علامہ اقبال نے 'زمانۂ حاضر‘ کے انسان کا المیہ بیان کیا ہے:
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
علامہ اقبال کے 'دورِ حاضر‘ کو گزرے ایک صدی بیت گئی۔ انہوں نے اپنے عہد کا شہر آشوب لکھا ہے۔ میں جب دورِ حاضر کو دیکھتا ہوں تو اس دور کے انسان کا المیہ بھی یہی ہے۔ گویا حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے۔ اقبال تو خیر ایک بڑے فکری پس منظر میں اس المیے کو دیکھ رہے ہیں‘ میں اسے زمان و مکان کے اعتبار سے ایک محدود دائرے میں مشاہدہ کر رہا ہوں۔ یہ مکان پاکستان ہے اور انسان میں ہوں‘ آپ ہیں‘ ہم سب ہیں۔ ہم جو ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں یا ہم جو خاک نشین ہیں‘ جنہیں عرفِ عام میں عوام کہا جاتا ہے۔
ہم نے عالمی جنگ رکوا دی۔ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ہمارے مقام کا اعتراف کرنے والے بہت ہیں اور حاسدین کی بھی کمی نہیں۔ دشمن انگشت بدنداں ہیں کہ ہم جسے دیوار کے ساتھ لگانا چاہتے تھے‘ وہ اُن کے سامنے دیوار بن گیا ہے۔ اُن کواپنا راستہ بند ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کامیابی پر جشن کا سماں ہے۔ ایران اور امریکہ اگر چہ جارحانہ موڈ سے نہیں نکلے اور خدشات کے بادل بدستور آسمانِ خلیج پہ منڈلا رہے ہیں مگر اس سے ہماری کامیابی کا تاثر کم نہیں ہوا۔ ہم نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔ اب تو سننے میں آ رہا ہے کہ ہم لیبیا کے متحارب گروہوں میں بھی صلح کرائیں گے۔ ایسا ہوتا ہے تو یہ بھی بڑی کامیابی ہو گی۔ یہ نیک شگون ہے کہ لوگ پاکستانی قیادت کی بات کو وزن دے رہے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
حیرت مگر یہ ہے کہ ساری دنیا میں امن قائم کرنے والوں کے اپنے گھر کا منظر پریشان کن ہے۔ یہاں فساد ہے اور فسادی قوتیں گرفت میں نہیں آ رہی ہیں۔ بلوچستان میں پولیس والے اس سرزمین کی حفاظت میں جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے جوان قربان ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک آدمی انمول ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کو ریاست کچھ پیسے دے دیتی ہے۔ یہ اچھا ہے کہ کفالت بہرحال ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ مگر اس جان کا مداوا نہیں جو چلی گئی اور اس کے گھر والے اب کبھی اپنے محبوب کا چہرہ نہ دیکھ سکیں گے۔ معلوم نہیں کہ محض ایک سال میں کتنے گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ ہم دنیا کا فساد ختم کرانے نکلے ہیں مگر ہمارے اپنے گھر کا فساد ختم ہونے کو نہیں آ رہا۔
آزاد کشمیر کو دیکھ لیں۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آزاد کشمیر سے ایسی آوازیں اٹھیں گی۔ شکایت کہاں نہیں ہوتی مگر کیا اس وجہ سے ہم گھر کی بنیادوں میں بارود رکھ دیتے ہیں؟ آزاد کشمیر میں ایک سے زیادہ نظریاتی دھارے موجود رہے ہیں۔ ایسی کیفیت مگر کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ اس آزاد فضا کو کسی نے مقبوضہ بنا دیا ہو۔ راولپنڈی میں مَیں نے ان جماعتوں کے دفاتر دیکھے ہیں اور شاید اب بھی موجود ہوں جو خود مختار کشمیر کی حامی ہیں۔وہ اپنی بات پوری آزادی سے کہتے تھے‘ جلسے کر تے تھے۔ نہ انہیں کبھی جان و مال کے خطرے کا احساس ہوا نہ دوسروں نے انہیں اجنبی سمجھا۔ اب ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ نیا ہے۔ محض چند سیٹوں کے معاملے پر ایسی زبان اور پھر تشدد کی ایسی لہر؟ کہاں ہے وہ قوم جس کی قیادت عالمی تنازعات حل کروا رہی ہے مگر اس چھوٹے سے مسئلے کو حل نہیں کر سکی؟ ایک طرف ستاروں کی گزرگاہوں پرگھوڑے دوڑ رہے ہیں اور دوسری طرف قوم کی شاہراہ حیات سونی پڑی ہے۔
سیاسی مسائل بھی اپنی جگہ ہیں۔ ایک جماعت ہے جس کے ساتھ معاملات حل ہونے کو نہیں آ رہے۔ اس کی تنظیم ناکام ہو چکی اور وہ کوئی احتجاج منظم کرنے کی قدرت نہیں رکھتی۔ یہ حکومت کی کامیاب حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔ اس کامیابی پر داد وصول کیجیے مگر مسئلہ تو موجود ہے۔ نہ اس کے بیانیے کو شکست دی جا سکی ہے نہ اس جماعت سے وابستہ عوام کو قائل کیا جا سکا۔ حکومت کی بنیاد ایک سیاسی قوت پرہوتی ہے۔ وہ قوت کہاں ہے؟ سچ پوچھئے تو کہیں نہیں ہے۔ سیاست دم توڑ چکی۔ ملک میں اس وقت کوئی سیاست نہیں ہو رہی۔ سیاست مکالمے سے عبارت ہوتی ہے۔ یہ مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کا نام ہے۔ سیاست جنگ کا متبادل ہے جو انسان نے بڑی محنت سے دریافت کیا۔ ہم جو ایران اور امریکہ جیسی دشمن اور عشروں سے متحارب قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوئے ہیں‘ ملک کے اندر ایسی میز کیوں نہیں بنا سکے جس کے گرد سب سیاستدان بیٹھ جائیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ میں مذاکرات کروا کر جادو کر دیا۔ یہ جادو ملک کے اندر کیوں نہ کر سکے؟ جادو کی یہ چھڑی ملک کے اندر کیوں کام نہیں کرتی؟ کیا سبب ہے کہ ہم شدید دشمنوں کو تو مکالمے پر آمادہ کر لیتے ہیں مگر ملک کی سیاسی جماعتوں میں مکالمہ نہیں کروا سکتے؟ گھر عذاب اور باہر ثواب۔
ہمارا یہ المیہ پرانا ہے۔ بھٹو صاحب تیسری دنیا کو اکٹھا کرنا چاہتے تھے مگر ملک میں اپوزیشن کی جگہ جیل ہی رہی۔ قومی اتحاد کے ساتھ مذاکراتی عمل نتیجہ خیز نہ ہو سکا۔ عمران خان صاحب بھی اردوان اور مہاتیر محمد سے مل کر اسلامی بلاک بنانے چلے تھے مگر جب تک وزیراعظم رہے ایک بار بھی اپوزیشن سے بات نہیں کی۔ آج بھی یہ تسلسل برقرار ہے۔ سب مذہبی جماعتیں امتِ مسلمہ کے اتحاد کا واویلا کر تیں اور مسلم حکمرانوں کو کوستی ہیں۔ اپنا حال یہ ہے کہ ایک مسلک کی وابستگان تو گنے جا سکتے ہیں‘ ان کی جماعتیں نہیں۔ اس لیے میں اس سوال کو دہرانے پر مجبور ہوں کہ امت کو جمع کرانے والے پاکستانی قوم کو کیوں جمع نہیں کر سکے؟ دنیا میں برسرِ پیکار قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے والے مقامی سیاسی قائدین کو کیوں ایک کمرے میںاکٹھا نہیں کر سکتے؟
علامہ اقبال نے دورِ حاضر کے اس انسان کے المیے کو کئی اسالیب میں بیان کیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں:
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا
واقعہ یہ ہے کہ اصل کامیابی خود کو مسخر کرنا ہے۔ اپنی اَنا پر فتح پانا ہے۔ اپنے مفاد سے بلند تر ہو کر دیکھنا ہے۔ اپنا تزکیہ کرنا ہے۔ ہم ان فصیلوں کی قید میں ہیں۔ ہم خارج کو مفتوح کرنے میں اب تک کامیاب ہیں مگر اپنے داخل میں بیٹھے اپنے مخالف پر فتح نہیں پا سکے۔ ہمارا اصل کام یہ نہیں کہ ہم نے دنیا سے فساد ختم کرنا ہے‘ ہمارا اصل امتحان یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو امن کا گھر بنانا ہے۔ ہم نے ستاروں کی گزر گاہوں پر گھوڑے نہیں دوڑانے‘ اپنے افکار کی دنیا میں پیش قدمی کرنی ہے۔ انہیں سنوارنا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں امن اور اس کا استحکام ہے۔ ایسا پاکستان جہاں ایک دوسرے کی شکایات کا ازالہ ہو۔ ایک دوسرے پر اعتماد ہو۔ اس کے بعد ہم مل کر ان قوتوں کا مقابلہ کریں جو خارج میں ہیں اور پاکستان کے امن کو برباد کرنا چاہتی ہیں۔ سورج کی شعاعوں کو ضرور قید کیجیے مگر پہلے پاکستان کی شبِ تاریک کی سحر کیجیے۔ یہاں سحر طلوع ہوئی تو پھر آسانی سے ساری دنیا کو روشن کر سکیں گے۔ کتنا عجیب ہو گا کہ گھر میں لوڈ شیڈنگ ہو اور ہم دنیا کو روشن کرنے چل پڑیں۔