حکومت عوام پر ستم پر ستم ڈھائے جا رہی ہے۔ حکمران عوام پر مہنگائی کے ناقابلِ برداشت تازیانے برساتے چلے جا رہے ہیں۔ حکومت کو عوام کا ڈر ہے نہ خواص کا۔ نصف سے زیادہ عوام کو حکومت نے دو وقت کی روٹی‘ بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی‘ پٹرول و ڈیزل کے بھاری نرخوں کے گرداب میں ایسا پھنسایا ہے کہ انہیں سر اٹھا کر دیکھنے اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ جماعت اسلامی 25روز سے ملک کے 32شہروں میں پُرامن احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے پُرجوش اور اَنتھک امیر حافظ نعیم الرحمن حکمرانوں کو متوجہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنا رویہ بدلیں‘ اپنے محلات سے باہر جھانک کر دیکھیں کہ عام آدمی کس بدحالی کا شکار ہے۔ جماعتی ذرائع کے مطابق حکومتی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دو باقاعدہ ادوار کے دوران جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم نے محض جذباتی شعلہ بیانی سے نہیں بلکہ دلائل و شواہد اور اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم ہو سکتی ہے مگر مذاکراتی ٹیم کے صاحبِ علم وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور سیاست کے اتار چڑھاؤ اور پیچ و خم سے بخوبی آگاہ رانا ثنا اللہ کے پاس کوئی دلیل یا منطقی جواب نہ تھا‘ بس ''مجبوریوں‘‘ کی ایک طویل فہرست ضرور تھی۔ ان وزرا کا مؤقف تھا کہ ہم حکومت کو حاصل ہونے والے سرمایہ پر لگنے والے سود میں کمی نہیں کروا سکتے کیونکہ یہ ریٹ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا مقرر کردہ ہے۔ اگر حکومت اتنی بے بس ہے کہ اس کے پاس اپنے ریاستی بینک کو ہدایات دینے کا بھی اختیار نہیں تو ایسی بے اختیار حکومت کو حکمرانی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اگلی سطور میں وہ عملی‘ حقیقی اور تحقیقی حقائق پیش کریں گے کہ جن کی بنیاد پر حکومت پٹرولیم لیوی میں خاطر خواہ کمی کر سکتی ہے‘ پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ موجودہ صورت میں حکومت ایک لٹر پٹرول خریدتی کتنے کا ہے اور اس پر طرح طرح کے ٹیکس لگا کر عوام کا خون کیسے نچوڑ رہی ہے۔
حکومت پٹرول اصل قیمت سے 133روپے اور ڈیزل اصل قیمت سے 122روپے زیادہ پر عوام کو فروخت کر رہی ہے۔ 133روپے فی لٹر محصولات میں 80روپے لیوی‘ 21روپے 15پیسے کسٹمز ڈیوٹی‘ 5روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی‘ 7روپے 60پیسے اِن لینڈ بار برداری جبکہ فی لٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن تقریباً 8روپے اور حال ہی میں بڑھایا گیا ڈیلر مارجن فی لٹر دس روپے شامل ہے۔ یہ سارے ٹیکسز اُس مزدور سے جبراً وصول کیے جاتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ ایک ہزار کی دہاڑی لگانے کیلئے 371 روپے کا ایک لٹر پٹرول استعمال کرتا ہے‘ اور ایک سفید پوش جو بمشکل ڈیڑھ پونے دو ہزار یومیہ معاوضہ حاصل کرنے کیلئے تقریباً پونے آٹھ سو روپے کا پٹرول پھونکتا ہے۔
حکومت نے جماعت اسلامی کے پُرامن دھرنوں کو نظر انداز کر کے صرف چار دنوں میں پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 26روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس قہر و جبر پر حکومت نے عوام سے کوئی معافی مانگی نہ معذرت کی اور نہ ہی جان لیوا تازیانوں کا کوئی سبب بتایا ہے۔ 11ستمبر 2026ء کے روز سے پٹرول کی فی لٹر قیمت 371روپے اور ڈیزل کی قیمت 393 روپے فی لٹر کر دی گئی۔ ماہرین معیشت کے نزدیک تیسری دنیا کے پاکستان جیسے ملکوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی سے ہر شے کی قیمت پر مثبت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے اشیائے ضرورت اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ ان کے ریٹس بتاتے سنتے دل ڈوبنے لگتا ہے۔ حکومت اپنے سارے اخراجات ارب پتی بزنس مینوں‘ لاکھوں روپے مشاہرہ لینے والے ملازموں‘ صنعتکاروں اور بڑے بڑے زمینداروں سے وصول کرنے کے بجائے عوام الناس کی چمڑی ادھیڑ کر خزانے میں جمع کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم لیوی کا ہدف 1677 ارب روپے مقرر کر رکھا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے مستند اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ حکومت پٹرولیم لیوی اور پٹرولیم ٹیکسوں میں کمی کر کے عوام الناس کو اچھا بھلا ریلیف دے سکتی ہے۔ پٹرولیم لیوی کے علاوہ درجنوں طریقے ایسے ہیں جو تیل اور دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لا کر عوام کیلئے ''اذیت کدہ‘‘ کو راحت کدہ میں بدل سکتے ہیں مگر عوام کی اذیت اور ان کے ناقابلِ برداشت مصائب سے نجات کوئی ترجیح ہی نہیں۔ اسلامی تاریخ ایسی تابناک مثالوں سے بھی جگمگا رہی ہے کہ جب قاضیوں نے ایسے جرأتمندانہ فیصلے دیے کہ جب تک بادشاہ اپنے اور اپنے اعزہ و اقارب اور وزرا کے اثاثے ہنگامی یا جنگی ضروریات کیلئے بیت المال میں جمع نہیں کراتاتھا اس وقت تک اسے عوام پر عشر و زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اضافی ٹیکس لگانے کا ہرگز اختیار نہیں ہوتا تھا۔ وطن عزیز میں بادشاہت تو نہیں مگر ہماری حکمران اور ایلیٹ کلاس کا رہن سہن بادشاہوں سے بڑھ کر ہے‘ یہاں حکومتی طیارے حکمرانوں کے ذاتی اڑن کھٹولے ہیں۔ وزیراعظم ہی نہیں ایک وزیراعلیٰ کا بھی اپنا طیارہ ہے جس میں وہ اندرون و بیرون ملک سفر کرتی ہیں۔
10ستمبر کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے ساتھ حکومتی مذاکرات کے دوسرے دور سے بڑی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں مگر یہ دن بھی کٹ گیا اور کوئی امید بر نہ آئی۔ حکومت نے تو کئی دن مانگے مگر جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ جناب لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے اس لیے ہم حکومت کو صرف مزید ایک روز کی مہلت دے رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ جمعۃ المبارک کے روز اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دے سکتے ہیں۔اس دوران جماعت اسلامی کی دھرنا حکمت عملی لانگ مارچ میں لیوی کے خاتمے سے حکومتی خاتمے کی طرف جاتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے لانگ مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن‘ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور اپوزیشن سے بھی حمایت مانگ لی ہے۔ اس سے پہلے حافظ صاحب ایمل ولی خان سے حمایت حاصل کر چکے ہیں۔ اگلے روز سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے ایک بیان میں درست کہا کہ حکمران عوام کو ایسے لوٹ رہے ہیں جیسے منگولوں نے بغداد کو لوٹا تھا۔ تازہ ترین خبروں اور رپورٹوں پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کو لوٹنے والا تاثر بالکل درست ہے۔ ان خبروں کے مطابق مہنگا پٹرول عوام کیلئے زحمت اور حکومت کیلئے رحمت بن چکا ہے۔ حکومت عوام کا استحصال کرکے پٹرولیم مصنوعات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ محصولات اکٹھے کر رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں وفاقی حکومت نے 1567ارب روپے لیوی کی مد میں جمع کیے جو مالی سال 2025ء سے 29فیصد زیادہ ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا کہ آئی ایم ایف نے رواں سال کا لیوی ٹارگٹ 1677ارب روپے مقرر کیا ہے۔ عوام حیرت زدہ ہو کر پوچھتے ہیں کہ آئی ایم ایف والوں کی نظر مقروض ملک کے حکمرانوں کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ اور تیس تیس گاڑیوں والے پروٹوکول اور دیگر اللوں تللوں پر کیوں نہیں پڑتی۔ حکمران کئی دوسرے شعبوں سے رقم لے کر اپنے اخراجات کم کر کے اور آئی پی پیز کے منافع کو پٹرولیم میں لگا کر عوام کو ریلیف دے سکتے ہیں۔ حکومت کو شاید اندازہ نہیں کہ حوالے مختلف ہو سکتے ہیں مگر سب راستے اسلام آباد کی طرف جاتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ حکومت نیک نیتی اور صدق دل کے ساتھ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کرے اور مذاکرات کے ذریعے پُرامن طور پر معاملات حل کرے۔ سیاسی استحکام کے بغیر اقتصادی استحکام ممکن نہیں۔ ایٹمی قوت کیلئے اقتصادی خود انحصاری اتنی ہی ضروری ہے جتنی انسانی زندگی کیلئے آکسیجن۔ یہ غالباً کسی گیت کا مصرع ہے کہ: اک ستم اور مری جاں‘ ابھی جاں باقی ہے
اگر عوام اب بھی اپنے حقوق کیلئے پُرامن احتجاج کیلئے نہ اٹھے تو حکمران یونہی اُن کے دم توڑتے لاشوں پر تازیانے برساتے رہیں گے۔ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments