"JDC" (space) message & send to 7575

صلح اور جنگ کے درمیان

فروری کے اختتام سے دنیا ایک عذاب میں مبتلا ہے۔ ایران کی قیادت کو بے دردی سے امریکہ اور اسرائیل نے شہید کیا۔ انفراسٹرکچر‘ سکول اور یونیورسٹیاں بمباری کے نشانے پر رہیں۔ ایران نے اپنے دفاع میں تُرپ کا پتا کھیلا یعنی آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں‘ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں کنفیوژن کا شکار ہوئیں۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے صرف تیل اور گیس کی سپلائی پر اثر نہیں پڑا بلکہ کیمیائی کھادوں اور کنسٹرکشن میٹریل پر بھی اثر پڑا۔ تیل سے بھرے ہوئے سینکڑوں ٹینکر خلیج سے باہر نہ جا سکے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک افراطِ زر یعنی قیمتوں میں اضافے کا شکار ہوئے۔
پاکستان کئی طرح سے خلیجی ممالک سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے اہم ترین روحانی مراکز وہاں ہیں۔ ستر لاکھ پاکستانی ورکر وہاں کام کر رہے ہیں۔ اس سارے تناؤ کا خلیجی معیشت پر منفی اثر پڑا ہے۔ ہمارے ہاں ایل این جی اور تیل کا بیشتر حصہ خلیج سے آتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہمارے اہم تجارتی پارٹنر ہیں۔ پاکستان سے مغربی ممالک کو جانے والی بیشتر پروازیں خلیجی ممالک سے ہو کر جاتی ہیں‘ لہٰذا خلیج میں تناؤ کی کیفیت فوری طور پر پاکستان میں منفی نتائج کی صورت میں سامنے آئی۔ اچھی خبر یہ ملی کہ لبنان میں جنگ بندی ہو گئی۔ ایرانی قیادت اور حز ب اللہ میں تعاون ایک عرصے سے ہے۔ حزب اللہ اس قدر طاقتور ہے کہ لبنانی حکومت کئی سالوں سے اس کوشش میں ہے کہ حزب اللہ سے ہتھیار لے کر اسے غیر مسلح کر دیا جائے مگر کامیاب نہیں ہوسکی۔ شام سے بشار الاسد کی حکومت جانے کے بعد حزب اللہ اور ایران کا زمینی کمک کا راستہ ضرور متاثر ہوا ہے اور پھر اسرائیل نے شیخ حسن نصر اللہ سمیت حزب اللہ کی لیڈر شپ کو چن چن کر شہید کیا ‘مگر یہ سخت جان جماعت اسرائیل کے خلاف اب تک ڈٹی ہوئی ہے۔
پچھلے دنوں اسرائیل نے جنوبی لبنان پر سخت بمباری کی۔ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی جارحیت کا بھر پور جواب دیا۔ اسرائیل نے لیطانی دریا تک جنوبی لبنان کا کچھ علاقہ قبضے میں لے کر وہاں بفر زون قائم کردیا ہے۔ یہ علاقہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ بارڈر کی دوسری جانب اسرائیلی آباد کاروں کی بستیاں پچھلے دو سال سے حزب اللہ کے راکٹوں کی وجہ سے ویران ہیں۔ حزب اللہ پر دو جانب سے دباؤ ہے۔ بیروت اور تل ابیب کی قیادتیں اس کی دشمن ہیں‘ ایران بھی شدید دباؤ میں ہے‘ لیکن حزب اللہ ڈٹی ہوئی ہے۔ اسرائیل کا ہدف تھا کہ حزب اللہ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا مگر اسرائیل اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ جب پاکستان نے ایرانی قیادت کو آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا تو ایران کی لیڈر شپ متذبذب تھی کیونکہ یہ ایران کے ہاتھ میں ترپ کا کارڈ تھا۔ دوسری جانب ایران جنوبی لبنان پر مسلسل بمباری اور آبنائے ہرمز کے امریکی محاصرے کی وجہ سے دباؤ میں تھا۔ اگر دبئی‘ دمام‘ بحرین اور دوحہ میں سمندری جہاز پھنسے ہوئے تھے تو بندر عباس اور چا بہار کی پورٹس بھی آپریشنل نہیں تھیں۔ پھر پاکستان کی سمارٹ سفارت کاری کام کر گئی۔ چونکہ ہمارے براہِ راست اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں لہٰذا امریکہ سے درخواست کی گئی کہ وہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کی بمباری بند کرائے تو ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا جا سکتا ہے؛ چنانچہ امریکہ نے ہماری بات مان لی اور دس دن کی جنگ بندی کا اعلان واشنگٹن سے ہوا۔ اسرائیلی لیڈر شپ اس بات پر بہت سیخ پا تھی کہ اتنی جلدی میں جنگ بندی کیوں ہوئی اور اعلان واشنگٹن سے کیوں ہوا۔ اسرائیل ایک عرصے سے صدر ٹرمپ سے اپنی باتیں منوا رہا تھا اور اب صدر ٹرمپ نے خود ہی فیصلہ کر لیا جو اسرائیلی قیادت کو پسند نہیں آیا۔
دراصل ایک عرصے سے امریکہ میں اسرائیلی لابی بہت بااثر ہے۔ یہ لوگ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی‘ دونوں میں فعال ہیں۔ دونوں کے امیدواروں کو چندہ دیتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اکتوبر 2023ء میں غزہ کی جنگ شروع ہوئی تو سابق صدر جو بائیڈن بھاگے بھاگے اسرائیل آئے اور بڑے فخر سے کہا کہ میں صہیونی ہوں۔ موصوف کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا۔ ریپبلکن پارٹی میں اسرائیلی لابی کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) ایک مؤثر تنظیم ہے جو واشنگٹن میں اسرائیلی مفادات کا ہمہ وقت دفاع کرتی ہے۔ یہ تنظیم 1950ء کی دہائی میں بنائی گئی جب مشرق وسطیٰ میں مصدق اور جمال عبدالناصر جیسے قوم پرست اور پاپولر لیڈر ابھر رہے تھے۔ دراصل 1948ء میں اسرائیل کے قیام کا بڑا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں مغربی ممالک کے مفادات کا دفاع تھا۔ ایپک اپنے ممبرز کی معلومات اور نام خفیہ رکھتی ہے مگر اس بات سے بہت سے لوگ واقف ہیں کہ امریکی صدر کے ایلچی برائے شرق اوسط سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنرAIPAC سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی گاڑھی چھنتی ہے۔ اسی وجہ سے ایران کو ان دونوں کے مصالحتی وفد میں شامل ہونے پر تحفظات رہے ہیں۔
پاکستان کئی روز سے دنیا کی نگاہوں کا مرکز ہے۔ 10اور 11اپریل کو اسلام آباد مذاکرات کو کور کرنے کیلئے عالمی میڈیا ہمارے ہاں موجود تھا۔ عربی چینلز کو مذاکرات میں خاص دلچسپی تھی۔ دوحہ قطر کے معروف چینل العربی نے خاص طور پر اپنے اینکر کو اسلام آباد بھیجا۔ وہ اسلام آباد ہوٹل میں ٹھہرے اور وہیں ہوٹل کی چھت سے لائیو پروگرام کرتے رہے۔ مجھے بھی ایک انٹرویو کیلئے مدعو کیا گیا۔ امید و بیم کی کیفیت تھی۔ امریکی وفد ابھی اسلام آباد سے گیا نہیں تھا مگر صدر ٹرمپ نے ایران کے بحری محاصرے کا عندیہ دے دیا اور یہ کوئی اچھا شگون نہیں تھا۔ ایک نسبتاً چھوٹا اور اقتصادی پابندیوں کا شکار ملک پوری دنیا کی سپر پاور کے سامنے ڈٹا ہوا تھا اور سپر پاور کیلئے یہ بات بڑی سبکی والی تھی۔العربیہ سعودی عرب کا مشہور چینل ہے‘ اس کے نمائندے دنیا بھر میں ہیں۔ اس چینل کی امریکہ کیلئے بیورو چیف نادیہ بلبیس امریکہ ایران مذاکرات کے دنوں میں خاص طور پر اسلام آباد آئیں اور بلیو ایریا کے پاس سٹوڈیو سیٹ کر لیا۔ مجھے انہوں نے طویل انٹرویو کیلئے مدعو کیا۔ عرب میڈیا میں لبنانی خواتین پیش پیش ہیں۔ فصیح عربی میں قادر الکلام ہیں اور عالمی حالات کو خوب سمجھتی ہیں۔
ایک کامیاب ثالث کیلئے ضروری ہے کہ دونوں پارٹیوں کیلئے قابلِ قبول ہو‘ یعنی دونوں اسے صلح کرانے کیلئے کہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ مذاکرات میں لیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے۔ دوسری شرط میں پاکستان قدرے کمزور ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ جنگ نے امریکہ کے عالمی قد کاٹھ میں کمی کی ہے۔ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم کی باتوں میں آ گئے۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو باور کرایا کہ ایرانی ٹاپ لیڈر شپ ختم ہوئی تو ایرانی عوام ہمارے شکرگزار ہوں گے۔ تہران میں ہماری پسند کی حکومت بنے گی تو چین کے ساتھ تعاون والا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ ایران سے چین کو تیل نہیں ملے گا۔ یعنی ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے۔ امریکہ اسرائیل کی باتوں میں آ گیا اور اب مخمصے کی حالت میں ہے۔
اسرائیل اور ایران مشرقِ وسطیٰ کی دو بڑی طاقتیں ہیں۔ دونوں میں علاقائی برتری کیلئے جنگ لڑی جا رہی ہے۔ ہمیں ایران کا ممنون ہونا چاہیے کہ ایران نے یہ جنگ پوری تھرڈ ورلڈ کیلئے لڑی ہے‘ اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوا ہے۔ ثالثی والے کردار سے پاکستان کی نیک نامی ہوئی ہے اور اگر خدانخواستہ تہران میں امریکہ اور اسرائیل کی پسند کی حکومت آ جاتی تو بھارت کے وارے نیارے ہو جاتے۔ موساد اور را مل کر وطنِ عزیز میں کھلواڑ کرتیں۔ میرا اندازہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں۔ جنگ کی طوالت سے اگر کوئی ملک خوش ہے تو اسرائیل ہے۔ امریکہ کواپنا بحری حصار ختم کر دینا چاہیے تاکہ بات آ گے بڑھے اور پاکستان امن کیلئے مثبت کردار جاری رکھ سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں