کبھی حکمران عوام بن کر سوچیں گے؟

ٹائٹل میں پوچھے گئے سوال کا جواب بظاہر نفی میں ہے‘ یعنی ہمارے حکمران کبھی عوام بن کر نہیں سوچیں گے۔ اس کے کیا اسباب ہیں‘ کالم میں ہم انہی اسباب پر اظہارِ خیال کریں گے۔
یوں تو کئی دہائیوں سے مہنگائی ہمارا بنیادی مسئلہ رہا ہے مگر اب کے جو افراطِ زر کا عالم ہے پہلے کبھی نہ تھا۔ مہنگائی اشیا کی قیمتوں اور صارفین کی قوتِ خرید کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کا نام ہے۔ ایک طرف لوگوں کی آمدنی نہایت محدود ہے اور دوسری طرف روپے کی قدر میں کمی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ پہلے ہی مہنگائی نے تقریباً نصف آبادی کو زندہ درگور کر رکھا تھا‘ اس پر مستزاد حکمرانوں کی بے حسی ہے۔ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 30 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی فی کس ماہانہ آمدنی 8483 (یومیہ 283 روپے تقریباً) یا اس سے کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم میں کوئی فرد یا خاندان کیا زندہ رہ سکتا ہے؟ مگر کوئی جیے یا مرے یہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
اب حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نظام قائم کر کے مہنگائی کے عفریت کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ عام صارف کو کیا پتا کہ سعودی آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا‘ برینٹ کروڈ کی قیمتیں بڑھی ہیں یا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے نرخ اوپر گئے ہیں۔ حکومت کسی بھی سسٹم کے آئل کی قیمتوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔ چاہے پاکستان اس سسٹم کے تحت آئل درآمد کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ یہ حکومت کی بھول ہے کہ عوام کو کیا پتا۔ گلوبل ویلیج میں سوشل میڈیا کی برکت سے عوام بے خبر بن کر بھی سب خبر رکھتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات میں روزانہ اضافے کے نظام سے وطنِ عزیز میں پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو مکمل آزادی مل گئی ہے‘ جب چاہتے ہیں کرایوں میں حسبِ منشا اضافہ کر دیتے ہیں۔ بیچارا کوئی مسافر پوچھ لے تو اُن کے پاس گھڑا گھڑایا جواب تیار ہے کہ جناب! ہم تو حکومت کے پٹرولیم اضافوں کے پابند ہیں۔ اوّل تو حکومت کا ٹرانسپورٹروں کے کرایوں کی روزمرہ کی بنیاد پر مانٹیرنگ کا کوئی طریق کار نہیں۔ نیز حکومت کسی صوبے کی ہو اُس کی کوئی خاص رِٹ نہیں۔ اسی طرح بڑے تاجر بھی اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر لیتے ہیں‘ کوئی پوچھے تو کہتے ہیں کہ اشیائے ضروریہ کے نقل وحمل کے اخراجات کہاں سے کہاں جا پہنچے ہیں۔ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ پٹرولیم قیمتوں میں روزمرہ اضافے کے نتیجے میں اگر آپ سبزیوں اور پھلوں کے نرخ معلوم کریں تو وہ آسمان پر پہنچے ہوئے ہیں۔ لاہور میں ہماری بستی کے ساتھ ہفتہ بازار لگتا ہے۔ جمعہ بازار ہو یا ہفتہ‘ اتوار بازار! اس کا تصور یہ ہے کہ دکانوں کے بڑے بڑے کرایوں کے بغیر براہِ راست منڈی سے آنے والی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بہت کم ہوں گی۔ مگر ایسا نہیں ہے! یہاں بھی سبزی و پھل فروش آپس میں ایکا کر لیتے ہیں۔ لہٰذا وہ ٹماٹر 500 روپے اور گوبھی 300 روپے کلو سے کم فروخت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ انہیں اس گراں فروشی سے روکنے والا کوئی نہیں۔
پٹرولیم لیوی ایک سراسر ظالمانہ و ناانصافی پر مبنی طریق کار ہے۔ تیل کی خریداری حکومت اور آئل امپورٹرز کا کام ہے۔ جتنے کا تیل درآمد ہوتا ہے اس پر مناسب منافع شامل کر کے عوام کو فروخت کیا جانا چاہیے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہاں حکومت عوام سے اگلی تیل خریداری کے پیسے لے کر اور کئی طرح کے ٹیکسز لگا کر عوام کو مہنگا پٹرول اور ڈیزل وغیرہ فروخت کرتی ہے۔ اب آئیے بنیادی سوال کی طرف کہ حکومت عوام بن کر کیوں نہیں سوچتی؟ اس لیے ایسا نہیں سوچتی کیونکہ حکومت اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی۔ انہیں عوام کا کوئی دکھ درد محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی اُن کی طرف سے ہونے والے احتساب کا ڈر خوف ہے۔ بندۂ مزدور و سفید پوش کے حالات کتنے تلخ ہیں اس سے حکمرانوں کو کوئی سروکار نہیں۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں عوام نے مسندِ اقتدار پر بٹھایا ہے اور نہ ہی وہ انہیں اتار سکتے ہیں۔
زیادہ دور نہ جائیں‘ گزشتہ چند برس کے دوران ارکانِ اسمبلی‘ بیورو کریسی اور اشرافیہ کے دیگر طبقات کی آمدنیاں حکومت کی مہربانیوں سے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں۔ یہاں صرف ایک مثال ہی پیش کی جا رہی ہے۔ ہر رکن قومی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 80 ہزار روپے تھی‘ جو اَب بڑھا کر پانچ لاکھ 19ہزار روپے ماہانہ ہو چکی ہے۔ قومی اسمبلی کے ارکان ہوں یا صوبائی اسمبلیوں کے‘ انہیں محض اپنے اور اپنے اہلِ خاندان کیلئے زیادہ سے زیادہ مراعات درکار ہیں۔ یہ حکمران و ارکانِ اسمبلی اپنے لیے اور اپنے اہل خانہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کا حصول ضروری سمجھتے ہیں مگر یہ گرین پاسپورٹ کی عزت افزائی کی خاطر ملک میں سیاسی و معاشی استحکام لانے کیلئے بنیادی نوعیت کے اقدامات کرنے کے بارے میں ہرگز فکرمند نہیں۔ عوام الناس کی تعلیم‘ صحت اور علاج معالجہ کو حکومت اپنی ترجیح ہی نہیں سمجھتی۔ کسی بااعتماد و باوقار ملکی یا عالمی ادارے سے سروے کروا کے دیکھ لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے حکمران وفاقی ہوں یا صوبائی‘ اُن کے پروٹوکول میں اضافہ ہی ہوا ہے کمی نہیں ہوئی۔ جس ملک کا بال بال قرضوں اور سود در سود میں جکڑا ہوا ہے‘ اس کے ایوانِ صدر‘ وزیراعظم ہاؤس یا صوبائی راجدھانیوں کا پروٹوکول عرب دنیا کے بادشاہوں اور بڑی قوتوں کے حکمرانوں سے بڑھ کر ہوگا۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے اُن کے حصے میں حکومتوں کے بڑھتے ہوئے عالمی قرضوں اور بالواسطہ و براہ راست ٹیکسوں کا بوجھ ہی آ رہا ہے۔
آج اسلامی دنیا میں کوئی عمرؓ بن خطاب جیسا حکمران نہیں۔ جو عوام میں سے تھا‘ عوام جیسا ہی نظر آتا تھا‘ عوام بن کر ہی سوچتا تھا‘ اُن کی خبرگیری رکھتا تھا اور اُن کی دستگیری بلا تاخیر کرتا تھا۔ آج غیر اسلامی دنیا خصوصاً سکینڈے نیوین ممالک سویڈن‘ ناروے اور ڈنمارک جیسی فلاحی ریاستیں 'عمرز لاء‘ سے استفادہ کرتی ہیں۔ وہاں کے حکمران حقیقی معنوں میں عوام کے منتخب کردہ ہوتے ہیں‘ وہ خود بھی ''عوام‘‘ ہی ہوتے ہیں اور منتخب ہو کر بلکہ وزیراعظم یا سربراہِ ریاست بن کر بھی عوام ہی رہتے ہیں۔ اُن کی سوچ بدلتی ہے نہ اپروچ۔ ہماری عمومی معاشی بدحالی کے دو سبب ہیں: پہلا سبب تو طبقاتی تقسیم ہے۔ ہمارے حکمران طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماشاء اللہ وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے۔ انہیں عوام کے مسائل کا کوئی ادراک نہیں مگر وہ عوام کے وسائل کو شیرِ مادر کی طرح اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ہمیں قرضوں کی مے پینے‘ ادھار تیل لینے اور کشکولِ گدائی لے کر دریوزہ گری کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہاں صرف پُرجوش تقریروں میں ایڑیاں رگڑنے سے بات آگے نہیں بڑھتی۔
ہمارے اردگرد چین‘ سنگاپور اور ملائیشیا وغیرہ نے اپنی دنیا آپ پیدا کی ہے۔ وہ تیسری دنیا سے پہلی دنیا کی صف میں آ گئے ہیں۔ پاکستانی حکمران‘ اشرافیہ اور عوام الناس بالخصوص جین زی میں خلیج بہت بڑھ گئی ہے۔ جب لوگوں کو دو وقت کی روٹی نہیں ملے گی‘ بیروزگاری عروج پر ہو گی تو پھر غم وغصہ تو بڑھے گا۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کو کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے بارے میں عوام کے جذبات کا عالم کیا ہے۔ اسی لیے تو شاعر نے کہا ہے کہ
اے محو خواب غرفہ نشیں جھانک کر تو دیکھ
کن سیڑھیوں پہ ہے کف سیلاب زینے میں
بظاہر امکان تو نہیں مگر ہماری دعا ہے کہ حکمران عوام بن کر سوچیں اور لوگوں کا دکھ درد بانٹیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...