آج کل ملک بھر میں جس مسئلے پر سب سے زیادہ سیاسی دھماچوکڑی مچی ہوئی ہے وہ نئے صوبوں کی تشکیل یا موجودہ صوبوں کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنے سے متعلق ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ آج ستمبر 2026ء میں جس معاملے پر زور وشور سے بحث مباحثہ بلکہ کھینچا تانی شروع ہو رہی ہے‘ اسی مسئلے پر میں نے آج سے چودہ سال قبل‘ روزنامہ دنیا کی اشاعت کے پہلے روز‘ مورخہ 3 ستمبر 2012ء کو جو پہلا کالم لکھا تھا‘ اس کا عنوان تھا ''صوبوں کی تشکیلِ نو کا معاملہ‘‘۔
گزشتہ کچھ دنوں سے برادرِ بزرگ فون پر ایک بات ضرور پوچھتے ہیں کہ جب اس موضوع پر کم ہی لوگ بات کرتے تھے تب تم اس موضوع پر مسلسل لکھنے والے شاید واحد شخص تھے اور اب جبکہ ہر طرف اس معاملے پر ڈھول پیٹا جا رہا ہے‘ تم کان لپیٹے ایک طرف بیٹھے ہوئے ہو۔ تو میں کیا سمجھوں کہ تم نے اپنے سابقہ مؤقف سے رجوع کر لیا ہے؟ میں نے کہا کہ ایسی بات نہیں‘ میں کل بھی اس مؤقف کا حامی تھا اور آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہوں کہ اس ملک میں صوبوں کی تشکیلِ نو ضروری ہے اور میں یہ بات کسی لسانی‘ گروہی یا نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ سراسر انتظامی بنیادوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ میں اس میں ہمیشہ مثال کے طور پر صوبہ پنجاب کو لیتا تھا‘ لگ بھگ تیرہ کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پہلے گیارہ ممالک کے بعد اس کا نمبر آتا ہے۔ اسی طرح اگر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی فہرست کو معیار بنایا جائے تو ہمارا صوبہ پنجاب دنیا کے 182 ممالک سے زیادہ آبادی کا حامل ہے۔ لیکن یہ کام آئین کے موجودہ آرٹیکل (4)239 کے تحت ہونا بہت مشکل ہے‘ جس میں کسی صوبے کو تقسیم کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی سے اس قرارداد کا دو تہائی اکثریت سے پاس ہونا اور پھر اس قرارداد کا قومی اسمبلی سے بھی اسی اکثریت سے پاس ہونا ضروری ہے۔ پاکستان کے آئین میں نئے صوبوں کی تشکیل یا کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی کیلئے بنیادی طور پر آرٹیکل 239 (خصوصاً اس کی شق 4) اور آرٹیکل 1 سے رجوع کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس کام میں عملی مشکلات حائل ہیں۔ آئین کے موجودہ طریقہ کار کو سامنے رکھیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سندھ اسمبلی کسی بھی صورت میں ایسی کسی قرارداد کو دوتہائی اکثریت سے منظور نہیں کرے گی۔ نئے صوبوں کے قیام کیلئے آئین میں باقاعدہ ترمیم کرنا پڑے گی جو آرٹیکل 238 اور 239 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔ آئین کا یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ آئین میں ترمیم کا ایسا کوئی بھی بل جس کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود (limits) میں تبدیلی واقع ہوتی ہو‘ صدرِ پاکستان کو توثیق کیلئے اس وقت تک پیش نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کُل رکنیت کے کم از کم دو تہائی اکثریت کے ووٹوں سے منظور نہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی آئین کا آرٹیکل 1‘ جو ملک کے نام اور اس کی علاقائی حدود (territories) کی وضاحت کرتا ہے‘ میں موجودہ چاروں صوبوں کے نام درج ہیں۔ جب بھی کوئی نیا صوبہ بنایا جائے گا تو آرٹیکل 1 کی شق (2) میں بھی ترمیم کرنا لازمی ہو گی تاکہ نئے صوبے کا نام وفاق کے تحت شامل کیا جا سکے۔ آئین کے آرٹیکل 1 اور آرٹیکل (4)239 کے تحت جس صوبے میں بھی نیا صوبہ بنانا مقصود ہو وہاں کی صوبائی اسمبلی اور پھر قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے اس کی توثیق اور قومی اسمبلی سے آئین کے آرٹیکل 1 میں موجود چار صوبوں کے علاوہ جتنے بھی صوبے مزید بنتے ہیں ان کے نام کا آئین میں اندراج بذاتِ خود آئین میں ترمیم سے مشروط ہے۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جو آئین کے تحت نئے صوبوں کی تشکیل کیلئے لازمی ہے۔ ہم نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ کام کرنا ہے تو سب سے پہلے آئین کے مندرجہ بالا دونوں آرٹیکلز میں ترمیم کرنا ہو گی۔ تاہم میرے خیال میں (جو خیالِ خام بھی ہو سکتا ہے) اس کا نسبتاً بہتر اور مستقل حل یہ ہے کہ اس سلسلے میں آئینی ترمیم کے ذریعے ایک کمیشن قائم کر دیا جائے۔ اگست 1953ء میں بھارت میں صوبوں کی تشکیلِ نو کیلئے قائم کیے جانے والے کمیشن کی طرح‘ جس کا سربراہ جسٹس فضل علی کو بنایا گیا۔ اس کمیشن نے نہ صرف پورے بھارت کا اندرونی نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا بلکہ مستقبل میں صوبوں کی تشکیلِ نو کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہکوئی چاہے یا نہ چاہے صوبے تو بنیں گے۔ آئین سے بالاتر اقدامات نے ماضی میں بھی اس ملک کو نقصان پہنچایا اورآئین سے روگردانی مستقبل میں بھی سود مند ثابت نہیں ہو سکتی۔ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک ہمارا سیاسی اور انتظامی سفر بنیادی جمہوریت سے لے کر ضلعی حکومتوں کی چک پھیریوں میں گزر گیا ہے لیکن کوئی بھی ماڈل نہ تو کامیاب ہوا اور نہ ہی چل سکا ہے۔ جب معاملات خلوص کے بجائے ذاتی اقتدار کو طول دینے کی بنیاد پر طے کیے جائیں تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہمارے ہاں دکھائی دیتا ہے۔
بات ہو رہی تھی برادرِ بزرگ سے گفتگو کی‘ تو برادرِ بزرگ نے جب مجھے یہ کہا کہ میں اس وقت اس سارے ہنگامہ ہاؤ ہو میں خاموش بیٹھا ہوں تو میں نے کہا: برادرِ بزرگ میں اب بھی اس ملک کے موجودہ صوبوں کو انتظامی حوالوں سے چھوٹا کرنے کا حامی ہوں‘ میں صوبوں کی تشکیلِ نو کو اس ملک کے مستقبل کی بہتری کے حوالے سے ضروری سمجھتا ہوں۔ لیکن اس معاملے میں بہتر طریقہ کار استعمال ہونا چاہیے جو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے صوبوں کی تشکیلِ نو کا طریقہ کار طے کرے۔ غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقہ کار کبھی کسی بھی ملک کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوتے۔
اس وقت پاکستان جغرافیائی حوالے سے کسی اچھی صورتحال سے نہیں گزر رہا۔ ایک طرف ازلی دشمن بھارت ہے‘ دوسری طرف بھارت کی پراکسی افغانستان ہے‘ تیسری سمت امریکی غنڈہ گردی اور عالمی دادا گیری کا شکار غیر مستحکم ایران ہے۔ بحیرہ عرب کی دو حساس گزرگاہیں باب المندب اور آبنائے ہرمز عالمی توسیع پسندی کا شکار ہیں۔ اندرون ملک دو صوبے شدید دہشت گردی کی زد میں ہیں‘ ملک کی معاشی صورتحال حکمرانوں کے بیانات سے قطع نظر کسی صورت بہتر دکھائی نہیں دے رہی۔ سیاسی بے چینی اپنے عروج پر ہے‘ باہمی ہم آہنگی بدترین ابتری کا شکار ہے۔ حکمرانوں کے بارے میں افواہوں کا سمندر موجزن ہے‘ ایسے میں ہمارے تمام مسائل کی جڑ صوبوں کے جغرافیے کو قرار دینا انصاف نہیں ہو گا۔ یہ بات ٹھیک کہ ہمارے موجودہ انتظامی مسائل میں ایک فیکٹر بڑے صوبے ہیں جن کا انتظامی کنٹرول موجودہ چار صوبائی دارالحکومتوں سے کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لیکن ملک کو درپیش حقیقی مسائل میں دیگر بے تحاشا عوامل بھی شاملِ حال ہیں۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر محض صوبوں کو چھوٹا کر دینے سے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔
برادرِ من! یہ فقیر اس مسئلے پر آج کل اسی لیے خاموش ہے کہ وہ صوبوں کی تشکیلِ نو کے معاملے میں ملک کے اندرونی اور اس خطے کو لاحق حالیہ عدم استحکام کے باعث اس کو مناسب وقت نہیں سمجھتا۔ اگر ان مجوزہ صوبوں کو اسی ماڈل پر چلانا ہے جن پر موجودہ صوبے چلائے جا رہے ہیں تو پھر یوں سمجھیں کہ یہ سمٹی ہوئی خرابیوں کو مزید بکھیرنے کے مترادف ہو گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments