ایک وزیر کے اعترافات

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی جناب مصدق ملک سے کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی مگر کبھی کبھار ان کے بیانات سننے کا موقع ضرور ملتا ہے۔ موصوف بالعموم سنجیدگی اور دلیل سے بات کرتے ہیں۔ ملک صاحب نے ہفتہ کے روز لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پمز میں 14لاشیں دیکھیں تو احساس ہوا کہ ملک محفوظ نہیں۔ اس بیان میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ شدتِ احساس بھی تھی۔ ملک صاحب نے وہ اعترافات کیے ہیں جن کا شب و روز دانشور‘قلمکار اور تجزیہ کار تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج انگلیاں حکومت کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ پمز میں کسی ڈاکٹرکی انگلی کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ اور نہ ہی کسی فائر مین کو آگ لگی اور 14نوزائیدہ بچے زندہ جل گئے۔ صرف یہ پمز کی حالت زارنہیں بلکہ ملک کے تمام سرکاری ہسپتالوں کا یہی حشر ہے۔
ہم مصدق ملک صاحب کے بیان کو سلگتے اور دہکتے ہوئے جذبات پر محض پانی ڈالنے کی کسی سیاسی کوشش کے بجائے یہ حسن ظن رکھتے ہیں کہ ان کے حقیقی جذبات بھی یہی ہوں گے۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے برملا اعتراف کیا کہ کسی سیاستدان کے بچے تو علاج کیلئے سرکار ہسپتالوں میں نہیں جاتے وہ تو علاج نجی ہسپتالوں یا بیرونِ ملک کے شفاخانوں سے کراتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھانے اور خود کو سو طرح کے خطرات میں مبتلا کرنے کیلئے بھی غریبوں اور سفید پوشوں کو منت سماجت کرکے کہیں سے سفارش ڈھونڈھ کر لانا پڑتی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ہم سیاستدانوں‘ بیورو کریٹس اور اچھی حیثیت والوں کے بچے نجی سکولوں میں جاتے ہیں۔ مصدق ملک صاحب کے علم میں یقینا ہوگا کہ ان ملکی و غیر ملکی سکولوں کی بھاری بھاری فیس ہیں۔ بعض کی ماہانہ فیس بلامبالغہ لاکھوں میں ہوتی ہے۔ سرکاری سکولوں کی جو حالت زار ہے اس کے بارے میں شاید انہیں کو کچھ علم نہ ہو۔ ان سکولوں کی تباہی و بربادی کا سبب وہاں دل و جان سے پڑھانے والے اساتذہ کرام نہیں بلکہ صوبائی حکومتیں ہیں۔
پنجاب میں سرکاری سکولوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ سرکاری سکولوں کی ابتر صورتحال کی حقیقی تصویر آپ کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اپنے زمانے کے اُن سرکاری سکولوں کا مختصر نقشہ دکھا دوں جن میں ہم پڑھتے تھے۔1960ء کی دہائی میں سرگودھا ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا ضلعی مقام تھا جو کچھ عرصے میں ہی ڈویژنل ہیڈ کوارٹربن گیا۔ یہاں کا گورنمنٹ ہائی سکول ایک مثالی ادارہ تھا۔ تب پنجاب کے اکثر سرکاری سکول مثالی ہی سمجھے جاتے تھے۔ میجر‘ کرنل اور اعلیٰ سول ضلعی حکام اور اس زمانے کے ممتاز مقامی سیاستدانوں کے بچے ہمارے کلاس فیلوز تھے۔ ہمارے ہیڈ ماسٹر چودھری عطا محمد نہ صرف بہترین استاد بلکہ نہایت اعلیٰ صلاحیتوں والے منتظم تھے۔ بچوں کے ساتھ نہایت شفیق مگر ڈسپلن کے معاملے میں بہت سخت گیر تھے۔ حکمران اور سیاستدان سکول کیلئے ضروری سرکاری فنڈز مہیا کر دیتے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کی شخصیت کافی بارعب تھی‘ اس لیے ان کے سامنے کسی سیاستدان یا افسر کو اپنے بچے کیلئے کسی طرح کی کوئی امتیازی رعایت طلب کرنے کی کبھی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ تب اساتذہ کرام بھی دل و جان سے محنت کرتے تھے۔ ہمارے ہیڈ ماسٹر کھیلوں‘ ادبی و تقریری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور بین المدارس مقابلوں میں طلبہ کو بھیجتے۔ ہاکی‘ والی بال اور کبڈی کے میچوں کے دوران خود سرگودھا سٹیڈیم میں جا کر طلبہ کا حوصلہ بڑھاتے۔ یہی اعلیٰ معیار گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سرگودھا کا بھی تھا۔ 1980ء کی دہائی تک طلبہ و طالبات کیلئے ہمارے سرکاری سکول بہترین تعلیم گاہیں تھیں‘ انہی سکول کے طلبہ و طالبات آگے سرکاری کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے۔ سی ایس ایس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنیوالے نوجوان بھی انہی سرکاری سکولوں سے تعلیم یافتہ ہوتے تھے۔ 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے یکساں اردو میڈیم نصاب تعلیم کو مات دینے کیلئے بیرونِ ملک سے واپس آنے والے پاکستانی طلبہ و طالبات کے نام پر انگلش میڈیم سکولوں کیلئے محدود قسم کی اجازت طلب کی گئی۔ پھر اجازت ملنے پر چل سو چل۔ یکساں نصاب تو اب یہاں ایک سراب ہے۔ جہاں تک پنجاب حکومت کا تعلق ہے تو اس نے کئی دہائیوں سے بالعموم اور موجودہ حکومت نے بالخصوص سرکاری سکولوں کو سو فیصد نظر انداز کر رکھا ہے۔ سکول کے اساتذہ اور ان کی ایڈمنسٹریشن پراعتماد اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے کبھی وہاں ڈیلی ویجز والے کم تعلیم یافتہ اساتذہ لائے جاتے ہیں‘ کبھی ان سکولوں کو ٹھیکے پر دے دیا جاتا ہے اور یہ ٹھیکیدار کم تعلیم یافتہ اساتذہ لے کر آتے ہیں۔ کبھی سکولوں کے مستقل معلمین و معلمات کے سروں پر پنشن کے خاتمے کی تلوار لٹکائی جاتی ہے۔ گیارہ ہزار سکولز آئوٹ سورس کیے گئے ہیں۔ ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ سرکاری سکولوں کو اس نہج پر پہنچا کر پہلے شہبازشریف کے دور میں محدود تعداد میں دانش سکولز اور اب میاں نواز شریف کے نام پر چند سکولز آف ایکسیلینس کھولے جا رہے ہیں۔ لیکن شاید ہی کسی سرکاری سکول میں آپ کو وزیر‘ مشیر تو دور کی بات کسی ایم این اے یا ایم پی اے یا معمولی افسران کا بچہ تعلیم حاصل کرتا دکھائی دے۔ ان نظر انداز شدہ سرکاری سکولوں کے ایک ایک کمرے میں اسی اسی بچے ٹھونسے جاتے ہیں۔ مدرسین و مدرسات کو بروقت پروموشن نہیں ملتی۔ انہیں کوئی اضافی مالی و مصنوعی مراعات نہیں دی جاتیں اور نہ ہی ان کی محنت اور تدریسی خدمت کی کوئی قدر اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بلکہ ہر وقت اس طرح کی دھمکیاں حکومت کی طرف سے گونجتی رہتی ہیں کہ سرکاری سکولوں کو آئوٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ ایسے حوصلہ شکن حالات میں بھی سرکاری سکولوں کے معلمین و معلمات محنت و ریاضت سے کام کر رہے ہیں تو یہ ایک علمی جہاد سے کم نہیں۔ مصدق ملک صاحب نے اعترافات کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کو معاشی اعداد و شمار سے غرض نہیں‘ اسے اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج سے غرض ہے۔ وزیر محترم نے سماجی انصاف کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ عام آدمی کو سماجی ہی نہیں معاشی و قانونی انصاف بھی چاہیے۔ سابق وزیر خواجہ سعد رفیق نے مصدق ملک سے دو قدم آگے جا کر کہا کہ بدعنوانی اور طبقاتی و استحصالی سوسائٹی کے ہاتھوں ستائے لوگ کسی وقت بھی کچی بستیوں سے نکل کر سب کچھ تہس نہس کر دیں گے۔ حکمران اس وقت سے ڈریں۔
ہمارے حکمران اکثر بیرونی ملکوں کے دورے پر رہتے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ ابھی حال ہی میں چین کے دورے پر تھیں‘ وہاں انہوں نے ایک روبوٹ کو کلاس روم میں دیکھا تو بڑی متاثر ہوئیں۔ بہتر ہوتا وہ چین کے عام سرکاری سکولوں کا بھی وزٹ کرتیں۔ اسی طرح ترکیہ اور ایران کے سرکاری سکولوں کے جائزے کی بھی ضرورت ہے۔ وہاں غیر ملکی سکولوں میں صرف غیر ملکی ہی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم نے جاپان اور فن لینڈ کے پبلک سکولوں کی بات نہیں کی‘ اپنے جیسے ملکوں کی ہی مثال دی ہے۔ چین‘ ترکیہ اور ایران کے پبلک سکول اعلیٰ معیار کی تعلیم گاہیں ہیں۔ پھر پنجاب کے سرکاری سکولوں کا وزٹ کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ حکومت کی پبلک سکولز کُش پالیسی کے نتیجے میں سرکاری سکولوں کا کیا حلیہ بن چکا ہے۔
جناب مصدق ملک بیانات سے آگے بڑھ کر عملی جہاد کا مظاہرہ کریں۔ وہ کابینہ‘ پارلیمنٹ اور پارٹی اجلاس میں آواز اٹھائیں اور بلاتاخیر ایسی قانون سازی کرائیں جنکے مطابق ہر وزیر اور رکنِ پارلیمنٹ اور اسکے بچے بغیر وی آئی پی پروٹوکول سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرائیں۔ نیز اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوانے کے پابند ہوں۔ یہی قانون سرکاری افسران کیلئے بھی ہو۔ وگرنہ بقول شاعر: گر یہ نہیں تو بابا‘ وہ سب کہانیاں ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...