"RKC" (space) message & send to 7575

کنٹینروں کی سیاست

آج کل اسلام آباد پھر سے کنٹینرز سے بھر دیا گیا ہے۔ یہ انتظامات متوقع طور پر تحریک انصاف کے اسلام آباد کی طرف مارچ یا چڑھائی کو روکنے کیلئے کیے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے مارچ کیلئے 27ستمبر کی تاریخ دی ہوئی ہے‘ لیکن دس دن پہلے ہی کنٹینرز منگوا کر سڑکوں کو بلاک کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ شہرِ اقتدار میں بھاری بھرکم اور دیوقامت کنٹینرز دیکھ کر عجب رعب اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان سینکڑوں کنٹینرز کا بل کتنا بنتا ہے اور کون دے رہا یا لے رہا ہے‘ یا اس سے بڑھ کر یہ پیسہ کس کی جیب میں جا رہا ہے اور اس کی ادائیگی کس کی جیب سے ہو رہی ہے؟ یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ کنٹینرز کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا۔ اپوزیشن پارٹیاں ہمیشہ سے احتجاج کرتی آئی ہیں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی ہوتے رہے ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف لانگ مارچ کرتے رہے اور ایک دوسرے کی حکومتیں گراتے بھی رہے۔ تاہم نواز شریف نے پہلا بڑا لانگ مارچ ججز کی بحالی کیلئے پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف 2009ء میں کیا تھا‘ لیکن گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے ہی ججز کو بحال کر دیا گیا تھا‘ لہٰذا اسلام آباد پہنچنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ اگرچہ اس وقت بھی ہم اسلام آباد کے رہائشیوں کو سن گن مل رہی تھی کہ پنڈی اسلام آباد کے آنے جانے والے راستوں کو بند کیا جائے گا۔ لیکن تب تک کسی نے شہر کے اندر کنٹینرز نہیں دیکھے تھے‘ نہ کسی کو علم تھا کہ وہ کیسے ہمارے طرزِ زندگی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب یہ دیوقامت کنٹینرز ہماری زندگیوں کا حصہ بنے تو اندازہ ہوا کہ راجہ انور نے اپنی کتاب کا ٹائٹل ''چھوٹی جیل سے بڑی جیل‘‘ تک کیوں رکھا تھا۔ انہیں جیل سے آزاد ہونے کے بعد لگا تھا کہ وہ تو بڑی جیل میں آ گئے ہیں۔
میں جولائی 1998ء میں پہلی دفعہ اسلام آباد آیا تھا تو یہ شہر بہت خوبصورت تھا۔ اگرچہ آبادی بڑھ رہی تھی لیکن پھر بھی سڑکیں خالی‘ ہر طرف درختوں کی قطاریں‘ تقریباً روز بارشیں اور خوبصورت راستے! پہاڑ اور سبزہ آپ کا استقبال کرتے تھے۔ میں ان دنوں اپنے آفس زیرو پوائنٹ سے چک شہزاد کی طرف موٹرسائیکل پر جاتا تھا‘ جہاں میری عارضی رہائش تھی۔ تب ایک عجیب سرشاری محسوس ہوتی تھی۔ اُس وقت تک اسلام آباد کی آبادی تقریباً آٹھ لاکھ تھی اور اب تقریباً پچیس لاکھ ہے۔ یوں جہاں شہر کی آبادی بڑھی‘ وہیں اس سے جڑے مسائل بھی بڑھے ہیں۔ جہاں بھی انسان ہوں گے‘ وہاں ہر قسم کے مسائل ہوں گے۔ جب کراچی میں حالات خراب ہوئے تو جو افورڈ کر سکتے تھے انہوں نے اسلام آباد کا رخ کر لیا اور یہاں شفٹ ہو گئے۔ اس کے بعد قبائلی علاقوں میں آپریشن شروع ہوئے تو وہاں سے بھی بڑی تعداد میں خاندانوں نے پنڈی اور اسلام آباد کا رخ کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کلچر سامنے آیا اور اس 24 کلومیٹر کے شہر میں اس وقت تین‘ چار سو کے قریب قانونی اور غیر قانونی سوسائٹیاں ہیں۔ ان میں وہ شامل نہیں جنہوں نے لوگوں کے ساتھ اربوں کا فراڈ کیا۔ پھر ہمارے سرائیکی وسیب سے بیروزگاری کے مارے نوجوانوں نے بھی اس شہر کا رخ کیا اور یوں یہ شہر بھرتا چلا گیا بلکہ یوں کہیں کہ پھٹتا چلا گیا اور اب واقعی پھٹ چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اسلام آباد میں آپ کو مارکیٹوں میں پارکنگ چھوڑیں‘ پیدل چلنے کی جگہ بھی نہیں ملتی۔ شہر گندگی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ کراچی کی طرح ساحلی علاقہ‘ بزنس یا تجارتی شہر کبھی نہ تھا‘ نہ ہی سیالکوٹ‘ فیصل آباد یا گوجرانوالہ کی طرح صنعتی شہر تھا کہ یہاں لوگوں کو نوکریاں ڈھونڈنے میں آسانی رہتی تھی۔ یہ سرکاری ملازمین کا شہر تھا‘ جہاں اب ماسوائے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کیفے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ درخت‘ سبزہ‘ پہاڑ سب کاٹے جا رہے ہیں۔
پچھلے دنوں لاہور سے ایک دوست آیا تو وہ شہر کی حالت دیکھ کر کافی دیر پریشان رہا۔ کہنے لگا کہ ہمارے جیسے لوگ جو شمالی علاقوں کو نہیں جا پاتے تھے‘ وہ اسلام آباد میں دو تین دن رہ کر شمالی علاقوں جیسی فضا اور ماحول کا مزہ لے لیتے تھے‘ اب یہ عیاشی بھی آپ لوگوں نے ہم سے چھین لی ہے۔ سارا شہر کنکریٹ سے بھر دیا ہے۔ درخت‘ سبزہ‘ جنگل‘ پہاڑ سب کٹ رہے ہیں۔ یہ کیا کر دیا ہے اس شہر کے ساتھ۔ یہ چھوٹا سا شہر پہاڑوں‘ درختوں‘ ندی نالوں‘ جنگلات اور پارکس کے ساتھ ہی اچھا لگتا ہے۔ میں چپ رہا کہ وہ تو ایک دو دن کیلئے آیا تھا اور اس کو ڈپریشن ہو گیا‘ ہمارے جیسوں کا دکھ سمجھیں جو تیس سال سے ادھر ہیں اور اب اس شہر کو پہچان نہیں پاتے۔ اب تو اپنے گھر کا راستہ بھی ڈھونڈنے سے ملتا ہے۔
یاد آیا‘ اس شہر نے پہلی دفعہ کنٹینرز اس وقت دیکھے تھے جب رحمن ملک وزیر داخلہ تھے اور طاہرالقادری اپنے ساتھ ہزاروں فالوورز کے ساتھ چڑھائی کرنے آئے تھے۔ یہ کلچر طاہرالقادری صاحب نے ہی متعارف کرایا‘ جو اَب مستقل فیچر بن گیا ہے۔ اُن کو روکنے کے نام پر شہر کو کنٹینرز سے ڈھانپنے کا کام رحمن ملک نے شروع کیا تھا‘ جو اَب اتنا عام ہو چکا کہ پی ٹی آئی نے ادھر کا رُخ 27ستمبر کو کرنا ہے لیکن کنٹینرز دس دن پہلے سڑکوں پر لا کر کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ کنٹینرز ہیں جو ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ کیلئے کام آتے ہے۔ لیکن اس وقت یہ اسلام آباد کو محاصرے سے بچانے کے کام آ رہے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے‘ یہ کنٹینرز شہر کو بچانے کیلئے ہیں یا پھر اس پورے کھیل میں بڑا پیسہ بنانے کیلئے؟ یہ کنٹینرز کرائے پر لائے جاتے ہیں اور روزانہ کے حساب سے مالکان کو ان کا کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ یوں چودہ سالوں میں ملکی معیشت نے ترقی کی یا نہیں‘ لیکن ان کنٹینرز کے مالکان کا کاروبار خوب چمک رہا ہے۔ اب پتا چلا ہے کہ مبینہ طور پر اس کمائی میں بڑے بڑے لوگ بشمول کئی افسران شامل ہیں‘ جو کنٹینرز کی روزانہ کی کمائی میں باقاعدہ حصہ دار ہیں۔ لہٰذا یہ کنٹینرز کئی لوگوں کی جیبوں میں پیسہ لے جانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔
پی ٹی آئی نے مئی 2022ء میں اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کیا تھا‘ اس دوران امن و امان کو برقرار رکھنے پر وفاقی حکومت نے 33 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے۔ کنٹینرز اور گاڑیوں کے کرائے پر 21کروڑ 70لاکھ‘ آنسو گیس وغیرہ پر تین کروڑ 17لاکھ‘ کھانے پینے پر چار کروڑ 78لاکھ اور دیگر مدات میں چار کروڑ پانچ لاکھ روپے سے زائد اخراجات ہوئے۔ یہ سب پیسہ آپ لوگوں کی جیبوں سے‘ پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر ادا کیا گیا۔ وہ سب جو اسلام آباد پر چڑھائی کرنے آتے ہیں‘ وہ دراصل ان افسران‘ کنٹینر مالکان اور دیگر کی روزی روٹی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان کنٹینرز کے کھیل میں جو پیسہ کمایا جا رہا ہے اس کی تفصیل سن کر میرے ہوش اڑ گئے ہیں کہ کیسے اب کنٹینرز لگانا بھی نفع بخش کام بن چکا ہے۔
یہی دیکھ لیں کہ 2022ء میں پی ٹی آئی کے مارچ کیلئے جو کنٹینرز لائے گئے تھے ان کا کرایہ 21کروڑ روپے ادا کیا گیا۔ آپ کا کیا خیال ہے‘ سارا کرایہ مالکان کی جیب میں گیا؟ اب بھی پی ٹی آئی کے مارچ سے دس دن پہلے جو اَن گنت کنٹینرز لا کر اسلام آباد کی سڑکوں پر کھڑے کیے گئے ہیں‘ ان کا روزانہ کا کرایہ کتنے کروڑ کا بنے گا اور کس کس کی جیب میں جائے گا؟ یار لوگوں کو داد دیں کہ انہوں نے اس کام سے بھی کمائی کا ذریعہ ڈھونڈ لیا اور دس دن پہلے ہی اسلام آباد کی سڑکوں پر کنٹینرز لا کر کھڑے کر دیے۔ حیران ہوں کہ ایسی کمائو سوچ والی قوم پر کہ اس پر 82ہزار ارب کا قرضہ کیسے چڑھ گیا‘ جس کا سالانہ سود ہی آٹھ ہزار ارب ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...