میں اپنے کالموں میں پہلے بھی بارہا یہ بات لکھ چکا ہوں کہ مملکتِ خداداد پاکستان ہمہ وقت کسی نہ کسی گمبھیر مسئلے میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسئلہ حقیقی ہے یا پیدا کردہ‘ اس سے قطع نظر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کیلئے کوئی نہ کوئی موضوع بہرحال میدان میں موجود ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ حادثاتی ہو‘ فرمائشی ہو‘ خود ساختہ ہو‘ کسی غلطی کا شاخسانہ ہو‘ کسی سازش کی پیداوار ہو‘ کسی کا تخلیق کردہ ہو یا محض حماقت کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا ہو‘ اس چیز سے قطع نظر اصل بات یہ ہے کہ حکمرانوں کو عوام کو اصل مسائل سے ہٹا کر اپنی تمام تر صلاحیتیں اس نان ایشو کی طرف رکھنے کے لیے مصروفیت اور بہانہ میسر ہے۔ کل مجھے ایک دوست کا فون آیا۔ ایسے معاملات میں دوستوں کا نام نہیں لکھنا چاہیے‘ لہٰذا نام کو رہنے دیں۔ کہنے لگا کہ اس وقت ملک میں ہر گفتگو کا مرکز‘ ہر بیان کا مخاطب‘ ہر تحریر کا موضوع اور ہر کالم کا نشانہ مولانا فضل الرحمن ہیں۔ دانشور‘ اخبار نویس‘ سیاستدان یک زبان ہو کر مولانا فضل الرحمن کے قصور والے جلسے میں کیے جانے والے خطاب میں پاک فوج کے جان نثاروں‘ جانبازوں‘ شہیدوں اور غازیوں کو تنخواہ کا طعنہ دے کر ان کی قربانیوں کا ٹھٹھا اڑانے کی مذمت کر رہے ہیں۔ مولانا صاحب اپنا نیا سیاسی رخ متعین کرنے اور خاص طور پر عمران خان کی غیر موجودگی سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش میں جس نافہمی کے مرتکب ہوئے ہیں‘ تم اس پر کچھ لکھنے کے بجائے ملتان کی گرمی سے بچ کر امریکہ میں موج میلہ بھی کر رہے ہو اور ملک کے سیاسی ماحول میں پیدا ہونے والی گرما گرمی سے پہلو بچا کر ایسے موضوعات کو زیرِ قلم لا رہے ہو جن سے بیشتر پاکستانیوں کو نہ کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی کوئی غرض ہے۔
میں نے اپنے دوست کو کہا کہ آپ میرے خیالات اور میرے نظریات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ میں جمہوریت پر شب خون مار کر قائم ہونے والی حکومتوں اور سیاست میں دخل نہ دینے کا حلف اٹھا کر ملکی سیاست چلانے کے خلاف ہوں لیکن ادارے کے طور پر میں شانہ بشانہ اس کے ساتھ کھڑا ہوں۔ یہ فوج نہ صرف ہماری اپنی ہے بلکہ ہم میں سے ہی ہے اور ہمیں دل و جان سے عزیز ہے۔ عالمی طاقتوں اور سازشوں نے اپنی ریشہ دوانیوں سے عراق‘ شام‘ لیبیا‘ یمن‘ سوڈان‘ لبنان اور اب ایران کا جو حشر کر رکھا ہے‘ عالمی طاقتوں کی نظر میں کھٹکنے کے حوالے سے شاید ہم ان تمام ملکوں اور اقوام سے زیادہ اس کے مستحق ہیں جو وہ درج بالا ممالک کے ساتھ کر چکے ہیں۔ لیکن پاکستان کی اب تک کی جغرافیائی وحدت اور سلامتی کی واحد وجہ ہمارا ایٹم بم اور ہماری فوج ہے۔ اگر ایٹم بم اور اس فوج کا خوف نہ ہوتا تو یہ خطہ محض پراکسی وار تک محدود نہ ہوتا بلکہ عملی طور پر میدانِ جنگ میں تبدیل ہو کر حصے بخرے ہو چکا ہوتا۔ جغرافیائی طور پر ایک ازلی دشمن ہمسائے سے جڑے ہوئے اور اسی کے آلہ کار کے طور پر کام کرنے والے دوسرے ہمسائے کے درمیان سینڈوچ بنے ہوئے اس ملک میں بہرحال فوج تو ہو گی۔ اگر مجھے یہ انتخاب کرنا ہو کہ کون سی فوج ہوگی تو ظاہر ہے میرا جواب کسی شک و شبہ یا ابہام کے بغیر سو فیصد سچائی اور شرح صدر کے ساتھ یہی ہوگا کہ یہاں پاکستانی فوج ہی ہو گی۔ صورتحال یہ ہے کہ الحمدللہ اس موضوع پر لکھنے والے بہت لوگ ہیں۔ محب وطن پاکستانی اخبار نویس‘ دانشور‘ لکھاری‘ سیاستدان اور عام لوگ۔ حیرت یہ ہے کہ اس وقت مولانا صاحب کو وہ لوگ بھی اپنی زبان اور تحریر سے مشقِ ستم بنا رہے ہیں جن کا نہ صرف ماضی اسی قسم کے خیالات اور بیانات سے لبریز ہے بلکہ وہ زمانۂ حال میں بھی نجی محفلوں‘ دوستوں کے حلقوں اور محدود فورمز میں وہی کچھ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر لن ترانی کرتے ہیں جس کے مولانا مرتکب ہوئے ہیں۔
میں کبھی بھی مولانا کا ممدوح نہیں رہا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنی سیاسی ہنرمندی کے طفیل اپنی سیاسی عددی حیثیت سے کہیں بڑھ کر سیاسی فوائد اور مفادات نچوڑ لینے میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں‘ بلکہ اعتراض اور اختلاف اس بات پر ہے کہ وہ اپنے دیگر ہم عصر سیاستدانوں کے برعکس یہ کام مذہبی قائد کے طور پر کرتے ہیں۔ اگر وہ یہی کام سیدھے سبھاؤ دیگر سیاستدانوں کی طرح کریں تو مجھے ان کی سیاست سے اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں رہے گا کہ وہ بھی وہی کچھ ذرا زیادہ ہوشیاری اور کامیابی سے کر رہے ہیں جو باقی سیاستدان کر رہے یا کرنا چاہتے ہیں۔
فرمائشی اور مفاداتی کالموں سے قطع نظر‘ تنخواہ کو جان کا عوضانہ قرار دینے کے حوالے سے محترم ایاز امیر کے انتہائی مدلل اور شاندار کالم کے بعد اس موضوع پر مزید کچھ لکھنا وقت اور کالم کے ضیاع کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ تاہم صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ مولانا خود اپنی سیاست کے عوض آسمان سے اترنے والے غیبی فوائد سے قطع نظر‘ بطور رکن اسمبلی مبلغ 600,000 روپے ماہانہ تنخواہ‘ آفس مینٹی ننس الاؤنس کی مد میں 35000 روپے‘ ٹیلی فون الاؤنس 35000 روپے اور مہمان نوازی الاؤنس کی مد میں 35000 روپے یعنی کل 705,000 روپے ماہانہ لیتے ہیں۔ اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کا الاؤنس اس کے علاوہ ہے۔ مزید یہ کہ 300,000 روپے کے ٹریول وائوچر‘ مفت کا علاج اور 30 عدد بزنس کلاس کے اوپن ریٹرن فضائی ٹکٹ ملتے ہیں۔ یہ سب کچھ تو وہ ہے جو کاغذوں میں ملتا ہے۔ باقی کے بارے میں آپ لوگ خود بہتر جانتے ہیں۔ اس میں کشمیر کمیٹی کے الاؤنسز کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قصۂ ماضی ہے۔ سیاست اور عوامی نمائندگی کے عوض آپ کو تنخواہ‘ الاؤنس‘ سہولتیں‘ پروٹوکول‘ وی آئی پی طرزِ زندگی اور بلند سماجی ومعاشرتی مقام مل گیا۔ اب اس میں بلٹ پروف گاڑی کی سرکاری فراہمی کہاں سے آ گئی؟ جان بہت عزیز ہے اور سیاست خطرناک کھیل ہے تو اس پر لعنت بھیجیں اور گھر بیٹھ کر مزے کریں۔ ملک کی اندرونی صورتحال اور بیرونی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوان اور افسر یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے‘ ان کو بلٹ پروف گاڑیاں دی جائیں۔ ان کی حفاظت کے لیے ڈالے اور پولیس گارد متعین کی جائے۔ خود دنیا جہان کی مالی و مادی سہولتیں بمعہ حفاظتی انتظامات لینے والے جان کو تلی پر رکھے وطن کی حفاظت پر مامور محافظوں کی تنخواہ کو ان کی جان کا عوضانہ کہہ کر ان کی قربانیوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ویسے اس سارے معاملے پر سرکار کے پاس زبانی جمع خرچ کے بجائے اگر قانونی اور آئینی طور پر کچھ کرنے کے لیے ہے تو وہ کرے‘ ورنہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے بجائے ملک کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کی طرف توجہ دے۔
اپنی افواج کے بارے میں دیگر ممالک کے عوام کے جذبات سے لاعلم بہت سے پاکستانی نقادوں کو دراصل یہ علم ہی نہیں کہ وہاں اس قسم کی گفتگو کرنے والوں کے ساتھ قانون‘ اور اس سے بڑھ کر عوام کیا سلوک کرتے ہیں۔ ادھر امریکہ میں کوئی سیاستدان ایسا کچھ کہہ دیتا تو وہ اس کا سیاست میں آخری دن ہوتا۔ یہ بات درست کہ ہمارے ہاں بہت سی جائز باتیں بھی نہیں کہی جا سکتیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں بعض معاملات میں جو مادر پدر آزادی ہے اور جو کچھ کہا جاتا ہے وہ بھی دنیا میں کہیں نہیں کہا جا سکتا۔ بیک وقت عجیب وغریب پابندیوں اور بے محابا آزادی جیسے عدم توازن کے بیچوں بیچ حالات جس قدر خراب و خستہ ہو سکتے ہیں‘ ہم اسی کا شکار ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments