"DRA" (space) message & send to 7575

آزاد کشمیر : اختلافات اور چیلنجز

آزاد جموں وکشمیر سے آنے والی تازہ خبروں کے مطابق الیکشن کی فاتح جماعت مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم کیلئے بیرسٹر افتخار گیلانی کو نامزد کیا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل شاہ غلام قادر کی نامزدگی کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ جس اجلاس میں بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی کا فیصلہ کیا گیا‘ اُس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے تھے اور اجلاس میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنمائوں نے پارٹی کے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے‘ اس طرح آزادکشمیر کی نئی حکومت تشکیل سے پہلے ہی اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ اچھا شگون نہیں ہے کیونکہ نازک مواقع پر سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ سیاسی استحکام ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ریاست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اُن کی سب سے اہم اور پہلی ترجیح امن و امان کا قیام ہوگا لیکن اس جانب پہلا قدم اٹھانے سے پہلے ہی اعلیٰ سطحی پارٹی قیادت میں اختلاف پیدا ہونے کے بعد یہ مقصد حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ خاص طور پر ایسے موقع پر جبکہ ابھی انتخابات کی شفافیت پر بھی کئی سوالیہ نشان ہیں اور پیپلز پارٹی کا احتجاج جاری ہے۔ قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کا بائیکاٹ کر کے پیپلز پارٹی نے جس طرح حکومت کی طرف سے قانون سازی کے عمل میں رکاوٹ ڈالی‘ اس کے تناظر میں آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب اور حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے کہ اگر تحریک انصاف انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرتی آزاد کشمیر کا سیاسی نقشہ مختلف ہوتا۔ پچھلے (2021ء کے) انتخابات میں پی ٹی آئی نے قانون ساز اسمبلی کی 32نشستیں حاصل کی تھیں اور مسلم لیگ (ن) کی اسمبلی میں کم و بیش وہی پوزیشن تھی جو آج پیپلز پارٹی کی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نے آزاد کشمیر کی خصوصاً پچھلے پانچ برس کی سیاست سے کوئی سبق نہیں سیکھا کہ کس طرح دو تہائی اکثریت حاصل کرنے والی پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار ہو کر اقتدارسے محروم ہو گئی۔
وزیراعظم کے عہدے کیلئے نامزدگی کے بعد ابھی نہ صرف اسمبلی میں جناب افتخار گیلانی کو ارکان کی اکثریت کے ووٹ حاصل کرنا ہوں گے بلکہ اس کے بعد کابینہ سازی کا مرحلہ بھی درپیش ہوگا۔ ان تمام مراحل سے کامیابی سے گزرنے کیلئے پارٹی کی صفوں میں اتحاد اشد ضروری ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم پارٹی کے مائنڈ سیٹ اور اپروچ میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والی اندرونی سیاسی اور بیرونی جیوپولیٹکل تبدیلیوں نے خطے میں دیگر قوموں کے علاوہ کشمیریوں کی سوچ پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں خصوصاً مسلم لیگ (ن)‘ جو نسلی بنیاد پر کشمیریوں سے زیادہ قربت کا دعویٰ کرتی ہے‘ جتنی جلدی اس تبدیلی کو سمجھ لیں اور اس کے مطابق اپنی پالیسی اور رویے میں مناسب تبدیلیاں کر لیں‘ ان کے حق میں بہتر ہے۔
سب سے پہلے تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آزاد کشمیرکے اندرونی حالات نارمل نہیں ہیں۔ وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی یہ توقع کہ انتخابات کے نتیجے میں حالات نارمل ہو جائیں گے‘ پوری نہیں ہوئی۔ ملک کی ایک بڑی جماعت نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری بڑی پارٹی انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں‘ کیونکہ اس کے دعوے کے مطابق انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ انتہائی کم ٹرن آؤٹ انتخابی مہم سے عوام کی عدم وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کی طرف سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی جاری ہے اور اس کے رہنماؤں اور مظاہرین کو غدار اور ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں امن واستحکام اور تعاون کی فضا کیسے قائم ہو سکتی ہے؟ بلاشبہ ریاست کے عوام محب وطن اور پاکستان کے وفادار ہیں۔ وہ محض اپنے حقوق کے حصول کی بات کرتے اور بدلے ہوئے حالات میں ریاست کے انتظامی اور سیاسی نظام میں ضروری تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ ان حالات میں ڈیڈ لاک ختم کرنے کیلئے ریاست کو پہل کرنی چاہیے۔ غیر سیاسی اور غیر جانبدار طبقوں کی متفقہ رائے ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو کچلنے کیلئے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی‘ دوسری طرف سے بھی پُرتشدد ردِعمل آیا اور دونوں طرف سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سلسلے کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔ نومنتخب حکومت اور مرکز باہمی مشاورت سے اس سمت قدم اٹھا سکتے ہیں۔ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات طے کر کے امن و امان کی صورتحال بحال کرنا ہے۔ اگرچہ حکومت کو دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے مگر فیصل راٹھور کے اس بیان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوطرفہ کشیدگی کے نتیجے میں عوام کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اُن پر اندرون اور بیرونِ ملک تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورۂ انگلینڈ کے دوران برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کے ایک گروپ نے اُن سے ملاقات کر کے انہیں اپنے خدشات اور تشویش سے آگاہ کیا۔ برطانیہ میں تقریباً 10لاکھ کے قریب پاکستانی نژاد تارکین وطن مقیم ہیں اور اکثریت کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ نائب وزیراعظم نے پاکستانی نژاد ارکانِ برطانوی پارلیمنٹ کو یقین دلایا ہے کہ وہ آزاد کشمیر‘ وفاقی حکومت‘ دیگر سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے‘ ریاست کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جناب اسحاق ڈار کو اس مقصد کیلئے اپنی کوششوں کا فوری طور پر آغاز کر دینا چاہیے تاکہ یہ سلسلہ تھم سکے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا ایک بیان سامنے آیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 99فیصد ارکان محب وطن اور پاکستان کے وفادار ہیں‘ صرف ایک فیصد ایسے ہیں جن کے تانے بانے بیرونِ ملک سے ملتے ہیں۔اس دعوے کو درست تسلیم کرتے ہوئے درخواست کی جاتی ہے کہ محض ایک فیصد کے خلاف کارروائیوں سے 99فیصد کیلئے ایسی مشکلات نہ پیدا کریں جن کی وجہ سے ان کا اعتماد مجروح ہو۔ اور وہ ایک فیصد‘ جو گمراہ ہو چکے ہیں‘ ان کو بھی واپسی کیلئے امن اور سلامتی کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔ سابق وزیراعظم فیصل راٹھور نے بالکل درست کہا کہ اس چیلنج کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کیلئے ڈائیلاگ ہی واحد راستہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بلوچستان کے حوالے سے بھی ایسی رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ تشدد اور تصادم کے مسئلے کا واحد حل ڈائیلاگ ہے۔ امید ہے کہ نئی حکومت آزاد کشمیر میں امن‘ تعاون اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے اور باہمی اختلافات اور تنازعات کو حل کرنے کیلئے ڈائیلاگ کا آغاز کرے گی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔ صرف چند کوتاہ اندیش ہیں جو طاقت کے استعمال کو اختلافات کے حل کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاریخ نے ہر دور میں ثابت کیا ہے کہ یہ اپروچ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاسی و انتظامی ذمہ داران کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب سیاسی حرکیات تبدیل ہو چکی ہیں‘ اب عوام زیادہ باشعور ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...