اس مسافر کو پوری دنیا تو رہی ایک طرف‘ پورے پاکستان کو بھی مکمل طور پر دیکھنے کا دعویٰ نہیں ہے‘ تاہم یہ آوارہ گرد قابلِ ذکر حد تک دنیا کے بیشتر حصے اور اسی حساب سے بیشتر پاکستان گھوم چکا ہے۔ اس دوران کوئی چیز نظر میں آنے سے رہ گئی ہو تو اور بات ہے‘ تاہم میرے ذاتی اور کسی حد تک خام علم کے مطابق کم از کم ایسی کوئی اور سڑک پاکستان کی حد تک دکھائی نہیں دی۔ واضح کر دوں کہ میں ایسی یا اس جیسی کسی سڑک کی موجودگی سے انکار نہیں کر رہا‘ صرف اپنے علم کی حد تک یہ کہہ رہا ہوں کہ کم از کم میری نظر سے ایسی سڑک نہیں گزری۔ یہ سڑک زیرِ تعمیر‘ بلکہ تکمیل کے قریب پہنچی ہوئی‘ ملتان ایونیو ہے۔اس سڑک کی تعمیر میں ہونے والی غیر ضروری تاخیر پر اس قلمکار نے ایک دو بار لکھا بھی ہے لیکن ان تحفظات کے باوجود یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو اپنی نوعیت کا شاندار منصوبہ ہوگا۔ گو کہ میں اس منصوبے کی تکنیکی اور ہندسی تفصیلات جانتا ہوں لیکن فی الوقت ان میں نہیں پڑنا چاہتا۔ مختصراً یہ کہ ہم اہلِ ملتان نے بیک وقت ایسی روشن‘ سرسبز‘ رواں‘ کشادہ اور پُررونق سڑک کہاں دیکھی ہو گی جس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی سروس روڈ اور اس کے درمیان میں کہیں گرین بیلٹ‘ کہیں جھولے‘ کہیں بنچ‘ کہیں درخت‘ کہیں پھول پھلواڑی اور کہیں پارکنگ کیلئے جگہیں مخصوص ہوں۔ یہ ایسی ہی شاندار سڑک ہے‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر شاندار ہے۔ مزید لکھنا کارِ لاحاصل ہے کہ الفاظ بھلا منظر کو خوبصورتی اور جزئیات کے ساتھ کہاں ادا کر سکتے ہیں! ایسے معاملات میں تو بعض اوقات کیمرہ بھی عکس کو اصل کے مطابق پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔ یہ سڑک بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن میں اس سڑک کے مستقبل کے بارے میں فکرمند اور پریشان ہوں۔
آپ بھی کہیں گے کہ یہ کیا بندہ ہے‘ خود ہی ایک چیز کی تعریف کرتا ہے‘ پھر اس کے بارے میں فکر مندی ظاہر کرتا ہے‘ عین ممکن ہے کہ چند سطروں کے بعد اس کی مذمت شروع کر دے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ عاجز اتنا شاندار نہ سہی لیکن گزشتہ کئی عشروں سے بہت سے خوبصورت اور شاندار منصوبے شروع ہوتے‘ پایہ تکمیل تک پہنچتے اور پھر انہیں اپنے سامنے برباد ہوتے دیکھ چکا ہے۔ یادش بخیر بیرسٹر ظفر اللہ خان‘ جو آج کل پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل ہیں‘ تب سول سروس پاکستان کے بڑے افسر اور ملتان میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر تھے‘ کتابوں سے دوستی کے باعث کتابی علم سے مالا مال تو تھے ہی لیکن حسِ جمالیات بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ چیزوں کے باطن کے ساتھ ساتھ ان کی ظاہری خوبصورتی پر بھی توجہ دیتے تھے۔ بحیثیت ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن ملتان انہوں نے شہر کے مختلف چوک‘ سڑکیں‘ پارک‘ باغات اور یادگاروں کو نئی صورت دینے اور ان کی تزئین و آرائش کا بیڑا اٹھایا۔ احمد شاہ ابدالی کی جائے پیدائش پر ایک یادگار محراب بنوا کر اس پر ملتان کی پہچان نیلی کاشی گری کا کام کرایا اور سنگ مرمر کی تختی لگوائی۔ درجن بھر چوک نئے سرے سے بنوائے‘ ان میں خوبصورتی پیدا کرنے کیلئے مختلف ماڈل بنوائے‘ پھر ان کا تبادلہ ہو گیا۔ سرکاری محکموں کی عدم توجہی تو ایک مسئلہ ہے ہی‘ تاہم ان کے جانے کے بعد عوام نے بھی ان تمام خوبصورت چیزوں کا ''نیست‘‘ مارنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایک دو سال کے اندر ہی وہ تمام چیزیں جو کبھی خوبصورت دکھائی دیتی تھیں‘ اتنی بدصورت ہو گئیں کہ دل کرتا تھا ان کو یہاں سے اٹھا کر کہیں پھینک دیا جائے‘ اور پھر ایسا ہی ہوا۔
وہ تمام پارک اور باغات جن کی شکل و صورت سنواری گئی تھی‘ عوام نے ان میں جی بھر کر کوڑا کرکٹ ڈالا‘ گند مچایا‘ توڑ پھوڑ کی‘ چیزوں کو خراب کیا‘ پودوں کا بیڑہ غرق کیا اور حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ ایک تو ہمارے ہاں سرکار چیز بنانے کے بعد اس چیز کو مستقل بنیادوں پر چلانے کے بجائے لاوارث چھوڑ دیتی ہے‘ اوپر سے عوام اس لاوارث چیز کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جس کا آغاز 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد متروکہ وقف املاک اور اپنے گھر چھوڑ کر ہجرت کرنے والوں کی جائیداد اور سامان کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ہم ہر ایسی لاوارث چیز کو جسے اٹھا کر گھر لے جایا جا سکے‘ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اگر ساتھ نہ لے جا سکیں تو اسے برباد کر کے اپنے جی کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک روایت ہے کہ ہر کام نہ صرف یہ کہ سرکار نے کرنا ہے بلکہ کرنے کے بعد اس کی تمام تر ذمہ داری لینا‘ اسے چلانا‘ اس کا خیال رکھنا‘ یہ سارے کام بھی ہم نے سرکار کے کندھوں پر ڈال رکھے ہیں۔ بحیثیت شہری ہم نے کبھی یہ اپنی ذمہ داری ہی محسوس نہیں کی کہ سرکار جو چیزیں بنا رہی ہے‘ بیشک یہ اس نے بنائی ہیں‘ لیکن ان پر خرچ ہونے والا ایک ایک پیسہ ہماری جیب سے ٹیکس کی صورت میں نکلی ہوئی رقم پر مبنی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ہماری ایسی جائیداد ہے جس کی رجسٹری اور ملکیت ہمارے نام پر نہیں لیکن ہمیں اس کا تصرف حاصل ہے۔ یہ ہمارے ذاتی گھر جیسی چیز ہے جس پر نہ صرف یہ کہ ہمارا پیسہ لگا ہے بلکہ یہ ہمارے لیے ہی ہے۔ ہم اپنے گھر کی پوری حفاظت کرتے ہیں‘ اس کی صفائی کا خیال کرتے ہیں‘ ٹوٹ پھوٹ ہو تو اس کی مرمت کرواتے ہیں۔ دو چار سال بعد اس میں رنگ کرواتے ہیں‘ کسی چیز میں خرابی ہو جائے تو اسے ٹھیک کرواتے ہیں۔ روز نہ سہی ہر دوسرے دن اسے صاف کرتے ہیں‘ اسے حتی الامکان حد تک دیدہ زیب رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنے ہی ٹیکس کے پیسوں سے بنی ہوئی تمام چیزوں کو اس طرح تاراج کرتے ہیں جیسے مفتوحہ علاقوں کو قابض فوجیں برباد کرتی ہیں۔
سرکار پارک بنوائے گی‘ چار دن مالی اس کا خیال رکھے گا‘ کچھ روز خاکروب صفائی کرتا دکھائی دے گا‘ پھر اس پارک کے چار میں سے دو مالی افسروں کے گھر میں کام کرنے لگ جاتے ہیں‘ بقیہ دو مالی آپس میں طے کریں گے کہ ایک دن تم آ جانا‘ ایک دن میں آ جاؤں گا۔ پھر یہ ایک دن والا معاملہ چار دن میں تبدیل ہو جائے گا۔ پارک میں آنے والا ہر شخص حتی المقدور گند پھیلائے گا۔ کھانے کے بعد چپس کا خالی پیکٹ‘ چاکلیٹ کا ریپر‘ پھل کا خالی لفافہ‘ جوس کا ڈبہ‘ پانی کی بوتل اور اس طرح کی دیگر بے شمار چیزیں چند قدم پر لگے ہوئے ڈسٹ بن میں ڈالنے کے بجائے وہیں پر پھینکے گا۔ چوکیدار کی عدم موجودگی کے باعث نگرانی سے عاری اس لاوارث باغ سے کوئی نشئی لوہے کا ڈسٹ بن اکھاڑ کر لے جائے گا‘ کوئی ایڈونچر پسند بلب اتار کر لے جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے نہایت خوبصورت اور روشن دکھائی دینے والا باغ برباد شدہ میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا ہوگا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ میں یہ کسی فلمی سین کی منظر کشی کر رہا ہوں؟ ہرگز نہیں! میں وہی کچھ لکھ رہا ہوں جو گزشتہ کئی عشروں سے دیکھ رہا ہوں۔ اب اس نو کلومیٹر طویل خوبصورت ملتان ایونیو پر ہماری جیب سے ٹیکس کی صورت نکلے ہوئے کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ مجھے فکر یہ ہے کہ تھوڑے عرصے بعد یہاں پہلے ایک ٹھیلے والا کھڑا ہوگا جو محکموں کی عدم توجہی یا ان کو روزانہ بھتہ دینے کے عوض ٹھیلے سے کھوکھے میں تبدیل ہوگا۔ ایک کھوکھا مزید کھوکھوں کیلئے مثال ثابت ہوگا۔ دکانوں کے آگے شوارمے اور برگر والے ڈیرے لگا لیں گے۔ بنچ اکھڑ جائیں گے‘ جھولے ٹوٹ جائیں گے‘ پارکنگ کیلئے مختص جگہوں پر پھٹا مافیا قبضہ کر لے گا‘ سروس روڈ پارکنگ لاٹ بن جائے گی اور یہ شاندار سڑک تھوڑے ہی عرصے بعد پرانی سڑک کا نقشہ پیش کرے گی۔ پھر دس بارہ سال بعد کوئی اور بھلا افسر آئے گا اور اس تباہ حال ملتان ایونیو کو نئے سرے سے بنوانا شروع کرے گا۔ اس پر میرے اور آپ کے ٹیکس کے کروڑوں روپے لگیں گے۔ تب پھر کوئی سر پھرا اس پر کالم لکھ کر دہائی دے گا کہ اس کا خیال رکھو‘ لیکن شاید تب بھی کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن کیا یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments