مجھے جب بھی کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہوں‘ کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہاں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر زیادہ قابل ہیں اور عملہ بھی ہر وقت موجود ہوتا ہے جبکہ ہسپتال بھی بڑے ہوتے ہیں۔ تاہم جب کوئی معمولی مسئلہ ہو تو نجی شعبے کی طرف جاتی ہوں۔ نجی ہسپتال جدید سہولتوں کے باوجود ایمرجنسی چھوٹی بناتے ہیں۔ انکا زیادہ دھیان کلینکس پر ہوتا ہے۔ میں جہاں علاج کیلئے جاتی ہوں وہاں او پی ڈی بہت اچھی ہے مگر ایمرجنسی بہت چھوٹی اور وہاں سہولتیں بھی کم ہیں۔ اسلام آباد میں اگر کسی کو کوئی ایمرجنسی ہو جائے تو پمز یا پولی کلینک ہی بہتر آپشن ہیں۔ شہر میں ایک بڑا نجی ہسپتال ہے لیکن اتنا ہی مہنگا بھی ہے۔ ایک بار مرہم پٹی کرانے کا میرا بل جب 15ہزار بنا تو میں دنگ رہ گئی کہ یہ کتنا مہنگا ہے۔ جب دوبارہ وہی ڈریسنگ کرانے پمز گئی تو طبی سامان بلیو ایریا کی فارمیسی سے خود خریدا جسکا بل 1500 کے لگ بھگ تھا جبکہ ہسپتال میں سو روپے لگے۔ یہ سب دیکھ کر سوچ میں پڑ گئی کہ کاش! ان سرکاری ہسپتالوں پر ہی صحیح طرح توجہ دی جائے۔
لاہور‘ کراچی اور پشاور کے سرکاری ہسپتالوں میں جانا ہوا تو وہاں بھی ایسی ہی صورتحال تھی۔ ہر ہسپتال میں بدبو آپ کا استقبال کرتی ہے۔ عملہ اور ڈاکٹر بہت قابل ہیں لیکن سہولتیں دستیاب نہیں۔ ایک دوست ڈاکٹر بتا رہی تھیں کہ سرجری کرتے ہوئے آپریشن تھیٹر کی لائٹ چلی گئی جبکہ ہسپتال کا جنریٹر بھی خراب تھا۔ شکر ہے کہ مریض کی جان بچ گئی‘ ورنہ کیا سے کیا ہو جاتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں سینٹرل کولنگ یا ہیٹنگ سسٹم اول تو ہوتا نہیں اور اگر کہیں موجود ہو تو چل نہیں رہا ہوتا۔ دوسری جانب آپ کسی نجی ہسپتال میں جائیں تو ایک مہک آپ کا استقبال کرتی ہے۔ تیز اے سی یا ہیٹر آپ کو موسم کی شدت کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ وہ الگ بات کہ جب بل آتا ہے تو مریض کی جیب کٹ جاتی ہے۔ بطور بیوہ‘ جب میں روٹین چیک اَپ کے بعد ہسپتال بل دے رہی ہوتی ہوں تو شدت سے اس کا احساس ہوتا ہے۔ بطور سویلین بیوہ مجھے حکومت کی جانب سے کوئی رعایت کیوں نہیں ملتی؟ آج کل کسی بھی شعبے کا ماہر ڈاکٹر پانچ ہزار سے کم فیس نہیں لیتا۔ خون کا ایک بنیادی ٹیسٹ بھی دو‘ تین ہزار کا ہو گیا ہے۔ اگر سرکاری ہسپتال جائیں تو گھنٹوں لائن میں لگیں۔ گندگی‘ بدبو اور شور برداشت کریں اور آخر میں پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر سیٹ سے اٹھ گیا ہے۔ ٹیسٹ کیلئے جائو تو کئی کئی ماہ بعد باری آتی ہے‘ وہ بھی اگر مشین خراب نہ ہو تو۔ اس لیے میرے جیسے لوگ نجی شعبے کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ وہاں بنیادی بلڈ ٹیسٹ اور ایک دو ڈاکٹرز سے چیک اَپ کے بعد پچیس‘ تیس ہزار کابل آرام سے بن جاتا ہے۔ ایسے میں انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ متوسط طبقے کے مسائل الگ ہیں اور غریب عوام کے الگ۔ وہ تو ایسے ہسپتالوں میں جا رہے ہیں جہاں ایڈز‘ یرقان اور ہیپاٹائٹس جیسی متعدی بیماریاں مفت بانٹی جا رہی ہیں کیونکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ عملے کی غفلت بھی ہے اور سرکار کی عدم توجہی بھی۔ نئے گملے رکھ دینے سے یا نیا بورڈ لگا دینے سے ہسپتال جدید نہیں ہو جاتے۔ وہاں پر ضروری مشینری فراہم کرنے‘ ادویات کی فراہمی‘ سہولتیں دینے سے اور قابل عملے سے تبدیلی آتی ہے۔ حکمران اشرافیہ کو چاہیے کہ ذرا سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا چکر لگائیں‘ ان کو اپنی کارکردگی نظر آ جائے گی۔
مجھے یاد ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے بطور وزیراعظم چھوٹے طبی مراکز منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ ان طبی مراکز میں بچوں کو ویکسین لگتی تھی‘ بنیادی بیماریوں اور خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات بھی دستیاب ہوتی تھیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی مقرر کی گئی تھیں تاکہ پولیو کے قطرے پلانے میں مدد ملے اور حاملہ خواتین کی بھی معاونت ہو۔ یہ ایک اچھا منصوبہ تھا‘ ایسے منصوبوں پر ہر صوبے میں کام ہونا چاہیے۔ مگر جس ملک کے حکمران اپنا علاج بیرونِ ملک سے کراتے ہوں‘ وہاں کیسے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے؟ ابھی ایک ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب کے ایک ہسپتال سے بچوں میں ایچ آئی وی یعنی ایڈز کا مرض کیسے پھیلا۔ استعمال شدہ سرنج کا استعمال اس کا سبب بنا۔ سندھ میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ تین چار سال سے مسلسل خبریں آ رہی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ طبی عملے کی غفلت اور استعمال شدہ طبی آلات کا استعمال ہی ہے۔ کتنے ہی لوگ اینڈو سکوپی اور گردوں کے ڈائلیسز کیلئے جاتے اور نئی بیماریاں لے کر آ جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مشینیں صاف نہیں ہوتیں۔ بلڈ بینکوں میں جراثیم آلود خون‘ بیوٹی پارلر اور باربر شاپس میں استعمال شدہ ریزر‘ قینچی اور ناخن سنوارنے والے ٹولز اور غیر محفوظ دندان سازی کے آلات خطرناک امراض کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں۔ پارلر یا باربر کے پاس ہمیشہ اپنا شیور اور ذاتی کٹ لے کر جائیں۔
پاکستان میں 75.8 فیصد آبادی 15 سے 64 سال کے درمیان ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کہتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی اموات کی بڑی وجہ دل کی بیماریاں‘ سٹروک‘ زچگی کے عمل میں پیچیدگی‘ ذیابیطس‘ سانس کے امراض‘ جگر کی بیماریاں‘ نمونیہ اور بریسٹ کینسر ہیں۔ مردوں میں اموات کی 30 سے 55 فیصد وجہ دل کے امراض ہیں۔ اس کے بعد سٹروک‘ پیدائشی امراض‘ ٹی بی‘ سانس اور پھیپھڑوں کے امراض اور کینسر وغیرہ شامل ہیں۔ حادثات سے بھی کثرت سے اموات ہوتی ہیں۔ ملک میں ٹی بی کے بھی نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملیریا اور ہیپاٹائٹس کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ خود کشی کی شرح چھ فیصد سے زائد ہے۔ کیا آپ نے پاکستان میں کبھی خودکشی سے روکنے کی ہیلپ لائن کا سنا ہے؟ کتنے ہی لوگ غلطی سے زہریلی شے کھانے کے سبب مر جاتے ہیں‘ کبھی پوائزن کنڑول ہیلپ لائن کا سنا ہے؟ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی حتیٰ کہ ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے ہونیوالی بیماریوں کے سبب بھی اموات ہو رہی ہیں۔ یہ شرح بہتر کی جا سکتی ہے اگر طبی سہولتیں بہتر ہوں لیکن افسوس کہ ان مسائل پر کسی کی توجہ ہی نہیں۔ ملکی آبادی ڈھائی فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے مگر طبی سہولتیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ان حالات میں پنجاب کے سرکاری ہسپتال میں یہ مقابلہ ہو رہا تھا کہ سی سیکشن سرجری کون ڈاکٹر جلدی کرے گا اور اس کی وڈیو بھی بن رہی تھی۔ نجی ہسپتالوں میں پرائیویسی کے معاملات قدرے بہتر ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں سے تو میت تک کی تصاویر لیک کر دی جاتی ہیں۔ مشہور شخصیات کا وزٹ‘ لیب رپورٹس اور بیماری کی نوعیت تک میڈیا سے شیئر کر دی جاتی ہے۔ رہی سہی کسر پولیس پوری کر دیتی ہے‘ جو کبھی نجی طبی تفصیلات کو نہیں چھپاتی۔ ہسپتالوں میں ایسے کائونٹرز کی ضرورت ہے جو حادثات اور سانحات کے متاثرین کو ہمدردی دیں۔ بیماری یا حادثے میں طبی امداد کے ساتھ ہمدردی کی بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک میں ماہرِ نفسیات بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ایک طرف مہنگے نجی ہسپتال ہیں اور دوسری طرف سرکاری ہسپتال‘ جہاں علاج اور ڈاکٹر موجود ہیں مگر مشینوں اور ادویات کی کمی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کو صفائی ستھرائی اور نئی مشینوں کی اشد ضرورت ہے۔ وہاں غریب افراد کو مفت ادویات اور علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔ لیبز کو جدید اور مشینوں کو ٹھیک ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر روز کسی نئے ترقیاتی منصوبے‘ کسی نئے پل یا نئی سڑک کا سنگ بنیاد رکھنے کی خبریں سننے کو ملتی ہیں لیکن نئے ہسپتالوں کا ذکر نہیں ہوتا۔ ملک میں دل کے امراض‘ شوگر‘ موٹاپے‘ بلڈ پریشر جیسے تیزی سے بڑھتے امراض کو لے کر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنی چاہیے۔ خواتین کی بڑی تعداد شرم کی وجہ سے نسوانی مسائل زیر بحث نہیں لاتی‘ ان کی بیماریوں پر بھی بات ہونی چاہیے۔ چھاتی کا سرطان‘ بچہ دانی کے امراض‘ حمل کے مسائل کو شرم کے ساتھ منسلک مت کریں۔ یہ بھی ویسی ہی توجہ مانگتے ہیں جیسے دوسرے امراض۔ ہم تبھی فلاحی ریاست بن سکتے ہیں جب اپنے ہسپتالوں کو صاف کریں گے‘ جب وہاں غریبوں کا علاج مفت ہو گا‘ جب وہاں استعمال شدہ آلات استعمال نہیں ہوں گے اور سب سے بڑھ کر‘ ہر مریض کو سب سے پہلے ایک معزز انسان سمجھا جائے گا۔