پاکستان‘ بھارت اور بنگلہ دیش میں اکثر ایسے واقعات ہوتے ہیں جن میں خواتین کو دشمنی‘ رشتے سے انکار‘ محبت میں ناکامی‘ جلن‘ حسد‘ انتقام‘ ذاتی انا یا محض ان کی خوبصورتی کی وجہ سے تیزاب گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے واقعات کے پیچھے یہ تنگ نظر سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ یہ عورت قابل کیوں ہے اور یہ عورت ہو کر اس مقام تک کیسے پہنچ گئی۔ عورت کی قابلیت اور ترقی ہی بعض اوقات اس کی دشمن بن جاتی ہے۔ دوسری جانب جنوبی ایشیا میں تیزاب کھلے عام فروخت ہوتا ہے جسے واش روم اور گٹر وغیرہ صاف کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کمپنیاں ہلکے تیزابی فارمولے والے پراڈکٹس بنا رہی ہیں تو پھر تیزاب کھلے عام کیوں فروخت ہو رہا ہے؟ کیا تیزاب بیچنے والے دکاندار حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں؟ کیا مالکان فروخت ہونے والی بوتلوں کی تعداد حکومت کو بتاتے ہیں؟ کیا تیزاب خریدنے والے کے شناختی کارڈ کی کاپی جمع کی جاتی ہے؟ یہاں ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ سب سے پہلے تو تیزاب کی آزادانہ فروخت پر پابندی عائد کی جانی چاہیے کیونکہ گٹر‘ باتھ روم اور صفائی کیلئے مارکیٹ میں بیشمار ایسے پراڈکٹس دستیاب ہیں جو زیادہ زہریلے اور جھلسا دینے والے نہیں ہوتے اور ان سے صفائی بھی مؤثر طریقے سے ہو جاتی ہے۔ تیزاب کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ انسان بری طرح جل سکتا ہے جبکہ اس سے اٹھنے والا دھواں دم گھٹنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے صفائی ستھرائی کیلئے عام پراڈکٹس کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ شاید صنعتوں میں تیزاب کا استعمال ضروری ہو لیکن روزمرہ زندگی میں اس کا کوئی خاص استعمال نہیں۔
فاخرہ یونس کو کون بھول سکتا ہے‘ جنہیں 2012ء میں سپردِ خاک کیا گیا۔ 2000ء میں ان پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ انہوں نے انصاف کیلئے بہت دہائیاں دیں لیکن کچھ نہ ہوا۔ اس سانحے کی وجہ سے ان کا چہرہ مکمل طور پر جھلس گیا تھا۔ وہ بہت حسین تھیں لیکن اس حملے کے بعد ان کا اپنا بیٹا بھی انہیں پہچاننے سے قاصر تھا۔ قانون سے مایوس ہو کر انہوں نے اٹلی میں چھٹی منزل سے کود کر خودکشی کر لی تھی۔ فاخرہ کو سماجی تنظیموں نے اٹلی بھجوا دیا تھا‘ دس سال کے دوران بے شمار سرجریوں کے باوجود ان کا چہرہ بحال نہیں ہو سکا اور نہ ہی انہیں انصاف ملا۔ جب ان کے ساتھ یہ ظلم ہوا اس وقت ان کی عمر محض بیس سال تھی۔ برسوں انصاف کی دہائی دیتے دیتے وہ مایوس ہو گئیں اور بالآخر اپنی جان دے دی۔ یہ سلسلہ رکا نہیں اور آج بھی جاری ہے۔ بھارت میں لکشمی اگروال کا کیس کافی مشہور ہوا‘ جسے شادی سے انکار پر تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے سے لکشمی کا چہرہ‘ بال اور جسم بری طرح جھلس گئے۔ اس نے ہمت نہیں ہاری اور ایک طویل قانونی جنگ کے بعد عدالت سے یہ فیصلہ کرایا کہ بھارت میں کھلے عام تیزاب فروخت نہیں ہوگا اور کسی ضرورت کے تحت تیزاب خریدنے والے کو شناختی کارڈ جمع کرانا ہوگا۔ اس کے ساتھ عدالت نے موجودہ اور سابقہ متاثرین کیلئے معاوضے کا حکم بھی دیا۔ اِس وقت لکشمی تیزاب گردی سے متاثرہ خواتین کیلئے کام کر رہی ہیں اور ایک ٹی وی ہوسٹ ہیں۔ ان کی زندگی پر ایک فلم بھی بنائی گئی۔
تیزاب نہ صرف چہرے کی جلد کو بگاڑ دیتا ہے بلکہ جسم کے مختلف اعضا کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔اس سے بینائی‘ سماعت اور قوتِ گویائی بھی متاثر یا مکمل ضائع ہو سکتی ہے۔ بہت سے کیسز میں متاثرہ افراد جھلسنے کی پیچیدگیوں کے باعث دم توڑ گئے۔ جو بچ جاتے ہیں‘ وہ سرجریوں کے طویل عمل سے گزرتے ہیں۔ 2010ء کے عشرے کے اوائل میں پاکستان میں چودہ سالہ نائلہ کو تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر حملہ کرنے والا اس کا سکول ٹیچر تھا۔ حملے میں نائلہ کا چہرہ‘ آنکھ‘ گردن اور بال مکمل طور پر جھلس گئے۔ نائلہ نے ہمت نہیں ہاری۔ اپنے علاج کے ساتھ ساتھ آج وہ خواتین کے حقوق کی علمبردار ہے۔ خواتین کو اپنی خوبصورتی‘ بال اور آنکھیں بہت عزیز ہوتی ہیں۔ یہ انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ جب کوئی جنونی کسی عورت سے بدلہ لیتا ہے تو وہ اسے جسمانی اور نفسیاتی طور پر توڑنے کے ساتھ اس کی خوبصورتی پر بھی وار کرتا ہے۔ بہت سی خواتین ان حملوں کو برداشت نہیں کر پاتیں۔ بعد ازاں سماجی رویے اور تنہائی بھی عورت کو توڑ دیتے ہیں۔ آئینہ رونے پر مجبور کر دیتا ہے اور اگر مجرم کو سزا نہ ملے تو ناانصافی مزید توڑ دیتی ہے۔ تاہم بہت سی خواتین ایسے حالات میں بھی ہمت نہیں ہارتیں اور اپنی زندگی کو جدوجہد اور کامیابی کی مثال بنا دیتی ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ بات سمجھانا ہوگی کہ ''ناں‘‘ کا مطلب ''ناں‘‘ ہوتا ہے۔ اگر کوئی خاتون اپنی تعلیم‘ محنت اور قابلیت کی وجہ سے کسی بڑے عہدے تک پہنچ گئی ہے تو اس سے حسد نہیں کرنی چاہیے۔
ہمارے معاشرے میں تیزاب سے بچائو کے حوالے سے آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کسی پر تیزاب پھینکا جائے تو اس کا جسم جھلسنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں جتنا ممکن ہو متاثرہ شخص پر پانی بہایا جائے اور سب سے پہلے اس کے کپڑے اتار کر اس سے علیحدہ کیے جائیں اور کوئی چادر یا بڑا کپڑا اس پر ڈال دیا جائے تاکہ اس کی بے حرمتی نہ ہو۔ فوری طور پر اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ متاثرہ شخص کی تصاویر یا وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ نہیں کی جانی چاہیے۔ اعلیٰ شخصیات کو بھی چاہیے کہ متاثرہ فرد سے ملنے جائیں تو منہ پر ماسک اور ہاتھوں میں دستانے پہنیں اور وہاں فوٹو شوٹ نہ کرائیں۔ جھلسنے والے مریض کی جلد حساس ہو جاتی ہے اور اسے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اس لیے مریض کی صحت اور پرائیویسی کا خاص خیال رکھا جائے۔
حال ہی میں پاکستان میں ایک ہی دن میں دو خواتین کو تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا جس سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ گھوٹکی میں ایک خاتون کو اس کے گھر میں اس کے کزن نے جبکہ دوسری خاتون‘ جو ایک ڈاکٹر ہیں‘ کوئٹہ میں دورانِ ڈیوٹی تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہسپتال کی سکیورٹی کہاں تھی؟ ایک شخص تیزاب لے کر ہسپتال کیسے پہنچ گیا؟ وہ کس کا آلہ کار تھا؟ کیا کوئی ذاتی رنجش تھی یا وہ اجرتی قاتل تھا؟بجائے اس کے کہ پولیس مجرم کو زندہ گرفتار کرتی‘ اسے پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ یہ عمل بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس سے قبل کوہاٹ میں ایک لیڈی ڈاکٹر کو محض اس لیے قتل کر دیا گیا تھا کہ اس نے مریض کے لواحقین کو معائنے کے کمرے سے باہر جانے کو کہا تھا۔ کیا یہاں انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں؟ کوئٹہ کی لیڈی ڈاکٹر کو علاج کیلئے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔ ان کی آنکھ‘ چہرہ‘ گردن اور جسم تیزاب سے متاثر ہوا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ انہیں جلد اور مکمل صحت عطا فرمائے۔ اس واقعے کے بعد لیڈی ڈاکٹر کی مدد کرنے والا شخص بھی زخمی ہوا‘ اور سب اسے قومی ہیرو قرار دے رہے ہیں۔
تیزاب گردی ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 336 اور 336B کے تحت یہ ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا 14 سال قید سے لے کر عمر قید تک ہو سکتی ہے‘ پھر بھی نجانے کیوں لوگ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا کہ ایسے واقعات کے بعد متاثرہ خواتین کی کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے‘ ہمیں اس سلسلے کو روکنا ہوگا۔ لوگوں کو متاثرہ افراد سے نفرت اور حقارت سے باز رکھنا ہوگا۔ متاثرہ شخص صرف ہمدردی‘ محبت اور زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنے کے موقع کا مستحق ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کا علاج کافی طویل ہوتا ہے جس میں متعدد سرجریاں شامل ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ نفسیاتی تھراپی بھی ضروری ہوتی ہے۔ متاثرین کی بھرپور مدد کی جانی چاہیے اور انہیں دوبارہ زندگی کی طرف لانے کیلئے سکالرشپس اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔خواتین کو تحفظ دیں‘ ڈاکٹروں کو تحفظ دیں۔ تیزاب اور دیگر خطرناک ایسڈز کی خرید و فروخت پر مؤثر پابندی عائد کی جائے۔ اس وقت متاثرہ خواتین کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے اور ان کی تصاویر یا نجی معلومات ہرگز پبلک نہ کی جائیں۔