ہم وہ خوش نصیب نسل ہیں جس نے انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر اور موبائل فونز کے انقلاب سے پہلے والے دور کو بھی قریب سے دیکھ رکھا ہے۔ بیلوں کے ذریعے کاشتکاری کو دیکھا تو سادہ دیہاتی زندگی میں باہمی اشتراک سے فصلوں کی بوائی اور کٹائی بھی دیکھی۔ پھر ٹریکٹر‘ تھریشر اور ہارویسٹر کا زمانہ تیزی سے آگے بڑھا۔ ہم نے خط لکھ کر رابطے کیے اور خطوط کے جواب بھی تحریر کیے۔ عید کی خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کیلئے خوبصورت کارڈ منتخب کیے اور خالص جذبات سے بھرپور الفاظ کا چناؤ کرکے دوستوں کو ارسال کیے۔ اسی طرح گھر میں ریڈیو کے بعد ٹیلی ویژن کی آمد ہوئی تو بعد میں ٹیلی فون بھی میسر آ گیا۔ کمپیوٹر اور موبائل فونز نے خط لکھنے اور عید کارڈز ارسال کرنے کی ضرورت اور اہمیت یکسر ختم کردی کیونکہ اب پیغام رسانی کیلئے انفرادی اور اجتماعی طور پر وٹس ایپ کا استعمال عام ہو چکا تھا۔ اسی طرح لڑکپن سے جوانی تک ہمارے دیہاتی علاقوں میں تفریحی سرگرمیوں کا محور ایک مقامی میلہ تھا‘ جس کی آمد کا سال بھر انتظار رہتا تھا۔
پنجاب میں میلہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ‘ سماجی وحدت اور بھائی چارے کا مرکز رہا ہے۔ میلہ ذات‘ برادری‘ امیر‘ غریب کی تفریق ختم کر کے تعصب و امتیاز کی ہر دیوار توڑ دیتا کیونکہ ہر کوئی ایک ہی تھڑے پر بیٹھ کر دوہڑا سنتا تھا۔ اسی میل ملاپ کے دوران شادی‘ صلح‘ رشتے داری کے امور بھی طے پا جاتے تھے۔ سال بھر کی خبریں اور گپ شپ یہیں سے ملتی تھیں۔ صوفیا کے عرس میں مسلم‘ سکھ‘ ہندو سب شریک ہوتے تھے۔ اس اعتبار سے میلہ پنجاب میں رواداری کی سب سے بڑی علامت اور سماجی بندھن کا مظہر تھا۔ علاوہ ازیں میلے کے موقع پر دیہات میں سالانہ بازار مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ کسان کیلئے بیج‘ کھاد‘ ہل‘ بیل‘ چارہ یہیں سے خریدا جاتا تھا۔ فصل بکنے کے بعد یہی پیسہ خرچ ہوتا تو معیشت حرکت میں آتی جس میں تمام کاریگر کمہار‘ لوہار‘ ترکھان‘ جولاہے سال بھر کا سامان میلے کے موقع پر بیچتے تھے۔ خواتین اپنے لیے چوڑیاں‘ مہندی‘ کھسے‘ سوٹ خریدنے آتیں کیونکہ یہ ان کی سب سے بڑی سالانہ شاپنگ ہوا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ کبڈی‘ نیزہ بازی‘ کشتی‘ گھوڑا ڈانس اور پہلوانی کے مقابلے ہوتے اور کھلاڑیوں کی شہرت یہیں سے شروع ہوتی تھی۔ موسیقی‘ داستان گوئی اور شعر و ادب سے وابستہ باصلاحیت فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے اور سامعین کے سامنے ڈھولا‘ کافی‘ وارث شاہ کی ہیر گا کر داد و تحسین وصول کرتے تھے۔ بوڑھے داستان گوئی کے ذریعے تاریخی واقعات نئی نسل کو سناتے اور اپنے دلآویز اندازِ بیان سے سننے والوں پر سحر طاری کر دیتے تھے۔ بازار میں تازہ مٹھائیوں اور موسمی پھلوں کی دکانیں سجائی جاتیں تو تمام روایتی کھانے‘ مشروبات اور ان کے اصلی ذائقے بھی زندہ رہتے تھے۔
ہمارے آبائی شہر بھوانہ کے نواحی گاؤں حویلی باٹا میں ساون کے مہینے میں ایک صوفی بزرگ حضرت میاں شیر فتح اللہ جلال الدین کے نام سے منسوب میلہ شیر باٹا صحیح معنوں میں ہماری پنجابی ثقافت کا علمبردار تھا جسے ہر سال بڑے چاؤ کے ساتھ سجایا جاتا اور اس میں شرکت کیلئے ہم سال بھر منتظر رہتے تھے۔ اب بھی ساون کا مہینہ شروع ہوتے ہی دل میں اس میلے سے وابستہ ہمارے بچپن کی اَن گنت حسین یادوں کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں اور کئی دلکش مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ ہم اپنے بڑوں کے ساتھ ٹریکٹر پر سوار ہو کر بڑے ذوق و شوق سے اس میلے میں جاتے۔ میلہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ اخلاص‘ احساس‘ محبت اور اپنائیت کی مٹی میں گندھے ہوئے مضبوط رشتوں کو مزید گہرا کرنے اور انہیں معاشرتی بندھن کی لڑی میں پرونے کا سبب بھی تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جیسے ہی میلے کے دن قریب آتے‘ شہروں میں بسنے والے تمام افراد اپنے آبائی گھروں کا رخ کرتے‘ اپنے دور دراز کے دوست احباب اور عزیز و اقارب کو خصوصی طور پر اس میں شرکت کیلئے مدعو کرتے۔ میلے پر آئے مہمانوں کی خاطر مدارت کا خوب اہتمام ہوتا‘ ایک دوسرے کے گھروں میں کھانے کی دعوت پر رات بھر محفلیں منعقد ہوتیں۔ باہمی میل جول اور بھائی چارے پر مبنی یہ تمام خوبصورت روایات ہمارے دیہاتی وسیب کا طرۂ امتیاز تھیں جو اَب ناپید ہو چکی ہیں۔
اس کی بڑی وجہ گزشتہ دو دہائیوں میں انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سمارٹ فونز کا انقلاب ہے جس نے جہاں ذرائع ابلاغ کے پورے نظام کو یکسر تبدیل کر دیا ہے وہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ریڈیو‘ اخبارات‘ ٹیلی ویژن‘ فلم‘ تھیٹر اور تفریح کے دیگر ذرائع اور وسائل کی قدر و منزلت اور ضرورت پر ضرب لگائی ہے۔ اب ہر شخص اپنے سمارٹ فون پر ہمہ وقت مصروف نظر آتا ہے۔ ہر فرد اپنا کانٹینٹ بنانے اور اس کی ترویج و اشاعت میں مکمل طور پر خود کفیل بھی ہے اور آزاد بھی۔ ہماری نوجوان نسل‘ جسے ڈیجیٹل جنریشن کہا جا سکتا ہے‘ میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کا شوق کہیں زیادہ ہو چکا ہے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت بھی وہیں گزارنا پسند کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو مونیٹائز کروا کر ڈالرز میں کمائی شروع کر رکھی ہے۔ ایک طرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس انقلاب نے سماجی رابطوں کو تیز ترین دور میں داخل کیا ہے تو دوسری طرف اس نے ہمارے سماجی ڈھانچے اور معاشرتی تنظیم کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں جس سے ہمارا صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہمارے روایتی میلوں ٹھیلوں کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور باہمی میل جول کے مواقع محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب ہر شخص اپنے موبائل فون کے ساتھ چپک کر ایک ورچوئل دنیا کا باشندہ بن چکا ہے جو انٹرنیٹ‘ کمپیوٹر سکرین اور موبائل فونز میں آباد ہے جہاں لوگ اپنے ماحول سے تو بیگانہ ہو چکے ہیں مگر ایک دوسرے کے ساتھ ہر لمحہ رابطے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب کسی کو سال بھر میلے کا انتظار نہیں رہتا کیونکہ سمارٹ فونز پر لوگ ہر لمحے اپنی پسند کی تفریح سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ نوجوانوں میں روایتی کھیل جیسے کبڈی اور ریسلنگ کے بجائے کمپیوٹر گیمز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف ملک میں دہشت گردی کے خوف سے بڑے اجتماعات کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ میلے کی اجازت دینے سے گھبراتی ہے اور انہی خدشات کے باعث درگاہوں پر بھی سکیورٹی کے نام پر نت نئی پابندیاں لگ گئی ہیں‘ مگر اس ڈیجیٹل دور میں ان تاریخی روایات اور ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ میلے ہماری قدیم ثقافت اور معاشرتی روایات کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ثقافتی میلوں اور روایتی کھیلوں کا تسلسل نئی نسل کو اپنی تہذیب‘ ثقافت اور مثبت سرگرمیوں سے جوڑے رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ میلہ ہی پنجاب کی اصل شناخت ہے۔ ڈھول کی تھاپ اور میلے کا شور زندگی کے استعارے ہیں جن میں ہماری تاریخ و ثقافت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس مرتبہ سلیم انور بھائی نے مقامی میلہ شیر باٹا کے انعقاد کیلئے ذاتی دلچسپی لی اور اس کی تمام رونقیں بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چند روز قبل وہ رسمِ چراغ ادا کرکے اس کا افتتاح کرتے نظر آئے تو پل بھر میں اس خوبصورت ثقافتی ورثے سے وابستہ ہمارے بچپن کے وہ دن لوٹ آئے اور شباب رُت کے گلاب لمحوں کی خوشبو کو بھوانہ کی فضاؤں سے نکل کر یہاں برطانیہ کے شہر لیسٹر پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments