ستمبر کے آخری ہفتے میں چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ کا تین روزہ دورہ کیا۔ یہ ان کا امریکہ کا پہلا دورہ نہیں تھا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران 2017ء میں بھی امریکہ کا دورہ کیا تھا مگر اُس اور حالیہ دورے میں بہت فرق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2017ء سے اب تک دنیا بہت بدل چکی ہے۔ خود صدر ٹرمپ کی چین کے بارے میں پالیسی اور رویے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 2016ء کے صدارتی انتخاب میں کامیاب ہو کر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2017ء میں اقتدار سنبھالا تو ان کے سر پر چین‘ امریکہ کی معیشت اور سٹرٹیجک بالادستی کیلئے سب سے بڑے چیلنج کی حیثیت سے سوار تھا۔ اس کی ذمہ داری وہ اپنے پیشرو‘ صدر باراک اوباما کی پالیسیوں پر ڈالتے تھے‘ جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں Pivot to Asia کے نظریے کے تحت چین کے ساتھ تعاون کی پالیسیوں کو فروغ دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران اور دوسری مدت کے آغاز میں چین کے خلاف جارحانہ پالیسی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن تقریباً دو سال کے بعد انہیں نظر آ گیا کہ اس سے چین کے بجائے امریکہ کو نقصان ہو رہا ہے‘ اس لیے انہوں نے سابقہ پالیسی کے انداز کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا ثبوت واشنگٹن سربراہی کانفرنس کے موقع پر امریکی صدر کی طرف سے اپنے چینی مہمان کیلئے بے مثال مہمان نوازی‘ تعریفی کلمات اور عالیشان پروٹوکول سے ملتا ہے۔ صدر ٹرمپ صدر شی کے استقبال کیلئے خود ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ اگرچہ سابقہ امریکی صدور‘ مثلاً آئزن ہاور اور جان ایف کینیڈی بھی اپنے زمانے میں کئی مہمانوں کو لینے کیلئے خود ایئرپورٹ گئے اور خود صدر ٹرمپ نے بھی صدر شی کے علاوہ اور مہمانوں کو یہ اعزاز بخشا ہے مگر 23ستمبر کو اینڈریو ایئربیس پر صدر ٹرمپ نے امریکن فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ کے ساتھ صدر شی اور اُن کی بیگم کو جہاز کی سیڑھیوں سے اترتے ہی جس گرم جوشی سے خوش آمدید کہا اس کی مثال نہیں ملتی۔ ابھی دونوں رہنماؤں کے درمیان رسمی اور باضابطہ بات چیت بھی نہیں ہوئی تھی کہ صدر ٹرمپ نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں جوپہلا جملہ کہا وہ یہ تھا کہ ''میں نے اور صدر شی نے آپس میں پکی دوستی قائم کر لی ہے‘‘۔
اندازہ کیجیے کہ اپنی نیشنل سکیورٹی پالیسی کی دستاویز میں چین کو امریکہ کیلئے سب سے سنگین خطرہ قرار دینے والے امریکی صدر کو صرف دو سال بعد اپنے سب سے بڑے حریف کو پکا دوست کہنا پڑا۔ صدر شی کا دورۂ امریکہ تین دن پر محیط تھا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے وفود کیساتھ اہم مسائل پر گفتگو کی بلکہ صدر ٹرمپ اور صدر شی نے تقریباً ایک گھنٹہ تنہائی میں ون آن ون ملاقات کی لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کسی بڑی پیش قدمی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ نہ ہی متنازع مسائل مثلاً تائیوان‘ ٹیرف‘ ساؤتھ چائنا سی اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ پر کسی سمجھوتے یا مفاہمت کا اعلان کیا گیا۔ حتیٰ کہ کانفرنس کے انعقاد پر کوئی مشترکہ بیان بھی جاری نہیں کیا گیا۔ اس کانفرنس نے اگر کوئی کامیابی حاصل کی تو یہ تھی کہ دونوں کے درمیان ٹیرف کی جنگ میں جو عارضی فائر بندی پہلے سے موجود ہے‘ اس میں جنوری 2027ء تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں ٹرمپ نے صدر شی کی اس درخواست کو کہ امریکہ تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنا بند کر دے‘ رد کر دیا۔ بلکہ یہ کہہ کر کہ امریکہ ساری دنیا میں ہتھیار فروخت کرتا ہے اور اسی پالیسی کے تحت وہ تائیوان کو بھی ہتھیار فروخت کر رہا ہے‘ امریکی صدر نے اپنے چینی مہمان کو پیشکش کی کہ چین چاہے تو امریکہ اسے بھی اپنے ہتھیار فروخت کرنے پر تیار ہے۔ مگر تائیوان کے بارے میں امریکی پالیسی اور ہتھیار بیچنے کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں۔ تائیوان چین کیلئے نیشنل سکیورٹی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ کمیونسٹ انقلاب (1949ء ) سے پہلے یہ جزیرہ چین کا حصہ تھا مگر چینی خانہ جنگی میں امریکی نواز چیانگ کائی شیک کی فوجوں نے شکست کھا کر اس میں پناہ لے لی تھی۔ اس وقت سے امریکہ اس کا چین کے حملے کے خلاف دفاع کرتا چلا آ رہا ہے‘ لیکن 1972ء میں امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد امریکہ پیپلز ری پبلک آف چائنا کو تمام چین کی نمائندہ حکومت تسلیم کرتا ہے۔ مگر دوسری طرف اس کی تائیوان پر پالیسی بہت مبہم ہے۔ ایک طرف اس کی پالیسی ون چائنا پر مبنی ہے مگر تائیوان میں بعض سیاسی عناصر کی طرف سے جزیرے کو ایک آزاد ملک قرار دینے کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ تائیوان کو کسی ممکنہ چینی حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید ترین ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ ہتھیاروں کی فروخت کے اس قسم کے ایک پیکیج کا امریکہ نے اعلان کر رکھا ہے مگر چین کے سخت اور پُرزور احتجاج پر صدر ٹرمپ نے اسے معرضِ التوا میں رکھا۔
واشنگٹن کی سربراہی کانفرنس کے موقع پر صدر شی نے صدر ٹرمپ سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو مستقل طور پر بند کرنے کی درخواست کی تھی لیکن صدر ٹرمپ نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں تائیوان کی ایک مضبوط لابی موجود ہے اور کانگریس نے ایک قانون منظور کر رکھا ہے جسکے تحت ہر امریکی حکومت تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے کی پابند ہے۔ دوسرے الفاظ میں امریکہ اور چین کے تعلقات کسی وقت بھی کشیدہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی چین امریکہ کی طرف سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت یا کسی قسم کی یکجہتی کے اظہار پر سخت ردِعمل دے سکتا ہے۔ اس لیے بیشتر تبصرہ نگاروں کی نظرمیں شی ٹرمپ واشنگٹن سربراہی کانفرنس نمائش‘ تکلف‘ مہمان نوازی اور باہمی ستائش کے لحاظ سے دس میں سے دس نمبروں کی مستحق ہے مگر ٹھوس‘ بنیادی اور دور رس نتائج کے حامل فیصلوں کے معیار پر ایک تہائی نمبروں کے قابل بھی نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ‘ فلسطین اور ایران کیخلاف جنگ‘ یکطرفہ فیصلے کرنے کا رویہ اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم مسائل پر فریقین میں جو اختلافات ایک عرصے سے چلے آ رہے ہیں وہ بدستور قائم ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چینی مندوب وائس چیئرمین ہینگ زینگ کی تقریر حقیقت کو واضح کرتی ہے لیکن اسکے باوجود اس سربراہی کانفرنس کے دنیا بھر میں چرچے ہوئے اور ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں تو اسکے بعد سراسیمگی کا عالم نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کانفرنس کے بعد صدر شی اور صدر ٹرمپ کے مابین نومبر میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن اور دسمبر میں جی 20 کی سربراہی کانفرنسیں لے موقع پر ملاقاتیں ہونے والی ہیں۔ ابھی تک دونوں رہنماؤں میں آٹھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں‘ جن میں پانچ صدر ٹرمپ کے پہلے اور تین دوسرے دور میں ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات یا عالمی اور علاقائی مسائل پر اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے مگر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک مفاہمتی سوچ کی بنیاد پڑ رہی ہے کہ اختلافات‘ مسابقت اور مفاداتی تصادم کے باوجود دونوں ملک مقابلے کی فضا میں رہتے ہوئے بھی پُرامن طور پر آگے بڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ دونوں میں تصادم اور محاذ آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ چین اور امریکہ کے درمیان اس مفاہمت کی بنیاد پڑنے سے بھارت کو سخت مایوسی ہوئی ہے کیونکہ 1950ء کی دہائی سے آج تک بھارت کی علاقائی اور عالمی پالیسیوں کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی دائمی ہے اور اس میں بھارت امریکہ کے اتحادی کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے‘ لیکن چین کی بقائے باہمی کے اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی نے دنیا میں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ خود بھارت کے تجزیہ کار اور سفارتی حلقے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ شی اور ٹرمپ کے درمیان دوستی نے بھارت کی سٹرٹیجک اہمیت کو کم کر دیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments