پنجاب اسمبلی میں متنازع بل

تاریخ عالم تو دور کی بات‘ ہمارے حکمران اپنی قومی تاریخ سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ ہماری 78سالہ قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش سبق یہی ہے کہ بسا اوقات ہمارے اہلِ اقتدار نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے جو قوانین بنائے تھے وہ خود بھی انہی کی زد میں آ گئے۔ ہمارے سیاستدان جب محرومِ اقتدار ہوتے ہیں تو ان سے بڑا بنیادی انسانی حقوق اور آزادیٔ تحریر وتقریر کا علمبردار کوئی اور نہیں ہوتا مگر جب وہ برسر اقتدار آ جاتے ہیں تو پھر وہ شہری آزادیوں پر قدغن لگانے اور اختلافی نقطۂ نظر پیش کرنے والوں کی زبانوں پر تالے لگانے اور تنقیدی سطور سپردِ قلم کرنے والے ہاتھوں کو قلم کرنے کی نت نئی تدبیریں سوچنے لگتے ہیں۔ یہ کام اسمبلیوں میں اس شان سے ہو رہا ہے کہ فاضل ارکانِ اسمبلی کو یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ جس قانون سازی کے لیے انہیں ہاتھ کھڑے کرنے ہیں وہ قانون ہے کیا؟ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کس طرح پاس ہوئیں؟ اپوزیشن نے کچھ واویلا کیا اور مولانا فضل الرحمن نے کچھ مفاہمت پسندانہ تجاویز پیش کیں اور اللہ اللہ خیر سلا۔ حکومتی پیش کردہ مطلوبہ ترامیم کو حکومتی واتحادی ووٹوں کی اکثریت سے منظور کروا لیا گیا۔ ایسا ہی ایک بل پنجاب اسمبلی سے پاس کرانے اور ''حزبِ اختلاف‘‘ کا قصہ ہمیشہ کے لیے پاک کرنے اور چین کی بانسری بجانے کی کوشش کی گئی مگر صد آفرین پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن ارکان‘ بعض حکومتی ممبران اور سب سے بڑھ کر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ہمت پر کہ جنہوں نے ایسی دستور شکن قانون سازی کا راستہ قانون کے ذریعے ہی روکا اور اپنی پارٹی کے ساتھ حقیقی خیر خواہی کا ثبوت دیا۔
اب ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ یہ بل کیا تھا جسے قانون کا جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی۔ اس بل کو Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026 کا نام دیا گیا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ یوں ہے: ''پنجاب میں عادی مجرموں اور خلافِ معاشرہ رویے کا بل‘‘۔ اس بل کے مطابق ضلعی ایڈمنسٹریشن کو یہ اختیار دینے کی تجویز تھی کہ وہ اپنی ہی قائم کردہ ضلعی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جسے چاہے اسے ''عادی مجرم اور اینٹی سوشل‘‘ قرار دے ڈالے۔ کسی عدالتی فیصلے کے بغیر ضلعی انتظامیہ کی مزاجی صوابدید پر اتنا بڑا فیصلہ صادر کرنے کا اختیار سونپنے اور پہلے سے موجود طرح طرح کے قوانین کی موجودگی میں ایک اور خطرناک اضافہ کرنے کی کوشش کیوں کی گئی؟ ظاہر ہے انتظامیہ اُسے ہی اپنی پاکٹ انٹیلی جنس کی بنا پر ''اینٹی سوشل‘‘ قرار دے گی جس کے بارے میں اوپر سے احکامات آئیں گے۔ گویا صوبائی مزاجِ شاہی جس سیاستدان سے نالاں ہوگا اس کے رویے کو خلافِ معاشرہ قرار دیدے گا۔ زیر نظر قانون سازی کی مزید تفصیلات سے پہلے اس ردِعمل کی ایک جھلک پیش کرنا ضروری ہے جو سٹینڈنگ کمیٹی کی سطح پر بل کی خواندگی کے دوران ہی سامنے آ گیا۔
اس مجوزہ قانون سازی پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی ارکانِ اسمبلی‘ سپیکر پنجاب اسمبلی‘ وکلا‘ دانشوروں اور صحافیوں نے سخت تنقید کی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے تو نجی محفلوں میں اس قانون کو استعماری دور کے خوفناک قوانین جیسا قرار دیا۔ اسمبلی فلور پر سپیکر صاحب نے اُن کے علم میں لائے بغیر بل کو اسمبلی میں پیش کرنے کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ میں اگرچہ اُن معنوں میں ایک باخبر صحافی نہیں ہوں کہ جو اپنے تحقیقی یا خصوصی ذرائع سے اندر کی خبر لے آتے ہیں تاہم اس بل کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ ماہِ جون میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے کمیٹی برائے قانونی اصلاحات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی پرفارمنس کا جائزہ لینے کے دوران ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر حکومت کے ''یس باس گروپ‘‘ نے سپیکر کے طرزِعمل کو حکومت کے انتظامی نظام اور وزیراعلیٰ کے اختیارات میں مداخلت کرنے اور ان کے مدمقابل آنے کا تاثر دیا۔ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو علم ہونا چاہیے کہ جمہوری ملکوں میں حقیقی اختیارات اسمبلیوں کی کمیٹیوں کے پاس ہی ہوتے ہیں اور یہ ملک یا صوبے کے منتظم اعلیٰ تک کو طلب کرنے کا قانونی استحقاق رکھتی ہیں۔ اس پس منظر میں بدھ کے روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ایک ملاقات ہوئی تاکہ باہمی مس انڈر سٹینڈنگ کا خاتمہ ہو سکے۔ باخبر ذرائع کے مطابق سپیکر پنجاب نے وزیراعلیٰ کے سامنے دونوں اختلافی معاملات کی وضاحت کی۔ انہوں نے مجوزہ قانون کے بارے ارکانِ اسمبلی کے عمومی تحفظات اور اپنا قانونی و دستوری نقطۂ نظر پیش کیا۔ انہوں نے اپنی رائے کو صوبے اور پارٹی کے لیے خیر خواہی قرار دیا۔ ملاقات کے آخر میں طرفین نے ایک دوسرے کے لیے خوشگوار الفاظ اور تاثرات کا اظہار کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے اس تاثر کی نفی کی جو اُن کے مخالفین کی طرف سے پھیلایا گیا کہ وہ پنجاب اسمبلی میں کوئی متوازی انتظامی نظام چلانے کی کوشش کر رہے تھے۔
مجوزہ قانون میں ضلعی انتظامیہ کو دیے گئے لامحدود اختیارات کے مطابق وہ ''عادی مجرموں‘‘ اور ''خلافِ معاشرہ رویہ‘‘ رکھنے والوں کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے‘ اُن کی جائیداد ضبط کرنے‘ موبائل فون بند کرنے‘ سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل کرنے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ اپنانے کا طریقہ کار شامل تھا۔ اپوزیشن نے ان اقدامات کو شہریوں کے بنیادی دستوری حقوق‘ پرائیویسی‘ آزادیٔ تحریر و تقریر کو کچلنے کے مترادف قرار دیا۔ حکومتی ارکانِ اسمبلی نے بھی اس قانون کو بنیادی انسانی حقوق سے سخت متصادم گردانا ہے۔ سٹیٹ کرافٹ کے قدیم و جدید اصولوں کے مطابق کسی بھی حکمران کی مقبولیت اور اس کے اقتدار کے استحکام کے لیے عدل و انصاف کا بول بالا‘ اختیارات میں عدم ارتکاز‘ رعب و دبدبہ سے گریز‘ قانون کی حکمرانی‘ معاشی خوش حالی اور صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ مجوزہ قانونی بل پڑھتے ہوئے مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ایک شخص ''عادی مجرم‘‘ ہے یا اس کا رویہ ''خلافِ معاشرہ‘‘ ہے‘ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ کوئی عدالت نہیں کرے گی بلکہ ضلعی انتظامیہ کرے گی اور اسے وہ ناقابلِ تصور سزا دینے کی مجاز ہوگی جس سزا کا اختیار اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھی نہیں دیتا۔ قارئین جانتے ہیں کہ یہ درویش عرب دنیا کی آمریتوں کو اکثر نشانۂ تنقید بناتا رہتا ہے۔ عرب لیگ پر تحقیقی مقالہ لکھنے کی بنا پر عرب ممالک کے قوانین اکثر میری نظر سے گزرتے رہتے ہیں مگر میرے علم میں نہیں کہ کسی عرب ملک کے دستور یا قوانین میں محض انتظامیہ کی صوابدید پر کسی شہری کے بینک اکاؤنٹس‘ جائیداد اور عزت و آبرو سے محروم کیا جا سکتا ہو۔ پھر پنجاب حکومت نے کسی شہری کو یوں کرش کرنے کا ''ویژن‘‘ کہاں سے اخذ کیا یا یہ ہولناک قانون سازی اُس کے اپنے ذہن کی کرشمہ سازی تھی۔ یہ خاکسار اہلِ پاکستان کی بالعموم اور اہلِ پنجاب کی بالخصوص نمائندگی کرتے ہوئے اپوزیشن اور حکومتی ارکانِ پنجاب اسمبلی اور خصوصاً سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ جنہوں نے قوم کو اس ہولناک قانون سازی سے بچا لیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں