"JDC" (space) message & send to 7575

مڈل ایسٹ کا دیرپا سکیورٹی سٹرکچر

شرقِ اوسط کی جنگ نے نہ صرف خطے کو بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ تیل اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں حصص منڈیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ خلیجی ممالک کی پریشانی روزانہ عرب چینلز پر عیاں ہوتی ہے۔ ایران کو صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ہماری بات نہ مانی تو پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دیے جائو گے۔ صدر ٹرمپ نے کل یہاں تک کہہ دیا کہ آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی۔ ایران میں تو تہذیب تب سے ہے جب امریکہ کا کسی کو پتا بھی نہیں تھا۔ مجھے تو یہ بات سوچ کر ہی کپکپی آتی ہے کہ فردوسی‘ حافظ اور شیخ سعدی کے وطن کو تباہ کر دیا جائے گا۔ لیکن رستم و سہراب کا ملک بہت بڑی طاقت کا کمال صبر اور دلیری سے سامنا کر رہا ہے۔
سرکردہ عرب لیڈروں کو رام کرنے یا ختم کرنے کی پالیسی عرصے سے جاری ہے اور اس میں امریکہ اور اسرائیل کو کئی کامیابیاں بھی ملی ہیں۔ مصر کے انور سادات1973ء میں اسرائیل کیخلاف لڑے تھے۔1978ء میں کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے کے بعد وہ مسلح جدوجہد سے علیحدہ ہو گئے۔ قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانہ کھل گیا‘ مصر کو خاطر خواہ امریکی امداد ملنے لگی۔ یاسر عرفات کو دو ریاستی حل کا جھانسا دیا گیا‘ اوسلو کا معاہدہ ہوا جس پر اسرائیل نے عمل نہیں کیا۔ جب فلسطینیوں نے دیکھا کہ یاسر عرفات مسلح جدوجہد ترک کر چکے ہیں تو حماس وجود میں آ گئی۔ گویا فلسطینی خاکستر میں چنگاری ابھی باقی تھی۔2004ء میں یاسر عرفات کی موت انتہائی پُراسرار طریقے سے ہوئی۔ شیخ احمد یٰسین‘ جو حماس کے بانی تھے‘ کو اسرائیل نے شہید کر دیا۔ 2003ء میں اسرائیل کے کہنے پر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا کیونکہ صدام حسین فلسطینی حقوق کے حامی تھے۔ مہلک ہتھیاروں کے وجود کو بہانہ بنایا گیااور بعد میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اعلانیہ تسلیم کیا کہ عراق کے پاس کیمیائی ہتھیار نہیں تھے اور الزام جھوٹا تھا۔ میں صدام حسین کا کبھی حامی نہیں رہا لیکن جس شان سے وہ پھانسی کے پھندے کی طرف گئے اس دلیری نے صدام حسین کو عربوں کا ہیرو بنا دیا۔ عراق جو صدام کے زمانے میں ایک مضبوط رفاہی ریاست تھا آج منقسم اور لاغر نظر آتا ہے۔ اسکے بعد لیبیا کے کرنل قذافی کی باری آئی۔ وہ بھی مغربی استعمار کیخلاف بولتے تھے اور فلسطینی حقوق کے پُرجوش حامی تھے۔ ایٹمی پروگرام بھی شروع کر چکے تھے‘ گو کہ بعد میں اس پروگرام سے تائب ہو گئے لیکن ان کی جان بخشی پھر بھی نہ ہو سکی۔ انہیں جس بہیمانہ طریقے سے مارا گیا یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیبیا آج منقسم اور کمزور ہے اور فلسطینی حقوق کیلئے کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہا۔ اسکے بعد شام کی باری آئی کہ 1973ء کی جنگ میں مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف اس نے خوب لڑائی کی اور اس کے بعد بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاتا رہا۔2011ء میں شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور ڈیڑھ عشرے تک چلی۔ ہزاروں شہری مارے گئے‘ لاکھوں در بدر ہوئے۔ خانہ جنگی میں امریکہ نے حکومت مخالف قوتوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ کوئی سوا سال ہونے کو ہے‘ شام میں نئی حکومت آئی ہے۔ سابق صدر بشار الاسد روس میں بیٹھا ہے۔ شام میں اس وقت قدرے استحکام ہے لیکن ملک اتنا کمزور ہے کہ اس میں اسرائیل کے مقابلے کی سکت نہیں ۔
ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت اسرائیل کے خلاف پُرعزم مزاحمت ہی کا شاخسانہ ہے۔ اسلامی دنیا میں شیعہ سُنی کی تقسیم یقینا موجود ہے لیکن مغرب نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس تقسیم کو گہرا کیا ہے۔ ایران‘ عراق جنگ میں مغربی ممالک صدام حسین کیساتھ کھڑے تھے۔ خلیجی ممالک نے بھی کھل کر عراق کی حمایت کی۔ اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کا ایک ہدف اس انقلاب کو دیگر ممالک کی جانب ایکسپورٹ کرنا بھی تھا۔ خلیجی ممالک کے حکمران اس بات سے سخت خائف تھے۔ ایران عراق جنگ کے ردعمل کے طور پر ہی 1981ء میں خلیج تعاون کونسل بنی۔ اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر ریاض میں ہے۔ اقتصادی اور دفاعی تعاون اس تنظیم کے بنیادی مقاصد ہیں۔ 2012ء میں سعودی عرب نے تجویز دی کہ خلیج تعاون کونسل کا نام خلیج یونین رکھا جائے‘ عسکری تعاون بڑھایا جائے اور جزیرہ نما شیلڈ فورس (درع الجزیرہ) کے تحت ممبر ممالک کی مسلح قوت کو یکجا کیا جائے۔ اس تجویز کو خلیجی نیٹو بھی کہا جا سکتا ہے‘ لیکن اس پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔
اب قطر اور ایران نے حال ہی میں تجویز دی ہے کہ خلیجی خطے میں مسلم ممالک کا سکیورٹی اتحاد بننا چاہیے۔ اس تجویز پر خلیجی ممالک کا کوئی ردِعمل نہیں آیا۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ عرب ممالک فی الحال اپنے دفاع میں الجھے ہوئے ہیں اور ان پر گولہ باری ایران کی جانب سے ہو رہی ہے۔ حالیہ جنگ کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ایرن عرب تنائو جو ماضی قریب میں خاصا کم ہو گیا تھا‘ پھر بڑھ گیا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ ایران نے عمان پر حملے کیوں کیے؟ معتدل مزاج عمانی حکمرانوں نے ایران کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ تعلقات رکھے اور قطر کے بھی ایران کے ساتھ تعلقات بہت اچھے رہے ہیں‘ لیکن اب پھر سے دوریاں نظر آ رہی ہیں۔ دراصل قطر میں امریکی فضائیہ کا ایک بڑا اڈا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں اس اڈے کی لاجسٹک سپورٹ شامل ہوتی ہے۔ خلیج کے بارے میں ایرانی عسکری پالیسی کا اہم نکتہ یہ ہے کہ خطے میں بیرونی عسکری وجودنہیں ہونا چاہیے۔ یہ رائے خاصی صائب ہے۔ عرب ممالک میں بھی بیرونی عسکری وجود اور اس کی افادیت کے بارے سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اپنے دفاع کیلئے دوسروں پر انحصار کرنا بڑی غلطی ہوتی ہے۔ ماضی میں جب بھی اس قسم کی تجویز پر غور ہوا تو عربوں کو تحفظات اس زاویے سے بھی تھے کہ ایسی تنظیم میں ایران سب سے بڑا اور نمایاں ملک ہوگا اور چھوٹے ممبر ممالک کی آوازدب کر رہ جائے گی‘ لیکن اگر پاکستان‘ ترکیہ اور مصر اس دفاعی اتحاد میں شامل ہو جائیں تو تنظیم میں خاصا توازن آ سکتا ہے۔
بھارت اور اسرائیل کی بھی تمنا ہے کہ خلیجی خطے میں انکا اثر ورسوخ بڑھے۔ جب ابراہم اکارڈ ہوا تو اسرائیل کی تمنا کسی حد تک پوری ہوتی ہوئی نظر آئی۔ چند سال پہلے او آئی سی کا ایک اجلاس ایک خلیجی ملک میں ہوا تھا‘ جس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مہمانِ خصوصی کے طور پر بلایا گیا تھا۔ اُس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو متعدد خلیجی ممالک نے اعلیٰ ترین سول ایوارڈز دیے ہیں۔ دراصل ہندوتوا اور صہیونیت میں کئی قدریں مشترک ہیں۔ دونوں انتہائی متعصب توسیع پسند نظریات ہیں۔ انڈیا اَکھنڈ بھارت کا تمنائی ہے تو اسرائیل گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھ رہا ہے۔ صہیونی کہتے ہیں کہ دجلہ اور فرات کی درمیانی زمین کا اللہ نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے۔ ہندوتوا پر یقین رکھنے والے انڈین کہتے ہیں کہ پاکستان بننے سے گائو ماتا کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ اسلام دشمنی دونوں کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔
مسلم ورلڈ کا تحفظ باہمی تعاون اور اتحاد ہی میں ہے۔ اس نئے عسکری اتحاد میں ایران‘ پاکستان‘ ترکیہ‘ مصر اور جی سی سی ممالک شامل ہونے چاہئیں۔ اس سے شیعہ سنی کی تفریق بھی مدہم پڑ جائے گی۔ ان ممالک کو بخوبی علم ہے کہ اسرائیل مسلمانوں کو مارتے ہوئے شیعہ سنی کی تفریق نہیں کرتا۔انڈیا میں 12فیصد سے زائدمسلمان ہیں مگر کابینہ میں ایک بھی مسلمان نہیں۔ اب تک امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس عرب ممالک کو ایران کا ہوّا دکھا کر اسلحہ بیچتے رہے ہیں‘اس اتحاد کے بعد یہ ممکن نہیں ہو گا۔ ترکیہ ٹیکنالوجی میں خاصا آگے ہے‘ ایران میزائل اور ڈرون بنا رہا ہے۔ پاکستان جے ایف 17تھنڈر بنا رہا ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ہم خطے کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں