"JDC" (space) message & send to 7575

اور اب بلیو پاسپورٹ کی بے توقیری

کچھ عرصہ پہلے تک بہت کم پاکستانیوں کو علم تھا کہ بلیو پاسپورٹ کیا ہوتا ہے‘ وہ صرف گرین پاسپورٹ سے واقف تھے لیکن پچھلے عشرے میں سیاسی حکومتوں نے بلیو پاسپورٹ ریوڑیوں کی طرح بانٹا ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ تقریباً دو سال پہلے بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی تھی جبکہ میری سروس کے دوران یہ تعداد دس ہزار کے لگ بھگ تھی۔
قارئین کی آسانی کیلئے سب سے پہلے پاسپورٹ کی اقسام کی وضاحت ضروری ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ تین قسم کے ہیں: ڈپلومیٹک یعنی سفارتی پاسپورٹ‘ جو سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ سفارتکاروں کو دیا جاتا ہے یا اعلیٰ ترین سرکاری عہدیداروں کو‘ مثلاً صدرِ پاکستان اور وزیراعظم وہ اشخاص ہیں جو سفارتی پاسپورٹ رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ ان افراد کی ایک باقاعدہ منظور شدہ لسٹ ہوتی ہے جو فارن آفس میں گاہے گاہے بطور ریفرنس استعمال ہوتی ہے۔ ڈپلومیٹک پاسپورٹ ایشو کرنے کا اختیار صرف فارن آفس کے پاس ہے۔ بلیو یعنی نیلا پاسپورٹ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو سرکاری ڈیوٹی پر بیرونِ ملک بھیجے جاتے ہیں لیکن انکا رتبہ سفارتکارسے کم ہوتا ہے۔ مثلاً سفارتخانے میں اکائونٹنٹ یا سائفر اسسٹنٹ بلیو پاسپورٹ رکھتے ہیں اور یہ پاسپورٹ وزارتِ داخلہ ایشو کرتی ہے۔ بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو سفارتی استثنیٰ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ بلیو پاسپورٹ گرین پاسپورٹ سے قدر و منزلت میں بہتر ہے۔ بلیو پاسپورٹ پر آپ 55 ممالک بغیر پیشگی ویزہ جا سکتے ہیں‘ جن میں یورپ کے 12 ممالک بھی شامل ہیں۔ سبز یا گرین پاسپورٹ ہر پاکستانی شہری کو مل سکتا ہے اور یہ قدرو منزلت میں سب سے نیچے ہے۔ چند بین الاقوامی تنظیمیں ہر سال پاسپورٹس کی گریڈنگ کرتی ہیں کہ کون سے ممالک کے پاسپورٹ معتبر ہیں اور کون سے کمزور۔ اس عمل کیلئے ایک نیوٹرل یعنی غیر جانبدار پیمانہ یہ ہے کہ کس ملک کے شہریوں کو کتنے ممالک میں ویزہ فری انٹری کی سہولت ملتی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا گرین پاسپورٹ دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں سے ہے۔ سروے کے مطابق صرف عراق‘ شام اور افغانستان کے پاسپورٹ ہمارے پاسپورٹ سے کمزور تر ہیں۔ دنیا کے صرف 29 ممالک میں سبز پاسپورٹ پر ویزہ فری انٹری ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کی تعداد 193 ہے‘ تو معلوم یہ ہوا کہ بیرونی ممالک کی اکثریت اس بات پر مصر ہے پاکستانی ان ممالک میں صرف اس صورت میں داخل ہوں اگر انکے پاس پیشگی ویزہ ہو‘ اور ویزہ دینے سے پہلے خوب چھان پھٹک کی جاتی ہے کہ آپ کن ممالک میں پہلے گئے‘ آپ کا بینک بیلنس کتنا ہے‘ کیا کسی نے آنے کا دعوت نامہ بھیجا ہے۔ یعنی ہر زاویے سے دیکھا پرکھا جاتا ہے کہ ویزہ حاصل کرنے والا شخص پاکستان واپس ضرور آئے۔ کچھ ملک تو پاکستان میں جائیداد اور پولیس کے کیریکٹر سرٹیفکیٹ جیسے ثبوت بھی مانگتے ہیں۔ بلیو پاسپورٹ پر 55ممالک میں ویزہ فری انٹری ہے‘ لہٰذا پاکستانی بزنس مین اور اشرافیہ کیلئے بلیو پاسپورٹ ایک پُرکشش ڈاکیومنٹ ہے۔
دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کی عدم مقبولیت کی ایک وجہ جعلسازی ہوا کرتی تھی لیکن مشین ریڈابیل پاسپورٹ کے آنے سے اس بات کا بڑی حد تک تدارک ہو گیا ہے۔ پوری دنیا کے ایئرپورٹس پر نصب کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں پاسپورٹ کے کوائف پڑھ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اب دنیا کے اکثر ممالک ہمارا خوش دلی سے استقبال نہیں کرتے‘ اس کی بڑی وجہ انسانی سمگلنگ اور سیاسی پناہ ہے۔ بے شمار پاکستانیوں کی سیاسی پناہ کی درخواستیں ہیں جو یورپ اور دیگر ممالک کے پاس پڑی ہیں۔
ترکیہ اور لیبیا کے راستے کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر یونان اور اٹلی جانے والوں کی تعداد بے شمار ہے۔ اسے عرفِ عام میں ڈنکی لگانا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے سے پہلے اپنے پاسپورٹ سمندر میں پھینک دیتے ہیں تاکہ داخلے کی تاریخ کا تعین نہ ہو سکے۔ وہاں پہنچ کر یہ لوگ درخواست دیتے ہیں کہ میرا پاسپورٹ گم ہو گیا ہے مگر میں کئی سالوں سے یہاں مقیم ہوں۔ ایسی صورت میں مقامی قانون وقتی رہائش کی اجازت دیتا ہے۔ سفارتخانے سے نیا پاسپورٹ مل جاتا ہے لیکن ان لوگوں کا بھی سوچیے جو ناقص کشتیوں پر اوور لوڈنگ یا کوسٹ گارڈ کی فائرنگ سے جان سے جاتے ہیں۔میں ایتھنر کے علاوہ مسقط میں بھی سفیر رہا ہوں۔ یہاں ایران کے راستے انسانی سمگلنگ ہوتی تھی۔ ہم وقفے وقفے سے ایسے گرفتار شدہ پاکستانیوں کو جز وقتی پاسپورٹ دیتے تھے‘ جنہیں عمانی حکومت ڈی پورٹ کر دیتی۔ ایف آئی اے کو بار بار لکھا گیا‘ کراچی پہنچنے پر ان لوگوں سے تفتیش بھی ہوتی۔ جب یہ معاملہ چلتا ہی گیا تو ایف اے آئی نے کہا وہ پاکستان ایمبیسی میں ایک افسر تعینات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسئلہ پاکستان میں ہے‘ عمان میں نہیں لہٰذا ایف آئی اے پاکستان میں ہی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کرے۔ جہاں تک عارضی پاسپورٹ ایشو کرنے کا تعلق ہے تو وہ سفارتخانے کا کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ہر گرفتار شخص کو انٹرویو کرکے کر دیتا ہے۔ پھر وہ بحری جہاز کے ذریعے کراچی بھیجے جاتے ہیں اور ایف آئی اے کو پیشگی خبر ہوتی ہے۔ ایف آئی اے لالچی ایجنٹوں کو پکڑے اور عمان کی جانب انسانی سمگلنگ کو روکے۔ میرے ہوتے ہوئے ایف آئی اے کا افسر مسقط نہ آ سکا۔
انسانی سمگلنگ سے بھی زیادہ خطرناک رجحان سیاسی پناہ کا ہے۔ 2023-25ء ایک لاکھ پچیس ہزار پاکستانیوں نے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ یہ معلومات سینیٹ کو وقفہ سوالات میں بتائی گئیں۔ 2023-24ء میں 28 ہزار پاکستانیوں نے یورپی یونین کے ممبر ممالک میں سیاسی پناہ طلب کی۔ یاد رہے کہ برطانیہ اب یورپی یونین کا حصہ نہیں اور پچھلے سال برطانیہ میں فائل کی گئی سیاسی پناہ کی درخواستوں میں پاکستانی شہریوں نے اول پوزیشن حاصل کی۔ لہٰذا سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک گرین پاسپورٹ کو مشکوک نظروں سے کیوں دیکھتے ہیں۔ درخواست دیتے وقت یہ لوگ یہ بھی لکھتے ہیں کہ میرا تعلق فلاں کمیونٹی‘ سیاسی جماعت یا طبقے سے ہے جس پر پاکستان میں بڑا ظلم ہو رہا ہے‘ لہٰذا پاکستان میں میرا نارمل زندگی گزارنا ناممکن ہے۔ اس درخواستوں میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی خاصی ہوتی ہے اور یہ لوگ ملک کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔
حال ہی میں ایوانِ بالا کی ایک کمیٹی نے منتخب نمائندوں کے اہل خانہ کیلئے بھی بلیو پاسپورٹ کی اتفاقِ رائے سے سفارش کی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی! یہ سہولت اسمبلیوں کے سابقہ ممبران اور ان کے 28 سال عمر تک کے زیر کفالت بچوں کو بھی حاصل ہو گی۔ ساتھ ہی وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چودھری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم بلیو پاسپورٹ کی تعداد کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں کیلئے ویزہ فری انٹری والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو سکے۔ شنید ہے کہ بلیو پاسپورٹ بھی اب بیرونِ ملک پاکستان کی بدنامی کا سبب بننا شروع ہو گیا ہے۔ بلیو پاسپورٹ صرف اور صرف سرکاری ڈیوٹی کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں استثنیٰ صرف گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسروں کو حاصل ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی عمر سروس میں گزار چکے ہوتے ہیں‘ متعدد ٹریننگ کورس کرتے ہیں‘ پروموشن کے کئی مراحل سے گزرتے ہیں اور زندگی کے بہترین سال سرکاری ڈسپلن میں گزارتے ہیں۔ اگر ایک ایم این اے کے بیٹے یا بیٹی کو ان افسران کے برابر استحقاق دے دیا جائے تو یہ سراسر زیادتی ہو گی۔ ایم این اے کا 28 سالہ بچہ اگر خودکفیل نہیں ہے تو وہ کسی بڑے استحقاق کا حقدار نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ایسے اقدام سنجیدگی سے اپنانا ہوں گے جن کی وجہ سے بلیو اور گرین پاسپورٹ کی عزت بحال ہو سکے‘ ورنہ ہمارے پاسپورٹ کی قدرو منزلت علاقائی ممالک سے نیچے ہی رہے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...