"DRA" (space) message & send to 7575

وسیع تصادم کا خطرہ

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں‘ اور خدشہ ہے کہ ایران پر امریکہ کے نئے حملوں سے نہ صرف خلیج فارس اور اس کے اردگرد کے خطے ایک تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ جائیں گے بلکہ یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر لشکر کشی اور ہوائی حملوں سے بحیرہ احمر اور باب المندب میں بھی خوفناک لڑائی چھڑ جائے گی۔ گزشتہ چند دنوں میں ان علاقوں میں امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے جو اقدام کیے گئے ہیں اُن سے ان خدشات کو تقویت پہنچتی ہیں۔ آبنائے ہرمز‘ بحیرہ عرب اور بحیرہ روم میں دو امریکی طیارہ بردار جہاز اپنے معاون تباہ کن جہازوں اور آبدوزوں کے ساتھ پہلے ہی سے موجود ہیں‘ اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ امریکہ اپنا تیسرا طیارہ بردار جہاز بھی مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ مزید 10 ہزار میرین فوجی مشرقِ وسطیٰ میں بھیج رہا ہے۔ یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے اردگرد اڈوں پر امریکہ کے پچاس ہزار فوجی پہلے ہی سے موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ کی دھمکیوں سے لبریز تقریروں سے نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر میں اس خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کی رائے میں اب ایران پر کسی بھی وقت امریکی حملہ ہو سکتا ہے اور اگر امریکہ نے اب حملہ کیا تو اس دفعہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوگا کیونکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس دفعہ وہ ایک ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے نہ صرف امریکی تنصیبات بلکہ جنگ میں امریکہ کی اعانت کرنے والے ممالک میں امریکی اڈوں اور آبنائے ہرمز سے دور‘ سمندروں میں موجود امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ ماہرین کی رائے میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ کے خدشات تقویت پکڑ رہے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے سات نکات پر مشتمل ایرانی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری طرف یمن میں سرکاری فوجیں سعودی عرب کی فضائی مدد سے حوثی جنگجوؤں پر ایک بڑے حملے میں مصروف ہیں۔ اس کا اعلان عدن کی یمن حکومت کے سربراہ صدر راشد العلیمی نے گزشتہ دنوں عوام سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے اپنے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ستمبر میں حوثیوں نے آبنائے باب المندب اور اس کے ساتھ یمن کے جن ساحلی علاقوں پر قبضہ کیا تھا‘ انہیں جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔ اس کیلئے یمن اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے عرب اتحاد کی ایک لاکھ فوج حوثیوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دو دن کی جنگ کے بعد یمنی فوج نے ٹینکوں‘ توپ خانے‘ ڈرون اور میزائلوں کی مدد سے حوثیوں کو بحیرہ احمر کے مقبوضہ علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا ہے اور آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ باب المندب کا علاقہ جہاز رانی کیلئے محفوظ ہو گیا ہے۔ آبنائے باب المندب کے شمال میں واقع پہاڑی علاقے اب بھی حوثیوں کے قبضے میں ہیں اور سرکاری فوجوں کیلئے انہیں وہاں سے نکالنا آسان نہیں ہوگا۔ یمن کی سرکاری فوجوں کے حملوں اور سعودی عرب کی طرف انہیں ایئر کور مہیا کرنے کے خلاف حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ یمن سے متصل صوبے عسیر میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی شہر رابغ میں تیل کے ذخیرے کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اب ان کی کھلی جنگ ہے اور وہ ڈرون اور میزائل حملوں سے سعودی عرب میں ہر قسم کے اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ اس کے جواب ریاض میں ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد‘ جس پر پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں سال 7 اگست کو دستخط کیے تھے‘ کی سٹرٹیجک پولیٹکل اور ڈیفنس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں مشترکہ طور پر سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور تینوں ملکوں نے متفقہ طور پر سعودی عرب میں مشترکہ فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ سعودی عرب کو مزید کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہوگی تو وہ مہیا کی جائے گی۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف جنہوں نے ریاض میں مکہ معاہدہ کی کمیٹی میں پاکستان کی نمائندگی کی‘ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو جس قسم کی امداد کی ضرورت ہے وہ مہیا کی جا رہی ہے؛ البتہ پاکستان اور ترکیہ میں سے کسی ملک کی فوج حوثیوں کے خلاف یمنی فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑ رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکہ معاہدہ ایک دفاعی معاہدہ ہے اور رکن ممالک صرف اس صورت میں سعودی عرب کی مدد کرنے کے پابند ہیں جب وہ بیرونی جارحیت کا شکار ہو۔ اس وقت حوثی ڈرون اور میزائلوں سے سعودی عرب پر حملہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کی وجہ سعودی عرب کی طرف سے 2022ء سے بحری ناکہ بندی اور اب (5اکتوبر) سے یمن کی سرکاری فوج کو ایئر کور مہیا کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمن کی سرکاری فوج کو 100کے قریب سعودی جیٹ لڑاکا طیاروں کی معاونت حاصل ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو جدید ترین لڑاکا طیارے فروخت کر رکھے ہیں اور صدر ٹرمپ نے سعودی ایئر فورس کو حوثیوں کے ٹھکانوں کی انٹیلی جنس مہیا کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دیگر الفاظ میں امریکہ یمن جنگ میں براہِ راست ملوث نہیں مگر سعودی فضائیہ کو حوثیوں کے ٹھکانوں کو خفیہ اطلاعات ضرور مہیا کر رہا ہے۔
پاکستان کی طرف سے گزشتہ ماہ یمن کی حکومت کو ہلکی توپیں‘ میزائل اور ڈرونز پر مشتمل ہتھیاروں کی کھیپ بھیجنے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب مکہ معاہدے کے ہنگامی اجلاس کا اعلامیہ دیکھا جائے تو اس کیلئے چنے گئے الفاظ کے مطالعہ اور ان پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ دونوں میدانِ جنگ میں اپنی فوجیں بھیجنے پر آمادہ نہیں ہیں‘ تاہم اس کے علاوہ وہ سعودی عرب کی ہر قسم کی مدد کرنے پر تیار ہیں۔ یمن میں حوثیوں اور سرکاری فوجوں کے درمیان کھلی جنگ پر تبصرہ کرنے والوں کی رائے ہے کہ یمنی فوجیں اگر ملک کے جنوبی حصے سے حوثی جنگجوؤں کو بھگانے میں کامیاب ہو جائیں تب بھی یمن کی جنگ بند نہیں ہوگی کیونکہ حوثی جنگجو ہتھیار ڈالنے کے بجائے شمال کے پہاڑی اور دشوار گزار وادیوں پر مشتمل علاقوں میں مورچہ سنبھال لیں گے اور یمنی فوجوں کے خلاف گوریلا کارروائیاں کریں گے۔ 2014ء سے 2022ء تک سعودی عرب نے حوثی قبائل کو سرنگوں کرنے کیلئے متعدد حملے کیے‘ ان حملوں میں اسے امریکہ کی فضائی مدد بھی حاصل تھی مگر یہ حملے حوثیوں کو شکست نہیں دے سکے۔ اس دفعہ ان کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے اور وہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔ چنانچہ روایتی جنگ لڑنے والی یمنی فوج حوثیوں کا قلع قمع نہیں کر سکے گی لہٰذا خدشہ ہے کہ جنگ طول پکڑے گی اور اس سے اردگرد کے ممالک بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
پاکستان کیلئے یہ ممکنہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے کہ وہ بحری راستے جن کے ذریعے پاکستان کی 80 فیصد درآمدات اور برآمدات گزرتی ہیں‘ اس جنگ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ وہ خطہ ہے جہاں پاکستان اور چین کے تعاون سے تعمیر کی جانے والی راہداری‘ سی پیک کی جنوبی ٹرمینل بندرگاہ‘ گوادر واقع ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں جنگ کے بجائے امن اور صلح کو اپنی پہلی ترجیح قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...