کچے میں امن کی بحالی

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہے جس میں رات گئے کچے کے علاقے میں رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر مقامی لوگوں کے ہجوم میں کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ وہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے ہمراہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منعقد ہونے والے فلڈ لائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں شرکت کیلئے وہاں پہنچے تھے۔ ان افسران نے مل کر جس جرأت و بہادری اور فہم و فراست سے کچے کے علاقے میں دہائیوں سے قائم ڈاکو راج کا خاتمہ ممکن کر دکھایا ہے وہ بلاشبہ لائقِ تحسین ہے۔ یہ وہی کچے کا علاقہ ہے جہاں دن کی روشنی میں جانا محال تھا اور جو دہائیوں تک ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہ بنا رہا‘ اب وہاں امن و آشتی کا دور دورہ ہے اور زندگی کی تمام رونقیں اور رعنائیاں لوٹ آئی ہیں۔ گزشتہ سات ماہ میں سنگین نوعیت کے جرم کی ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی جو ایک فقید المثال کامیابی ہے جس کا سہرا بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سر ہے۔ یہاں امنِ عامہ کی بحالی میں دیگر ریاستی اداروں کا بھرپور تعاون اور اشتراکِ عمل بھی قابلِ تحسین رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے کچے میں دو ہفتوں پر مشتمل فلڈ لائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کروا کر مقامی لوگوں پر زندگی کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ پسماندگی‘ جہالت اور جرائم سے عبارت اس علاقے میں کرکٹ میچ کے دوران قمقمے دیکھ کر دل میں امید و آرزو کے جانے کتنے چراغ روشن ہوئے ہیں۔
کچے کا علاقہ ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہ کس طرح بنا یہ سوال اہم ہے۔ پاکستان میں یہ اصطلاح بنیادی طور پر دریائے سندھ‘ چناب‘ جہلم اور ستلج کے کناروں پر واقع نشیبی علاقوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ مگر سب سے بدنام اور خوفناک کچے کا علاقہ جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کی وہ پٹی ہے جو پنجاب کے تین اضلاع رحیم یار خان‘ راجن پور اور مظفرگڑھ سے شروع ہو کر سندھ میں گھوٹکی‘ کشموراور شکارپور تک جاتی ہے۔ یہاں زمین زرعی اور ہموار نہیں بلکہ مسلسل کٹاؤ‘ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث دریا ہر سال راستہ بدلتا رہتا ہے‘ اس لیے وہاں نہ سڑکیں بن پائیں اور نہ تھانے قائم کیے جا سکے۔ ان دور افتادہ علاقوں میں سگنلز کی عدم دستیابی کے باعث موبائل فونز بھی کام نہیں کرتے اور تمام راستے بھول بھلیاں ہیں۔ لہٰذا ان مخصوص جغرافیائی خد و خال اور زمینی حقائق کے پیشِ نظر یہ علاقہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ڈاکوؤں کیلئے ایک فطری پناہ گاہ بن گیا۔
کچے کے علاقے میں ڈاکو راج کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور 1960-90ء کی تین دہائیوں پر محیط ہے جس میں روایتی ڈاکو زیادہ تر برادری اور قبائلی جھگڑوں میں الجھ کر زمین‘ پانی اور عزت کے تنازع پر قتل و غارت گری کرتے تو مقتول کا خاندان انتقام کیلئے کچے میں چلا جاتا۔ ان کا مقصد مخالفین سے بدلہ اور درکار وسائل کیلئے لوٹ مار ہوتا۔ مگر چونکہ ہتھیار پرانے اور روایتی تھے تو مقامی سطح پر پولیس نمٹ لیتی تھی۔ دوسرا دور 2000-15ء کے دورانیہ پر مشتمل ہے جب کچے میں جدید اسلحہ پہنچا۔ ڈاکوؤں کے کئی گینگ منظم ہوئے اور ان میں جدید ترین اسلحہ کی دوڑ شروع ہوئی جس میں AK-47 اور راکٹ لا نچر تک شامل تھے۔ اب ڈاکو صرف انتقام کیلئے نہیں بلکہ بھتہ‘ اغوا برائے تاوان‘ کار چوری کیلئے سرگرم ہوگئے اور جرم کو دھندہ بنا لیا۔ انہوں نے کھلم کھلا ریاست کو للکارا اور اپنی عدالت لگائی۔ تیسرا دور 2016ء سے شروع ہو کر ماضی قریب تک برقرار رہا جس میں ڈاکوؤں نے جدید ٹیکنالوجی‘ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔ ڈرون سے پولیس کی نقل و حرکت دیکھنا‘ موبائل فونز پر تاوان مانگنا اور وڈیو بنا کر دھمکیاں دینا ڈاکوؤں کا معمول بن گیا۔ چند ڈاکوؤں نے اپنے سوشل میڈیا چینلز بھی بنا ڈالے۔ اغوا برائے تاوان سب سے بڑا مسئلہ بن گیا کیونکہ ڈاکو صاحبِ حیثیت کسانوں‘ تاجروں‘ ٹرانسپورٹرز کو اٹھا کر کچے میں لے جاتے اور 50 لاکھ سے پانچ کروڑ تک تاوان کے عوض رہا کرتے۔
بدقسمتی سے کچے میں پولیس آپریشن ہمیشہ سے مشکل رہا ہے کیونکہ پولیس کو علاقے کا پوری طرح علم نہیں تھا جبکہ ڈاکو وہاں پیدا ہوئے اور وہ اس علاقے کی تمام بھول بھلیوں سے واقف تھے۔ پولیس کے پاس ٹیکنالوجی نہ ہونے کے برابر تھی اور جب وہ کچے کے علاقے میں آپریشن کیلئے آگے بڑھتے تو ریڈیو سگنل تک نہیں آتے تھے‘ ڈاکوؤں اور پولیس کے مابین کئی مرتبہ خوفناک مڈ بھیڑ ہوئی۔ 2014ء میں راجن پور آپریشن کے دوران ڈاکوؤں نے گھات لگا کر پولیس وین پر راکٹ مارے جس کے نتیجے میں بارہ پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اسی طرح 2021ء میں گھوٹکی کے واقعے میں دو سب انسپکٹرز سمیت سات پولیس والوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ 2024ء میں ڈاکوؤں نے رحیم یار خان پولیس کے بارہ اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا جن کی بازیابی کیلئے فوج کو بھی بلانا پڑا جبکہ اس آپریشن کے دوران چار جوان شہید ہو گئے۔ ان پولیس مقابلوں میں درجنوں جوان اور افسران شہید ہوئے۔ ہر شہادت کے بعد حکومت آپریشن کرتی جس کے نتیجے میں دس بیس ڈاکو مارے جاتے جبکہ باقی دریا پار کر کے دوسرے ضلع میں چلے جاتے کیونکہ کچے کا وسیع و عریض علاقہ لگ بھگ پانچ ہزار مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے لے کر 2025ء تک رحیم یار خان میں شامل کچے کے علاقے میں مجموعی طور پر اغوا اور اغوا برائے تاوان کے 560جبکہ قتل کے 407مقدمات درج ہوئے مگر رواں سال میں اب تک اغوا یا اغوا برائے تاوان کا ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ یہ قابلِ تحسین کامیابی یقینا پنجاب کی مضبوط قیادت اور ریاستی اداروں کے بھرپور تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی بدولت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقوں میں اب کوئی نو گو ایریا نہیں رہا اور وہاں ریاست کی رِٹ مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ حکومت پنجاب نے رحیم یار خان اور راجن پور میں شامل کچے کے علاقوں کی از سر نو تعمیر و ترقی اور معاشی خوشحالی کیلئے ایک مربوط اور جامع پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے تحت 108کلومیٹر سولنگ جبکہ 144کلومیٹر پر مشتمل 27نئی پختہ سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں 65سکولوں کو اَپ گریڈ کیا جارہا ہے اور 16نئے سکولوں کے قیام کے ساتھ ساتھ خواتین کیلئے دو نئے کالج بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں 300 طلبہ کو تعلیمی وظائف اور لیپ ٹاپ کا خصوصی کوٹہ جبکہ 1000مقامی خواتین کے روزگار کیلئے لائیو سٹاک کارڈز کا اجرا کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ کچے میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے پولیس کو جدید ترین ٹیکنالوجی‘ سولر پاورڈ ڈرونز‘ نائٹ ویژن کیمروں اور بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ مزید برآں سیف سٹی منصوبے کا دائرہ کار کچے کے علاقوں تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کچے میں نادرا‘ ٹرانسپورٹ‘ موبائل ہیلتھ کلینکس‘ لیبارٹریز اور ویٹرنری ہسپتال کی سہولتوں کی فراہمی پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ دوسری طرف ضلعی انتظامیہ نے مقامی تاجروں اور مخیر حضرات کے تعاون سے کچے سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو باعزت روزگار کمانے کیلئے درکار سرمایہ اور وسائل فراہم کر دیے ہیں۔ جو کل تک ریاست کو للکارتے ہوئے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے وہ اب رکشہ ڈرائیور‘ چکن شاپ اور دیگر چھوٹے کاروباری امور میں مصروف ہو گئے ہیں۔ اُنہی میں سے ایک شخص ایک نجی سکول قائم کرکے مقامی بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہا ہے۔ یہ تبدیلی کے حیرت انگیز سفر کی ابتدا ہے مگر ابھی ایک طویل سفر باقی ہے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی جہاں ملک بھر میں یوم آزادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں وہاں صوبائی حکومت کچے میں امن کی بحالی اور مقامی لوگوں کو پسماندگی اور خوف سے آزادی دلانے میں پُرعزم نظر آتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...