جین زی کی سیاسی جماعت

یہ ''جین زی ‘‘ کا زمانہ ہے۔ یہ نسل اگر ایک ساتھ اُٹھ کھڑی ہو جائے تو انقلاب برپا کر دیتی ہے۔ یہ ہم Millennials کی طرح خاموش طبع اور سمجھوتا کرنے والی نسل نہیں ہے۔ یہ اپنا مؤقف برملا بیان کرتی ہے اور شعلہ بیان بھی ہے۔جین زی (Gen Z) وہ نوجوان ہیں جو ڈیجیٹل دور میں پیدا ہوئے اور اسی ماحول میں پروان چڑھے۔ موبائل فون‘ لیپ ٹاپ‘ سوشل میڈیا‘ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت ان کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ انٹرنیٹ کے بغیر ان کیلئے زندگی کا تصور مشکل ہے۔ اس نسل کی ایک نمایاں خاصیت یہ ہے کہ یہ ہر موضوع پر کھل کر بات کرتی ہے‘ اپنے مؤقف پر ڈٹ جاتی ہے‘ خوف کا شکار نہیں ہوتی اور مصلحت پسندی کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتی۔ ہم Millennials آج بھی اپنا مؤقف بیان کرتے وقت کئی پہلوؤں پر غور کرتے ہیں لیکن جین زی جو سوچتی ہے وہی کر گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نسل سماجی مسائل پر سب سے زیادہ آواز اٹھاتی ہے اور طاقتور حلقوں پر تنقید کرنے سے بھی نہیں گھبراتی۔
حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں جتنی بھی تحریکوں کے نتیجے میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں‘ ان میں جین زی کا کردار نمایاں رہا۔ ہمارے سامنے بنگلہ دیش کی مثال موجود ہے جہاں نوجوانوں نے حسینہ واجد کے طویل اقتدار کا تختہ الٹ دیا۔ آج بنگلہ دیش کی نئی حکومت میں نوجوانوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ یہی نوجوان سفارتکاری اور خارجہ پالیسی پر بھی اثرانداز ہوئے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نہ صرف بھارتی اثر سے نکلا بلکہ اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔ بظاہر جین زی نوجوان اپنی ذاتی دنیا میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ موبائل فون پر گیمز کھیلنا‘ ریلز اور سنیپ چیٹ میں مصروف رہنا یا کھیلوں میں وقت گزارنا ان کی روزمرہ سرگرمیوں کا حصہ ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج کا نوجوان انتہائی حساس ہے اور معاشرے کیلئے درد بھی رکھتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتا ہے۔ اگر یہ نوجوان کسی ایک مسئلے پر متفق ہو جائیں تو ایک تحریک جنم لے لیتی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو تحریکِ پاکستان میں نوجوان ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ نوجوانوں نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بدقسمتی سے آج پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں نوجوانوں کی حقیقی نمائندگی موجود نہیں۔ اکثر جماعتوں میں بزرگ قیادت ہی اہم عہدوں پر براجمان ہے۔ میرے نزدیک بزرگوں کا تجربہ زندگی اور سیاست دونوں کیلئے ناگزیر ہے لیکن نئی نسل کی شمولیت کسی بھی جماعت یا تحریک کا نقشہ بدل سکتی ہے۔
اسی طرح انقلابِ فرانس‘ انقلابِ ایران اور عرب سپرنگ جیسی تحریکوں میں بھی نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن رہا۔ نیپال‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی نوجوان تبدیلی کے محرک بنے۔ اب تبدیلی کی باری بھارت کی ہے‘ جہاں ایک دہائی سے زائد عرصہ سے قوم پرست بی جے پی کی حکومت ہے۔ مودی سرکار کی مسلم دشمن پالیسیوں نے پورے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے۔ پاکستان کے بروقت اور مؤثر جواب کے بعد حالات میں تبدیلی آئی‘ تاہم مودی حکومت اپنے ملک کی اقلیتوں کیلئے بھی مشکلات پیدا کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔ عام شہری مہنگائی‘ کرپشن اور ناانصافی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ حال ہی میں بھارت کے چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے ملک کے نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی‘ جس پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ خاص طور پر جین زی نوجوانوں نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور سوشل میڈیا پر بھرپور احتجاج کیا۔ اسی تنقید اور ردِعمل کے ماحول میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک ہندوستانی نوجوان‘ ابھیجیت دیپکے نے آن لائن ''کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی جسے نوجوان نسل میں چند ہی دنوں کے اندر غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہو گئی۔ جس حقارت سے نوجوانوں کو ''کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دی گئی تھی‘ جین زی نے اسی لفظ کو اپنی طاقت اور شناخت میں تبدیل کر دیا۔ ابھیجیت کمیونیکیشن سٹرٹیجیسٹ ہیں اور انہوں نے اس جماعت کی بنیاد سوشل میڈیا پر رکھی ہے۔ اس جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو لاکھوں افراد فالو کر چکے ہیں۔ اس سیاسی تحریک کو ابھی باقاعدہ رجسٹر نہیں کرایا گیا‘ تاہم اس نے نوجوانوں میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل کر لی ہے۔ بھارتی نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ اگر ریاست کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھا شخص نوجوانوں کو نظام پر بوجھ اور کیڑے مکوڑوں سے تشبیہ دے تو یہ اشرافیہ کے غرور اور عوام سے دوری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تحریک کے لاکھوں فالوورز بھارت میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری‘ کرپشن‘ عدالتی نظام کی سست روی اور ناانصافی کے خلاف مختلف نوعیت کی مہمات اور احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس جماعت نے اپنی رکنیت کیلئے بھی دلچسپ شرائط رکھی ہیں۔ ان کے مطابق رکن ایسا نوجوان ہونا چاہیے جو بیروزگار ہو‘ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہو اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت رکھتا ہو۔ اس جماعت کے منشور کے بنیادی نکات میں بولنے اور لکھنے کی آزادی‘ خواتین کی عملی سیاست میں پچاس فیصد شمولیت‘ شفاف انتخابات‘ آزاد ذرائع ابلاغ‘ فلور کراسنگ پر بیس سال کی پابندی‘ سرکاری بالخصوص عدالتی افسران کے ریٹائرمنٹ کے بعد اسمبلی رکنیت پر پابندی اور قانونِ حقِ معلومات کے تحت فوری جوابدہی جیسے مطالبات شامل ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی خاصی پریشان دکھائی دیتی ہے اور اسے محض ایک ''ڈیجیٹل ڈرامہ‘‘ قرار دے رہی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کا اثر اتنا بڑھ چکا ہے کہ بی جے پی اس سے خوفزدہ ہو کر اس جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھارت میں بند کروا رہی ہے۔ البتہ سنجیدہ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صرف اکاؤنٹ بند کر دینے سے جین زی رک جائے گی؟ کیا یہ پابندی آنے والے دنوں میں سڑکوں پر ایک نئی تحریک کو جنم نہیں دے گی؟ اس تحریک نے ایک اکائونٹ بند ہونے کے فوری بعد نیا اکاؤنٹ بنا لیا جسے ''کاکروچ از بیک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تحریک کے حامی کروڑوں میں پہنچ چکے ہیں جبکہ رجسٹرڈ ارکان کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ابھیجیت اس وقت امریکہ میں ہیں تاہم وہ آئندہ چند دنوں میں بھارت جا کر اس تحریک کو عملی طور پر منظم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس وقت بھارت میں موجود ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے‘ جسے ناقدین بی جے پی کی بوکھلاہٹ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے چیف جسٹس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد نوجوانوں کی تضحیک کرنا نہیں تھا بلکہ وہ صرف ایسے افراد پر تنقید کر رہے تھے جو مبینہ طور پر جعلی اسناد کے ذریعے ملازمتیں حاصل کرتے ہیں۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود نوجوانوں کا غصہ کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور اس تحریک کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت ہو‘ بنگلہ دیش‘ نیپال یا سری لنکا‘ نوجوان اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے نوجوانوں کو کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے‘ انہیں حقیر نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ انکے مؤقف کو یکسر مسترد کرنا چاہیے۔
پاکستان میں بھی کروڑوں کی تعداد میں جین زی موجود ہے۔ ہمیں ان کی بات سننا ہوگی اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ اگر نوجوانوں کو نظرانداز کیا گیا تو مایوسی میں اضافہ ہو گا جبکہ شمولیت اور اعتماد انہیں مثبت قومی کردار ادا کرنے کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کا نوجوان اس وقت مہنگائی‘ انصاف کی عدم فراہمی‘ مہنگی تعلیم اور بیروزگاری جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اعتماد دیں اور انہیں وہ تمام سہولتیں فراہم کریں جو ان کا بنیادی حق ہیں۔ انہیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید اور مواقع کی روشنی میں لانا ہوگا۔ جب تک عوام بالخصوص نوجوانوں کو بہتر تعلیم‘ روزگار‘ انصاف اور ترقی کے مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گے اس وقت تک پائیدار ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں