"RKC" (space) message & send to 7575

اب ہم روتے کیوں ہیں؟

لاہور میں سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی صاحب کے گھر ہمیشہ غیرمعمولی مہمان نوازی ہوتی ہے۔ مجھے بھی دو تین مواقع پر ان محفلوں میں شرکت کا موقع ملا‘ جہاں مہمان نوازی کا خوب لطف لیا وہیں بہت اعلیٰ قسم کی گفتگو بھی سننے کو ملی۔ بہت کم لوگ رہ گئے ہیں جو اپنے گھر پر محفلیں سجا کر یار دوستوں کو بلاتے ہیں‘ جہاں کھلی گپ شپ ہوتی ہے اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتاہے۔ اسلام آباد میں ایسی محفلیں سجانے والے اب نہیں رہے۔
ہمارے پیارے دوست ارشد شریف بہت مہمان نواز تھے۔ ہر ویک اینڈ پر دوستوں کی محفل سجانا ان کا شغل تھا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف تو روز لنچ پر محفل سجاتے تھے اور اگر دس بارہ سے کم مہمان ہوتے تو انہیں کھانا ہضم نہ ہوتا تھا۔ ان کے ہاں اور ہی کلاس کے لوگوں سے ملاقات ہوتی تھی‘ اور میں نے وہاں سے بہت فیض پایا۔ پھر ہمارے سینیٹر انور بیگ تھے جو شہر کی سوشل لائف کی جان تھے۔ سفارتکاروں سے ان کے تعلقات تھے اور ہر ہفتے گھر پر کوئی نہ کوئی پارٹی ہوتی اور اسلام آباد کا Who is Who موجود ہوتا۔ میرے یہ تینوں عزیز دوست سب رونقیں‘ محفلیں اور دوستیاں اپنے ساتھ لے گئے۔ شاید اگلے جہان میں بھی یہ محفلیں سجاتے ہوں مگر ہمارے جیسے ان کے بغیر اداس اور تنہا ہیں۔ اسلام آباد اب اجنبی اور اجاڑ سا لگتا ہے۔ ہاں! میجر عامر نے پختونوں کی مہمان نوازی کی روایات کا بھرم رکھا ہوا ہے اور ان کے ہاں بھی مہمان نوازی کا اپنا لیول ہے۔ آج کل وہ عمرہ پر گئے ہوئے ہیں۔ قبل ازیں وہ بیمار تھے‘ کچھ ان کے خاندانی صدمات‘ لہٰذا بڑے دنوں سے ان سے بھی نہیں مل پایا۔
کچھ دن پہلے برادرحفیظ اللہ نیازی کا فون آیا کہ مشتاق صاحب امریکہ سے آئے ہوئے ہیں‘ فارم ہاؤس پر لنچ ہے‘ کچھ دوست آ رہے ہیں‘ آپ نے بھی آنا ہے۔ میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی کہ اسلام آباد سے لاہور اور وہ بھی لنچ کیلئے‘ اوپر سے اسی روز میرا لائیو ٹی وی شو بھی ہے۔ وہ بولے: تمہیں لوکیشن بھیج رہا ہوں‘ کل دوپہر 12:45 پر پہنچ جانا۔ میں ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا۔ کچھ دیر بعد لوکیشن آ گئی۔ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ اب کیا کروں۔ کرنا کیا تھا‘ اگلے روز ساڑھے بارہ بجے لوکیشن پر پہنچ گیا۔ چونکہ ابھی پندرہ منٹ باقی تھے‘ لہٰذا ایک قریبی عمارت کے سائے میں گاڑی کھڑی کی تاکہ چند منٹ یہیں گزار کر جاؤں۔ اسی دوران ایک گارڈ آیا اور کہا کہ جس عمارت کے سائے میں آپ گاڑی میں بیٹھے ہیں‘ یہ گرلز ہاسٹل ہے۔ شکر ہے کسی نے پہچان نہیں لیا! ورنہ خوب باتیں ہوتیں کہ اس صحافی کے کام چیک کریں‘ اسلام آباد سے چلا اور لاہور میں گرلز ہاسٹل کے باہر گاڑی میں بیٹھا ''کسی‘‘ کا انتظار کر رہا ہے۔ آج کل ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل فون ہے‘ بس نکالا اور کلپ ریکارڈ کر کے چڑھا دیا سوشل میڈیا پر کہ دیکھیں اسلام آباد کا اینکر لاہور میں گرلز ہاسٹل کے باہر پُراسرار سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔ خیر گارڈ سے معذرت کی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ یہ نتیجہ تھا وقت سے پہلے پہنچنے کا!
جب فارم ہائوس پر پہنچا تو نیازی صاحب غائب اور اندر صرف مشتاق بھائی اور خالد بھائی موجود تھے۔ خیر وہاں لمبی محفل اور زبردست مہمان نوازی ہماری منتظر تھی۔ مجیب الرحمن شامی صاحب نے حسبِ روایت خوبصورت گفتگو کی اور ان کے بلند قہقہے محفل کو گرماتے رہے۔ کہیں کہیں سنجیدہ گفتگو کا تڑکا بھی لگا دیتے۔ اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب‘ جو دل و جان سے محنت اور کام کرنے والے بندے ہیں‘ بھی مدعو تھے۔ وہ ملک کے بہترین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے دوسروں کے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے بہت کام اور محنت کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں جن چند لوگوں نے عوامی بھلائی اور فلاح کیلئے بہترین کام کیا ہے‘ ان میں امجد ثاقب بہت نمایاں ہیں۔ عثمان بزدار کے دور میں ان کا ایک مشیر ڈاکٹر صاحب کے خلاف کیس تیار کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ ہم چند صحافیوں کو اسلام آباد میں بریفنگ دی گئی کہ یہ بھی غلط کام ہوا‘ فلاں کام بھی غلط ہوا۔ وہ انہیں فکس کرنا چاہتا تھا۔ میں کافی دیر تک سنتا رہا اور پھر کہا کہ امجد ثاقب صاحب نے اس ملک کے غریبوں کیلئے بہت کچھ کیا ہے۔ اگر صوبائی یا وفاقی حکومتوں نے ان کی تنظیم کو فنڈنگ کی ہے اور اب آڈٹ رپورٹ کے بقول کچھ ضائع ہوا ہے تو اتنا مارجن دے دیا کریں۔ آپ کے بابوز اور سیاستدانوں نے تو اتنی اَنی مچائی ہوئی ہے کہ اصل فنڈز کا صرف پندرہ فیصد ہی عام آدمی تک پہنچتا ہے اور باقی وہ آپس میں مل بانٹ کر کھا جاتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب بہت بڑی تنظیم چلا رہے ہیں جس میں سینکڑوں لوگ کام کرتے ہیں‘ اگر کچھ ایسا ہے جس کا آڈٹ رپورٹ میں ذکر ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس تنظیم کے سارے کاموں کو برا کہہ کر نشانے پر رکھ لیں۔ اگر ہر ایک کو ان باتوں پر لٹکانا شروع کر دیا تو کون اس معاشرے میں کام کرے گا؟ ان کے قرضوں کی ریکوری کا ریٹ سب سے زیادہ ہے‘ وہ لوگوں کو بلاسود اور محض شخصی ضمانت پر قرض دے کر ان کی زندگیاں بہتر بنا رہے ہیں۔ میری چند منٹ کی 'دانشوری‘ سے وہ کچھ قائل ہو گئے۔ میرا اُن صاحب سے ذاتی تعلق بھی اچھا تھا لہٰذا درخواست کی کہ ایسے کام نہ کریں۔ ان کی مہربانی کہ مقدمہ وغیرہ قائم نہ ہوا۔
ڈاکٹر امجد ثاقب شکایت کر رہے تھے کہ میڈیا اچھے کاموں کی تشہیر نہیں کرتا اور تادیر بہت سارے اچھے کام‘ جو پنجاب حکومت کے تعاون سے ہو رہے ہیں‘ وہ ان کی تفصیلات سناتے رہے جو واقعی قابلِ ستائش ہیں۔ میں نے کہاکہ اب ہر شخص ایک میڈیا اونر ہے۔ آپ چینلز یا وی لاگرز کے محتاج کیوں ہیں؟ اپنی الگ سے سوشل میڈیا ٹیم بنائیں جو ٹویٹر‘ فیس بک اور انسٹا گرام پر کلپ بنا کر شیئر کیا کرے۔ وہ بتانے لگے کہ ان کا یہ شعبہ بھی کام کر رہا ہے۔ اس محفل سے اور بھی بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا۔
اس کے علاوہ ایک محفل مجیب الرحمن شامی صاحب نے لاہور میں سجائی جس میں مولانا فضل الرحمن بھی شریک ہوئے۔ مولانا صاحب نے وہاں بہت ساری باتیں کیں اور ایک بات نے سب کو چونکا دیا۔ اس بات کے راوی ہمارے سینئر اینکر دوست فواد احمد ہیں‘ جو وہاں موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب نے بتایا کہ ان کے علاقے‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں حکومتی رِٹ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ رات کو طالبان کا راج ہوتا ہے‘ اب تو وہ بھتہ بھی لیتے ہیں اور مولانا صاحب کے عزیزوں سے بھی بھتہ مانگتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جس پر سب کو چونک جانا چاہیے۔پاکستان میں جن کو طالبان کا گاڈ فادر سمجھا جاتا تھا‘ ان میں جنرل نصیراللہ بابر کے بعد مولانا فضل الرحمن ہی تھے۔ مولانا سمیع الحق بھی اس فہرست میں شامل تھے کہ بیشتر طالبان ان کے مدرسے کے شاگرد رہے۔ جب طالبان افغانستان میں یہی ظلم و ستم کر رہے تھے تو ہم انہیں حق پر سمجھتے تھے‘ اب جب وہ اپنے پرانے سرپرستوں سے بھتہ مانگ رہے ہیں تو وہ ریاست سے شکایت کر رہے ہیں کہ رِٹ ختم ہوگئی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ انگریزی اخباروں کی چند خواتین کالم نگار یہ کہہ کر افغان طالبان کا دفاع کرتی تھیں کہ وہ ہماری سٹرٹیجک گہرائی کا حصہ ہیں۔ جب طالبان سوات پہنچے تو وہ خواتین اسلام آباد میں ان کے خلاف مارچ میں شریک تھیں۔ ہمیں طالبان سے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ جب تک وہ افغانستان میں بربادی کرتے رہے‘ ہم نے انہیں ہر قسم کی سپورٹ دی۔ اب بھی ہماری شکایت بس یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ہمارے ہاں نہ کریں۔ مولانا صاحب کو اب احساس ہوا ہے جب ان کا اپنا علاقہ غیر محفوظ ہوا ہے‘ ورنہ طالبان تو یہ کام برسوں سے کر رہے ہیں اور تب سب ان کی حمایت کرتے تھے‘ پھر بھلا اب ہم کیوں روتے ہیں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...