وفاق کی حلیف جماعتیں آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابی نتائج کے بعد حریف بن کر آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ ان دنوں بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ ایک دوسرے کے خلاف حریفانہ بیان بازی کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے (ن) لیگ پر انتخابی دھاندلی کے الزامات اور ان الزامات کے دفاع میں (ن) لیگ کے جوابات جہاں تلخ ہیں وہاں دلچسپ بھی ہیں۔ ان الزامات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میرپور ڈویژن میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیا۔ جواباً مریم نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی دھاندلی کی چیمپئن ہے‘ گھر کے بھیدی لنکا ڈھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ جمہوریت ہے؟ چیئرمین پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ہم عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ادھر سے محترمہ مریم نواز کا دلچسپ جواب آیا کہ الیکشن کا فیصلہ ریاست نہیں عوام کرتے ہیں۔
یہ سوال و جواب اسلئے نہایت اہم ہیں کہ ان میں وہ بنیادی نکات اٹھائے گئے ہیں کہ جن کا تذکرہ عوام قیام پاکستان کے بعد پہلے ''جھرلو الیکشن‘‘ سے لے کر اب تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا الیکشن ہو کہ جو عوام‘ اپوزیشن جماعتوں اور عالمی اداروں کے نزدیک یکساں طور پر فری اینڈ فیئر ہو۔ بلاول بھٹو نے یہ بنیادی نکتہ اٹھایا کہ میرپور ڈویژن میں ہونیوالے انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے‘ یہ جمہوریت کیساتھ کھلا مذاق ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ریاست اور انتخابات کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ چلئے سات دہائیوں کے بعد ہی سہی بنیادی جمہوری و انتخابی سوالات اٹھائے تو گئے۔ بلاول بھٹو زرداری صاحب کو شاید اندازہ نہیں کہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔
متحدہ پاکستان کے جو انتخابات 1970ء میں ہوئے‘ انکے بارے میں عالمی مبصرین کی بالعموم رائے تھی کہ یہ پاکستان کے پہلے نسبتاً آزاد و شفاف انتخابات تھے مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ان انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے اور بھاری اکثریت سے جیتنے والے شیخ مجیب الرحمن کو بحیثیت وزیراعظم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بھٹو صاحب نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پہلی دستور ساز اسمبلی کے ڈھاکہ میں ہونیوالے افتتاحی اجلاس میں مغربی پاکستان سے جو رکن اسمبلی جائے گا اسکی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ بھٹو صاحب کے اس انکار کا بھیانک انجام مشرقی و مغربی پاکستان کی جدائی تھی۔ بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی پاکستان کی تمام اپوزیشن پارٹیوں نے اپنا سربراہِ مملکت تسلیم کر لیا کیونکہ مغربی پاکستان کی کل سیٹوں کے اعتبار سے پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو متفقہ اسلامی جمہوری دستور بنا کر خود بھی اسکی پاسداری کرتے‘ دوسروں سے بھی کراتے اور منتخب ایوان کو مضبوط کرتے مگر انہوں نے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصی اقتدار کو دوام دیا۔ انہوں نے اپوزیشن کی صوبائی حکومتوں کو ''بزورِ شمشیر‘‘ توڑا پھر 1977ء کے انتخابات میں پری پول اور دورانِ پولنگ مبینہ طور پر زبردست دھاندلی کرائی۔ اس کا انتہائی ہولناک انجام ہوا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسی طرح انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا جیسے آج بلاول بھٹو زرداری آزاد میرپور ڈویژن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔
بلاول بھٹو نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر یا آزاد کشمیر کی عدالت عظمیٰ یا پاکستانی ایوان یا اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کرنے کے بجائے ریاست سے اپیل کی ہے۔ اس کا جو جواب مریم نواز صاحبہ نے دیا ہے وہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج ریاست نہیں عوامی ووٹ مرتب کرتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ کے اس جواب پر فارسی زبان کا ایک مقولہ نوکِ زباں پر آ گیا ہے مگر یہ سوچ کر لب سی لینے کا فیصلہ کیا ہے کہ بقول آزاد انصاری:
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے
1977ء کے انتخابات سے لے کر آج آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے الیکشن تک‘ کوئی انتخاب ایسا نہیں کہ جسے فری اینڈ فیئر ہونے پر عالمی مانیٹرنگ اداروں‘ ملک کی سیاسی جماعتوں اور عوام الناس کی طرف سے سندِ قبولیت حاصل ہوئی ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کے 1977ء میں کرائے گئے انتخابات کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کو عوامی تائید حاصل ہوئی۔ بھٹو صاحب نے پاکستان نیشنل الائنس سے مذاکرات کا آغاز کیا مگر بدقسمتی سے وہ کسی متفقہ حل پر نہ پہنچ سکے۔ اس کا نتیجہ نہایت ہولناک تھا۔ بھٹو صاحب کو ایک المناک انجام سے دوچار ہونا پڑا اور پاکستان میں جمہوریت کا بوریا بستر اگلے گیارہ برس کیلئے جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء کے ذریعے گول کردیا۔ اسکے بعد کچھ انتخابات جزوی طور پر آزادانہ ہوئے اور پھر کبھی انتخابی نتائج مرتب کرنے والی آن لائن مشینیں خراب ہو گئیں یا فارم 47کا جنتر منتر آ گیا۔ انتخابات سے پہلے آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو روکنے کیلئے ڈائیلاگ واحد راستہ تھا۔ چند ماہ قبل حکومت نے مذاکرات کی حکیمانہ پالیسی اختیار کر کے چند مطالبات تسلیم کر لیے تھے اور کچھ کو اگلی قانون ساز اسمبلی کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا مگر اس بار مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ایسے احتجاجی ماحول کا تقاضا تو یہ تھا کہ آزاد کشمیر میں صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جاتا۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کو ماضی کی طرح یکبارگی کرانے کے بجائے تین مراحل میں تقسیم کرنے کی منطق بھی سمجھ سے بالا ہے۔ ایسے مرحلہ وار انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج آئندہ مراحل کے انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جو پارٹی پہلے فیز میں فتح یاب ہوتی ہے اس کی اگلے مراحل میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی دو اگست کو مظفر آباد اور بارہ کشمیری مہاجرین کی سیٹوں پر اثر انداز ہو گی۔ مرحلہ جاتی انتخابات کا آخری الیکشن 10اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہو گا۔
ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی کشاکش سے ملک کے بعض بنیادی مسائل الم نشرح ہو کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستانی عوام کی طرف سے جن پارٹیوں کے خلاف مینڈیٹ چوری کا مقدمہ بار بار دائر کیا گیا تھا وہ خود ہی جمہوریت اور صاف شفاف انتخابات کی وکیل بن کر پاکستانی سیاست کے اکھاڑے میں ایک دوسرے کے خلاف ڈٹ گئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ایک دوسرے پر مینڈیٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے الزامات کے بعد تین بنیادی حقائق عوام کے سامنے آئے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ ملک میں جمہوریت نہیں‘ انتخابات فری اینڈ فیئر نہیں‘ تیسرا ریاست اور انتخابی سیاست کا آپس میں کیا تعلق ہے! بلاول بھٹو نے وہی بات کہی کہ جو اگرچہ ان کے خلاف جاتی ہے مگر انہوں نے کہا کہ بے داغ سنہری روپہلی جمہوریت ہونی چاہیے۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ دیر آید درست آید۔ دیر سے سہی مگر یہ تو واضح ہو گیا کہ دونوں بڑی جماعتوں کی اب تک کی کامیابی میں دھاندلی کا بہت بڑا حصہ ہے۔
اگر اس وقت دونوں بڑی سیاسی جماعتیں عوام الناس کے سامنے حلفاً میثاقِ فری اینڈ فیئر انتخابات کا فیصلہ کر لیں تو ہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کر ان کی باہمی کشمکش اور چپقلش کو بابرکت ہی سمجھیں گے۔ اس میثاق سے مایوس نوجوان بھی سکھ کا سانس لیں گے۔ دیکھیے یہ دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں میثاقِ شفاف انتخابات کرتی ہیں یا نہیں!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments