"KNC" (space) message & send to 7575

مسلم لبرلزم…مصطفی اکیول کا جواب

چند دن پہلے میں نے ممتاز دانشور مصطفی اکیول کی کتب کو بنیاد بنا کر 'مسلم لبرلزم‘ پر ایک کالم لکھا تھا‘ جو آج کے دور میں اس کے سب سے بڑے داعیان میں شمار ہوتے ہیں۔ تفصیلی تبصرے سے دانستہ گریز کرتے ہوئے‘ میں نے خود کو اس بات تک محدود رکھا کہ میرے نزدیک اس تصور کے خدو خیال کیا ہیں۔ اس پر برادر مصطفی نے ایک وضاحتی مضمون لکھا ہے۔ میں اسے یہاں نقل کر رہا ہوں۔ مقصود یہ ہے کہ ان کا مؤقف ان کی زبانی بیان ہو جائے۔ میں مسلم لبرلزم کے بارے میں جو رائے رکھتا ہوں‘ ان شاء اللہ کسی اگلے کالم میں بیان کر وں گا۔ یہ معاصر مسلم سماج میں اٹھنے والے مباحث کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے جن سے ہم الگ نہیں رہ سکتے۔
مصطفی لکھتے ہیں: ''کتاب (Why, As A Muslim, I Defend Liberty)‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے جس کا اردو ایڈیشن حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ مجھے 'روزنامہ دنیا‘ میں خورشید ندیم صاحب کا فکر انگیز تبصرہ اور تحسین آمیز کلمات پڑھ کرخوشی ہوئی تاہم ان کے تبصرے میں چند ایسے نکات سامنے آئے ہیں جن کی وضاحت سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ لبرل ازم ایک ایسا سیاسی نظریہ ہے جو اس امر کا مدعی ہے کہ حکومتوں کو معاشرے پر مخصوص عقائد یا طرزِ زندگی مسلط نہیں کرنے چاہئیں۔ اس کے برعکس‘ حکومتوں کو افراد کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرنا چاہیے اور افراد کو اس شرط کے ساتھ اپنی مرضی سے جینے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ دوسروں کے حقوق کی پامالی نہ کریں۔ مثال کے طور پر فرانسیسی جمہوریہ کو‘ جو مذہب کے معاملے میں مغرب کی کمترین لبرل حکومتوں میں شمار ہوتی ہے‘ مسلم خواتین کے عوامی مقامات پر حجاب اوڑھنے کے حق میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ یا بھارتی حکومت کو مسلمانوں کی جانب سے گائے کے گوشت کی پیداوار یا استعمال کرنے کو جرم قرار نہیں دینا چاہیے‘ اور نہ ہی تبدیلیٔ مذہب کے انسداد پر مبنی ایسے قوانین وضع کرنے چاہئیں جو قبولِ اسلام کو محدود کرتے ہوں۔ جب اس نوع کے غیر مسلم احکامات و قوانین کا سوال درپیش ہوتا ہے تو ہمارے مسلم بھائی اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ لبرل ازم کیوں معقولیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ ادراکِ وجدانی ایک سوال بھی اٹھاتا ہے: کیا ہم مسلمان دوسروں کو وہ تمام آزادیاں دینے کیلئے تیار ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں؟ اگر نہیں‘ تو پھر ہم کس بنیاد پر اپنی آزادیوں کا دفاع کر سکتے ہیں؟ اس سوال سے نبرد آزما ہونے کا عمل‘ پہلے میرے وطنِ عزیز ترکیہ میں اور بعد ازاں عالمی سطح پر‘ مجھے اس بات پر قائل کر چکا ہے کہ ہمیں ایک حقیقی و مصدقہ مسلم لبرل ازم کی ضرورت ہے یا جیسا کہ میں اکثر تعبیر کرتا ہوں ''اسلامی لبرلزم‘‘ کی‘ کیونکہ میرے استدلال کا مرجع و ماخذ مصادرِ اسلام یعنی قرآن و سنت اور ساتھ ہی اسلام کی فقہی و کلامی روایت ہیں۔ تاہم اسی نکتے پر خورشید ندیم صاحب باریک بینی سے تنقید کرتے ہیں اور یہ دلیل دیتے ہیں کہ میری کاوش ''لبرل پیراڈائم کو معیار مان کر اسلام کی تعبیرِ نو‘‘ پیش کرتی ہے۔ اس کے جواب میں مَیں یہ عرض کروں گا کہ اگر یہ سچ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی تعبیر پہلے ہی ''استبدادی پیراڈائم کو معیار مان کر‘‘ کی جا چکی ہے۔
مثال کے طور پر قرآنی نص''دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ پر غور کیجیے‘ جو مذہبی آزادی کی ایک قابلِ قدر بنیاد ہے۔ اگر ہم اپنے کلاسیکی مفسرین کا مطالعہ کریں تو اکثر نے اس آیت کو یا تو جہاد سے متعلق آیات سے ''منسوخ‘‘ قرار دیا‘ یا پھر اس کے دائرہِ کار کو محض اس حد تک محدود کر دیا کہ اہلِ کتاب یعنی یہود ونصاریٰ اسلامی قلمرو کے تحت اپنے مذہب پر قائم رہ سکیں۔ اگرچہ مؤخر الذکر صورت بھی رواداری کا ایک عظیم مظاہرہ تھا‘ تاہم ''لا اکراہ‘‘ کا یہ اصول مسلمانوں پر اطلاق تک توسیع نہیں پا سکا۔ یہی سبب ہے کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس‘ ایس اے رحمان نے‘ البقرہ: 256 کو ''انسانیت کی مذہبی تاریخ میں آزادیٔ ضمیر کا ایک بینظیر چارٹر‘‘ قرار دیتے ہوئے‘ افسوس کا اظہار بھی کیا تھا کہ ''خود مسلم علما کی جانب سے اس کے وسیع انسانیت پرور مفہوم کو کمتر و محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں‘‘۔ آج ہم اپنے کلاسیکی علما کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے‘ اس ''انسانیت پرور‘‘ مفہوم کا احیا کر سکتے ہیں لیکن ایک ایسے نئے زاویۂ نظر کے ساتھ جس کی اجازت ان کا عہد نہیں دیتا تھا۔ جیسا کہ میری نئی مرتب کردہ کتاب ''دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ میں استدلال کیا گیا ہے۔
یہ قضیہ اس سے کچھ مختلف نہیں جو ابتدائی دور کے متعدد اسلامی جدیدیت پسندوں (اور حتیٰ کہ بعد کے بعض روایتی علما) نے غلامی کے باب میں پیش کیا تھا۔ یعنی ہماری شریعت نے صدیوں تک اس کی اجازت دی‘ کیونکہ وہ ان ادوار کا معمول و رواج تھا‘ لیکن غلاموں کو آزاد کرنے کے قرآنی اخلاقی حکم (البلد: 13) کا اطلاق اب عالمگیر سطح پر آزادی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ (تاہم اس کے باوجود‘ انیسویں صدی کے جن مسلم داعیانِ انسدادِ غلامی نے یہ استدلال پیش کیا تھا‘ ان پر ''یورپیوں کو خوش کرنے‘ اسلام کو نابود کرنے اور شریعت کو معطل کرنے‘‘ کی سعی کا الزام لگا کر مذمت کی گئی‘ جیسا کہ ہارون بشیر نے اپنی کتاب Slavery, Abolition, and Islam میں واضح کیا ہے)۔ ہماری صدی کا مسئلہ غلامی سے آزادی نہیں‘ بلکہ دیگر آزادیاں ہیں: آزادیٔ مذہب‘ آزادیٔ اظہار‘ سب کیلئے قانونی مساوات‘ جمہوری حاکمیت اور معاشی آزادی۔ میں ان اصولوں کا دفاع اسلئے کرتا ہوں کیونکہ میں نے بچشمِ خود دیکھا ہے کہ کس طرح ان اصولوں نے متعدد مغربی ممالک بشمول چند دیگر ممالک جیسے کہ جاپان یا جنوبی کوریا کو زیادہ پُرامن‘ خوشحال اور طاقتور بنایا۔ میں امت مسلمہ کیلئے بھی اسی کامیابی کی تمنا رکھتا ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آج مغرب میں موجود ہر شے قابلِ تحسین ہے۔ وہاں متعدد مفاسد بھی ہیں مثلاً روایتی خاندانی نظام کا انحطاط‘ معنویت کا بحران اور سیاسی شدت پسندی۔ نیز بعض لوگوں کے نزدیک ''لبرلزم‘‘ کا مفہوم لامتناہی لذت کوشی پر مبنی ایک اباحیت پسندانہ عالمی نقطۂ نظر بن چکا ہے‘ جو اکثر بالآخر نشے کی لت‘ عدمیت (nihilism) یا انسانی فطرت کی مسخ ہونے پر منتج ہوتا ہے۔ میں ان میں سے کسی بھی شے کی وکالت نہیں کرتا اور نہ ہی میں کسی ایسی ''مطلق آزادی‘‘ کا حامی ہوں جو نفاذِ امن‘ شائستگی‘ ایمانیات یا اخلاقیات کے کسی بھی احساس سے عاری ہو۔ تاہم تمدنی (civic) وسائل کے ذریعے ایمان واخلاق کی پاسبانی کرنے اور ریاستی جبر کے ذریعے انہیں مسلط کرنے کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مؤخر الذکر طریقہ جدید دور میں کارگر ثابت نہیں ہوتا؛ جیسا کہ مذہب اور اخلاقیات کی پاسبانی کے سلسلے میں ایران کے ناکام تجربے نے اسے نہایت واضح طور پر عیاں کر دیا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ خورشید ندیم صاحب نے اس استدلال کو ایک ''چشم کشا‘‘ امر کے طور پر پایا۔ جہاں خورشید ندیم صاحب میرے مؤقف کو سب سے زیادہ کمزور حتیٰ کہ انکے الفاظ میں ''بے بس‘‘ پاتے ہیں وہ قرآن اور جنسی اخلاقیات کا باب ہے۔ میں ان سے پُرزور گزارش کروں گا کہ وہ گناہوں اور جرائم کے درمیان قائم کردہ میرے تفریق کے نکتے پر زیادہ دقیق نظر سے غور فرمائیں۔ قرآن متعدد ذاتی گناہوں کی مذمت کرتا ہے لیکن حدود کو ان میں سے صرف چند ایک کیلئے مخصوص رکھتا ہے؛ یعنی وہ جو جان‘ مال یا خاندان کے ضرر سے متعلق ہیں۔ یہ امتیاز آج بھی مسلم معاشروں کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ یعنی جدید بیورو کریٹک ریاست کی سرد و بے روح مشینری کے بجائے نصیحت کے دل نشیں راستے کے ذریعے اخلاقیات کا فروغ اور اسکے فقدان پر تنقید۔ مجھے امید ہے کہ یہ پیشرفت ہمارے عہد کے ان اہم موضوعات پر مزید مکالمات کا نقطۂ آغاز ثابت ہو گی۔
میں فدا الرحمن صاحب کا ممنون ہوں جنہوں نے میری کتاب کا ترجمہ کیا‘ خورشید ندیم صاحب کا کہ انہوں نے اس پر نقد ونظر فرمائی‘ اور 'روزنامہ دنیا‘ کا جس نے یہ پلیٹ فارم مہیا کیا‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...