سہ ملکی دفاعی معاہدہ

سعودی عرب‘ ترکیہ اور پاکستان ایک دوسرے کے اچھے برے وقت کے ساتھی ہیں۔ تینوں ہی مسلم ممالک ہیں‘ اور کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں۔ دنیا میں جیسے بھی سیاسی و معاشی حالات ہوں‘ یہ تینوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں نے بیرونِ ملک سفر کیلئے جدہ سے ٹرانزٹ کا آپشن لیا۔ سعودی عرب کی قومی ایئرلائن میں سفر بہت آرام دہ رہا۔ سعودی عرب میں قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی وجہ سے مجھے یہ ملک خواتین کیلئے بہت محفوظ محسوس ہوتا ہے۔ یہاں کے سخت قوانین خواتین کو ہراسانی اور دھوکا دہی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مجھے جدہ ایئر پورٹ پر مختصر قیام کے دوران بہت خوشی محسوس ہوئی۔جدہ کا ایئرپورٹ کافی خوبصورت ہے‘ جدید سہولتوں سے آراستہ‘ دنیا بھر کے برانڈز یہاں موجود ہیں‘ اور کھانا تو یہاں بے حد لذیذ ہے۔ دوسرا یہاں صفائی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ مجھے سب سے خوشگوار حیرت امیگریشن پر ہوئی۔ میں جب جہاز سے اتری تو ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا۔ ارشد شریف کے بعد بیرونِ ملک کا یہ میرا پہلا سفر تھا۔ میں تھکے تھکے قدموں سے امیگریشن کاؤنٹر کی طرف بڑھ رہی تھی کہ پتا نہیں کیا پوچھیں گے یا کتنی چیکنگ ہو گی۔ کوئی چیز گم ہو گئی یا میں کاؤنٹر پر کچھ بھول گئی تو کیا ہوگا۔ مگر وہاں موجود عملے نے میرے ہاتھ میں سبز پاسپورٹ دیکھ کر کہا کہ ''سسٹر! پاکستان...؟ یو کین گو پلیز‘‘۔ میں نے ایک بار پھر پوچھا کہ کیا میں جا سکتی ہوں؟ جواب ملا: جی ہاں۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ نہ بیگ کھلوائے‘ نہ جوتے اور جیولری اتارنے کو کہا اور عزت سے لاؤنج کی طرف جانے کیلئے کہہ دیا۔ مجھے خوشی بھی ہوئی اور فخر بھی کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کتنے خوشگوار ہیں۔ میں ایک عام مسافر کے طور پر سفر کر رہی تھی‘ تاہم دونوں ممالک کے درمیان گرمجوشی اور دوستی کو میں نے براہِ راست محسوس کیا۔ حالیہ سفارتی کامیابیوں کی وجہ سے پاکستان کے سبز ہلالی پاسپورٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں امیگریشن حکام بہت خوش دلی کے ساتھ پاکستانی مسافروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے پاکستان کو امن کا داعی قرار دیتے ہیں۔ کاش کہ اس سفارتکاری کا اثر ہمارے ملک کی معیشت پر بھی جلد نظر آئے۔
میں لاؤنج میں بیٹھی سعودی مسافر جہازوں کو دیکھتی رہی۔ نہ صرف سعودی ایئرلائنز کے جہاز لینڈ اور ٹیک آف کر رہے تھے بلکہ دیگر اہم غیرملکی ایئرلائنز بھی مسافروں کو منزلِ مقصود تک پہنچانے میں مصروفِ عمل نظر آئیں۔ پی آئی اے کا جہاز بھی نظر آیا۔ حال ہی میں سعودی عرب نے اپنی دوسری قومی ایئرلائن ایئر ریاض کا بھی افتتاح کیا ہے۔ سعودی عرب کی معیشت کا اندازہ ان کے وسیع اور جدید ایئرپورٹ سے ہو رہا تھا‘ جہاں پر غیرملکی مسافروں کا رش تھا۔ لوگ اب دبئی کے بجائے جدہ سے ٹرانزٹ لینا پسند کرتے ہیں۔ ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کی پالیسیوں نے سعودی عرب کو جدید بنا دیا ہے۔ اب یہ صرف مذہبی نہیں‘ معاشی‘ ثقافتی اور سفارتی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔ سعودی عرب دنیا کی 19ویں بڑی معیشت ہے‘ اور 2025ء میں اس کی جی ڈی پی تقریباً 1277ارب ڈالر تھی‘ فی کس آمدنی لگ بھگ 33ہزار ڈالر اور آبادی تقریباً ساڑھے تین کروڑ ہے۔ سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کی معیشت تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے۔ سعودی عرب کی کمپنی آرامکو دنیا کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی ہے۔ سعودی عرب حکمران 'وژن 2030ء‘ کے تحت سعودی معیشت کو تیل کے علاوہ سیاحت‘ ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب میں فٹ بال ورلڈ کپ کی بھی تیاری کی جا رہی ہے اور 2034ء کا فیفا ورلڈ کپ سعودی عرب میں ہو گا۔ 'وژن 2030ء‘ کے تحت خواتین کو بھی ورک فورس کا حصہ بنایا گیا ہے‘ اور اب سعودی عرب کی ورکنگ فورس کا تقریباً 37 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بات کی جائے تو دونوں ممالک کے مابین مذہبی‘ معاشی‘ سفارتی‘ ثقافتی اور دفاعی تعلقات 1947ء سے ہی مثالی رہے ہیں۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی حج اور عمرہ کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کام کی غرض سے لاکھوں پاکستانی سعودیہ میں مقیم ہیں۔ پاکستان کو سب سے زیادہ ترسیلاتِ زر سعودی عرب سے موصول ہوتی ہیں۔ سعودی فورسز اور پاکستانی افواج مل کر دفاعی مشقوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کو رعایتی نرخوں پر تیل بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امداد اور قرضے بھی فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔
اگر ہم ترکیہ کی طرف دیکھیں تو یہ بھی پاکستان کا ایک مثالی دوست ہے۔ ترکیہ کے ساتھ مجھے خاص انسیت ہے کیونکہ میں نے ان کے سرکاری میڈیا کے ساتھ دس سال کام کیا ہے۔ ترک عوام پاکستان دوست ہیں۔ ان کی اردو سروس پاکستان اور ترکیہ کی دوستی کا مظہر ہے۔ ترکیہ اپنی دفاعی قوت پر بہت توجہ دیتا ہے‘ ترکیہ اور پاکستان مل کر فوجی مشقیں بھی کرتے ہیں۔ ترکیہ دنیا کی 17ویں بڑی معیشت ہے‘ جس کی آبادی آٹھ کروڑ 79 لاکھ ہے۔ ان کی معیشت سیاحت‘ برآمدات‘ تعمیرات اور زراعت پر مشتمل ہے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت بھی بہت مضبوط ہے۔ وہ اپنے دفاع کا بیشتر سازوسامان خود بنا رہا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان برادر ممالک ہیں‘ دونوں کو مذہب‘ ثقافت اور سیاحت مزید قریب کر دیتے ہیں۔ پاکستانی ترک ڈراموں اور کھانوں کے بھی دلدادہ ہیں۔
پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب نے سات اگست کو حرمِ پاک سے متصل ایک محل میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سائن کیا ہے‘ جس کے تحت تینوں ممالک مل کر ایک دوسرے کے دفاع کو مضبوظ بنائیں گے۔ معاہدے میں یہ طے پایاہے کہ ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔ معاہدے کے تحت خطے میں امن و استحکام قائم کرنے کیلئے کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ نیٹو اور اقوام متحدہ کے قوانین کے عین مطابق اور کسی فرقے یا ملک کے خلاف نہیں۔ اس معاہدے کیلئے جگہ کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ مکہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک منفرد نوعیت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ پاکستان دہشت گردی سے متاثر ہے اور ہم معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا بھی شکار ہیں۔ البتہ پاکستان کی جوہری صلاحیت اسے باقی دونوں ممالک میں دفاعی برتری دیتی ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج بالخصوص ایئر فورس جس نے گزشتہ سال معرکۂ حق میں بھارت کے جہاز تباہ کیے اور اسے بری طرح شکست دی‘ وہ بھی تینوں ممالک میں پاکستان کو دفاعی برتری دیتی ہیں۔ یہ معاہدہ نہ صرف تینوں ممالک کو دفاعی طور پر مضبوط کرے گا بلکہ اس کے اثرات معیشت‘ سیاحت اور ثقافت پر بھی نظر آئیں گے۔ خلیجی ممالک پہلے اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر انحصار کرتے تھے لیکن ایران‘ امریکہ جنگ جب اپنی حدود سے نکل کر خلیجی ممالک تک پہنچ گئی تو انہیں احساس ہوا کہ متبادل سکیورٹی بندوبست بھی بہت ضروری ہے‘ جو سات سمندر پار نہیں بلکہ اسی خطے میں ہونا چاہیے۔ چونکہ تینوں ممالک کے تعلقات امریکہ کے ساتھ بھی اچھے ہیں‘ اس لیے اس معاہدے کو کسی عالمی طاقت کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ مکہ معاہدہ بلا شبہ جنوبی ایشیا‘ مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کا باعث بنے گا۔ غزہ کی صورتحال‘ یوکرین روس تنازع‘ اسرائیل کا جنگی جنون‘ آبنائے ہرمز کا معاملہ‘ ایران امریکہ جنگ‘ حوثیوں کے حملے‘ یمن کی صورتحال اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے خطے کی صورتحال کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس معاہدے سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی فرق آئے گا؟ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو گا۔ پاکستان کی کوشش ہو گی کہ ریاض اور تہران میں کشیدگی کم ہو اور پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملک سے تعلقات متاثر نہ ہوں۔ پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ہی ایران اور امریکہ سفارتکاری کی میز پر آئے ۔ مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ تینوں ممالک کی خواہش ہے کہ اس معاہدے میں مزید ممالک بھی شامل ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...