"DRA" (space) message & send to 7575

سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین کشیدگی کے اثرات

رواں برس 28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تو بین الاقوامی امور کے تقریباً تمام ماہرین کی متفقہ رائے تھی کہ یہ جنگ خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصے بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ تقریباً سات ماہ کے بعد یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان شدید جھڑپوں نے یہ بات سچ ثابت کر دی ہے۔ اگرچہ فریقین کے درمیان جھڑپوں کا آغاز رواں سال جولائی میں ہی ہو گیا تھا مگر رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں حوثی باغیوں نے جس برق رفتاری کے ساتھ آبنائے باب المندب کے ساتھ ساحل اور اہم جزائر پر قبضہ کیا ہے‘ اس نے ایک طرف سعودی عرب کیلئے مشکل حالات پیدا کر دیے ہیں تو دوسری طرف دنیا میں تیل اور گیس کی سپلائی کو مزید محدود کر دیا ہے۔ اگرچہ حوثی باغیوں نے آبنائے باب المندب کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کو ملانے والے اس تنگ آبی راستے سے سوائے سعودی عرب کے باقی تمام ممالک کے ٹینکرز گزر سکتے ہیں‘ مگر سعودی عرب سے تیل کی سپلائی کی بندش عالمی تیل مارکیٹ کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے کیونکہ آبنائے باب المندب کے راستے سے گزرنے والے تیل میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب ہی کا ہے۔
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے راستے تجارتی بندش کی صورت میں تیل کی برآمدات جاری رکھنے کیلئے ایک 1200کلومیٹر لمبی آئل پائپ لائن تعمیر کی ہے اور اس کے مشرقی تیل کے ذخائر سے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ سے باب المندب کے راستے تیل برآمد کیا جا رہا تھا۔ مگر اب یہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا ہے کیونکہ حوثیوں نے اس پائپ لائن کو دو جگہ سے بمباری کر کے نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پائپ لائن کی مرمت کرنے اور اسے واپس آپریشنل حالت میں لانے کیلئے کم از کم دو ہفتے درکار ہوں گے۔ اس لیے سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنی بندرگاہوں کو تیل کی سپلائی بند کر دی ہے۔ سعودی عرب کے اس اقدام سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس سے پاکستان جیسے وہ ممالک جو خلیج فارس اور باب المندب سے تیل درآمد کرتے ہیں‘ سخت مشکلات کا شکار ہیں‘ مگر حوثی باغی‘ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر ایران کی حمایت حاصل ہے‘ سعودی عرب کے ساتھ ان کی جھڑپیں اگرچہ دس سال سے جاری ہیں مگر اب ان میں شدت نے علاقائی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے کیونکہ سعودی عرب نے حوثی حملوں کے خلاف بیرونی مدد کے حصول کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مداخلت کی درخواست کی‘ لیکن ٹرمپ نے براہِ راست مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے دفاع کیلئے ذمہ دار سینٹرل کمانڈ کی وساطت سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان حوثی حملہ آوروں کے خلاف انٹیلی جنس کی فراہمی پر مذاکرات کا اہتمام کیا۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے برطانیہ سے بھی مدد کی اپیل کی مگر برطانوی حکومت نے بھی براہِ راست مداخلت سے معذرت کرتے ہوئے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف جنگ میں مدد دینے کیلئے مشیروں پر مشتمل ایک ٹیم بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی۔ مدد کی تلاش میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مصر کا بھی دورہ کیا اور صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ یاد رہے مصر 2015ء میں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والے ''عرب کولیشن‘‘ کا رکن بھی ہے لیکن مصر نے بھی سعودی عرب کے دفاع کیلئے اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کیا ہے اور جنگ کے بجائے مشاورتی ذرائع سے پُرامن حل پر زور دیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں جہاں تک مکہ دفاعی معاہدے کا تعلق ہے تو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ابھی اسے آپریشنل بنانے کیلئے ضروری ڈھانچہ اور اصولی قواعد تیار نہیں کیے جا سکے۔ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری جھڑپوں کے فوری خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کیونکہ یہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی توسیع ہے اور جب تک ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی‘ یہ جنگ جاری رہے گی۔ اس جنگ کے جاری رہنے سے دنیا میں نہ صرف تیل‘ گیس اور دیگر اشیا کی قلت پیدا ہونے کا شدید خدشہ ہے بلکہ یورپ اور ایشیا کے کروڑوں باشندوں کی زندگیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ جنگ ایک ایسی تنگ آبی گزرگاہ (آبنائے باب المندب) کے گرد گھومتی ہے جس نے نہر سویز کے راستے یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان سفر اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی ترسیل میں فاصلے کو کئی گنا کم کیا ہے۔
اگر آبنائے باب المندب کو بلاک کیا جاتا ہے تو یورپ‘ خصوصاً مشرقی اور جنوبی یورپ‘ اور جنوب مشرقی ایشیا کے لوگوں کے درمیان نہر سویز کے راستے براہِ راست اور کم فاصلے والا رابطہ ختم ہو جائے گا۔ ان خطوں کے ممالک کو نہ صرف اپنی برآمدات میں کمی اور درآمدات کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ہنگامی حالات مثلاً سیلاب‘ زلزلہ یا سونامی کی صورت میں انسانی جانوں کی حفاظت کیلئے بروقت امداد کی فراہمی میں بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان شروع ہونے والی یہ جنگ اگرچہ ابھی ڈرون‘ میزائل حملوں اور ہوائی جہازوں کی بمباری تک محدود ہے مگر خدشہ ہے کہ یہ بہت جلد زمینی حملوں میں تبدیل ہو جائے گی کیونکہ آبنائے باب المندب اور اس کے ساتھ ملنے والے ساحل پر حوثی باغیوں کے قبضے کو فضائی حملوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے ''آن گراؤنڈ‘‘ یعنی ٹینکوں‘ توپ خانے اور ہتھیاروں سے لیس فوج اور بحری جہازوں سے گولہ باری کی بھی ضرورت پڑے گی۔ زمینی حملے کیلئے نو ممالک پر مشتمل سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والا فوجی اتحاد حرکت میں آ سکتا ہے۔ بحری کارروائیوں میں رواں سال اگست میں قائم ہونے والی ''ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس کولیشن‘‘ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ تنظیم خصوصی طور پر بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے تحفظ کیلئے بنائی گئی ہے اور اس میں سعودی عرب‘ ترکیے‘ یمن‘ بحرین اور قطر کے علاوہ پاکستان بھی بحیثیت بانی رکن شامل ہے۔ خدشہ ہے کہ سعودی عرب اور یمن عرب اتحاد اور ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس کولیشن کی مدد سے حوثیوں کو آبنائے باب المندب اور اس کے اردگرد علاقوں سے بے دخل کرنے کیلئے بیک وقت ہوائی‘ بری اور بحری حملہ کر سکتے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں حوثی باغیوں کو آبنائے باب المندب اور حال ہی میں قبضے میں لیے گئے شہروں کو خالی کر کے پیچھے ہٹنا پڑ سکتا ہے‘ مگر اس سے یمن کا اندرونی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس کی کیا وجہ ہے‘ اور یمن کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ حوثی باغی کیا چاہتے ہیں؟ سعودی عرب کے یمن سے کیا مفادات وابستہ ہیں‘ اور اگر جنگ کی وجہ سے آبنائے باب المندب لمبے عرصے تک بند رہتی ہے تو اس کے علاقائی اور عالمی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ کیا مکہ دفاعی معاہدہ حرکت میں آ سکتا ہے؟ اس کے نتیجے میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک‘ خصوصاً ایران کے ساتھ تعلقات کس حد تک متاثر ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ پاکستان نہ صرف مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج کے عرب ممالک کے ساتھ ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس کولیشن‘ جسے خاص طور پر بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے قائم کیا گیا ہے‘ میں بھی شامل ہے۔ ان سب سوالات کے جوابات آئندہ کالموں میں دیے جائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...