سابق شامی صدر کو سزائے موت

رواں ماہ کی 11 تاریخ کو دمشق کی ایک عدالت نے سابق شامی صدر بشار الاسد کو منصوبہ بندی کے تحت بے گناہ لوگوں کے قتل‘ 15 برس سے کم عمر بچوں پر تشدد کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتارنے‘ غیر قانونی حراست اور انسانیت کے خلاف جرائم میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔ بشار الاسد کے علاوہ اس کے بھائی ماہر الاسد اور چھ سابق فوجی و سکیورٹی حکام کو سزائے بھی موت سنا ئی گئی ہے۔ فیصلے کے روز دمشق کی عدالت کے باہر بشار الاسد کے مظالم کا نشانہ بننے والوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے عدالتی فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ فیصلہ سنتے ہی انہوں نے ججوں کیلئے نعرہ ہائے تحسین بلند کیا۔ دسمبر 2024ء میں جب ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہر طرف سے دمشق کے دروازے تک آ پہنچے تو آٹھ دسمبر کو بشار الاسد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ جہاز میں ماسکو کی طرف فرار ہو گیا تھا۔ تب میں نے بشار الاسد اور اس کے والد حافظ الاسد کے 53سالہ دورِ ظلم و تشدد کے بارے میں لکھا تھا۔ آج اُن تاثرات کی قارئین کو یاد دہانی کرا رہا ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پہلے حافظ الاسد پھر اُس کے بیٹے بشار الاسد نے اپنے ہی لوگوں پر کیا کیا مظالم ڈھائے۔ 1971ء میں حافظ الاسد ایک ملٹری شبخون کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوا تھا۔ ظلم کی یہ سیاہ رات 29 سال تک جاری رہی۔ اس دوران اپنے ہی شہریوں پر مظالم ڈھانے میں حافظ الاسد اور اس کا بھائی رفعت الاسد دوسرے عرب آمروں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ حافظ الاسد کا تعلق شام کے اقلیتی علوی فرقے سے تھا۔ شام میں سنی العقیدہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً 78 فیصد ہے۔ علوی فرقے کے عقائد نہایت پُراسرار قسم کے ہیں۔ یہ نہ تو سنی ہیں نہ شیعہ۔ حافظ الاسد ایک ملٹری افسر تھا اور بعث کمیونسٹ پارٹی کا رکن بھی تھا۔ اس نے برسراقتدار آتے ہی اپنی ہیبت قائم کرنے کیلئے شہریوں کے بنیادی حقوق اپنے پاؤں تلے روند ڈالے۔ آزادیٔ تقریر تھی نہ آزادیٔ تحریر اور نہ ہی کسی قسم کے سیاسی و دینی اجتماع کی اجازت۔ حافظ الاسد کے زمانے میں جہاں کہیں چند لوگ اکٹھے ہوتے وہاں بدترین قسم کا کریک ڈاؤن کیا جاتا۔ بلامبالغہ اس کے دور میں ہزاروں نہیں لاکھوں بے قصور شامیوں کو زندانوں‘ شاہراہوں اور قتل گاہوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ لاکھوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا‘ اور پھر برسوں تک اُن کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ دسمبر 2024ء میں بشار الاسد کے شام سے فرار ہونے کے بعد اس کے والد کے زمانے میں قید کیے گئے سینکڑوں قیدیوں کو دہائیوں بعد رہائی ملی۔
اسی دورِ استبداد کے دوران میں اور میری بیگم 1970ء کی دہائی کے اواخر میں طائف سے برائے سیاحت اپنی گاڑی سے تقریباً ڈیڑھ ہزار کلو میٹر ڈرائیو کر کے براستہ اردن دمشق گئے تھے۔ دمشق ایک نہایت خوبصورت شہر ہے جس کے باغات اور عمارات آراستہ پیراستہ ہیں۔ اگر ایسی حسین بستی پر دیو استبداد کا مہیب سایہ پڑ جائے تو اندازہ لگا لیجئے شہرِ جمال کا کیا حشر ہو گا۔ دمشق کے علاوہ ہم گاڑی میں حماۃ سے گزرتے ہوئے حلب بھی گئے۔ شام سے ہماری واپسی کے تین چار برس کے بعد 1982ء میں حافظ الاسد نے حماۃ پر بدترین قسم کا حملہ کیا۔ اس میں حافظ الاسد کے فوجی نہتے اہلِ حماۃ پر ٹوٹ پڑے اور اوپر سے جہازوں کے ذریعے سارے شہر پر بمباری بھی کی گئی۔ تقریباً 27روز تک وحشت و دہشت کا یہ کھیل جاری رہا۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 25ہزار پیر و جواں اور خواتین و بچے اس حملے میں شہید ہوئے اور سارا شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا۔ ان دنوں دنیا بھر کے میڈیا کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ کوئی حکومت اپنے لوگوں کے ساتھ یوں بھی کر سکتی ہے؟ اس قتل عام کی خبریں ساری دنیا کو دہلا گئی تھیں۔ جو شامی کسی نہ کسی طرح سعودی عرب پہنچ گئے اور وہاں کی وزارتِ تعلیم میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے‘ ان میں سے کچھ طائف میں ہمارے رفیق کار بن گئے۔ وہ سرگوشیوں میں بتایا کرتے تھے کہ حافظ الاسد اور اس کا بھائی رفعت الاسد نہایت جابر اور ظالم ہیں۔ جب حافظ الاسد کی وفات کے بعد 2000ء میں بشار الاسد نے اقتدار سنبھالا تو اس نے اپنے شہریوں پر تشدد اور قتل عام کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ آمروں کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ انسانوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرایا جا سکتا ہے اور اُن کی گردنوں میں بندوق کے زور پر اپنی اطاعت کا طوق ڈالا جا سکتا ہے‘ مگر انجام کار یہی طوق آمر کی گردن میں کَس دیا جاتا۔ بشار الاسد نے صید نایا جیل بنوائی جس کی چار منزلیں زیر زمین تھیں۔ وہاں قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ بشار الاسد کے دسمبر 2024ء میں ماسکو فرار کے بعد بہت سے قیدی اس بدنام زمانہ جیل سے رہا کرا لیے گئے مگر پھر بھی ہزاروں تہہ خانوں میں پابہ زنجیر مقید تھے۔ ان بھاری آہنی دروازوں کی چابیاں نہیں مل رہی تھیں‘ آخرکار وہ بھی رہا ہو گئے۔
یہ لوگ زمان و مکان کا ہر احساس کھو چکے تھے۔ سالہا سال سے انہوں نے سورج نہیں دیکھا تھا۔ اُن کیلئے یہ رہائی ناقابلِ یقین تھی۔ جب بشار الاسد کے مظالم اپنے باپ حافظ الاسد سے بھی بڑھ گئے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بہت سے شامی 2011ء میں حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور آزادی کی تحریک شروع کر دی۔ کچھ برسوں کے بعد بشار الاسد نے کیمیائی گیس کے استعمال سے ان کا قتلِ عام کیا۔ ان بدترین حالات میں لاکھوں وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ انہیں ترکیہ‘ جرمنی اور امریکہ میں پناہ مل گئی۔گزشتہ برس جب میں ڈیلس‘ امریکہ گیا تو میری کئی شامی افراد سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ 8دسمبر 2024ء کو اسے نہ صرف شام کی آزادی کی خبر ملی بلکہ اسی روز اس کا بھائی 25 برس بعد جیل سے رہا ہوا۔ میں نے پوچھا کہ اس کا جرم کیا تھا؟ اس نے جواب دیا کہ کوئی جرم نہ تھا۔ وہ کسی کیفے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اس کے خلاف انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ اخوان کے بارے میں کوئی خبر پڑھ رہا تھا۔ اس طرح کے جرائم میں بے گناہ لوگوں کو بدترین عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا تھا۔ اس شامی نے مجھے اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ دمشق سے فرار ہو کر اردن پہنچنے کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستان بھی سنائی جو پھر کبھی بیان کروں گا۔ شام میں 53 برس تک انسانوں کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے بھی کم تر تھی۔
8دسمبر 2024ء کو دمشق و حلب اور حماۃ و حمص میں ہی نہیں شام کے چپے چپے میں لوگوں نے یومِ نجات اور یوم آزادی کی خوشیاں منائیں اور حافظ الاسد کے مجسموں اور بشار الاسد کی تصویروں کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ اب 11اگست 2026ء کو بشار الاسد اور اس کے کئی قریبی ساتھیوں کو دمشق کی عدالت نے جو سزائے موت سنائی ہے‘ اس اہلِ شام بے حد مسرور ہیں اور سجدہ ہائے شکر ادا کر رہے ہیں۔موجودہ التحریر الشام کے صدر ابو محمد الجولانی 2011ء میں اس خاندان کے ظلم و ستم سے نجات حاصل کرنے والی تحریک میں شامل اعتدال پسند عناصر کے قائد تھے۔ شام میں موجودہ حکومتی الائنس دس بارہ دینی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے سربراہ یہی 44سالہ اعتدال پسند الجولانی ہیں۔ انہیں عالم عرب اور مغربی دنیا سے پذیرائی مل رہی ہے۔ ابو محمدالجولانی کی اعلانیہ کمٹمنٹ ہے کہ وہ عوام کی منتخب حکومت کا قیام یقینی بنائیں گے اور تباہی و بربادی کو خوشحالی میں بدلیں گے۔ اس موقع پر دو باتیں عالم اسلام بالخصوص عرب حکمرانوں کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ اپنے ہی شہریوں کا کشت و خون بہادری نہیں بزدلی ہے۔ دوسری بات یہ کہ عوامی حمایت کے بغیر بالآخر اقتدار کا سنگھاسن زمیں بوس ہو جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...