو اور وہ بہرحال 2410پاؤنڈ ہی رہے۔ محض دو تین پنس نکلنے کی وجہ سے وہ 2409پاؤنڈ نہ ہو جائے۔ ان جعلسازوں کا خیال تھا کہ لوگ اپنے اکاؤنٹس میں جمع شدہ رقم کا حساب اگر بہت زیادہ احتیاط سے بھی رکھیں تو وہ آخری پاؤنڈ کا حساب رکھتے ہیں۔ کوئی شخص بھی اپنے اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم میں پنس وغیرہ کبھی یاد نہیں رکھتا۔ ان کی یہ سوچ عملی اور منطقی طور پر بالکل درست تھی۔
ان فراڈیوں کا کام سال ہا سال تک نہایت آرام اور سکون سے چلتا رہا تاوقتیکہ ایک دن ان کی پلاننگ اور توقع کے برعکس ایک یہودی پنشنر نے بینک میں شکایت کی کہ اس کے اکاؤنٹ سے ہر ماہ دو تین پنس غائب ہو جاتے ہیں۔ بینک کیلئے یہ ایک غیرمعمولی واقعہ تھا۔ اس یہودی نے پچھلے ایک سال کے اکاؤنٹ کی تفصیل بینک والوں کو فراہم کی جس میں ہر ماہ اس کے اکاؤنٹ سے دو تین پنس نکل کر کسی نامعلوم اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جاتے تھے۔ دو چار پنس کی ماہانہ ٹرانسفر میں یہ احتیاط ملحوظ خاطر رکھی گئی تھی کہ اس کے اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم کا پاؤنڈوں والا آخری عدد تبدیل نہ ہو لیکن اس کے باوجود ہر ماہ دو تین پنس کا اکاؤنٹ سے نکلنا اس یہودی کی آنکھ سے نہ بچ سکا۔ جب اس نے اپنے اکاؤنٹ کا پچھلے ایک سال کا جائزہ لیا تو اس پر انکشاف ہوا کہ یہ صرف اس ماہ کا واقعہ نہیں بلکہ اس کے اکاؤنٹ سے تو ہر ماہ دو تین پنس غائب ہو رہے ہیں۔ اس اکاؤنٹ ہولڈر کی شکایت پر بینک والوں نے تحقیق شروع کی تو ایک نہایت ہوشربا صورتحال سامنے آئی۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹس میں سے ہر ماہ تین چار پنس اس مقصد کیلئے بنائے گئے جعلی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو رہے تھے۔ بظاہر تین چار پنس کے معمولی غتربود سے شروع ہونے والے فراڈ کی ماہانہ مجموعی رقم کئی ہزار پاؤنڈ تک جا پہنچتی تھی۔ بینک کے ہیڈ آفس میں بیٹھے ہوئے ڈیجیٹل سسٹم کو چلانے پر مامور یہ دو تین لوگ اب تک لاکھوں پاؤنڈ کا ایسا غیرمحسوس فراڈ کر چکے تھے جس پر کسی کی نظر پڑنا محال تھا۔ بھلا تین چار پنس کے اکاؤنٹ سے نکل جانے پر جبکہ آپ کی رقم کا آخری ہندسہ بھی تبدیل نہ ہوا ہو‘ کیسے پکڑا جا سکتا تھا؟ لیکن یہ سب کچھ پکڑا گیا اور بینک نے اس کے بعد ایسی احتیاطی تدابیر کیں جن میں ایک پنس تک کو سسٹم میں ہیر پھیر کے ذریعے نکالنا ناممکن بنا دیا گیا۔ میں نے جو یہ واقعہ پڑھا تھا بعد میں مَیں نے حسبِ عادت اس کی تصدیق کرنے کی کوشش کی تو کسی مستند حوالے سے یہ واقعہ کہیں درج دکھائی نہیں دیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ واقعہ محض فکشن تھا لیکن یہ دل کو لگنے والی ایک ممکنہ فراڈ کی ایسی کہانی ضرور تھی جسے بینک کے ڈیجیٹل سسٹم میں ہیر پھیر کے ذریعے عملی طور پر دہرایا جانا ممکن تھا۔ مجھے برسوں قبل پڑھا ہوا یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ آج کل مملکتِ خداداد پاکستان میں بینک فراڈ بڑے دھڑلے سے کیے جا رہے ہیں۔ آپ کو فون آتا ہے اور اٹھانے پر دوسری طرف سے مخاطب شخص اپنے آپ کو بینک کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے آپ کی بائیو میٹرک کی تجدید نہ ہونے کے باعث اکاؤنٹ بلاک ہو جانے کی اطلاع دیتا ہے۔ پھر اس بہانے وہ آپ کی بینک معلومات تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔
مورخہ28اپریل کو مجھے فون نمبر 03246479750 سے واٹس ایپ کال آئی۔ کالر آئی ڈی کے طور پر اس کال میں عمر رضا کا نام آ رہا تھا اور ساتھ بینک کا لوگو بھی لگا ہوا تھا۔ پہلے تو اس نے میرا نام لے کر میرے نام کی تصدیق کی کہ آپ فلاں صاحب ہیں؟ میں نے اپنے نام کی تصدیق کی۔ پھر وہ کہنے لگا کہ آپ کا فلاں برانچ میں اکاؤنٹ ہے اور میں آپ کے بینک کی برانچ سے عمر رضا بات کر رہا ہوں۔ آپ آج کسی وقت بینک میں آ کر اپنی بائیو میٹرک کروا لیں بصورت دیگر آپ کا اکاؤنٹ بلاک ہو جائے گا۔ ایمانداری کی بات ہے میں نے فوری طور پر کوئی غیرمعمولی بات محسوس نہ کی اور کال کرنے والے کو کہا کہ ٹھیک ہے میں واپسی پر اپنے بینک کی برانچ سے ہوتا جاؤں گا۔ بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا‘ اب اس نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے مجھے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اپنی بائیو میٹرک برانچ میں آئے بغیر اپنے فون کے ذریعے سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر بھی کر سکتے ہیں۔ میں نے اسے کہا کہ میں اس جھنجٹ میں پڑنے کے بجائے اپنے بینک کی برانچ میں جانا پسند کروں گا۔ آپ کا اطلاع کرنے کا بہت بہت شکریہ!
اب وہ تھوڑا گھبرا سا گیا۔ کہنے لگا: میں نے آپ کو ایک لنک وٹس ایپ کیا ہے اس پر کلک کریں اور سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر اپنی بائیو میٹرک کروا لیں۔ میں نے اپنا وٹس ایپ کھولا تو اس پر ایک لنک تھا۔ میں نے اسے کہا کہ نہ میں کسی لنک پر کلک کروں گا اور نہ ہی وٹس ایپ پر کوئی ایپ کھولوں گا‘ آپ یوں کریں میرا اکاؤنٹ بلاک کر دیں۔ اب تو وہ باقاعدہ برافروختہ ہو گیا۔ مجھے سنانے کیلئے کسی کو بآواز بلند کہنے لگا کہ اس کے سارے اکاؤنٹ بلاک کر دو۔ اللہ مجھے معاف کرے۔ میں نے اسے جلدی سے دو گالیاں دیں اور فون فوراً بند کر دیا۔ مجھے دو دن پہلے ہی کامران نے بتایا تھا کہ اب یہ فراڈیے ناکامی پر گالیاں کھا کر گھبرا کر فون بند کرنے کے بجائے جوابی گالیاں نکالنے پر آگئے ہیں۔ میں نے اس کے جوابی وار کرنے سے پہلے ہی فون بند کر دیا۔ وٹس ایپ دوبارہ چیک کیا تو اس نے تب تک وہ لنک ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
چار دن قبل فون نمبر 03237447291 سے اسی قسم کی کال آئی۔ وہی کہانی کہ اگر آپ نے آج ہی بائیومیٹرک نہ کروائی تو آپ کا اکاؤنٹ بند ہو جائے گا۔ وہ ابھی مزید کچھ کہنا چاہتا تھا مگر میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا کہ اگر آپ میرا اکاؤنٹ فوراً سے بیشتر بلاک کر دیں تو آپ کی بہت مہربانی ہو گی اس طرح مجھے آپ جیسے فراڈیوں کی کالز سے نجات مل جائے گی۔ یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا۔
اس کالم میں ان دو نمبروں کی نشاندہی کے بعد اب یہ NCCIA اور ایف آئی اے وغیرہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان موبائل نمبروں کے حامل افراد کے خلاف کارروائی کریں۔ یہ ادارے صرف یوٹیوبروں اور سرکار کے خلاف ٹویٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے نہیں بنائے گئے بلکہ عوام الناس کی عزت‘ جان اور مال کی حفاظت کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔