مولانا فضل الرحمن صاحب ہمیشہ خود احتسابی سے کام لیتے رہے ہیں مگر قصور کے جلسے کے بعد انہوں نے یہ فریضہ انجام دینے میں اتنی تاخیر کیوں کر دی‘ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔ یہ غالباً ساڑھے تین دہائیاں پہلے کی بات ہو گی۔ جمعیت علمائے اسلام سے وابستگی رکھنے والے بعض دوستوں نے مولانا فضل الرحمن کو طائف میں دعوتِ خطاب دی اور ہمیں بھی مدعو کیا تھا۔ مکۃ المکرمہ سے آنے والے راستے سے طائف کی پُربہار وادیوں اور کوہساروں کی سیر و سیاحت کیلئے آنے والوں کیلئے ایک اونچی پہاڑی پر ایک خوبصورت خیر مقدمی عبارت لکھی ہوئی ہے: ''مرحبا تراحیب المطر‘‘ ہم آپ کیلئے یوں چشم براہِ ہوتے ہیں جیسے بارش کیلئے۔ اُن دنوں طائف میں کام کرنے والے پاکستانیوں میں یہی صفت پائی جاتی تھی۔ کسی جماعت سے تعلق رکھنے والا پاکستانی رہنما یہاں آتا تو پارٹیوں کی تقسیم سے ماورا وہ سبھی کا ہی مہمان تصور کیا جاتا تھا۔ میرا تو کسی جماعت سے تعلق نہ تھا مگر باقی سب حاضرینِ مجلس میں سے اکثریت کا تعلق مختلف پارٹیوں سے تھا۔ غالباً کچھ ہی مدت قبل مولانا فضل الرحمن نے حضرت مفتی محمودؒ کی رحلت کے بعد پارٹی کی سیکرٹری شپ کا منصب سنبھالا تھا۔ نوجوان مولانا فضل الرحمن کا خطاب نپا تلا‘ جوش اور ہوش کا نہایت دلکش مرقع تھا۔ اُس خطاب میں مولانا نے دلائل کے ساتھ جمہوریت کی عملداری اور آئین کی سربلندی کو ایک ایسا فریضہ ثابت کیا جس کی بجا آوری ہر پاکستانی پر فرض ہے۔
میرے اخباری مضامین کی بنا پر مولانا مجھے پہچانتے تھے اور میں انہیں حضرت مفتی محمودؒ کے صاحبزادے اور قومی سیاست میں ایک نووارد کی حیثیت سے جانتا تھا۔ یہ مولانا کا عنفوانِ شباب تھا اور کم و بیش ہمارا بھی یہی زمانہ تھا۔ مولانا اپنے زمانۂ طالب علمی سے حضرت مفتی صاحب کے ہمراہ ''جاب آن ٹریننگ‘‘ تھے۔ اپنے خطاب کے بعد مولانا نے مجھ سے سرگوشی میں پوچھا کہ اُن کا خطاب کیسا تھا؟ عرض کیا قابلِ داد اور لائقِ تحسین۔ آپ نے سب پر تنقید کی مگر کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ نوجوان مولانا خود احتسابی سے کام لیتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ میں 2004ء میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریسی فرائض کی انجام دہی کیلئے واپس پاکستان آ گیا۔ 2002ء میں تشکیل پانے والی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کو شاندار کامیابی ملی تھی۔ مولانا قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن تھے۔ یہ کامیابی دینی طبقے کی باہمی یگانگت کا نتیجہ تھی۔ اسی اسمبلی میں بھائی فرید پراچہ بھی منتخب ہو کر آئے تھے۔ لہٰذا اس دوران مولانا سے ملاقاتوں اور قومی اسمبلی میں اُن کی تقریروں کو براہِ راست سننے کے زیادہ مواقع ملے۔ سیاسیات کا طالبعلم ہونے کی حیثیت سے کئی بار مولانا کے طرزِ سیاست سے میرا اختلاف ہوا۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ مولانا نے میرے نقطۂ نظر کو تسلیم کیا۔ مگر شاذ ہی ایسا ہوا کہ ان کے طرزِ تخاطب سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو۔
پارلیمنٹ کا فورم ہو یا کوئی عوامی جلسۂ عام‘ مولانا کا خطاب آئین کے دائرے کے اندر رہتا۔ مولانا ذاتی نوعیت کے حملوں سے اجتناب کرتے اور کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچاتے۔ لیکن چند روز قبل قصور کے جلسۂ عام کے موقع پر مولانا نے پُرجوش مجمع سے خطاب کرتے ہوئے پہلے تو ساری قوم کو آئین کے تناظر میں اپنا اپنا دائرہ کار یاد دلایا‘ اور پھر جمہوریت کی سربلندی اور بعض حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے جوشِ خطابت میں یہ تک کہہ گزرے کہ اگر سپاہی یا افسر اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں تو اس کی تنخواہ بھی لیتے ہیں۔ شوقِ شہادت یا جذبۂ جہاد نہ ہو تو کیا کوئی چند ہزار یا لاکھ دو لاکھ کیلئے اپنے ''پروانۂ موت‘‘ پر دستخط کرتا ہے؟ یہ فوج کی پیشہ ورانہ اور ولولہ انگیز اسلامی و عسکری تربیت کا نتیجہ ہے کہ جوان اور افسر جذبۂ ایمانی سے آگے بڑھ کر جام شہادت نوش کرنے پر بخوشی آمادہ ہوتے ہیں۔
میں اپنے ایک عزیز دوست کے دو نوجوان بیٹوں کو جانتا ہوں کہ جنہوں نے چار پانچ برس قبل میٹرک امتحانات میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کی‘ وہ چاہتے تو آگے ایف ایس سی میں میڈیکل یا انجینئرنگ کے مضامین لے کر ڈاکٹر اور انجینئر بن سکتے تھے۔ ان نوجوانوں کے والد عالم دین ہیں‘ پاکستان اور آکسفورڈ سے پی ایچ ڈی ہیں۔ اُن کے دادا بھی عربی و اسلامیات کے پروفیسر رہے۔ گھر کی ایسی دینی و قومی فضا کا نتیجہ تھا کہ دونوں نوجوانوں نے بااصرار ایک ملٹری کالج جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہاں بھی وہ داخلہ ٹیسٹ میں ٹاپ پر رہے۔ وہاں سے ایف ایس سی کرنے کے بعد بھی وہ سویلین اداروں میں جا سکتے تھے مگر اپنے شوقِ شہادت کی بنا پر انہوں نے فوج جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں بھائی فوج میں منتخب کر لیے گئے۔ کاکول کی تربیت مکمل کرنے کے اب دونوں نوجوان افسر ہیں۔ جوانوں میں بھی یہی جذبے پائے جاتے ہیں۔
حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا سیاستدانوں کا حق ہے۔ مولانا ہی نہیں‘ آج کے حکمران بھی ماضی میں مقتدرہ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مولانا بھی اس سے قبل کئی بار ہر کسی کو اس کا دائرہ کار یاد دلاتے رہے ہیں مگر انہوں نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جو جذبات کے آبگینوں کو ٹھیس پہنچانے اور شہدا کے خاندانوں کے احساسات کو مجروح کرنے والی ہو۔ مولانا کے بعض ساتھیوں اور حامیوں سے کچھ ایسے بیانات بھی منسوب ہو رہے ہیں جن کی مجھے اُن سے توقع نہ تھی۔ مثلاً مولانا فضل الرحمن کے دستِ راست مولانا عبدالغفور حیدری سے یہ بیان تک منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کرنے کا نعرہ بلند کیا ہے۔ اپنے چھ سالہ قیامِ اسلام آباد کے دوران میری کئی بار مولانا حیدری سے ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ میرے ٹی وی پروگراموں میں بھی آتے تھے‘ اُس زمانے میں وہ نرم دم گفتگو اور گرم دمِ جستجو تھے۔ وہ جو بات کرتے دلیل سے کرتے تھے اور کبھی دورانِ پروگرام دوسری جماعت کے نمائندوں سے نہ اُلجھتے تھے بلکہ انہیں ٹھنڈے غور و فکر کا مشورہ دیتے رہتے تھے۔ مولانا کے اس دھیمے مزاج کی یاد سے مجھے اس طرح کی غیر سیاسی دھمکیوں کی اُن سے توقع نہ تھی۔ میں نے اتوار کے روز انہیں کال کیا تو کوئی جواب نہ آیا۔ بعد میں اُن کے ایک دوست سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تقریباً ایک ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہے اور اب انہیں پیس میکر لگایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں گھر پر آرام کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مولانا فضل الرحمن ایک مستند پارلیمنٹرین ہیں۔ وہ کئی بار قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ وہ صاف سیدھی بات کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ زیر بحث موضوع کے تمام آئینی و قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ قصور کے خطاب کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اندر بھی تقریر کی۔ اُن کی تقریر آئین کے دائرے کے اندر تھی۔ بہت سے ممبرانِ اسمبلی نے ڈیسک بجا کر داد دی۔ اسمبلی کے اندر انہوں نے مختلف شعبوں میں افسران کو ملازمت میں دی جانے والی توسیع پر تنقید کی۔ اسمبلی کے اندر اور باہر وہ لوگ بھی مولانا کے اندازِ بیان اور طرزِ خطاب کی داد دیتے ہیں جو اُن کے نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں اختلاف کرتے ہیں۔ بالخصوص سیاست میں مولانا کی سمجھداری اور قومی طرزِ فکر کو تو سب پسند کرتے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی کی دھمکیوں اور ان کی طرف سے متعدد بار مولانا کے قافلوں پر خودکش حملوں کے باوجود مولانا نے ہمیشہ مداہنت یا مصلحت پسندی کے بجائے حق گوئی اور جرأت مندی کو ترجیح دی ہے۔ مولانا پر تنقید کرنے والے بعض لوگ دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں اور مولانا پر طرح طرح کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں قصور کے جلسے میں مولانا فضل الرحمن سے شہدا کے ورثا کی جو دلآزاری سرزد ہوئی اس کا سبب جوشِ خطابت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہم مولانا کی سمجھداری سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ بلاتاخیر اپنے خطاب کے متنازع حصے کی وضاحت کریں گے اور اپنا پُرجوش سیاسی سفر جاری رکھیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments