چڑھتا ہوا سیاسی پارہ

ملکی سیاست میں ایک مرتبہ پھر ہلچل بلکہ زبردست ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ نئے صوبوں کی بحث میں شدید نوعیت کی حدت اور شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سندھ اسمبلی میں فریال تالپور اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریروں کے بعد نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ خبردار! قومی اسمبلی بھی سندھ کی تقسیم پر بات نہ کرے۔ گویا 28ویں ترمیم اوّل تو آنی ہی نہیں اور اگر آئی تو پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کرے گی۔
صدر آصف علی زرداری ان دنوں لندن میں قیام پذیر ہیں جہاں مبینہ طور پر انہیں صوبوں کی تشکیل کے بارے میں اہم پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی لندن پہنچ چکے ہیں اور نئے صوبوں کی تشکیل کے مطالبات کا مقابلہ کرنے کی ٹھان چکے ہیں۔ جناب محسن نقوی بھی متعدد مصروفیات کے سلسلے میں ان دنوں لندن میں ہیں۔ وہاں انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے شاہ چارلس سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہمراہ ملاقات کی مگر اُن کے دورۂ لندن کی بریکنگ نیوز یہ ہے کہ انہوں نے ایک اہم پیغام صدر آصف علی زرداری تک پہنچایا۔ ادھر بقول مرزا غالبؔ زرداری صاحب کا جوابی پیغام پہلے ہی تیار تھا۔ شنید ہے کہ زرداری صاحب نے محسن نقوی کو بزرگانہ طریقے سے یہ سمجھا دیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں قومی اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی فیصلہ کر لیا جائے تو وہ دیرپا ثابت نہیں ہوتا۔اُدھر تین ستمبر کے روز سندھ اسمبلی میں صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور نے دورانِ تقریر یہ کہا کہ سندھ کی تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دوسری جانب سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سندھ میں‘ بدحالی‘ ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور گندگی کے ڈھیروں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ سندھ کی نہیں اختیارات کی تقسیم ہے۔
دوسری طرف گزشتہ تقریباً 20روز سے جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی اور بدترین مہنگائی کے خلاف دھرنے دیے ہوئے ہے۔ تین ستمبر کو جماعت اسلامی کی اپیل پر کئی شہروں میں شٹر ڈاؤن ہوا جس کے بعد حکومتی وفد نے منصورہ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن صاحب کے ساتھ ملاقات کی۔ حکومتی وفد میں رانا ثنا اللہ‘ احسن اقبال اور سلمان رفیق شامل تھے۔ حکومت اور جماعت اسلامی نے ایک کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے جو اعداد و شمار کی روشنی میں لیوی میں کمی کا جائزہ لے گی۔ اگر ممکن ہوا تو اس میں کمی کر دی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمن بھی ان دنوں مختلف شہروں میں اپنے کارکنوں کے اجتماعات سے بڑے پُرجوش لب و لہجے میں خطاب کر رہے ہیں۔ ان خطابات میں مولانا کا مرکزی نکتہ قانون کی عملداری اور آئین کی سربلندی ہے۔ مولانا کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک پارلیمنٹ کو سپریم مقام نہیں مانا جاتا‘ جب تک عدالتیں آزاد نہیں ہوں گی‘ جب تک تمام شعبۂ ہائے زندگی اپنے اپنے دائرے میں کام نہیں کریں گے اس وقت تک لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملیں گے۔ اور جب تک حکومتیں اپنے ووٹروں کو جوابدہ نہیں ہوں گی اس وقت تک ملک میں امن و امان ہوگا اور نہ ہی گڈگورننس آ سکے گی۔ مولانا اپنی تقاریر کیلئے قرآن و حدیث اور آئین سے دلائل لاتے ہیں۔ وہ پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی اتحاد میں بھرپور طریقے سے شامل ہو چکے ہیں۔ اُدھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27ستمبر کو اسلام آباد آ کر' پُرامن ‘احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان دنوں وہ سندھ کے دورے پر ہیں جہاں وہ 27ستمبر کے اسلام آباد مارچ کیلئے تعاون کی اپیل کر رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ ایک نہیں کئی طرح کے مسائل ہیں۔ ان مسائل کا حل تو ہم کالم کے آخر میں پیش کریں گے۔ پہلے ذرا صوبوں کے بارے میں ہونے والی پیغام رسانی اور نئی صوبہ سازی کا جائزہ لے لیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں قومی سطح پر قائم حکومتوں کا وسیع تر دائرہ ہوتا ہے۔ اُن کی زیادہ تر توجہ خارجہ امور‘ مضبوط خزانہ‘ قومی سطح کی سیاست و معیشت اور امن و امان پر ہوتی ہے جبکہ مقامی حکومتیں عوام کو درپیش روزمرہ مسائل کو مقامی سطح پر حل کرتی ہیں۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں عوامی نوعیت کے مقامی معاملات و مسائل کو بھی اپنے ذمے لے لیتی ہیں تاکہ تمام تر فنڈز ان کے اپنے ہاتھ میں رہیں۔ وہ کسی قسم کا مقامی اختیار بھی لوگوں کو دینے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ اُن کے اس طرز عمل کا ہی یہ ردِعمل ہے کہ صوبوں کو چھوٹا کیا جائے تاکہ اُن کے پاس اختیارات کا ارتکاز نہ رہے اور نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ تاہم سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس سے عوام الناس کو کیا ملے گا؟ جب تک ملک کے حکمران اپنا رویہ نہیں بدلتے‘ جب تک وہ ماورائے آئین آل پاور فل بننے کا خبط اپنے دماغ سے نکال باہر نہیں کرتے اور جب تک قومی وسائل کو مختلف طریقوں کے ذریعے اپنی ذاتی دولت سمجھنے کا خیال اپنے دل سے نہیں نکالتے اس وقت تک چار کے بجائے دس بیس صوبے بھی کیوں نہ بن جائیں‘ ان سے کوئی بنیادی فرق ہرگز واقع نہیں ہوگا۔ دس برس تک پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کسی نہ کسی حیلے بہانے سے روکنے کے بعد اب نئی بلدیاتی قانون سازی ایسی کی گئی ہے جس کے مطابق باغباں خوش رہے راضی رہے صیّاد بھی۔
حریفوں کے حلیف بن جانے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ کئی دہائیوں کی سیاسی چپقلش کے بعد 14مئی 2006ء کو لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین طے پانے والا معاہدہ ''میثاقِ جمہوریت‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس پر دستخط کرنے والوں میں بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف شامل تھے۔ اس معاہدے میں جن اہم نکات پر مکمل اتفاقِ رائے کیا گیا تھا اُن میں آئین کی بالادستی اور 1973ء کے آئین کو 12اکتوبر 1999ء سے پہلے کی شکل میں بحال کرنا اور آئندہ مکمل جمہوریت کا تحفظ اور آزادانہ انتخابات کے بارے میں عہد و پیمان شامل تھا۔ اس میثاقِ جمہوریت پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہوا یا نہیں‘ اور کیا سیاست پھر اسی پرانی ڈگر پر واپس آ گئی تھی‘ اس وقت ہم اس بحث میں نہیں پڑیں گے بلکہ آگے چلیں گے۔اب تک نئے صوبوں کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کا مؤقف نیم دروں اور نیم بروں کا تھا مگر اب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے لندن میں بیان دیا ہے کہ جب صوبائی اسمبلیاں اور پارلیمنٹ چاہیں گی تو نئے صوبے بن جائیں وگرنہ ایسے ہی کام چلتا رہے گا۔ بعض تجزیہ کار بیس برس کے بعد ایک بار پھر کسی نئے ''میثاقِ لندن‘‘ کی پیش گوئی بھی کر رہے ہیں۔ ہماری سیاست کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ حریفوں کو حلیف بنتے دیر بھی نہیں لگتی۔ اگر سیاسی حکومتیں مقامی حکومتوں کو مکمل اختیارات دینے پر تیار ہو جائیں تو سردست نئے صوبوں کی بحث کو اگلی منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جائے۔ اس وقت ملک میں چڑھتے ہوئے سیاسی پارے اور بعض حلقوں کی انتظامی خواہشات کے درمیان فوری طور پر مفاہمت اور سیاسی پارے کو نیچے لانے کی ضرورت ہے۔ جناب آصف علی زرداری کو مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے‘ میاں نواز شریف سرد و گرم چشیدہ سیاستدان ہیں‘ مولانا فضل الرحمن بھی موقع آنے پر قومی مفاد کو باقی ہر شے پر فوقیت دیتے ہیں۔ جناب حافظ نعیم الرحمن بھی گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بات کر رہے۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کی قیادت بھی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔ لہٰذا مقتدرہ سمیت اِن کیمرا قومی کانفرنس ہو جس میں سبھی مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ وگرنہ عمل اور ردِعمل میں خدانخواستہ سیاست کا بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ پاکستان کو ہر نقصان سے محفوظ رکھے‘ آمین۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...