کلمۂ حق کی قیمت

سچی بات تو یہ ہے کہ محرم الحرام کے موقع پر پنجاب میں ایک لاکھ 24 ہزار پولیس اور 15 ہزار رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی سے دل ہی دل میں بہت شرمساری محسوس کر رہا ہوں۔ ملکِ عزیز میں مسلمانوں کے تمام مسالک میں ہم آہنگی اور رواداری ہے۔ محرم الحرام کے موقع پر مسئلہ عدم رواداری نہیں‘ دہشت گردی ہے جس کا کوئی مذہب ہے نہ مسلک۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمارے ہاں رواداری اور احترامِ باہمی کا فقدان ہی نہیں خاتمہ ہو چکا ہے؟ میرے بچپن اور لڑکپن میں غمگسارانِ حسینؓ کے ماتمی جلوس سڑکوں اور بازاروں سے گزرتے تو سُنی اُن کے احترام میں پانی‘ دودھ اور شربت کی سبیلیں لگاتے تھے۔ حقیقت تب بھی اور اب بھی یہ ہے کہ نواسۂ رسولؐ جگر گوشۂ بتولؓ اور فرزند شیرِ خدا علی المرتضیٰؓ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کسی ایک فرقے کے نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے محبوب ہیں۔ دیکھئے اس بارے میں علامہ اقبالؒ نے بزبان فارسی کیا فرمایا ہے:
رمز قرآں از حسین آمو ختیم؍ ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم
خون او تفسیر ایں اسرار کرد؍ ملت خوابیدہ را بیدار کرد
یعنی میں نے قرآن کا سبق سیدنا حسینؓ کی قربانی سے یاد کیا ہے۔ حق کیلئے ان کے جذبوں سے میں نے ولولوں کے شعلوں کا ذخیرہ جمع کیا ہے۔ سیدنا حسینؓ کے خوں کی خوشبو راز ہائے سر بستہ کی تفسیر بیان کرتی ہے۔ میدانِ کربلا میں حضرت حسینؓ کی قربانی سے سوئی ہوئی امت مسلمہ جاگ گئی ہے۔
استادِ گرامی ڈاکٹر خورشید رضوی نے بچوں کیلئے واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والے اسباق کو سادہ مگر انتہائی دل نشیں انداز میں بیان کیا ہے اور حق گوئی کیلئے زبانی ہی نہیں عملی گواہی کی حقیقت سے بھی انہیں آگاہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
حسینؓ صبر و رضا کا پیکر ؍ حسینؓ عزم و وفا کا پیکر
حسینؓ نے جا کے کربلا میں؍ حسینؓ نے گِھر کے ہر بلا میں
قدم کو اپنے جمائے رکھا؍ علم کو اپنے اٹھائے رکھا
شبیر حضرت امام حسینؓ کا لقب ہے۔ اقبالؒ فرماتے ہیں:
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
یہ رسم شبیری کیا ہے‘ جس کیلئے امام عالی مقامؓ نے نہ صرف اپنی جان کی قربانی دی بلکہ اپنے خاندان کے بچوں تک کو کٹوا دیا۔ کسی شخص کی مظلومانہ شہادت پر اس کے اہلِ خانہ کا اظہارِ غم کرنا تو عین فطری بات ہے۔ اس خاندان سے عقیدت و ہمدردی کے جذبات رکھنے والوں کا غم و اندوہ بھی ایک روایت اور حقیقت ہے۔ مگر امام حسینؓ کی وہ خاص بات کیا ہے کہ جس کی بنا پر آج تقریباً چودہ سو برس گزرنے کے بعد ہر سال ان کا غم تازہ ہوتا رہتا ہے؟ ہر سال محرم میں کروڑوں شیعہ و سنی مسلمان ان کی شہادت پر اپنے غم کا اظہار کرتے ہیں مگر عملاً اس مقصد کی طرف کم ہی توجہ کرتے ہیں جس کیلئے اتنی عظیم قربانی دی گئی تھی۔
دراصل امام عالی مقام نے یزید کی ولی عہدی اور جاں نشینی سے یہ پہچان لیا تھا کہ اسلامی طرزِ حکومت میں بڑی بنیادی نوعیت کی تبدیلی آ گئی ہے۔ بظاہر تو اس طرح سے مساجد کے میناروں سے اذانیں بھی بلند ہو رہی تھیں‘ عدالتوں میں اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے بھی ہو رہے تھے‘ پھر وہ کیا وجہ تھی جس کی بنا پر امام عالی مقام نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور جب میدانِ کربلا میں وہ گھِر گئے تھے تو انہوں نے اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں تک قربان کر دیں۔
اسلام میں یہ واضح عقیدہ کہ ملک خدا کا ہے‘ وہی اقتدارِ کُلی کا مالک و مختار ہے۔ باشندے خدا کی رعیت ہیں۔ ریاست کے معاملات وہاں کے اصحاب البرا کے مشوروں سے چلائے جائیں گے اور حکمران لوگوں کے حقوق کے سلسلے میں امت کے سامنے ہی نہیں خدا کے سامنے بھی جوابدہ ہیں۔ یزید کی جانشینی سے اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں کو بھی بدل ڈالا گیا۔ اسلامی قانون کا سب سے بنیادی ستون یہ تھا کہ کوئی خلیفہ یا حاکم مسلمانوں کی مرضی کے بغیر ان پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ مختصر یہ کہ اسلامی خلافت کو ملوکیت میں بدل دیا گیا۔ اسلامی ریاست کے خلیفہ کیلئے مسلمانوں کی بیعت یا آج کی زبان میں ان کا ووٹ تھا۔ مگر اوپر سے یزید کی تعیناتی کی گئی اور عامۃ المسلمین کی رائے یا بیعت سے کسی تکلف کا کوئی اہتمام نہ کیا گیا۔
بعد کے ادوار میں بھی مسلم حکمرانوں نے عامۃ المسلمین سے بزور شمشیر بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ حضرت امام حسینؓ سے لے کر آج کے دور تک امتِ مسلمہ میں ایسے اللہ والے آتے رہے ہیں کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر بہ جبر و اکراہ بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ امام مالکؒ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کو عباسی دورِ حکومت میں خلیفہ ابو جعفر منصور کے چچا زاد اور مدینہ کے گورنر جعفر بن سلمان نے حق گوئی کی پاداش میں کوڑے لگوائے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ آپ کا وہ فتویٰ تھا جس کے مطابق زبردستی لی گئی بیعت اور زبردستی دی گئی طلاق باطل اور غیرمعتبر ہوتی ہے۔اسی طرح بعد کے ادوار کے دوران۔ 1953ء میں لاہور کی ایک فوجی عدالت نے حق گوئی کے ایسے ہی ایک ''جرم‘‘ کی پاداش میں مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی کو سزائے موت سنا دی۔ جب حکومتِ وقت کی پھانسی کی کوٹھڑی میں موت کا انتظار کرتے ہوئے مولانا مودودی کو رحم کی اپیل کرنے کے کاغذات دستخط کرنے کیلئے پیش کیے گئے تو مولانا نے شانِ بے نیازی کے ساتھ یہ تاریخی جملہ کہہ کر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا کہ: زندگی اور موت کے فیصلے زمینوں پر نہیں آسمانوں پر ہوتے ہیں۔ بعد میں ایسے ہی ہوا کہ ایک سول عدالت کے فیصلے پر مولانا مودودی کو باعزت بری کر دیا گیا۔ اسی طرح کی ایسی ہی حق گوئی کی بھاری قیمت ممتاز مصری سکالر اور مفسرِ قرآن سیّد قطب نے 1966ء میں مسکراتے ہوئے تختۂ دار چوم کر ادا کی تھی۔
حق گوئی کل آسان تھی نہ آج ہے۔ عالمِ عرب کی آمریتوں اور خاندانی بادشاہتوں میں آج بھی کلمۂ حق کہنا اتنا ہی دشوار ہے جتنا محرم الحرام 61ہجری بمطابق 680عیسوی میں تھا۔ جہاں تک ہمارے جیسے نیم جمہوری ملکوں کا تعلق ہے وہاں بھی حق گوئی کا فریضہ جان ہتھیلی پر رکھ کر ہی ادا کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات جان گنوانا بھی پڑتی ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے جمہوری ملکو ں میں بھی حق گوئی پر مصلحت کیشی غالب ہے۔ ایک بار پھر یاد کرا دوں کہ امام عالی مقام نے میدانِ کربلا میں یزیدی لشکر جرار کے سامنے مزاحمت کے ایسے ابواب رقم کیے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کیلئے ہی نہیں دنیا بھر کے انسانوں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوں گے۔ ایسے مواقع پر کہ جب فوج گھِر جائے تو بڑے بڑے جرنیل ہتھیار ڈال دیتے ہیں مگر نواسۂ رسولؐ نے کربلا میں مفاہمت کے بجائے اصول کی غیرت اور عزیمت کے راستے کو ترجیح دی۔ یزید حضرت امام حسینؓ کو اپنے سامنے سرنگوں کرنا چاہتا تھا۔ وہ ان سے بزورِ شمشیر بیعت لینا چاہتا تھا۔ وہ میدانِ کربلا میں خانوادۂ رسولؐ کے چراغوں کو گل کر دینا چاہتا تھا مگر اسے معلوم نہ تھا کہ وہ شمع مدہم پڑنے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ روشن تر ہو رہی ہے اور ایک دنیا کو منور کر رہی ہے۔
غمگسارانِ حسینؓ کہ جن میں یہ معمولی قلمکارِ حسین بھی شامل ہے‘ انہیں ڈاکٹر خورشید رضوی کے اس شعر کے ذریعے میدانِ کربلا میں شہادت حسینؓ کے اصل مقصد کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
اب ڈوب کے سوچا ہے کردارِ حسینی پر
اب اشک نہیں آتے اب عزم ابھرتا ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں