عصرِ حاضر میں کسی بھی ملک کے امن و استحکام کے لیے معاشی ترقی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ معاشی اعتبار سے مستحکم ممالک ہی دنیا میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سرزمین مکہ کے لیے جہاں امن کی دعا مانگی‘ وہیں اہلِ مکہ کیلئے پھلوں سے رزق کی دعا بھی مانگی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا سے معاشی استحکام اور خوشحالی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ وطن عزیز پاکستان ایک عرصے سے معاشی بحرانوں کا شکار ہے‘ جن پر قابو پانے کیلئے سیاسی رہنما اور معاشی ماہرین اپنے اپنے انداز میں تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاحال پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں ہو سکے۔ اس حوالے سے بعض اہم مادی اور روحانی تدابیر کو اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
دنیا بھر میں معاشی ترقی کے لیے جن معاملات کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے پاکستان کو بھی ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صنعتی ترقی کے لیے بجلی کا سستے نرخوں پر میسر آنا انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے عرصۂ دراز سے کوئی مضبوط لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا۔ توانائی کا بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں سستی توانائی کی فراہمی کے تمام قدرتی ذرائع دستیاب ہیں۔ پانی‘ ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے اس بحران پر قابو پانا کچھ مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ اگر اس ہوا کو توانائی کی فراہمی کیلئے استعمال کیا جائے تو بہ آسانی توانائی کی وافر مقدار میسر آ سکتی ہے۔ کراچی اور اس سے متصل ساحلی علاقوں میں سمندر کے کنارے ہمیشہ تیز ہوا چلتی رہتی ہے‘ وہاں سے بڑی مقدار میں توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں پانی بھی وافر مقدار میں موجود ہے لیکن بدقسمتی سے بعض سیاسی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے وافر مقدار میں ڈیمو ں اور آبی ذخائر کو تعمیر نہیں کیا جا سکا۔ اگر آبی ذخائر کی تعداد کو بڑھایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ آبی ذخائر کے قیام کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ توانائی کا بحران قابو میں آ جائے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ ملک میں ہر سال مو ن سون کی بارشوں کے بعد جو سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے‘ اس سے بھی ان شاء اللہ نجات مل جائے گی۔ پاکستان میں سال بھر سورج نمایاں طور پر نظر آتا ہے لہٰذا شمسی توانائی کے ذریعے توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یورپ کے بہت سے ممالک‘ جن میں برطانیہ بھی شامل ہے‘ وہاں موسم اکثر ابر آلود ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود توانائی کے حصول کیلئے شمسی توانائی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ گو کہ پاکستان میں انفرادی سطح پر اس حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن حکومتی سطح پر اس ضمن میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو شروع کرتے وقت ایک اہم ہدف یہ بھی تھا کہ پاکستان جوہری توانائی کے ذریعے بجلی کے بحران پر قابو پائے گا لیکن اس حوالے سے زیادہ پیشرفت نہیں ہو سکی۔ اگر توانائی کے ان ذرائع پر توجہ دی جائے تو پاکستان کا یہ بڑا مسئلہ حل ہو سکتا ہے‘ جس کے نتیجے میں صنعتی ترقی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
پاکستان میں توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ اشیائے ضرورت کے علاوہ سہولتیں فراہم کرنے والی چیزوں کی بکثرت درآمد ہے۔ ان اشیا کی درآمدات پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ پاکستان میں ان اشیا کو بنانے والی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ خریداری کے لیے غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستانی ملک میں تیار کردہ مصنوعات پر انحصار کریں۔ پاکستان میں ہنرمند افراد کو صنعتی عدم استحکام کی وجہ سے مناسب روزگار میسر نہیں آ پاتا جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے کے بہت سے ہنرمند افراد بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ اس نقل مکانی کی وجہ سے پاکستان ایک عرصے سے قیمتی انسانی اثاثوں سے محروم ہو رہا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے حکومت کو مؤثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور صنعتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مادی اقدامات کے ساتھ ساتھ معیشت کی ترقی کے لیے روحانی اقدامات بھی انتہائی ضروری ہیں‘ جن میں سے بعض اہم نکات درج ذیل ہیں:
1۔ سود کا خاتمہ: اندرونی اور بیرونی تجارت کو فروغ دینے کے لیے سود کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے‘ اسی وجہ سے ہمارے معاشی معاملات عرصہ دراز سے الجھے ہوئے ہیں اور اس بحران کے خاتمے کے لیے تاحال کسی ٹھوس حکمت عملی کو اختیار نہیں کیا جا سکا۔
2۔ توبہ واستغفار: جب کوئی فرد یا قوم توبہ واستغفار کرتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے معاشی معاملات کو سنوار دیتے ہیں۔ استغفار کے معاشی نتائج کے حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ نوح میں حضرت نوح علیہ السلام کے اس قول کو بیان کیا ہے‘ آیات: 10 تا 12 میں ارشاد ہوا: ''اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشوائو (اور معافی مانگو) وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا۔ اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا‘‘۔
3۔ تقویٰ: جب کوئی انسان یا قوم تقویٰ اور للہیت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے رزق کے دروازوں کو کھول دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔
4۔ شرعی قوانین کا نفاذ: جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے قوانین کی عملداری ہو تو اس کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ آسمان اور زمین سے رزق کے دروازوں کو کھول دیتے ہیں۔ سورۃ المائدہ کی آیت: 66 میں اس حوالے سے کچھ یوں ارشاد ہوا: ''اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے‘ ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے‘ ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے‘ باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں‘‘۔
5۔ انفاق فی سبیل اللہ: رزق میں اضافے اور معاشی استحکام کیلئے انفاق فی سبیل اللہ بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس حوالے سے سورۂ سباء کی آیت: 39 میں ارشاد ہوا: ''تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘۔ اگر حکومتیں مفاد ِعامہ کے لیے رقم خرچ کریں تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے ملک کی معیشت میں واضح طور پر بہتری آ سکتی ہے۔
6۔ توکل: اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھروسہ کرنے سے رزق میں اضافہ اور معاشی معاملات کی اصلاح ہوتی ہے۔ سورۃ الطلاق کی آیت: 3 میں ارشاد ہوا: ''اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا (اور) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے‘‘۔ اگر ہمارا انحصار غیر ملکی امداد اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر ہو تو ہمارے معاملات میں خاصی بہتری آ سکتی ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو معاشی ترقی کی شاہراہ پر چلا دے‘ آمین!