قارئین! یہ فقیر سرکار دربار اور حکمرانوں سے حتی الامکان حد تک بچ بچا کر زندگی گزار رہا ہے کہ ان سے ملنا ایک کارِ لاحاصل کے سوا کچھ بھی نہیں اور اب اس قلمکار کے پاس ضائع کرنے کیلئے تھوڑا سا بھی وقت باقی نہیں بچا۔ کالم لکھنا چونکہ اس عاجز کا پیشہ ہے اور اسے نبھانا بہرحال مجبوری ہے‘ تاہم سوشل میڈیا کے عروج کے اس دور میں بھی یہ درویش فیس بک‘ ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسی قباحتوں سے بچ بچا کر زندگی کے بقیہ دن اپنی مرضی مطابق بسر کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا کو قباحت قرار دینا محض میرا ذاتی تبصرہ ہے‘ سوشل میڈیا سے جڑے حضرات اس جملے کو دل پر مت لیں۔ مجھے سوشل میڈیا سے اپنی لاتعلقی پر نہ تو کوئی فخر ہے اور نہ ہی دکھ‘ شرمندگی یا افسوس ہی ہے۔ بس یہ میرا اختیار کردہ طرزِ زندگی ہے جس سے میں خوش بھی ہوں اور مطمئن بھی۔ یہ فقیر اداروں کے راستوں سے ناآشنا ہونے کے باعث معلومات کے مستند ذرائع سے محروم ہے۔ اسکے پاس نہ کوئی چڑیا ہے اور نہ ہی کوئی پیغام رساں کبوتر ۔ ان گلیوں کے بہت سے راہیوں کو ذلیل وخوار ہوتے دیکھ کر اپنی اس لاتعلقی اور دوری پر بڑا اطمینان ہوتا ہے کہ ایسی دوستی اور دشمنی دونوں باعثِ آزار ہیں اور اللہ اس سے محفوظ ہی رکھے۔یہ تب کا ذکر ہے جب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اس قلم گھسیٹ کی مسلسل تنقید کی زد میں تھے۔ ظاہر ہے تسلسل سے لکھے جانے والے میرے تنقیدی کالموں کے باعث ہمارے باہمی تعلقات‘ جو سرے سے موجود ہی نہیں تھے (میرے حساب سے) خاصے خراب ہو گئے۔ یہ جو میں نے تعلقات کی خرابی کے زمرے میں ''میرے حساب سے‘‘ لکھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ میں ہی تھا جو سرکار کے‘ میرا مطلب ہے کہ عثمان بزدار کے خلاف لکھے جا رہا تھا۔ جواباً دوسری طرف عثمان بزدار مجھ سے ملاقات کے خواہاں تھے اور کسی نہ کسی درمیانی رابطے کے ذریعے اس کی کوشش میں مصروف تھے۔ میں عثمان بزدار کی ملاقات کی خواہش اور کوشش کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اپنے خیال کا گھوڑا دوڑانا چاہتا ہوں۔ اب جبکہ وہ منظرنامے سے غائب ہیں میں اسے منفی رنگ دینے کے بجائے مثبت انداز میں لیتے ہوئے یہ کہوں گا کہ عثمان بزدار نے میری مسلسل تنقید اور ملاقات سے انکار کے باوجود بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور دو تین دوستوں کی وساطت سے بالآخر ہماری ملاقات طے پا ہی گئی۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ بہت ہی شاندار انسان اور دوست خواجہ جلال الدین رومی مرحوم کا تھا جس کی بات سے انکار میرے لیے مشکل تھا۔
مجھے ملاقات کی تاریخ پوری صحت کے ساتھ تو یاد نہیں تاہم یہ ستمبر 2020ء کی غالباً دو یا تین تاریخ تھی۔ یہ ملاقات سرکٹ ہاؤس ملتان میں ہوئی۔ میں نے گفتگو کا آغاز ہی اس بات سے کیا کہ میری ان پر تنقید کسی ذاتی گلے شکوے یا ناراضی کے بجائے مکمل طور پر ان کی صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر ہے اور اس کے کپتان ہونے کی حیثیت سے وہ اس تنقید کا براہِ راست نشانہ ہیں۔ تاہم میں نے کالم اپنی پوری نیک نیتی کے ساتھ اپنے بہترین علم کو بروئے کار لاتے ہوئے لکھے ہیں اور میں اپنی تمام تحریروں کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ عثمان بزدار مسکرائے‘ پھر کہنے لگے: مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے۔ اس کے بعد گفتگو کا رخ ایمرسن کالج اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی طرف مڑ گیا‘ یہ وہ دو تعلیمی ادارے ہیں جہاں عثمان بزدار میرے جونیئر کی حیثیت سے زیر تعلیم رہے۔ ہماری گفتگو سرائیکی میں تھی اس لیے تکلف کا پردہ جلد ہی درمیان میں سے نکل گیا۔
میں نے اس ملاقات میں عثمان بزدار کو ملتان کو درپیش چند نمایاں مسائل اور عوامی بہبود کے کاموں پر چند منٹ کا نہایت جامع سا اختصاریہ دیا اور نو پوائنٹس پر مشتمل ایک مختصر سی یادداشت انکے ہاتھ میں پکڑا دی۔ اس فہرست میں ملتان تا ہیڈ محمد والا روڈ کو دو رویہ کرنے‘ ملتان سرکلر روڈ کو کشادہ کرنے‘ نشتر ہسپتال کے مینٹیننس بجٹ کو ڈھائی لاکھ روپے سالانہ سے بڑھانے‘ 67 سال (تب) پرانے ہسپتال کی خستہ عمارت کے تباہ شدہ باتھ رومز کی بحالی‘ وہاں پارکنگ کی بدترین صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے پارکنگ پلازہ کی تعمیر‘ پبلک لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ کی تزئینِ نو اور بحالی‘ ملتان میں جمخانہ کلب کی تعمیر‘ کپاس کے پتا لپیٹ وائرس سے پاک اور محفوظ بیج کی تیاری اور ملتان انسٹیٹیوٹ آف نیو کلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیو تھراپی میں پیٹ سکینر کی تنصیب جیسے مطالبات تھے۔ ذاتی طور پر میراان میں سے سوائے جم خانہ کلب کی متوقع ممبر شپ کے‘ کسی چیز سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ عثمان بزدار نے میری ساری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر جلد از جلد عملدرآمد کا وعدہ کیا۔ یہ ملاقات ون آن ون طے پائی تھی۔ اس دوران فوٹو گرافر اندر آنے لگا تو میں نے کہا کہ یہ تیسرا آدمی کیسے اندر آ رہا ہے ؟ وزیراعلیٰ نے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ باہر ملاقاتیوں کا ہجوم تھا۔ میں نے اجازت لی اور رخصت سے قبل ایک بار پھر تاکید کی کہ ملتان کے یہ جائز مسائل وزیراعلیٰ کی نظرِ کرم کے منتظر ہیں۔
قریب چھ سال پرانا یہ سارا واقعہ مجھے اس طرح یاد آیا کہ ملتان میں پیٹ سکین (Positron Emission Tomography) کی اشد ضرورت تھی۔ اس کا اندازہ مجھے اس روز ہوا جب میں اپنے ایک نہایت عزیز دوست کو درپیش ایک مسئلے کی تشخیص کیلئے اپنے بہت پیارے دوست اور اپنی فیلڈ میں مہارت تامہ رکھنے والے نیوکلیئر میڈیسن فزیشن ڈاکٹردرصبیح کے پاس لے کر گیا۔ انہوں نے چیک اَپ کے بعد اپنی تشخیص لکھتے ہوئے کہا کہ میں ممکنہ حد تک جو نتائج اخذ کر سکتا تھا‘ وہ کیے ہیں تاہم معاملات مزید باریک بینی کے متقاضی ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ جسم کی جس جگہ پر یہ مسئلہ ہے وہاں تک رسائی اور نتیجے کیلئے پیٹ سکین کرنا نہایت ضروری ہے۔ میں نے پوچھا: یہ پیٹ سکین کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی جدید سکینر دراصل کینسر کا ابتدائی سٹیج پر سراغ لگانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سکینر ادھر کس کے پاس ہے ؟ وہ کہنے لگے: یہ ملتان میں تو نہیں ہے تاہم ہمارے قریب ترین یہ سہولت صرف لاہور میں میسر ہے۔ دوسری طرف یہ کراچی میں ہے۔ یعنی لاہور اور کراچی کے درمیان راوی اس سہولت سے محرومی لکھتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس سکینر کی خرید اور تنصیب کیلئے تقریباً دو ارب روپے درکار ہیں‘ جبکہ اسے نصب کرنے‘ چلانے‘ اور پھر چلتا رکھنے کیلئے نیوکلیئر میڈیسن کے ماہرین کا مکمل بنیادی ڈھانچہ لازمی ہے اور یہ اس سکینر کے سازو سامان پر اٹھنے والے اخراجات کے علاوہ ہے۔ ڈاکٹر درصبیح سے تفصیلی گفتگو کے بعد اپنے اس دوست کو لاہور لے جانے کا فیصلہ کیا اور اگلے روز لاہور میں شیخ زائد ہسپتال سے متصل ''انمول‘‘ (انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ اونکولوجی لاہور) والوں سے ٹیسٹ کا ٹائم لیا اور دوسرے روز میں اس کے ساتھ لاہور روانہ ہو گیا۔ وہ معاملہ تو اللہ کے فضل سے بخیر وخوبی حل ہو گیا مگر میرے ذہن میں یہ بات پھنس گئی کہ پورے جنوبی پنجاب میں کینسر کو اس کی ابتدائی سٹیج پر معلوم کرنے کی سہولت میسر نہیں اور پہلے سے ہی انتہائی مہنگے ٹیسٹ کیلئے سفری‘ رہائشی اور دیگر اخراجات کی صورت میں کتنے لوگ اسے برداشت کر سکتے ہوں گے؟ غربت اور پسماندگی کے شکار اس سارے خطے کیلئے مقامی طور پر یہ سہولت میسر ہونی چاہیے۔ سردار عثمان بزدار سے ملاقات کا موقع بنا تو میرے دماغ میں پیٹ سکینر کی گھنٹی بجی۔ مجھے خیال آیا کیا خبر میرے مالک کو مجھ سے اس خطے کے لوگوں کی آسانیوں کیلئے کام لینا مقصود ہو۔ یہ خیال آیا تو میں نے یہ مسئلہ بھی وزیراعلیٰ کے سامنے رکھنے کا ارادہ کیا اور اپنی تحریری تجاویز میں یہ معاملہ بھی شامل کر لیا۔ مجھے یقین تھا کہ میں اپنی مرضی کے برخلاف اگر عثمان بزدار سے مل رہا ہوں تو یقینا اس میں خطے کے لوگوں کی بہتری پنہاں ہو گی۔ (جاری)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments