"MMC" (space) message & send to 7575

جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں!

ایک کالم میں پاکستان کی تاریخ کا احاطہ ناممکن ہے۔ میں نے 1961ء میں میٹرک کیا‘ 1962ء کے اوائل میں لاہور آیا اور 19 دسمبر 1964ء کو کراچی آمد ہوئی۔ 1960ء کے عشرے کے نصفِ آخر سے پاکستان کی تاریخ کو شعوری طور پر دیکھا اور سمجھا ہے۔ اس عرصے میں کئی حکمرانوں کا دور دیکھا‘ صدر ایوب خان کے زوال کے بعد بھٹو صاحب کا عروج ہوا‘ درمیان میں جنرل یحییٰ خان کا منحوس دور آیا‘ اس میں پاکستان دولخت ہو گیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم پہلے سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر‘ پھر عبوری آئین کے تحت صدر بنے اور 1973ء کے جمہوری آئین کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم بنے۔ بھٹو شاید پاکستان کے سب سے پڑھے لکھے‘ ذہین اور متحرک حکمران تھے۔ معاشی ترقی کے اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان میں میگا پروجیکٹ یا تو ایوب خان کے تربیلا اور منگلا ڈیم ہیں یا نواز شریف کے موٹرویز ہیں۔ ایوب خان کے دور میں پاکستان صنعتی ترقی کے دور میں داخل ہو رہا تھا اور کہا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا بھی پاکستانی ماڈل کو اپنانے جا رہا تھا‘ مگر بھٹو مرحوم کے صنعتوں کو قومیانے کے فیصلے نے پاکستان کی صنعتی ترقی کو بریک لگا دی‘ بلکہ ریورس گیئر لگ گئی۔ اس کے بعد جنرل ضیاالحق نے گیارہ سال اور پھر جنرل پرویز مشرف نو سال تک مُطلَقُ العِنان حکومت کی۔ لیکن ان کے کھاتے میں پاکستان میں ایک بھی قابلِ ذکر میگا پروجیکٹ نہیں ہے‘ حالانکہ اول کے دور میں جہادِ افغانستان اور ثانی کے دور میں امریکہ کی ''وار آن ٹیرر‘‘ کا فرنٹ لائن شراکت دار ہونے کے سبب ڈالروں کی برسات ہوتی رہی‘ مگر پاکستان کی معیشت کو اُن کے سبب دائمی استحکام نصیب نہیں ہوا‘ بلکہ رشوت‘ منشیات‘ اسلحے کی فراوانی اور مسلّح گروہوں کی تشکیل نے ملک میں امن واستحکام کو شدیدنقصان پہنچایا۔
1960-80ء کا دور نظریاتی آویزش کا دور تھا‘ تعلیم یافتہ اور باشعور لوگ دائیں بائیں بازو اور سرخ وسبز کی بحثوں میں الجھے ہوئے تھے‘ کسی پر امریکہ اور استعمار کا ایجنٹ ہونے کی پھبتی کسی جاتی تھی اور کسی پر کمیونسٹ اور سوشلسٹ ہونے کا فتویٰ لگایا جاتا تھا۔ یونیورسٹیوں میں بھی جب تک یونینیں رہیں‘ نظریاتی بحثیں جاری رہیں‘ طلبہ اور اساتذہ دونوں میں نظریاتی تقسیم کا رنگ نمایاں تھا‘ لیکن اب ہم غور کرتے ہیں تو اس وقت کی نظریاتی آویزش کا دور بعد کی لسانی اور قومی عصبیتوں پر مبنی سیاست سے بدرجہا بہتر تھا۔ نظریاتی بحثیں ہوتی تھیں‘ دلیل اور استدلال کا رنگ غالب ہوتا تھا‘ مگر بعد میں اس کی جگہ کلاشنکوف اور تشدد نے لے لی۔ ایسے سیاسی قائدین آئے کہ جو اپنے پرستار تھے‘ خود ہی عابد اور خود ہی معبود‘ عُجب وتکبر انتہا کو چھو رہا تھا اور ایسے ماحول میں علمی اور نظریاتی بحثوں کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
ایسے میں بھٹو صاحب اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگا کر آئے‘ اپنی نظریاتی جہت کے اظہار کیلئے وہ مائوزے تنگ سٹائل کا کوٹ پہنتے تھے۔ نظریہ بھی جب معقولیت اور دلیل و استدلال کی حدوں کو پھلانگ کر عصبیت کی لپیٹ میں آ جائے تو فکری توازن درہم برہم ہو جاتا ہے‘ اس لیے بھٹو صاحب سے دائیں بازو والوں اور دین دار طبقات کی نفرت انتہا پر تھی۔ اگر کوئی پوچھے کہ بھٹو کے زوال کا سب سے بڑا سبب کیا ہے‘ تو میں کہوں گا کہ انہیں اپنے اندر کے جاگیردار نے شکست دی‘ وہ مخالفت کو ادنیٰ درجے میں بھی برداشت کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ لہٰذا متضاد نظریات کی حامل تمام سیاسی جماعتیں ان کے مقابل یکجا ہو گئیں۔ نو جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد وجود میں آیا‘ بھٹو مخالف تحریک کا نعرہ نظامِ مصطفی قرار پایا‘ حالانکہ نیشنل عوامی پارٹی اور اس جیسی دیگر قوم پرست اور لبرل جماعتوں کو اس نعرے سے کوئی مناسبت نہیں تھی۔ الغرض ''کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘ کا منظر تھا۔ پی این اے کی تحریک آخرکار بھٹو صاحب کے زوال اور جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء پر منتج ہوئی۔ پاکستان میں سب سے پہلا ایٹمی بجلی گھر توکراچی میں صدر ایوب خان کے دور میں بنا تھا لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی بنیاد بھٹو مرحوم نے ڈالی‘ پھر اس کے بعد آنے والے تمام حکمرانوں نے اسے تمام تر مشکلات کے باوجود جاری رکھا۔ سوویت یونین کے خلاف برپا جہادِ افغانستان کے نتیجے میں امریکہ اور اہلِ مغرب کو صرفِ نظر کرنا پڑا‘ کیونکہ اُس وقت اُن کی اولین ترجیح سوویت یونین کا زوال تھی‘ تاہم ایٹمی دھماکے کا اعزاز 28 مئی 1998ء کو اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے حصے میں آیا۔
لیکن اب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو اسلامی اور جمہوری اقدار کے اعتبار سے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا کردار سب سے نمایاں ہے‘ حالانکہ اُس وقت انہیں نابغۂ شر کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ صوبۂ سندھ کے اردو سپیکنگ طبقے میں نفرت کا سبب لسانی ایکٹ‘ نیز سرکاری ملازمتوں اور پیشہ ورانہ تعلیم میں کوٹہ سسٹم کا نفاذ تھا‘ اس میں اُن کے چچا زاد بھائی ممتاز علی بھٹو کا کردار نمایاں تھا۔ اس ایکٹ نے نفرتوں کا بیج بویا‘ کراچی اور اندرونِ سندھ لسانی تصادم ہوا‘ صوبۂ سندھ کا اردو سپیکنگ طبقہ آج تک اُسے بھلا نہیں پایا۔ پس جمہوری طریقے سے 1973ء کے متفقہ آئین پر تمام سیاسی جماعتوں کو متفق کرنا بھٹو مرحوم کا بڑا تاریخی کارنامہ تھا‘ اس کیلئے وہ بجا طور پر تحسین کے مستحق ہیں۔ اس آئین پر نواب خیر بخش مری کے سوا اُس وقت کی پارلیمنٹ کے تمام اراکین کے دستخط ثبت ہیں۔ یہی وہ دستاویز ہے جس نے پاکستان کو متحد کر رکھا ہے اور ایک وفاقی ڈھانچے میں سب شامل ہیں۔ بعد کو جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف نے اس آئین کو معطل توکیا‘ لیکن منسوخ کرنے کی جسارت نہ کر سکے‘ ملک وقوم کی بدقسمتی ہے کہ ہماری سپریم کورٹ نے ان دونوں آمروں کو آئین میں ترمیم کے اختیارات دیے اور یہ ان عدالتوں کا واضح طور پر غیر آئینی اقدام تھا۔ سو آئین شکنی میں ہماری عدالتیں بھی آمروں کی شریکِ کار رہی ہیں۔ یہ ہماری عدلیہ کا وہ شرمناک باب ہے کہ جس پر وہ آج بھی افتخار نہیں کر سکتے۔ بھٹو مرحوم کا بڑا کارنامہ اس آئین میں قرآن وسنّت کی بالادستی کی دفعات اور 7 ستمبر 1974ء کو دوسری آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری تھی‘ جس میں عقیدۂ ختم نبوت کو آئین میں دائمی طور پر تحفظ ملا اور منکرینِ ختمِ نبوت کو خارج از اسلام قرار دیا گیا۔ اُس وقت کی پارلیمنٹ میں موجود علماء کا بھی اس میں بہت بڑا کردار تھا۔ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے حلَف نامے میں عقیدۂ ختمِ نبوت کو شامل کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے بائیں بازو کے سیکولر لبرل عناصر سب کا تب بھی یہ خیال تھا اور آج بھی ہے کہ بھٹو نے یہ کام دبائو میں کیا‘ مگر اُس وقت اپوزیشن اتنی مضبوط نہیں تھی۔ ہمارا حسنِ ظن ہے کہ بھٹو مرحوم نے شرحِ صدر سے یہ کارنامہ انجام دیا ہوگا اور امید کی جا سکتی ہے کہ یہ آخرت میں ان کی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ بعد کے حکمرانوں نے نظامِ حکومت میں اس پر پوری معنویت کے ساتھ عمل نہیں کیا۔ بھٹو مرحوم کا ایک بڑاکارنامہ بیت المقدس کی آتش زنی کے ردعمل میں امتِ مسلمہ کی متفقہ حکمت عملی طے کرنے کیلئے 22 تا 24 فروری 1974ء کو لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد تھا‘ اسی کے نتیجے میں اسلامی کانفرنس کی تنظیم وجود میں آئی‘ اس میں شاہ فیصل اور کرنل معمر قذافی کا بھی بڑا کردار تھا۔ اُس وقت یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ مسلم ممالک اپنے مطالبات کو قوت بخشنے کیلئے تیل کو آلے کے طور پربھی استعمال کرسکتے ہیں۔ عجب اتفاق ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کے انعقاد کیلئے کلیدی کردار کرنے والے یہ تینوں حکمران اپنی طبعی موت نہیں مرے۔ یہ ادارہ جن امیدوں اور آرزوئوں کے ساتھ قائم ہوا تھا‘ اُن پر پورا نہ اتر سکا‘ البتہ اُس کا ایک ڈھانچہ اب بھی موجود ہے‘ کبھی کبھاراس کا اجلاس بھی منعقد ہو جاتا ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے: ''ہرچند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں