گزشتہ ایک صدی سے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کی قوموں کی قسمت کا فیصلہ خطے سے باہر کے ممالک میں ہوتا چلا آ رہا ہے مگر تہران میں مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کی ایرانی حکام سے 26 اکتوبر کی ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ان خطوں کی سلامتی‘ ترقی اور خوشحالی سے متعلق امور ان خطوں کے عوام بالآخر اپنے ہاتھوں میں لینے والے ہیں۔ اگرچہ تاریخی تبدیلی کے اس ناگزیر عمل کا آغاز بہت پہلے ہو چکا تھا تاہم رواں برس فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے اور بعد کے حالات نے اسے مہمیز دی ہے۔
یورپ کی تین بڑی نوآبادیاتی طاقتوں برطانیہ‘ فرانس اور اٹلی نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں‘ جن میں سلطنت عثمانیہ بھی شامل تھی‘ کو شکست دینے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیاسی نقشے کی لکیریں کھینچی تھیں۔ پہلی جنگ عظیم سے پہلے پورا جزیرہ نمائے عرب سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اور عراق‘ اردن‘ لبنان اور شام کا کوئی انفرادی وجود نہیں تھا‘ تاہم یورپ کی مذکورہ بالا نوآبادیاتی طاقتوں نے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرکے ان ریاستوں کو تخلیق کیا اور پھر 1922ء میں لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹ سسٹم کے تحت ان کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یورپی نوآبادیاتی طاقتوں نے مشرقِ وسطیٰ پر اپنے کنٹرول کو ناقابلِ شکست بنانے کیلئے خطے کے اندر اور اس کے باہر‘ وسیع اور طاقتور بحری اور فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے‘ خصوصاً برطانیہ‘ جس کے زیر قبضہ علاقوں کا سلسلہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ براعظم افریقہ کی مشرقی پٹی اور برصغیر تک پھیلا ہوا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ اور فرانس عسکری اور ساختی لحاظ سے اتنے کمزور ہو گئے کہ ان کی جگہ مشرقِ وسطیٰ کے تحفظ کی ذمہ داری امریکہ نے سنبھال لی۔
جس وقت امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالی اس وقت سوویت یونین کے ساتھ اس کی سرد جنگ شروع ہو چکی تھی اور خطے کے بعض ممالک اور مقامی کمیونسٹ پارٹیوں کے ذریعے اس کا اثر و رسوخ پھیل رہا تھا۔ مقامی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں مصر کے جمال عبدالناصر کی قیادت میں عرب قوم پرستی خطے میں امریکہ کی بالادستی کیلئے ایک بہت بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی۔ مئی 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے اعلان سے مشرقِ وسطیٰ کے امن کیلئے ایک اور بڑا خطرہ پیدا ہوا کیونکہ عرب ممالک نے اجتماعی طور پر یہودی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی 1948ء میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی۔ اس لیے امریکہ نے آئندہ جنگوں کے امکانات کو ختم کرنے اور خطے کو ممکنہ روسی حملے سے بچانے کیلئے خطے کے اندر اور باہر نئے فوجی اڈے قائم کیے اور 1955ء میں پاکستان‘ ایران‘ ترکیہ‘ عراق اور برطانیہ پر مشتمل ''معاہدۂ بغداد‘‘ کیا‘ مگر اس معاہدے کے قیام کے بعد صرف ایک سال کے اندر نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کی بنا پر مصر پر برطانیہ‘ فرانس اور اسرائیل نے مل کر حملہ کر دیا۔1958ء میں عراق کی علیحدگی کے بعد معاہدۂ بغداد کا نیا نام سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) رکھ دیا گیا۔ امریکہ کی سرپرستی اور فوجی امداد بدستور جاری رہی‘ مگر خطے کے امن اور تحفظ کیلئے امریکی سرپرستی میں فوجی معاہدوں اور اڈوں پر مشتمل جو نظام قائم کیا گیا تھا وہ آنے والے وقت میں بری طرح ناکام رہا۔ 1967ء اور اسکے بعد 1973-74ء میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگوں نے مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے مسئلے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا۔
1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے سینٹو کو آخری ضرب لگائی کیونکہ ایران اس کا ایک اہم رکن تھا‘ لیکن امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت کم نہیں کی بلکہ اس میں مزید اضافہ کرکے اس کے دفاع کیلئے ایک علیحدہ اور براہِ راست اپنے کنٹرول میں ایک دفاعی تنظیم ''سینٹ کام‘‘ قائم کی۔ تاہم ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ مشترکہ جنگ میں یہ نظام بھی خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو تحفظ دینے میں ناکام رہا۔ اگست 2026ء میں پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد کے معرضِ وجود میں آنے کا سبب یہی حقیقت ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران جب امریکہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے نہ بچا سکا تو قطر پہلا ملک تھا جس نے برملا اعتراف کیا کہ اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا اور خطے کے امن و تحفظ کیلئے باہمی تعاون کے علاوہ ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ بھی پُرامن تعلقات قائم کرنا پڑیں گے۔ 26 اکتوبر کو تہران میں مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کی حیثیت سے بالترتیب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابرہیم قالن کی آمد اور ایرانی حکام سے ملاقات خلیجی ممالک میں جنم لینے والی اس نئی سٹرٹیجک سوچ کا نتیجہ ہے۔ یاد رہے کہ اس ملاقات سے ایک ہفتہ پہلے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا تھا اور ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کے نمائندہ رہنماؤں کی ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔ تہران میں مکہ معاہدے کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے مابین ماسکو میں ملاقات ہوئی اور اس ملاقات کا مقصد بھی خلیج میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اور جنگ کے امکانات کو ختم کرنا تھا۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف بھی اکتوبر کے آغاز میں ایران کا دورہ کر چکے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مصر‘ جس کی پارلیمنٹ نے حوثی قبائل کے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچانے کیلئے سعودی عرب کو دفاعی نوعیت کی مدد فراہم کرنے کی اجازت دی ہے‘ بھی ایران کے ساتھ رابطے میں ہے اور کسی ایسے معاہدے کی تلاش میں ہے جس کے نتیجے میں یمن کی جنگ مزید شدت اختیار نہ کر سکے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کو بھی ایک خط لکھا ہے جس میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ علاقائی‘ خصوصاً خلیج عرب کی ریاستیں خطے میں ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کو روکنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں۔ روس اور چین‘ جو اگرچہ مشرقِ وسطیٰ سے متصل ممالک نہیں‘ وہ بھی پوری مستعدی کے ساتھ اس سفارتی کوشش کی حمایت کر رہے ہیں۔ لیکن کیا ان تمام تر سفارتی سرگرمیوں اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے مابین ایک نئی جنگ کا خطرہ ٹل جائے گا؟ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جنگ ناگزیر ہے؛ البتہ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں اگر نیتن یاہو اسرائیل کا وزیراعظم نہ رہا تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے کیونکہ جون 2025ء اور فروری 2026ء میں‘ دو بارنیتن یاہو کے مشورے پر ایران پر حملہ کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ پھر سے ایران کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک کو بھی معلوم ہے کہ وہ ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے سے نہیں روک سکتے کیونکہ پہلے دو مواقع پر بھی ٹرمپ نے اپنے خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔
موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا مقصد اس ممکنہ جنگ‘ جس کی امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ پوری تیاری کر چکے ہیں‘ کی شدت کو کم کرنا اور اسے دوسرے ممالک تک پھیلنے سے روکنا ہے۔ مگر جنگ ہو یا نہ ہو‘ نہ صرف خلیج فارس بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے مسلط کردہ سکیورٹی سسٹم سے ہٹ کر خطے کے ممالک کے درمیان باہمی اعتماد‘ ایک دوسرے کے علاقائی سلامتی کے مفادات کے احترام اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے اصول پر مبنی ایک نئے اجتماعی سکیورٹی نظام کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments