امیر العظیم، استقامت کا کوہِ گراں

ذرا چشمِ تصور سے سوچیے کہ ایک شخص کو اجل کا پیغام مل چکا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کسی بھی لمحے اس فرمان پر عملدرآمد ہو سکتا ہے۔ اگر یہ سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اس شخص کے چہرے پرگھبراہٹ نہیں سکنیت ہو اور پریشانی نہیں مکمل اطمینان ہو تو ایسے شخص کو نفسِ مطمٔنہ ہی کہا جائے گا۔
جناب امیر العظیم سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان طویل عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے مگر انہوں نے بیماری کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور تادمِ واپسی رضائے الٰہی اور خدمتِ خلق کے مشن پر مستعدی و تندہی کے ساتھ کار بند رہے۔ دینی و دنیاوی اعتبار سے کسی اہم ذمہ داری پر فائز شخص کیلئے خوش خلقی اور خوئے دل نوازی سب سے اہم خوبیاں شمار کی جاتی ہیں۔ خوش اخلاقی وہ مقناطیس ہے جو لوگوں کو کشاں کشاں آپ اور آپ کے مشن کی طرف کھینچ لاتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے بھی اخلاقِ حسنہ کو مومن کی سب سے بڑی صفت قرار دیا ہے۔ مبدأ فیاض سے یہ صفات امیر العظیم صاحب کو فیاضی سے عطا کی گئی تھیں۔
امیر العظیم صاحب 1958ء میں اس دنیا میں وارد ہوئے۔ وہ لاہور کے ممتاز تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم رہے اور پھر انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ وہ طلبہ میں محبوب رہنما کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ جامعہ کے طلبہ و طالبات نے انہیں 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کا صدر منتخب کیا تھا۔ اُن کی صدارت کے ایک دو سال بعد صدر ضیا الحق نے ملک بھر میں طلبہ انجمنوں پر پابندی عائد کر دی۔ ان سے پہلے جاوید ہاشمی‘ فرید پراچہ‘ عبدالشکور‘ مسعود کھوکھر‘ لیاقت بلوچ اور ملک اختر جاویدپنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدور کے طور پر طلبہ کی ویلفیئر کیلئے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1984 ء میں امیر العظیم نے طلبہ انجمنوں پر پابندی کے خلاف ملک بھر کی سٹوڈنٹس یونینز کیساتھ مل کر تحریک چلائی۔ وہ ایک جھوٹے مقدمے میں جیل بھیج دیے گئے۔ وہ پسِ دیوارِ زنداں تھے کہ جب انہیں اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنا ناظم اعلیٰ چن لیا۔ طلبہ قیادت اور پنجاب یونیورسٹی کی سیادت کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں شرکت کا فیصلہ کیا کہ کوئی اور سیاسی جماعت اُن کی نگاہوں میں جچی ہی نہیں۔ امیر العظیم صاحب طلبہ سیاست میں بہت معروف اور ممتاز تھے۔ 1960ء سے لے کر 1980ء تک حکمران اور سیاستدان طالب علم رہنماؤں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ امیر العظیم صاحب بھی چاہتے تو اپنے بعض دیگر ساتھیوں کی طرح کسی بڑی سیاسی جماعت میں شرکت کر کے منصبِ وزارت یا کوئی اہم عہدہ حاصل کر سکتے تھے مگر انہوں نے خوب غور و فکر کے بعد ایک نظریاتی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ وہ لاہور اور پنجاب میں جماعت اسلامی کی کئی اہم ذمہ داریاں بطریق احسن نبھاتے رہے۔ پھروہ جماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔ 2019ء سے وہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل تھے۔ اخلاقِ حسنہ کی صفات کے ساتھ ساتھ امیر العظیم صاحب ایک مدبر سیاستدان‘ ایک متحرک تحریکی کارکن و لیڈر اور ایک باوقار قومی رہنما تھے۔ یہ خاکسار عمر میں امیر العظیم سے بڑا ہے۔ اتنے اہم مراتب و مناصب کے باوجود وہ میرا دلی احترام کرتے تھے جو ایک چھوٹے بھائی کو بڑے بھائی کا کرنا چاہیے۔ آج اس بھائی کی جدائی سے دل بہت نڈھال ہے۔ جماعت اسلامی ملک کی وہ دینی و سیاسی جماعت ہے جو دو قومی نظریے کے مطابق روزِ اوّل سے پاکستان کو نظریاتی‘ اسلامی اور جمہوری و فلاحی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ جماعت اقتدار میں ہو یا اقتدار سے باہر اس کی دیانت و امانت کی قسم اس کے مخالفین بھی کھاتے ہیں‘ یہی وہ اسباب ہیں جن کی بنا پر سیاست کا یہ طالبعلم ہمیشہ جماعت اسلامی کے ساتھ ہمدردی کا تعلقِ خاطر محسوس کرتا رہا ہے۔ تاہم اپنی کوتاہ علمی کے باوجود جس بات کو درست سمجھتا ہوں وہ اکابرِ جماعت تک قلم یا قول کے ذریعے پہچانے کی کوشش کرتا ہوں۔ محترم قاضی حسین احمد صاحب شفقت کا سلوک فرماتے تھے‘ سیّد منور حسن صاحب سے یک گونہ بے تکلفی تھی۔ جناب سراج الحق اور محترم حافظ نعیم الرحمن صاحب کے ساتھ احترامِ باہمی کا حسنِ تعلق قائم ہے۔
ایک ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد صاحب کے اپنی جماعت سے کچھ اختلاف ہو گئے تھے۔ بہت سے نوجوان ملک کے اندر اور باہر سینیٹر صاحب کی سینیٹ میں جرأت و بیباکی کو بہت پسند کرتے تھے۔ البتہ جماعت کے بہت سے سینئر قائدین کی رائے تھی کہ سینیٹر صاحب کو کسی بھی مقامی و عالمی معاملے میں الگ سے نہیں‘ جماعت کے فورم سے کام کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں خاکسار کی رائے بھی یہ تھی کہ سینیٹر صاحب کو جماعتی نظم کا پابند ہونا چاہیے کیونکہ جماعت نے ہی انہیں خیبر پختونخوا کی امارت کا منصب بھی سونپا تھا اور سینیٹر بھی منتخب کرایا تھا۔ ادھر حافظ نعیم الرحمن صاحب سے بھی گزارش کی کہ وہ اتنے بڑے جماعتی اثاثہ سے براہِ راست افہام و تفہیم کی بنیاد پر معاملات طے فرمائیں۔ اس موضوع اور دیگر کئی سیاسی و نظری معاملات کے بارے میں امیر العظیم صاحب سے بے تکلف ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ میری معلومات کے مطابق امیر العظیم صاحب دو تین بار بطورِ خاص لاہور سے اسلام آباد گئے اور انہوں نے سینیٹر مشتاق احمد صاحب کو جماعت کے اصولی مؤقف کے حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح کے معاملات کے بارے میں امیر العظیم صاحب سے جب کبھی ملاقات کی درخواست کی تو انہوں نے یہی کہا کہ آپ نہیں‘ میں حاضر ہوں گا۔ لہٰذا کبھی غریب خانے پر اور کبھی باہر ان سے بے تکلف بات چیت ہوتی رہی۔ اتنی بڑی جماعت کے سیکرٹری جنرل ہونے کے باوجود وہ بخوشی ملاقات کیلئے تشریف لاتے تھے۔ امیر العظیم صاحب کا یہ بہت بڑا وصف تھا کہ وہ مخاطب کا مؤقف مسکراتے ہوئے نہایت انہماک سے سنتے اور پھر اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے۔ جماعتی معاملات میں اُن کا ذاتی زاویۂ نگاہ جماعتی مؤقف سے مختلف ہوتا۔ بعض حوالوں سے سینیٹر مشتاق صاحب بھی اس خاکسار کیساتھ احتراماً پیش آتے ہیں۔ ایک دو تفصیلی ملاقاتوں میں انہیں عرض کیا تھا کہ موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ نہیں مگر انہوں دریا سے باہر آنے کو ترجیح دی۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ میں جماعت کے اجتماعی فیصلے کا پابند ہوں اور اس سے سرمو انحراف نہیں کر سکتا۔امیر العظیم صاحب کی وفات سے صرف پانچ چھ روز قبل میں اور بھائی فرید پراچہ عیادت کیلئے ان کے دولت خانے پر حاضر ہوئے۔ تب میں نے محسوس کیا کہ درد کی شدت اور نقاہت کے باوجود انہوں نے مسکراتے ہوئے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ میں نے محسوس کیا امیر العظیم وہ سفید روح ہیں کہ جو اپنے ابدی دیس واپسی کیلئے بخوشی تیار ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا: موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست؍ زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
حیات و موت کی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حیات بشری روح اور جسم کے باہمی تعلق کا نام ہے۔ موت اس تعلق کے ٹوٹنے اور روح کی اپنے ابدی وطن واپسی کا نام ہے۔
جناب امیر العظیم شریں بیانی اور نکتہ آفرینی سے مرصع مواد کے ساتھ ایک شعلہ نوا مقرر تھے۔ 23جولائی 2026ء کے روز منصورہ میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ حافظ نعیم الرحمن صاحب کی امامت میں نمازِ جنازہ ادا کرتے ہوئے مجھے 18اپریل 2024ء کا دن یاد آ گیا۔ اُس روز حافظ صاحب نے امیر جماعت اسلامی کی امارت کا حلف اٹھایا تھا۔ اس موقع پر امیر العظیم صاحب نے جماعت کی دعوت و عزیمت اور پاکستانی سیاست کے حوالے ایک شاہکار تقریر کی تھی۔ 23جولائی کو وہ بولتا ہوا چمن خاموش تھا۔ اسے اپنے رب کی یہ پکار یقینا سنائی دے رہی ہوگی ''اے نفس مطمٔنہ اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آؤ کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...