جی سی یونیورسٹی لاہور کے پروفیسر ایمریطس ڈاکٹر سید خورشید حسن رضوی دنیائے علم و ادب کی ممتاز اور نمایاں ترین شخصیت ہیں۔ ان کی علمی و ادبی اور تحقیقی و تنقیدی خدمات کے اعتراف کے طور پر 14 اگست 2026ء کو اعلان کیا گیا کہ انہیں پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا سول اعزاز ہلالِ امتیاز ایوانِ صدر میں 23 مارچ 2027ء کو عطا کیا جائے گا۔ یقینا یہ دل خوش کن خبر جہاں اردو داں حلقوں اور ان کے احباب کیلئے باعثِ صد مسرت و انبساط ہے‘ وہاں یہ مژدۂ جانفزا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے لاکھوں شاگردوں کیلئے بھی بے حد خوشی کا باعث ہے۔ ان دنوں ڈاکٹر خورشید رضوی انگلستان کے شہر پول میں اپنے بیٹے کے پاس مقیم ہیں۔ وہاں استاذِ محترم کو مبارکباد پیش کرنے کیلئے فون کیا تو انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ ایوارڈ کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ اللہ کا فضل‘ میری والدہ کی دعاؤں اور اساتذہ کرام کی محنت و شفقت کا نتیجہ ہے۔ قومی سطح پر میری خدمات کا اعتراف یقینا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے جس کیلئے میں اپنے وطن کا ممنون و متشکر ہوں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کو 2008ء میں ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر ستارۂ امتیاز ملا تو اس وقت ان کی والدہ محترمہ حیات تھیں‘ یہ ایوارڈ دیکھ کر انہیں بے پایاں مسرت ہوئی۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے ہاتھ سے خورشید رضوی صاحب کو یہ ایوارڈ پہنایا تھا۔
ڈاکٹر خورشید رضوی ایک ایسے عبقری ہیں جن کی ذات میں کئی متنوع رنگ کمال و اتمام کے ساتھ یکجا ہو گئے ہیں۔ وہ عربی زبان و ادب کے استاد ہی نہیں حقیقی معنوں میں عربی دان ہیں۔ ان کی عربی دانی کے بڑے بڑے عرب اساتذہ اور سکالرز معترف و مدّاح ہیں۔ عربی زبان میں ہی انہوں نے پی ایچ ڈی بھی کی ہے۔ ان کے مقالے کو ایک وقیع تحقیقی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے جس کے عرب سکالرز حوالے دیتے ہیں۔ اردو ان کی مادری زبان ہے‘ تاہم اس زبان کے ادب کا انہوں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے مطالعہ کیا ہے۔ فارسی سے انہیں عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ مولانا روم‘ شیخ سعدی‘ـ حافظ شیرازی‘ غالب اور اقبال کے فارسی کلام کے کئی حصے انہیں ازبر ہیں۔ فارسی زبان کی باریکیوں کے گہرے رمز شناس ہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی اردو زبان کے صفِ اوّل کے شعرا میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں۔ ان کے چھ سات شعری مجموعے ''یکجا‘‘ کے نام سے ان کی کلیات میں جمع کر دیے گئے ہیں۔
شعر کی طرح ڈاکٹر رضوی صاحب کی نثر بھی قاری کے دل میں جا بستی ہے۔ ان کی دلآویز نثر قاری کے دل و دماغ پر یوں اثر انداز ہوتی ہے کہ اس کے سامنے سوچ کے کئی دریچے وا ہو جاتے ہیں۔ خورشید رضوی صاحب کو اللہ نے مثالی حافظہ عطا کیا ہے۔ جو چیز ایک بار ان کی آنکھ کے کیمرے کے سامنے سے گزر گئی گویا وہ ہمیشہ کیلئے حسنِ ترتیب کے ساتھ ان کے حافظے میں محفوظ ہو گئی۔ یوں تو خورشید رضوی صاحب کی ہر تصنیف و تالیف ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے مگر ''عربی ادب قبل از اسلام‘‘ کے بارے میں ان کا تحقیقی و ادبی کام منفرد و ممتاز ہے۔ خورشید رضوی صاحب تو اوائلِ جوانی میں عربی ادب پر کم از کم دس جلدیں اردو میں لکھنا چاہتے تھے۔ مگر جب پہلی ہی جلد پر چھ سات سالہ محنتِ شاقہ صرف ہو گئی تب انہیں محسوس ہوا کہ یہ پتھر ان کے اندازے سے کہیں زیادہ بھاری ہے۔ یوں تو یہ ایک لائف لانگ ورک ہے مگر میری معلومات کے مطابق ان دو جلدوں کی تحقیق و ترتیب و تحریر پر کم از کم انہوں نے دو عشروں تک جم کر کام کیا ہے۔ میر تقی میر نے کہا تھا:
خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعۂ تر کی صورت
عربی زبان کے تحقیقی ادبی کام کو ایک ایسی شگفتہ اور رواں دواں اردو نثر میں ڈھالنا کہ قاری کو محسوس ہو کہ وہ کوئی کڑوی کسیلی تحقیقی تصنیف نہیں بلکہ ایک دلچسپ ناول پڑھ رہا ہے‘ کوئی آسان کام نہ تھا۔ یہ کمال جہاں ڈاکٹر رضوی صاحب کی طرزِ نگارش کا ہے وہاں عربی شاعری قبل از اسلام کے نوع بہ نوع شعری مضامین کا بھی ہے۔ صحرائی زندگی اور مظاہرِ فطرت کی عکاسی کرتی ہوئی عربی شاعری اردو داں طبقے کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اردو داں طبقے کی صدیوں سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ اس عربی شاعری کی لذت سے آشنا ہو سکے جس کا چہار دانگِ عالم میں چرچا ہے۔ اس کیلئے مختلف ادوار میں بعض اردو داں عربی زبان کے سکالرز نے کوشش کی مگر سچی بات ہے کہ بات بنی نہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کی تحریر کردہ ''عربی ادب قبل از اسلام‘‘ کی دونوں جلدیں سات سات سو صفحات پر مشتمل ہیں۔ پہلی جلد میں عرب قوم کے اوصاف اور عربی زبان کی حیثیت‘ جزیرۃ العرب کے خدوخال وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔ عربی مبین میں نازل ہونے والا قرآن پاک عربی زبان و ادب کا عظیم ترین اور اعلیٰ ترین شاہکار ہے۔ رسولِ خداﷺ کی زبانِ صدق و صفا کے علاوہ خود قرآن اپنی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عام عربی شعر و ادب کا جو جتنا شناور ہوتا ہے وہ قرآن کے خوبصورت اور دل نشین اسلوبِ بیان کا اتنا ہی مدّاح ہوتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فہمِ دین کی اساس فراہم کرنے کیلئے عربی شاعری کی تعلیم پر زور دیا ہے۔
ڈاکٹر خورشید رضوی نے اردو داں طبقے کو عربی ادب کی لذت سے آشنا کرنے کیلئے زندگی بھر کی ریاضت کے بعد دو جلدیں تحریر کر دی ہیں۔ خورشید رضوی صاحب نے خوبصورت عربی ادب پاروں کو اردوئے مبین میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ قدیم عربوں کی شاعری میں فطری سادگی اور برجستگی‘ صحراؤں کی وسعت اور پہاڑوں کی صلابت ملتی ہے۔ انکے اسلوب کا جاہ و جلال بظاہر ہیبت‘ حیرت اور عظمت کی کیفیات پیدا کرتا ہے۔ الفاظ کا دروبست‘ تراکیب کا شکوہ اور آہنگ کا زیروبم نہایت اثر انگیز ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنی تصنیف ''عربی زبان قبل از اسلام‘‘ میں اسلام سے پہلے خانہ کعبہ پر لٹکائے جانیوالے عربی قصائد‘ المعروف سبعِ معلقات‘ کے شاندار نمونے عربی اور اردو میں پیش کیے ہیں۔ ان تراجم کو پڑھ کر قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ عربی کتنی عظیم زبان ہے اور اس میں شعر و ادب کا کیسا کیسا سرمایہ موجود ہے۔ امراؤ القیس کا معلقہ‘ عربی شاعری قبل از اسلام کا بہترین نمونہ ہے۔ یہاں ہم امراؤالقیس کے قصیدے کی بس ایک جھلک ہی آپ کو دکھا سکتے ہیں۔ اسکے قصیدے میں حسینوں کے تذکرے کے بعد چند اشعار طولِ شبِ فراق کے مضمون کے ہیں‘ جن میں رات کی بھرپور انگڑائی‘ امڈئی ہوئی ظلمت اور ستاروں کے گویا ساکت و جامد ہونے کا بیان بڑی خوبصورت تشبیہات اور استعاروں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ ذرا ملاحظہ کیجیے: کتنی ہی راتیں گزری ہیں؍ سمندر کی موج کی طرح؍ تاریک و ہمہ گیر‘ جنہوں نے؍ مجھے آزمانے کیلئے؍ طرح طرح کے غموں کے ساتھ؍ اپنے دبیز پردے مجھ پر تان دیے
ڈاکٹر خورشید رضوی کی ایک اور نمایاں ترین حیثیت ان کا استاد ہونا ہے۔ وہ تقریباً 64 برس سے طلبہ کو زیورِ تعلیم و تربیت سے آراستہ کر رہے ہیں۔ پہلے وہ 1960ء کی دہائی سے 1980ء کی دہائی تک 23 برس تک گورنمنٹ کالج سرگودھا اور اب کئی دہائیوں سے جی سی یونیورسٹی لاہور کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ گورنمنٹ کالج سرگودھا سے ہی ایک شاگرد کی حیثیت سے مجھے ان کی شفقت اور توجہ حاصل ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ میں اب تک عربی کا عالمِ اجل بن چکا ہوتا مگر عربی میں دسترس پیدا کرنا ہمت والوں کا کام ہے۔ کہنے کو تو وہ گورنمنٹ کالج سرگودھا میں عربی کے پروفیسر تھے مگر سارا شہر ہی ان کی عظمت اور ادبی و شعری مقام و مرتبے کا گرویدہ تھا بلکہ اب تک ہے:
گونجتا ہے تیری آوازوں کا جادو آج بھی
ڈاکٹر خورشید رضوی کو قریب سے جاننے والوں کو علم ہے کہ وہ ایوارڈوں‘ عہدوں اور پوسٹوں سے بہت ماورا ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments