پاکستان میں شاید ہی کوئی شخص ہو جس نے فیفا ورلڈ کپ کا فائنل نہ دیکھا ہو۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ کرکٹ کی دیوانی قوم چلو کچھ دیر تو اس کھیل کے حصار سے نکل کر کسی دوسرے کھیل کی طرف راغب ہوئی۔ پاکستانی بچوں اور نوجوانوں نے فیفا ورلڈ کپ کے تقریباً سارے میچ دیکھے‘ یہاں تک کہ رونالڈو کے شاندار کیریئر کے اختتام پر پاکستانی بچے بہت اداس نظر آئے۔ بچوں کا کھلاڑیوں سے پیار ایک بہت ہی منفرد جذبہ ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ نئی نسل کرکٹ کے علاوہ بھی کسی کھیل کی طرف راغب ہوئی۔ نوجوان نسل نہ صرف فٹ بال اور اس کے کھلاڑیوں میں دلچسپی لے رہی ہے بلکہ یہ کھیل کھیلنا بھی چاہتی ہے۔ ورلڈ کپ کے دوران نوجوان اور بچے اپنے پسندیدہ فٹ بالرز کی کٹس خریدتے رہے‘ ان جیسے جوتے اور فٹ بال لے کر آئے۔ دوسری طرف فیفا کپ میں جس ملک کا فٹ بال استعمال ہوا اس ملک میں اس کھیل کی ترویج کیلئے کوئی تیار نہیں۔ 2030ء کا فیفا ورلڈ کپ سعودی عرب میں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنے فٹ بال کے کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے تاکہ ہماری ٹیم بھی عالمی کپ میں کوالیفائی کر سکے۔ قومی کرکٹ ٹیم کی غیر یقینی کارکردگی شائقین کا بلڈ پریشر ہائی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی۔ پاکستانی عوام کی فٹ بال میں دلچسپی اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اچھا کھیل دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمارے ملک میں کرکٹ میچ ہو رہا ہو تو سڑکیں بند‘ راستے بند اور سٹیڈیمز میں شائقین کا داخلہ بند کر دیا جاتا ہے۔ایسے ماحول میں شائقین کھیلوں میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔ ابھی سنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک کرکٹ سٹیڈیم بننے جا رہا ہے۔ اس سے کرکٹ یا شائقینِ کرکٹ کو تو شاید کوئی فائدہ نہیں ہوالبتہ مارگلہ ہلز بری طرح تباہ ہوں گی۔
فیفا ورلڈ کپ چونکہ امریکہ میں کھیلا جا رہا تھا‘ پاکستانی وقت کے مطابق فیفا کے میچز آدھی رات کو شروع ہوتے تھے لیکن شائقین پھر بھی پُرجوش انداز میں میچ دیکھتے تھے۔ فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میچ کیلئے تو پاکستان میں مالز اور ہوٹلوں میں بڑی بڑی سکرینیں لگائی گئی تھیں جبکہ کئی شہروں میں انتظامیہ کی جانب سے بھی سکرینیں لگا ئی گئی تھیں۔ سی ڈی اے نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں میلہ سجا رکھا تھا جہاں شہریوں کی بڑی تعداد میچ سے لطف اندوز ہوئی۔ زیادہ تر پاکستانی شائقین سپین کو سپورٹ کر رہے تھے۔ سپین کو سپورٹ کرنے کی ایک بڑی وجہ ان کے نوجوان کھلاڑی لامین یامال ہیں۔ وہ مسلمان ہیں‘ ان کے والدین ہجرت کر کے سپین آئے۔ جب وہ صرف تین ماہ کے تھے تو اقوامِ متحدہ کے ایک کیلنڈر کیلئے ارجنٹائن کے کھلاڑی میسی نے ان کی والدہ کے ساتھ انہیں فوٹو شوٹ کیلئے نہلایا تھا۔ یہ تصویر اٹھارہ سال بعد وائرل ہو گئی۔ بہت سے لوگ اس تصویر کو پسند کر رہے تھے تو بہت سے دوسرے لوگ میمز بنا کر ہنس رہے تھے۔ جس بچے کو کبھی میسی نے نہلایا تھا وہ 2026ء کے فیفا کپ میں میسی کے مد مقابل کھڑا تھا۔ لامین کا فٹ بال کیریئر شروع ہوا تو وہ اپنی محنت کی وجہ سے سپین کی ٹیم کا حصہ بن گئے۔ لامین فلسطین کے اعلانیہ حمایتی ہیں۔
ارجنٹائن کو اس ورلڈ کپ میں فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ سپین کی ٹیم کی محنت تو تھی ہی‘ ہم سب پاکستانیوں کی دعائیں بھی انہیں لگ گئیں اور وہ جیت گئے۔ سپین نے ارجنٹائن کو ایک صفر سے شکست دی اور اب چار سال وہ فٹ بال کی دنیا پر راج کرے گا۔ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن کھلاڑیوں کا رویہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ فائنل میں ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کا رویہ ٹھیک نہیں تھا‘ وہ مغرور لگ رہے تھے۔ دوسری طرف سپین کے نوجوان کھلاڑی لامین کا جہاں کھیل بہت اچھا ہے‘ وہاں ان کا رویہ اور خیالات بھی بہترین ہیں۔ میں نے خود بھی فائنل میچ دیکھا‘میں نے دیکھا کہ جب لامین کی مخالف ٹیم کے کھلاڑی سے ٹکر ہوئی تو انہوں نے اس کو اٹھنے میں مدد دی۔ فائنل بہت سنسنی خیز تھا۔ بہت دن بعد ایسا پُرجوش مقابلہ دیکھا‘ اور اتنے اچھے انتظامات‘ اتنے اچھے گانے اور زندہ دل کراؤڈ‘ واہ کیا بات ہے۔ کاش ہم بھی ایسے ایونٹس اپنے ملک میں کرا سکیں لیکن ہمارے معاشی حالات اس چیز کی اجازت نہیں دیتے۔
سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ہمارے ملک سے بڑے ایونٹس روٹھ گئے۔ کرکٹ پر فوکس ہونے کی وجہ سے دوسرے کھیل پاکستان سے تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان سنوکر‘ سکواش‘ ہاکی اور فنِ پہلوانی میں راج کر رہا تھا۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کا سکہ کرکٹ میں بھی چلتا تھا۔ اب پاکستان کھیلوں میں بہت پیچھے ہے۔ اولمپکس گیمز میں پاکستان کی کوئی متاثر کن کارکردگی نہیں۔ ایتھلیٹس سے زیادہ آفیشل دستے کا حصہ ہوتے ہیں۔ رگبی‘ فٹ بال‘ تیراکی‘ باسکٹ بال اور ٹینس میں ہم اپنا کوئی خاص وجود نہیں رکھتے۔ مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ میرا خود بہت دل کرتا ہے کہ سائیکل چلاؤں یا پیڈل ٹینس کھیلوں لیکن اچھی سہولتیں وہاں ہیں جہاں ہر وقت وی آئی پی روٹس اور ٹریفک جام ہوتے ہیں‘ انسان وہاں جانے سے پہلے ہی ٹریفک میں تھک جائے۔ میرے گھر کے قریب ایف نائن پارک ہے لیکن وہاں کھیلوں کی کوئی سہولت نہیں اور خواتین گلی میں بیڈمنٹن نہیں کھیل سکتیں۔ خواتین کو ایسی جگہیں اچھی لگتی ہیں کہ وہ کچھ کھیل رہی ہوں یا واک‘ جم کر رہی ہوں تو لوگ انہیں نہ دیکھیں۔ ہم بطور معاشرہ کھیلوں‘ ورزش اور واک سے کوسوں دور ہیں۔ ملک میں موٹاپا‘ ذیابیطس جیسے امراض پھیل رہے ہیں اور عوام کا پسندیدہ مشغلہ صرف کھانا ہے۔ مرغن کھانے‘ بیکری آئٹمز اور چینی نے ہماری نسل کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ نہ ہی کوئی کھیلوں کی بات کرتا ہے‘ نہ ہی کوئی صحتمند طرزِ زندگی کی بات کرتا ہے۔ آئے روز ہمارے ملک میں غیر ضروری انڈر پاس اور پل بن رہے ہوتے ہیں۔ کبھی سنا کہ کوئی کھیل کا میدان بن رہا ہے‘ کسی پارک میں فٹ بال گراؤنڈ‘ کرکٹ پچ بن رہی ہو یا ٹینس کورٹ بنایا جا رہا ہو؟
ایف الیون سے ایف ٹین کی طرف آئیں تو سینکڑوں بچے سڑک کنارے کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیں۔ آج تک اطراف کی آبادیوں میں کوئی چھوٹا پبلک پارک اَپ گریڈ نہیں ہوا اور نہ کوئی کھیل کا کوئی نیا میدان بنا۔ ہمارے ملک میں سڑک‘ پل اور مال فوری طور پر بن جاتے ہیں مگر جم‘ کھیل کا میدان اور سپورٹس کمپلیکس نہیں بنتے۔ اشرافیہ کی ساری توجہ کرکٹ کی طرف ہے۔ کرکٹ والوں کی ساری توجہ سٹارڈم‘ ماڈلنگ اور شہرت کی طرف ہے‘ تو سپورٹس کہاں ہیں؟ پاکستان کی آبادپچیس کروڑ سے زیادہ ہے‘ کیا سب ایک ہی کھیل کھیلیں گے؟ اول تو ہم کھیلوں والے عوام نہیں۔ بیٹھے رہنا‘ کھاتے رہنا اور باتیں کرنا ہم سب کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اوپر سے پالیسی اور وژن کا فقدان بھی ہے۔
کھیل ہماری اشرافیہ کی ترجیح نہیں ہیں۔ حال سے ماضی کی طرف دیکھیں‘ 92ء کا کرکٹ ورلڈ کپ‘ 2017ء کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی‘2009ء ٹی ٹونٹی عالمی چیمپئن‘ جان شیر خان کا آٹھواں ورلڈ ٹائٹل 1996ء‘ محمد یوسف کا 1994ء میں عالمی سنوکر چیمپئن بننا‘ جہانگیر خان کے دس برٹش اوپن ٹائٹل اپنے نام کرنا‘ پاکستان کا ورلڈ ہاکی چیمپئن بننا‘ کیا تابناک ماضی تھا۔ پاکستان نے ہاکی میں تین گولڈ‘ تین سلور اور دو کانسی کے تمغے حاصل کیے اور اذلان شاہ کپ اس کے علاوہ تھا۔ 2026ء میں اولمپکس میں ارشد ندیم کا تمغہ پاکستان کو 32 سال بعد نصیب ہوا‘ 1992ء کے ہاکی تمغے کے بعد سے یہ اعزاز پاکستان کو نہیں ملا تھا۔ پاکستان میں بھی بہت ٹیلنٹ ہے لیکن اس کی سرپرستی‘ اونرشپ اور تربیت کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ اس لیے کرکٹ کے علاوہ یہاں دیگر کھیلوں کا مستقبل مبہم ہے۔ کرکٹ کا مستقبل کیا ہے‘ اس پر بھی سوالیہ نشان لگا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments