"MMC" (space) message & send to 7575

جناب بلاول بھٹو زرداری کی توجہ کے لیے!

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد دسمبر 1971ء میں صوبۂ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور 5جولائی 1975ء تک جاری رہی۔ پھر 1988ء سے 1990ء اور 1993ء سے 1996ء تک کے دورانیوں پر مشتمل پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ اکیسویں صدی میں 2008ء سے تاحال تسلسل کے ساتھ صوبۂ سندھ پر پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کے پاس یہ جواز نہیں ہے کہ اُسے صوبۂ سندھ میں حکمرانی اور عوام کی خدمت کیلئے مناسب وقت نہیں ملا۔ ہمیں اندازہ ہے کہ بیسویں صدی کے بعض دورانیوں میں ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کیلئے مشکلات بھی پیدا کیں۔ جنابِ بلاول بھٹو زرداری کے پیپلز پارٹی کا چیئرمین ہونے کے سبب یقینا اُن کی وفاقی سطح پر بھی ذمہ داریاں ہیں۔ اس وقت پاکستان کا منصبِ صدارت اور سینیٹ کے چیئرمین کا عہدہ بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے‘ نیزحال ہی میں گلگت بلتستان میں اُن کی حکومت قائم ہو چکی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی تاحال ان کی حکومت قائم ہے۔ قومی سطح کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ یقینا صوبۂ سندھ کی پوری ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ پیپلز پارٹی کی کچھ کارکردگی کے مسائل ہیں اور کچھ تاثر (Perception) بھی ہمیشہ منفی رہا ہے۔ ظہیر دہلوی نے کہا ہے:
کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار ؍ اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں
نواب مصطفی خاں شیفتہ نے بھی کہا تھا:
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام ؍ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
الغرض بدنامی یا ناقص کارکردگی کے تاثر کو زائل کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کچھ زیادہ تگ ودو کرنے کی بھی روادار نہیں ہے۔ صدر زرداری کہا کرتے ہیں: ''ہم تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں‘‘ یعنی اُن کی فہم کے مطابق اُن کی سَمت اور قبلۂ ترجیحات درست ہے اور اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ (لفظِ فہم کو شعرا نے مذکر بھی استعمال کیا ہے)۔ یہ بھی کسی حد تک درست ہے کہ پیپلز پارٹی میں تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ دوسری جماعتوں کی بہ نسبت قدرے زائد ہے۔ ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ سندھ میں قائم سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ حکومت اور نجی مخیِّر اداروں کی شراکت سے صحت کے میدان میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن‘ انڈس ہاسپیٹل کراچی اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز خیرپور جیسے ادارے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان سے پاکستان بھر کے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ ان اداروں میں سب سے زیادہ حصہ قومی اور بین الاقوامی مخیر افراد اور اداروں کا ہے۔
ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ جنابِ بلاول بھٹو زرداری قومی سطح کی سیاست میں مصروفِ عمل ہیں مگر انہیں حکومتِ سندھ کے معاملات کے سدھار پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اسے وہ اپنی کارکردگی کے رول ماڈل کی طرح پیش کر سکتے ہیں‘ جیساکہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز پنجاب حکومت کی کارکردگی کو پیش کرتی ہیں اور سندھ کو تقابل کی دعوت دیتی ہیں۔ خاص طور پر کراچی یونیورسٹی روڈ کی انتہائی ناقص کارکردگی سندھ حکومت کیلئے ایک طعنہ بن چکی ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے پیپلز پارٹی یا حکومتِ سندھ کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ یونیورسٹی روڈ کو ''Bus Rapid Transit‘‘ کہا جاتا ہے۔ اردو میں ہم اسے ''سریع الحرکت ذریعۂ نقل وحمل‘‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل تکمیل ملیر ہالٹ سے مزارِ قائد تک ہو گی مگر سرِ دست صفورہ چورنگی سے آگے ڈیفنس سکوائر رائونڈ ابائوٹ سے جیل روڈ تک ہے۔ اس کے ابتدائی معاہدے پر 8 دسمبر 2021ء کو دستخط ہوئے اور 10 مئی 2021ء کو اس پر کام کا آغاز ہوا۔ اسے ابتدائی تخمینے کے مطابق 2023-24ء تک مکمل ہونا تھا مگر ناقص کارکردگی کے سبب یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا ہے۔ ظاہر ہے اس کا سبب ٹھیکیدار کا غلط انتخاب ہو سکتا ہے‘ حالانکہ کسی بڑے منصوبے کا ٹینڈر جاری کرنے سے پہلے خواہشمند ٹھیکیداروں سے پیشگی اہلیت کا ثبوت مانگا جاتا ہے کہ آیا اُن کے کھاتے میں اس درجے کے کوئی بڑے منصوبے ہیں‘ جنہیں انھوں نے عمدہ کارکردگی اور اعلیٰ معیار کے ساتھ بروقت مکمل کیا ہو۔ دوسرا سبب ناقص نگرانی اور واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ آیا بولی میں حصہ لینے والے ٹھیکیداروں کے پاس مطلوبہ مشینری اور انجینئرنگ کی مہارت موجود ہے کیونکہ کراچی تا حیدرآباد موٹروے اس لیے ناقص رہا کہ ٹینڈر لینے والے ادارے کے پاس یہ تمام لوازمات نہیں تھے۔ لہٰذا دیگر چھوٹے ٹھیکیداروں سے کام لیا گیا اور منصوبہ ناقص رہا۔
یہ سب کے علم میں رہے کہ کراچی یونیورسٹی روڈ کا منصوبہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے فراہم کردہ قرض سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار کی نااہلی‘ مطلوبہ تعمیراتی سازو سامان اور انجینئرنگ کی مہارت کی عدم دستیابی اور سرکاری اداروں کی ناقص نگرانی کے سبب یہ منصوبہ غیر معمولی تاخیر کا شکار ہوا۔ چنانچہ اب یہ منصوبہ 79 ارب کے ابتدائی تخمینے سے بڑھ کر 103 ارب تک یعنی پانچ سو ملین ڈالر سے چھ سو ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور خدا معلوم کہ تکمیل تک اس کی کل مالیت کہاں تک پہنچے گی۔ بہرصورت اس کا مالی بوجھ صوبۂ سندھ کی معیشت پر پڑے گا۔ سابق ٹھیکیدار کو نااہل اور بدعنوان قرار دے کر یہ منصوبہ اپریل 2026ء میں فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو دیا گیا اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب نے بشارت دی کہ اب نوے دن میں یہ مکمل ہو جائے گا‘ مگر اب نوے دن کا دورانیہ بھی پورا ہو رہا ہے اور اس کی تکمیل کے دور دور تک آثار نہیں ہیں۔ بس اتنا ہوا ہے کہ ٹریفک کی روانی کو قدرے بہتر بنایا گیا ہے۔ کراچی یونیورسٹی روڈ پر دیگر تعلیمی اداروں کے علاوہ چھ یونیورسٹیاں ہیں۔ اسکے علاوہ پوری سڑک کمرشل ہے‘ اس پر ایکسپو سنٹر بھی ہے‘ جس میں ہر سال ''Ideas‘‘ کے نام سے دفاعی سازو سامان اور دیگر مصنوعات کی نمائش ہوتی ہے۔ اس موقع پر دیگر ممالک کے صنعتکار اور حکومتوں کے نمائندے بھی آتے ہیں۔ اسی شاہراہ پر کرکٹ سٹیڈیم کی لنک روڈ اور سوک سنٹر ہے‘ اس میں ادارۂ ترقیات کراچی اور شہری تنظیموں کے دفاتر ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ شاہراہ کتنی مصروف اور پُرہجوم ہے۔ اس پر گاڑیوں کے شو روم بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ دعوتِ اسلامی کا مرکز فیضانِ مدینہ بھی ہے‘ وغیرہ۔
ہمارے ہاں ایک شعار یہ بھی ہے کہ کسی کی کارکردگی پر جائز وجوہ کی بنا پر سوال اٹھایا جائے تو اس کا تحقیقی جواب دینے کے بجائے الزامی جواب دیا جاتا ہے۔ اس سے فرد یا گروہ کی نفسیاتی تسکین تو ہو جاتی ہے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ مسئلہ تب حل ہوتا ہے جب کوئی اپنی تقصیر یا کوتاہی کا اعتراف کرے اور تمام دستیاب وسائل کو کام میں لاکر اس کا ازالہ کرے۔ الزامی جواب کی سائنس تو یہ ہے کہ کسی کی چوری کو اپنی چوری‘ کسی کے جرم کو اپنے جرم اور کسی کی ناقص کارکردگی کو اپنی ناقص کارکردگی کا جواز بنائے۔ ہمارے سیاستدان شب وروز یہی کام کرتے ہیں۔ ان کی مثال اس کہاوت کی سی ہے ''ایک شخص نے دوسرے سے کہا: جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ‘‘۔ اس نے جواباً کہا: تیلی رے تیلی تیرے سر پہ کولہو۔ اُسے کہا گیا: حضور! آپ کا مصرع وزن میں نہیں ہے۔ اس نے جواباً کہا: وزن ملے یا نہ ملے‘ کمر تو جھک جائے گی‘‘۔ پس یہی ہمارے سیاستدانوں کا شعار ہے کہ دوسروں کی تنقیص کو اپنی ناقص کارکردگی کا جواز بناتے ہیں۔ یہ د راصل حقائق سے چشم پوشی اور گریز کا راستہ ہے جبکہ کامیابی کا اصل راز حقائق کا سامنا کرنے اور ان کا قابلِ عمل حل پیش کرنے میں مضمر ہے۔ میڈیا میں یہ بھی آیا کہ ٹھیکیدار کو آٹھ ارب روپے پیشگی ادا کر دیے گئے اور اُس نے کام نہیں کیا۔ شاید یہ سوال عدالت میں اٹھایا گیا ہے۔نوٹ: بعض معلومات اور اعداد وشمار ہم نے انٹرنیٹ سے لیے ہیں‘ اس لیے ان کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی تاوقتیکہ حکومت سندھ اپنے مصدقہ حقائق پیش کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...