فرانس ایک خوبصورت ملک ہے جو اپنے اندر تاریخ کے کئی اہم واقعات کو سموئے ہوئے ہے۔ خاص طو پر پیرس کے اطراف میں تاریخی نشانیاں جا بجا بکھری پڑی ہیں‘ جن میں شاہی تاریخ‘ جنگوں کی علامات‘ امن معاہدوں کی یادگار‘ قدیمی عمارتیں اور انقلاب کے آثارشامل ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ حکومت فرانس نے اس تاریخ کو بہت احتیاط سے محفوظ کر رکھا ہے۔ تمام تاریخی مقامات اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ آج بھی موجود ہیں۔ کچھ عرصہ قبل فرانس کے قدیمی نوٹرے ڈیم چرچ میں آگ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے اس تاریخی عبادتگاہ کو بہت نقصان پہنچا لیکن حکومت نے اس کو مرمت کرکے چرچ کو عبادت اور عوام کی سیاحت کیلئے دوبارہ کھول دیا۔ اب ایران اور امریکہ کے درمیان جو تاریخی معاہدہ ہوا ہے‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس ہی کی ایک تاریخی عمارت میں بیٹھ کر اس پر دستخط کیے۔ یہ عمارت جو کبھی بادشاہوں کا محل ہوا کرتی تھی‘ اب اس کا بیشتر حصہ سیاحت اور میوزیم کیلئے وقف ہے۔ فرانس میں جی سیون ممالک کا اجلاس ہوا۔ یہ ایک سیاسی اور اقتصادی فورم ہے‘ جس کے ممبران میں امریکہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی‘ کینیڈا‘ جاپان اور برطانیہ شامل ہیں۔ یورپی یونین اگرچہ اس کے عددی ممبران میں شامل نہیں‘ البتہ فیصلہ سازی میں اس سے مکمل مشاورت ہوتی ہے۔ بھارت اس کا باقاعدہ رکن نہیں لیکن اس کو متعدد بار بطور مہمان اس فورم پر مدعو کیا گیا۔ اس سال جی سیون اجلاس میں برازیل‘ کینیا‘ جنوبی کوریا اور یوکرین کو بھی مدعو کیا گیا۔ مصر‘ متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ رواں سال اس اجلاس کا مقصد تمام ممبران کے درمیان متوازن اور مشترکہ ترقی‘ نئی عالمی مصالحت‘ مزید تعاون‘ معدنی وسائل پر پارٹنرشپ اور تجارت کا فروغ تھا۔ اس کے ساتھ سمگلنگ اور کینسر کے خلاف جنگ اور بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنا بھی جی سیون کے ایجنڈے میں شامل رہا۔ اس اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی زیر بحث آئی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون اجلاس کے دوران ہی ورسائے محل (Palace of Versailles) نامی تاریخی عمارت میں ایران‘ امریکہ معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ محل تاریخی طور پر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پیرس کے جنوب مغرب میں قریب 20 کلومیٹر فاصلے پر قائم ہے اور یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ یہاں سیاحت کیلئے آتے ہیں۔ یہ جگہ پہلے شاہی شکارگاہ تھی‘ تاہم بادشاہ لوئی چہاردہم (Louis XIV)‘ جنہیں سَن کنگ بھی کہا جاتا تھا‘ نے اپنے والد کی شکارگاہ کو محل میں تبدیل کرکے اس کو سیاست کا گڑھ بنا دیا۔ اس کے بعد لوئی پانزدہم نے بھی یہاں قیام کیا‘ فنونِ لطیفہ پر گہری چھاپ چھوڑی اور یہاں اوپرا بنوایا۔ لوئی شانزدہم اور ملکہ میری انتھونی بھی یہاں کے مکین رہے۔ اُن کے دور میں فرانس کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے اور عوام غربت سے بدحال تھے۔ عوامی بغاوت کے سبب بادشاہ کو ورسائے محل چھوڑنا پڑا۔ بعد میں اسے پھانسی دے دی گئی۔
ملکہ میری انتھونی‘ جو اپنے لباس‘ سٹائل‘ فیشن اور پُرتعیش زندگی کی وجہ سے مشہور تھی‘ کو بھی بغاوت کے بعد یہ محل چھوڑنا پڑا اور پھر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ انقلاب کے بعد کچھ عرصہ نپولین بونا پارٹ یہاں قیام پذیر رہا۔ اس کے بعد بادشاہ لوئی فلپ کے دور میں‘ 1837ء میں اسے میوزیم آف ہسٹری آف فرانس بنا دیا گیا۔ اب ورسائے محل کو ہر عام و خاص ٹکٹ خرید کر دیکھ سکتا ہے۔ اس محل میں 2300 سے زائد کمرے ہیں اور باغات 800 ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کا مِرر ہال اس کا سب سے نمایاں حصہ ہے‘ جس پر 350 سے زائد شیشے نصب ہیں۔ اس کے 100 کمرے اب فرانس میوزیم کے زیراستعمال ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ورسائے محل کی ''لوئر گیلری‘‘ میں بیٹھ کر ایران‘ امریکہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے‘ تاہم ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والا معاہدہ یہاں ہونے والا پہلا تاریخی معاہدہ نہیں ہے۔
1768ء میں یہاں ''ٹریٹی آف ورسائے‘‘ سائن ہوا۔ 1783ء میں یہاں طے پانے والے معاہدے سے فرانس‘ سپین اور برطانیہ کے درمیان اختلافات ختم ہوئے۔ 1789ء میں یہاں دو ''پیس آف پیرس معاہدے‘‘ ہوئے جنہوں نے امریکی انقلاب کی جنگ کو ختم کیا۔ 1919ء میں اس محل کے ہال آف مررز میں پہلی عالمی جنگ کو ختم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ اسی معاہدے میں جرمنی کو جنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس پر ہرجانہ بھی عائد کیا گیا۔ فرانس نے اس مقام کا انتخاب ایک خاص وجہ سے کیا تھا۔ 1871ء میں جرمنی اور فرانس کے مابین فرینکو پروشین جنگ ہوئی تھی جس میں فرانس کو شکست ہوئی تھی۔ اس وقت جرمنی نے فرانس کی تذلیل کیلئے فرانس کے ورسائے محل میں کھڑے ہو کر اپنی فتح اور نئی جرمن ایمپائر کا اعلان کیا تھا۔ اس لیے پہلی عالمی جنگ میں شکست کے بعد فرانس نے جان بوجھ کر جرمنی کویہاں مدعو کیا تاکہ پرانی خفت کا بدلہ لیا جاسکے۔ 1920ء میں یہاں 'ٹریانون معاہدہ‘ سائن ہوا جس کی وجہ سے ہنگری سے اس کی دو تہائی زمین اور آبادی اس سے چھین لی گئی اور وہ اپنی نئی جغرافیائی حد بندی میں چلا گیا۔ اب ایران اور امریکہ معاہدے کیلئے صدر ٹرمپ کی جانب سے اس جگہ کا انتخاب خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ‘ ایران معاہدے پر پاکستان نے بطور ثالث دستخط کیے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ تین فریقوں نے الگ الگ ملک سے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کئے۔ پاکستان کی کوششوں سے امن مذاکرات ہوئے جواَب حتمی مراحل میں پہنچ گئے ہیں۔ معاہدے کی نکات کا جائزہ لیں تو اس میں تمام محاذوں پر جنگ بندی‘ ایک دوسرے کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام‘ اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے اجتناب‘ 60 دن کی قابلِ توسیع مدت‘ امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ ‘ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کی بحالی کے نکات شامل ہیں۔ ایران کی تعمیرِ نو کیلئے 300 ارب ڈالر مختص کیے جائیں گے۔ امریکہ ایران پر سے پابندیوں کا خاتمہ کرے گا اور ایران جوہری ہتھیار نہیں حاصل کرے گا‘ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق سٹیٹس برقرار رہے گا۔ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ سے حاصل کی جائے گی۔ دنیا بھر نے اس معاہدے کے بعد سکھ کا سانس لیا ہے۔ مہنگا تیل سب کی معیشت پر اثرانداز ہورہا تھا۔ اسی طرح ایئر سپیس کی بندش نے سب کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ امید ہے کہ اب حالات بہتری کی طرف جائیں گے‘ تاہم یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب امریکہ اسرائیل کو علاقائی ممالک پر حملوں سے روکے۔ اسرائیل کے لبنان پر جاری حملے اس طرف نشاندہی کرتے ہیں کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ پائیدار بنیادوں پر حل نہیں ہوتا‘ خطے میں امن مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکتا۔
اس وقت دنیا بھر میں پاکستان کی امن کاوشوں کی تعریف ہورہی ہے۔ کیا پاکستان اس سازگار فضا کو اپنے حق میں استعمال کرپائے گا؟ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نئے عالمی منظر نامے کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ ثابت ہو چکا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی طاقت سے ناواقف تھے۔ ایران کی جوابی کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ ان تنصیبات کے میزبان ممالک بھی اس صورتحال کیلئے تیار نہیں تھے اور خلیجی حکومتیں بوکھلاہٹ اور عوام خوف کا شکار ہوگئے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے جنگ کا پانسا ہی پلٹ دیا۔ شروع میں ایران مشکلات کا شکار تھا کہ رہبر اعلیٰ شہید ہوگئے‘ میناب میں سکول پر امریکی میزائل حملے سے سینکڑوں بچیاں شہید ہوگئیں مگر ایران کی جنگی حکمت‘ جوابی وار اور سوشل میڈیا وارفیئر کے سامنے سب بے بس نظر آئے۔ اب مشرق وسطیٰ کا مستقبل اسرائیل کے رویے پر منحصر ہے۔ اگر اسرائیل نے فلسطین‘ لبنان‘ شام‘ یمن اور ایران پر حملے کئے تو صورتحال دوبارہ جنگ کی طرف پلٹ جائے گی۔ اس لیے تمام ممالک اسرائیل پر دبائو ڈالیں۔ معاہدے کی کامیابی کیلئے سب کو متحد ہوکر امن کی بات کرنا ہوگی۔ جنگ میں کچھ نہیں رکھا اور دنیا کی معیشت کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔