کیا جنگ ختم ہونے والی ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئرلینڈ سے دنیا کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی‘ تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی‘ خطے میں امن آئے گا اور دنیا کو چین نصیب ہوگا۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران دنیا نے صبح وشام ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشخبریوں اور ان کی کہہ مکرینوں کا نظارہ دیکھا ہے۔ اب آسانی سے اُن کی بات پر یقین کرنے کو دل مانتا نہیں۔ اسی لیے اسد اللہ غالب یاد آئے ہیں:
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
صدر ٹرمپ نے یہ بھی وضاحت کی کہ میرا اندازہ ہے کہ امریکہ میں مڈٹرم الیکشن کے خاتمے کے ساتھ ہی جنگ اپنے اختتام کو پہنچے گی۔ یہ انتخابات ڈیڑھ دو ماہ بعد‘ نومبر میں ہونے ہیں۔ اللہ کرے ٹرمپ صاحب کا یہ اندازہ درست ثابت ہو‘ وگرنہ اس سے قبل اُن کے ایران کے بارے میں اندازے پانی کے بلبلے ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اُن کا ایک اندازہ یہ بھی تھا کہ ایران دو چار روز سے زیادہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی تاب نہ لا سکے گا مگر ایران مہینوں سے امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہے اور اس کے پائے استقلال میں اضمحلال نہیں آیا۔ اس کے علاوہ بھی امریکی صدر کے متعدد اندازے غلط ثابت ہوچکے ہیں۔
اگر صدر ٹرمپ اپنے تازہ بیان میں سنجیدہ ہیں تو انہیں سفارتی چینل کے ذریعے ایران سے رابطہ کر کے فی الفور اعتماد سازی کا عمل شروع کر دینا چاہیے۔ امریکہ نے ایران کی کئی بندرگاہوں کو سامان کی آمد ورفت کیلئے بند کر رکھا ہے۔ اس بندش کو بلاتاخیر ہٹایا جائے اور راستہ کھولا جائے۔ ایران پر جو معاشی پابندیاں حال ہی میں عائد کی گئی ہیں‘ انہیں بھی اٹھایا جائے اور ایران کے منجمدکردہ اثاثہ جات کو ریلیز کرنے کے عمل کا بھی آغاز ہو جانا چاہیے۔ اگر امریکہ یہ مثبت کارروائی کرتا ہے تو پھر ایران کو بھی اسی جذبے سے کام لیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے کو جنگ سے قبل کے معمول کی طرف واپس لانا چاہیے۔ ایران کے مدبر صدر مسعود پزشکیان اور عباس عراقچی جیسے اُن کے ساتھیوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس مزاجی کیفیت کا اندازہ ہوگیا ہوگا جس کے مطابق وہ ہر وقت لاؤڈ تھنکنگ کرتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس مزاجی پہلو کو نظر انداز کر کے خطے میں مستقل امن کے ہدف پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں کئی طلسم ٹوٹے اور کئی توقعات کے آبگینے چکنا چور ہوئے ہیں۔ خطے کے خلیجی ممالک کا امریکہ پر انحصار والا کہنہ دفاعی نظام اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ ہم اس اجمال کی تفصیل بھی پیش کریں گے مگر پہلے ایک تازہ منظر دیکھ لیجئے۔ سعودی عرب یمن کی غیر مقبول حکومت کی حمایت اور وہاں کی سیاسی و عسکری حوثی تحریک کی مخالفت کرتا ہے۔ حوثیوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ ایران نواز ہیں۔ سعودی عرب اور یمن کے دیرینہ اختلافات تھے‘ جن کو ماضی میں سینئر سعودی قیادت نے ''تالیفِ قلب‘‘ کے ذریعے کنٹرول کر رکھا تھا۔ خیر اس وقت اُن پرانے اختلافات کے ذکر کی ضرورت نہیں؛ البتہ امریکہ‘ ایران جنگ سے بھی پہلے حوثیوں نے سعودی عرب کے کئی سرحدی علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ تازہ ترین صورت کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے سعودی تیل کی ترسیل میں بہت بڑی رکاوٹ آ چکی ہے جبکہ حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے سنگم پر واقع آبنائے باب المندب پر بھی قبضہ جما لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سعودی تیل کی ترسیل کا دوسرا راستہ بھی بند ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی تیل کی پیداوار تین دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ حوثی ملیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ باب المندب کے ذریعے جہازوں کی آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں گے سوائے سعودی جہازوں کے۔ قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ سعودی عرب کی آئل فیلڈز مشرقی ریجن‘ دمام کے اردگرد واقع ہیں۔ وہاں سے یہ تیل بیرونِ ملک ترسیل کیلئے مغربی منطقے میں واقع ینبع کی بندرگاہ تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس آئل پائپ لائن پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ عراق سے ہوا مگر کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ باب المندب کے قریب پہنچتے اور سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حملہ آور حوثیوں پر فضائی حملوں کیلئے 10 ستمبر بروز جمعرات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کال کیا مگر ٹرمپ نے مجوزہ حملوں سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ہم خطے میں نئے محاذ نہیں کھولنا چاہتے۔ گویا بقول غالب:
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
ادھر حوثیوں نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ ہم امریکہ سے جنگ نہیں چاہتے‘ امریکہ ہم پر کوئی فضائی یا بحری حملہ نہ کرے۔ امریکہ نے حوثی گروپ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم ایسے کسی حملے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کو یقین تھا کہ جب کبھی ہم پر کسی ملک کی طرف سے حملہ ہوا تو امریکہ ہمارا دفاع کرے گا۔ گزشتہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے دوران جب ایران نے عرب امارات سے لے کر اردن تک امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ اپنے حلیفوں کی مدد کو نہ آیا۔ قبل ازیں جب اسرائیل نے قطر کے رہائشی علاقے میں غزہ جنگ کے دوران حملہ کیا تھا تو بھی امریکہ نے اسرائیل کے خلاف کوئی شدید نوعیت کا قدم نہ اٹھایا تھا۔ اب جبکہ امریکہ نے اپنے سب سے بڑے اتحادی سعودی عرب کی درخواست کے جواب میں حوثیوں پر حملہ کرنے سے انکار کر دیا ہے تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ پر اربوں ڈالر نچھاور کرنے والے سعودی عرب کیلئے بہت بڑا صدمہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کے ممالک آپس میں برادرانہ مشوروں کے ذریعے پائیدار امن کا راستہ تلاش کریں۔
ادھر عمان میں خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے بارے میں پیر کے روز ہونے والے مذاکرات ملتوی ہو گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا اس وقت تک آبنائے ہرمز نہیں کھل سکتی۔ حوثیوں پر حملے سے امریکی انکار کے بعد دنیا کی نظریں معاہدہ مکہ پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی ہے مگر کسی عملی اقدام کی ہامی نہیں بھری۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق معاہدہ مکہ ابھی آپریشنل نہیں ہوا۔ جب یہ معاہدہ وجود میں آ رہا تھا تو عرب دنیا کی سیاست کے ایک طالبعلم کی حیثیت سیہم نے عرض کیا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ دل وجان سے ارضِ حرمین شریفین کے دفاع کیلئے اپنی خدمات پیش کی ہیں مگر پاکستاننے عربوں کے داخلی تنازعات میں حصہ لینے سے ہمیشہ اجتناب کیا ہے۔ اب بھی پاکستان اس معاملے میں مذمت سے آگے نہیں بڑھے گا۔ ایک دو روز قبل ایرانی صدر نے جنگ رکوانے اور قیام امن کیلئے پاکستان اور قطر کی کوششوں کو سراہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان امریکہ کو یاد دلائے کہ اسلام آباد ایم او یو کے مطابق یہ ٹرمپ انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسرائیل کو لبنان اور غزہ میں حملوں سے روکے۔ صہیونی ریاست جنگ بندی معاہدوں کی دھجیاں اڑا کر مذکورہ بالا دونوں علاقوں پر بدستور حملے کر رہی ہے۔ لبنان میں سینکڑوں شہید اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ایک بار پھر پاکستان شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے سرگرم عمل ہو اور امریکہ کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کے ساتھ فوری جنگ بندی اور پائیدار معاہدۂ امن پر قائل کرے۔ لگتا ہے کہ ایران پر مسلط کردہ بے مقصد امریکی جنگ کے خاتمے کا وقت قریب آ گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...