امنِ عامہ کی مخدوش صورتحال ہو یا تیل کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ حکومت دلیل سے نہیں بلکہ من مانی سے کام لیتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ادنیٰ سی جنبش بھی محسوس ہو تو یہاں یہ کہہ کر قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں مگر جب عالمی قیمتوں میں کمی ہو تو یہ بیان دے کر عوام کو کمی کے ریلیف سے محروم رکھا جاتا ہے کہ ''خام تیل سستا ہونے سے پٹرول سستا ہونا لازمی نہیں‘‘۔
میرے عزیز دوست پرویز ملک مرحوم کے ہونہار صاحبزادے اپنی تمام تر علمیت اور ذہانت کو حکومتی فیصلوں کے دفاع کے لیے صرف کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر پٹرولیم نے اگلے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق بیان دیا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت سعودی خام تیل کے نرخ دیکھ کر طے نہیں کی جاتی‘ پٹرول کی قیمت طے کرنے کے لیے عالمی منڈی میں تیار پٹرول کے روزانہ نرخ دیکھے جاتے ہیں۔ کرایے‘ انشورنس اور دیگر اضافی و اتفاقی اخراجات کا تخمینہ بھی لگاتے ہیں۔ بین السطور ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ عالمی سیاسی و موسمی حالات بھی دیکھتے ہیں‘ پٹرولیم لیوی کا حساب کتاب لگاتے اور پھر صارفین کے لیے نرخوں میں کمی کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ وزیر پٹرولیم کے فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔
وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم تو قوم کو تیل کی قیمتوں میں ریلیف دینا چاہتے ہیں مگر کیا کریں کہ عالمی قیمتیں کم نہیں ہوتیں مگر جب اسلام آباد ایم او یو کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آ ئی تو حکومت کی طرف سے نئی نئی تاویلات پیش کی جاتی ر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اپنے ٹیکسوں کا اونچا ہدف پٹرول کے مجبور صارفین سے ہی پورا کرتی ہے لہٰذا تیل کی درآمدی لاگت کے علاوہ اس میں طرح طرح کے ٹیکسوں سمیت ڈویلپمنٹ اور کلائمیٹ لیوی اور ڈیلرز کی کمیشن وغیرہ شامل کر کے صارفین سے اونچا ریٹ وصول کیا جاتا ہے۔ اگر تیل کی عالمی قیمتیں اچانک بڑھ جاتی ہیں تو پاکستان میں بڑے بڑے سٹاک ہولڈرز کے پہلے سے موجود ذخیرے کی بنا پر ان کے منافع میں بہت بڑا اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکومت اس ''اضافے‘‘ کا تھوڑا بہت شیئر بھی عوام کو منتقل نہیں کرواتی اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتی ہے۔ لیکن جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو یہ تاویل سننے کو ملتی ہے کہ ہم نے تو مہنگا تیل خرید رکھا ہے‘ اب اس کی قیمت میں کمی کرکے قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کئی ماہ سے حکومت سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ابھی ہفتہ عشرہ قبل انہوں نے کہا تھا کہ پٹرول کی قیمت کو 225سے لے کر 250روپے فی لٹر تک واپس لایا جائے مگر حکومت نے کمی کے برعکس پٹرول کی قیمت میں ناقابلِ برداشت اضافہ کر دیا ہے۔ حافظ صاحب کا یہ مطالبہ کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ ان کی طرف سے یہ مطالبہ پٹرولیم سیکٹر کے ماہرین سے مشاورت کے بعد سامنے آیا تھا جس میں حکومتی اخراجات‘ ٹیکسوں اور آئل کمپنیوں کی بچت کا پورا پورا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ اب حافظ نعیم الرحمن صاحب پٹرول کی قیمتوں میں ناروا حکومتی اضافے کا کچا چٹھا عوام کے سامنے کھولیں اور بتائیں کہ کمی کے بجائے اضافہ کتنا غلط ہے۔
حکومت نے تیل کی قیمتوں کے نظام کو بھول بھلیوں میں الجھایا ہوا ہے۔ عام صارف جب ٹی وی پر برینٹ یا امریکی تیل (WTI) کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں سنتا ہے تو دامنِ امید کو تھام لیتا ہے۔ پھر وفاقی وزیر پٹرولیم مختلف اداروں کے نرخوں کے علاوہ خام اور تیار تیل کے بارے میں عام صارف کو ناقابلِ فہم کہانی سنا دیتے ہیں اور فی لٹر کمی کے بجائے اضافے کا اعلان کر دیتے ہیں اور یوں ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ اگرچہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے حکومت تیل کی دریافت کیلئے کئی زمینی و سمندری سائٹس کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ مگر تیل کی بڑے پیمانے پر تلاش کیلئے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ تلاش کے اس کام کیلئے سب سے پہلے سروے‘ پھر ڈرلنگ‘ اس کے بعد تیل کی نوعیت اور مقدار کے بارے میں معلومات یکجا کرنے اور حتمی نتائج اخذ کرنے تک ایک تفصیلی منصوبہ ہے جس کے مختلف مرحلوں کیلئے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ حکومت نے 2025-26ء میں 23 زیر سمندر سائٹس تیل کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کو الاٹ کی ہیں۔ سندھ میں سانگھڑ‘ بدین‘ گھوٹکی اور خیرپور کے مقامات پر تیل کی تلاش کا کام جاری ہے۔ بلوچستان میں سوئی‘ کوہلو‘ بارکھان اور ژوب اور پنجاب میں پوٹھوہار‘ اٹک‘ چکوال اور جہلم اور خیبرپختونخوا میں کرک‘ خوست‘ ہنگو اور لکی مروت میں تیل اور گیس کی تلاش کا کام ہو رہا ہے۔ مگر تلاش کے یہ سارے منصوبے چھوٹے پیمانے کے ہیں‘ ان منصوبوں پر آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی‘ پاکستان پٹرولیم اور پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ کام کر رہی ہیں۔ یہ سب پاکستانی کمپنیاں ہیں۔ اب امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تیل کی کسی بہت بڑی کمپنی سے رابطہ قائم کر کے اسے پاکستانی آئل فیلڈز میں تیل کی دریافت کے منصوبوں پر کام کرنے کیلئے آمادہ کرے گا۔ ہماری حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی بھی بڑی آئل ڈرلنگ کمپنی کسی علاقے میں تیل کی ممکنہ موجودگی اور ارضیاتی رپورٹوں کے بعد اس ملک میں امنِ عامہ‘ قانون کی عملداری اور سیاسی استحکام کی صورتحال کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد ہی وہاں کام کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ حکومت سوچے کہ موجودہ ملکی حالات میں کیونکر ایک بڑی آئل فائنڈنگ کمپنی یہاں آنے کا رِسک لے سکتی ہے۔
جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت پلک بھی جھپکنے نہیں دیتی اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دیتی ہے مگر جب تیل سستا ہوتا ہے تو لیت و لعل اور ٹیکسوں اور طرح طرح کی لیویز کے حساب کتاب کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتی ہے۔ پاکستان میں تیل کی قیمتوں کے تعین کا پورا نظام واضح اور شفاف ہونا چاہیے۔ ممتاز ماہر اقتصادیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے معاشی و مالی دلائل اور تیل کی قیمتوں کے میکانزم کو زیر بحث لا کر حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ قیمتوں کے تعین کے عمل کو شفاف بنائے‘ ٹیکس کم لگائے اور عالمی قیمتوں میں کمی کا سارا ریلیف عوام کو منتقل کرے۔ ہم بھی حکومت کو اسی طرف متوجہ کریں گے کہ وہ ٹیکس جمع کرنے میں پیش آنے والی کمی صارفین سے پوری نہ کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام سے حقائق نہ چھپائے اور انہیں بتائے کہ خطے میں ہر طرح کے سیاسی و حربی حالات کے باوجود پاکستان کو سبھی رعایت دیتے ہیں اور ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکر کو نہیں روکتی۔
ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے درمیان گرم گفتاری دوطرفہ بمباری میں بدلتی نظر آ رہی ہے۔ اگر خدانخواستہ دوبارہ جنگ شروع ہو جاتی ہے تو اس سے صرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خوش ہو گا۔ آج ساری دنیا ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔ کل عالمی معیشت کی تباہی کے بعد دنیا ایران کے خلاف بھی کھڑی ہو سکتی ہے‘ لہٰذا برادر اسلامی ملک کو احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments