"RKC" (space) message & send to 7575

میرے اوپر بھی وزیر بٹھائیں

جو کچھ پمز میں ہوا ہے یہ نہ تو پہلی دفعہ ہے نہ ہی آخری دفعہ۔ ہاں ایک چیز نئی ہوئی ہے کہ پہلی دفعہ وفاقی سیکرٹری صحت‘ جن کو ایڈیشنل چارج دیا گیا‘ وہاں جا کر بیٹھ گئے ہیں اور اپنا خیمہ لگا لیا ہے کہ اب دیکھتا ہوں کام کیسے نہیں ہوتا اور کون اپنا کام نہیں کرتا۔ اس کے بعد وزیر صحت مصطفی کمال نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ بھی ایک دن ہسپتال میں بیٹھا کریں گے اور سب کی نگرانی کریں گے۔ ہوسکتا ہے اس سے حکومت اور وزیر صاحب کی بلے بلے ہوجائے کہ دیکھا ایک ہسپتال میں بچوں کی اموات کے بعد کیسے زیرو ٹالرنس سے کام لیا ہے کہ اب وہ خود ہسپتال میں بیٹھ کر اسے چلائیں گے اور سب کام کریں گے۔ کوئی بندہ اب کام چوری نہیں کرے گا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے الگ قسم کا ڈپریشن سا محسوس ہورہا ہے۔ ایک سیکرٹری اور وزیر کو ہسپتال میں بیٹھ کر کیوں سینکڑوں سٹاف‘ ڈاکٹرز اور دیگر عملے سے کام کرانا پڑ رہا ہے؟ جب آپ کی کسی ہسپتال میں کسی پوسٹ پر تعیناتی ہوتی ہے تو آپ کو بتایا جاتا ہے کہ اس عہدے کی کیا شرائط ہوں گی۔ آپ کی اس عہدے سے متعلقہ ڈگری ہونی چاہیے‘ کچھ تجربہ ہونا چاہیے اور آپ کو دوسرے امیدواروں کا مقابلہ کر کے ہی وہ عہدہ ملے گا۔ ایک لمبے پراسس‘ جس میں تحریری ٹیسٹ‘ انٹرویو اور پھر سکروٹنی کے بعد سینکڑوں امیدواروں کو شکست دے کر ہی آپ کو وہ عہدہ ملتا ہے‘ جس کی آپ کو تنخواہ ملتی ہے۔ آپ خوشی خوشی پورے گھر‘ محلے‘ یاردوستوں کو بتاتے پھرتے ہیں‘ خوشی سے نہال ہوتے ہیں کہ دیکھو میں سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر‘ نرس‘سٹاف یا دیگر کسی پوسٹ پر لگ گیا ہوں۔ بلکہ پھر گھر والے بھی دلہا؍دلہن ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں جو ایسا؍ ایسی ہو جو اُن کے بیٹے یا بیٹی کی سیٹ کا مقابلہ کر سکے۔ یوں آپ اس جوش و جذبے سے کام شروع کرتے ہیں اور خود کو ہر صبح اہم سمجھ کر کام پر جاتے ہیں۔ وہ سب شکایتیں جو آپ کو کبھی عام شہری کے طور پر کسی بھی سرکاری محکمے سے تھیں‘ اس پوسٹ پر تعیناتی کے بعد آپ سوچتے ہیں کہ آپ کسی کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کریں گے جو آپ کے ساتھ مختلف سرکاری دفاتر میں ہوتا تھا ۔ آپ بہت مختلف افسر یا اہلکار ہوں گے۔ ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی کریں گے۔ اپنا پیسہ حلال کریں گے۔ عوام کی خدمت کریں گے۔ دکھی انسانیت کے دکھ کم کریں گے۔ اور پھر کیا ہوجاتا ہے کہ آپ دھیرے دھیرے اپنے کام سے تھکنا شروع ہوجاتے ہیں۔ آپ کو دلچسپی نہیں رہتی۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کام کریں یا نہ کریں تنخواہ ملتی رہے گی۔ اگر کسی نے شکایت کر دی اور کسی افسر نے کچھ ایکشن لینے کی کوشش کی تو آپ کی اپنی یونین ہے‘ جو فوراً ہڑتال کر دے گی اور پورا ادارہ بند ہوجائے گا۔ آپ نے ایک کے خلاف ایکشن لیا تھا‘ ہم سب نے مل کر پورا دفتر یا ہسپتال ہی بند کر دیا‘ کر لو جو کرنا ہے۔
جو صاحب سرکاری دفاتر یا ہسپتالوں میں ہڑتال ہونے پر سرکاری ملازمین کو برا بھلا کہتے تھے‘ وہ اب خود وہی کام کر یا کرا رہے ہوتے ہیں۔ انہیں پہلے کرسی پر بیٹھا افسر یا کلرک فرعون لگتا تھا‘ اب وہ اس کی جگہ فرعون بن بیٹھے ہیں۔ اب وہ سب کچھ بھول چکے ہیں کہ جب وہ عام شہری کی حیثیت سے ہسپتال یا ادارے میں اپنے علاج یا کام کیلئے آتے تھے تو اس وقت ان کے ساتھ اس کرسی پر بیٹھے بندے کا کیا سلوک ہوتا تھا اور وہ خود کو کتنا بے بس اور چھوٹا محسوس کرتے تھے اور دل ہی دل میں انہیں کتنا برا بھلا کہتے تھے۔ ہر بندہ انہیں برا لگتا تھا کہ جو کرسی لے گیا وہ اب کسی کی نہیں سنتا۔ ساتھ میں آپ سے ہر کام کے پیسے الگ سے لیتے تھے‘ اور تب آپ قسمیں کھاتے تھے کہ آپ حرام نہیں کھائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ سب تکلیفوں‘ مشکلوں‘ تعلیم اور مقابلے کے امتحان یا انٹرویوز پاس کر کے کسی سیٹ پر پہنچے ہیں تو آپ اپنا کام کیوں نہیں کرتے؟ اب آپ کو ایک سیکرٹری‘ وفاقی وزیر یا ہسپتال کے ایگزیکٹو افسر کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے کہ وہ آپ کے سر پر ڈنڈا لے کر کھڑا ہو تو آپ پھر ہی کام کریں گے‘ ورنہ آپ آرام سے کرسی پر بیٹھ کر خلقتِ خدا کو تنگ کریں گے یا پیسہ اکٹھا کریں گے اور شام کو ٹی وی پر حکومت اور سیاستدانوں کو گالیاں دیں گے کہ دیکھو ملک تباہ کر دیا‘ برباد کر دیا۔ آپ کو خود سے کیوں محسوس نہیں ہوتا کہ مجھے اس کام کیلئے یہ جان کر چُنا گیا تھا کہ میں دوسروں سے بہتر‘ پڑھا لکھا‘ قابل اور ذہین تھا۔ سینکڑوں نوجوان اس جگہ بیٹھنا چاہتے تھے لیکن میری برسوں کی محنت کام آئی اور میں یہاں سلیکٹ ہوا تو مجھے اب کسی اپنے سے بڑے افسر کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہر صبح مجھے بتائے کہ آج میں نے سارا دن کیا کرنا ہے۔ یا میں نے اُس وقت ہی کام کرنا ہے جب وہ میرے سر پر بیٹھے۔ میں ڈر کے مارے کیوں کام کروں جبکہ مجھے اس کام کے پیسے ملتے ہیں۔ میری اس تنخواہ کے پیسے انہی عوام کے ٹیکس سے دیے جاتے ہیں یا وہ اس کام کی سرکاری فیس ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا مجھے خود کو ان کا خادم سمجھ کر پیش آنا ہے نہ کہ ان کا حاکم اور حکمران یا فرعون بننا ہے۔
مزے کی بات ہے جو صاحبان اپنے اپنے محکمے میں فرعون بن جاتے ہیں‘ جب دوسرے محکمے میں اپنا کوئی کام کرانے جاتے ہیں تو وہ بھی سفارشیں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں یا پھر جب وہ ان سے کام کے پیسے مانگتے ہیں تو انہیں کرپشن اور رشوت بری لگتی ہے۔ لیکن جب خود پیسے لے کر کام کرتے ہیں تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ کیا کریں جی سسٹم ہی ایسا ہے‘ ہم نہ لیں تو کام نہیں چلتا‘ ہم نے اوپر بھی دینا ہوتا ہے۔ اپنے لیے ہر سرکاری افسر یا اہلکار گنجائش نکال لیتا ہے لیکن دوسرے کو کرپٹ اور حرام کھانے والا سمجھتا ہے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم حکومتوں پر تبرہ کیوں پڑھتے ہیں کہ وہ کرپٹ ہیں یا ان کے ادارے کرپٹ ہیں‘ کبھی سوچا ہے کہ آپ سب ہی ہیں جو اِن اداروں یا حکومتوں میں کام کررہے ہیں۔ آپ ہی ایماندار یا کرپٹ ہیں۔ یہ سب جو پولیس‘ واپڈا‘ ریونیو ‘ ٹریفک پولیس یا کسی بھی ادارے میں کام کررہے ہیں اور اپنی ڈیوٹیاں نہیں دے رہے یا لوگوں سے پیسہ بٹور رہے ہیں‘ یہ سب آپ ہی ہیں۔ کوئی آپ کا باپ تو کوئی بیٹا تو کوئی بھائی تو کوئی کزن ہے۔ کوئی دوست یا رشتہ دار ہے۔ آپ حکومت کو گالیاں نہ دیا کریں۔ آپ ان سب کو دیا کریں جو ہمارے اپنے ہیں۔ انہوں نے اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کیلئے حکومت اور سسٹم کے الفاظ ایجاد کر رکھے ہیں۔ یہ سسٹم کیا ہوتا ہے؟ کرسی پر بیٹھا بندہ ہی سسٹم ہے۔ وہ اگر ایماندار ہے‘ محنتی اور قابل ہے اور اپنا کام پورا کرتا ہے تو سسٹم چل رہا ہے اور کامیاب ہے۔ اگر کسی عہدے پر بیٹھا بندہ کرپٹ‘ نالائق اور نااہل ہے تو سمجھ لیں پورا سسٹم ہی کرپٹ ہو چکا ہے۔ یہ سب آپ کے والد‘ بھائی‘ بیٹے یا رشتہ دار جو وہاں کام کررہے ہیں‘ وہی سسٹم ہیں۔ وہ کام کررہے ہوں تو سسٹم کامیاب ہے۔ وہ کام نہ کریں تو سسٹم بیٹھ گیا ہے۔ اب دور یہ آگیا ہے کہ سرکاری افسر یا اہلکار کو اپنی ڈیوٹی پوری کرانے کیلئے ایک ایک وزیر درکار ہے جو اُن کے سر پر کھڑا رہے تو یہ بھاگ کر کام کریں گے‘ ورنہ نہیں۔ اب لاکھوں سرکاری ملازمین جو کام نہیں کرتے یا رشوت لیتے ہیں ان کیلئے لاکھوں وزیر کہاں سے لائیں جو اُن سے کام کرائیں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...