بے قصوروں کا قصوری وکیل

میاں محمود علی قصوری 1910ء میں قصور کے ایک ممتاز علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گھر والوں نے تو نام محمود علی رکھا مگر جب بڑے ہوئے تو ''قصوری‘‘ نام کا حصہ بن گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے لاء کالج سے قانون کی ڈگری لینے کے بعد وہ برطانیہ گئے‘ جہاںایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی اور بیرسٹر بن کر لاہور واپس آئے۔ اُنہوں نے اپنی جرأت‘ بہادری‘ بے خوفی اور اُصول پسندی کی خوبیوں کی وجہ سے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خوب شہرت سمیٹی۔ وہ پاکستان میں چوٹی کے وکیل تھے‘ تاہم انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی حفاظت کی جدوجہد میں اس چوٹی کے وکیل کو بھی کئی بار جیل جانا پڑا۔
میاں محمود علی قصوری سے میری ملاقاتوں کی داستان بہت دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ 1953ء میں لائل پور کے گورنمنٹ کالج کے بین الکلیاتی مباحثے میں میرا تعارف اعجاز چشتی (مرحوم) سے اور ان کے توسط سے چشتی گھرانے کے سب افراد سے ہوا۔ مباحثہ میں اعجاز چشتی اورینٹل کالج لاہور کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اقبال فیروز قائدِ ایوان اور میں قائد حزبِ اختلاف تھا۔ اُس وقت ہرگز اندازہ نہ تھا کہ حصولِ تعلیم کا مرحلہ ختم ہو جانے کے بعد زندگی حزبِ اختلاف ہی میں گزرے گی اور اس وجہ سے کتنی ہی مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ اگلے برس میرے والد صاحب جوڈاکٹر تھے‘ کا تبادلہ سیالکوٹ ہو گیا۔ 1954ء میں ایک روز اعجاز چشتی کا فون آیا اور انہوں نے یہ تکلیف دہ خبر سنائی کہ اُن کے بھائی (ریاض عرفی) جو محکمہ خوراک میں افسر تھے‘ کو رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ میں لاہور آکر اُن کی اخلاقی مدد کروں۔ بی اے کا ایک طالبعلم بھلا اُن کی کیا مدد کر سکتا تھا‘ اُلٹا اُن پر مہمان نوازی کا بوجھ ڈالتا۔ اسی ادھیڑ بن میں ابا جی سے ایک ہفتہ کے لیے لاہور جانے کی اجازت لے کر اُسی دن لاہور کیلئے روانہ ہو گیا۔ ریاض عرفی کے تینوں بھائیوں نے انہیں ضمانت پر رہا کرانے کے لیے اپنی جان لڑا دی۔ محمود قصوری صاحب ان کے وکیل تھے اور ہم اُنہیں ہر روز ملتے تھے۔ نچلی عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی‘ اب معاملہ ہائیکورٹ میں چلا گیا تھا۔ جس روز ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی‘ میں بھی وہاں موجود تھا۔ قصوری صاحب کے اچھے دلائل اپنی جگہ مگر میں ان کی پاٹ دار اور گرجدار آواز سے متاثر ہوا۔ وہ ضمانت کرانے میں کامیاب رہے۔ بعد ازاں ہم جیل کے عملے سے مل کر عدالتی حکم پر تعمیل کا انتظار کر رہے تھے کہ راولپنڈی سازش کیس میں سزا یافتہ سابق ایئر کمووڈر ایم کے (محمد خان) جنجوعہ وہاں نظر آئے۔ اُنہوں نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ فرائض میں کوتاہی پر جیل کے افسروں کی خبر لینے آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمیں یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ یہ کام ایک قیدی کس طرح کر سکتا ہے‘ تاہم تھوڑی دیر بعد یہ منظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جیل کے افسران جب ریاض عرفی کو ہمارے حوالے کرنے آئے تو اُنہوں نے ایک آتش زیرپا قیدی کو اپنا منتظر پایا۔ جنجوعہ صاحب اُن پر خوب گرجے برسے اور جیل افسران بھیگی بلی بن کر ان کے زبانی لاٹھی چارج کو برداشت کرتے رہے۔ وہ اپنی وضاحتیں پیش کر رہے تھے جو جنجوعہ صاحب اپنی جلالی کیفیت میں مسترد کرتے جا رہے تھے۔ ہم عرفی صاحب کو لے کر وہاں سے روانہ ہو گئے‘ نہیں معلوم کہ ہمارے جانے کے بعد یہ معاملہ کس طرح طے پایا۔ بہرکیف‘ بعد ازاں ہم قصوری صاحب کے گھر شکریہ ادا کرنے گئے۔ اُنہوں نے ہمیں چائے پلائی اور طے شدہ فیس سے نصف رقم لی۔ یہ ایک وکیل اور کلائنٹ کا رابطہ تھا۔ اس کے بعد میرا ان سے حقیقی تعارف 1966-67ء میں لاہور میں ہوا اور میری برطانیہ نقل مکانی تک یہ تعلق ایک نیاز مندانہ رشتے میں تبدیل ہو چکا تھا۔
1966ء میں مجھے (اور سکندر جمالی مرحوم کو) صدارتی انتخابات میں مادرِ ملت فاطمہ جناح کی حمایت کرنے پر ایچیسن کالج لاہور کی ملازمت سے ایک منٹ کا نوٹس دیے بغیر بیک جنبش قلم برخاست کیا گیا تو میں اس نادر شاہی کے حکم کے خلاف ہائیکورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کے لیے محمود قصوری صاحب کے پاس قانونی مدد مانگنے گیا۔ انہوں نے کالج میں ملازمت کے قواعد وضوابط (جو انگریز راج میں بنائے گئے تھے) پڑھ کر کہا کہ اگرچہ ہم ناکام ہوں گے مگر میں فیس لیے بغیر آپ کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہوں (وہ جانتے تھے کہ میں اُن کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہوں)۔ سائل نے چون و چرا کیے بغیر ان کی ماہرانہ رائے کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا‘ ورنہ مقدمہ میں ناکامی سے دہرا صدمہ برداشت کرنا پڑتا۔
میرے لیے یہ خبر خوشی کا باعث بنی کہ قصوری صاحب پیپلز پارٹی کے بانیان میں شامل ہیں۔ اُن کے وزیر قانون بنائے جانے پر یہ خوشی دگنی ہو گئی۔ 1973ء میں آئینِ پاکستان کا مسودہ تیار کرنے میں بھی اُن کا کردار کلیدی تھا۔ جب وہ وزارت چھوڑ کر پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوئے تو یہ باعثِ افسوس تو تھا مگر مقامِ حیرت ہر گز نہ تھا۔ اگرچہ قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں بھٹو صاحب کی چھوڑی ہوئی نشست جیت کر وہ پارلیمان کے رکن بنے تھے مگر جب بھٹو صاحب نے جمہو ری قدروں کو پامال کرتے ہوئے اور اپنے پرانے باس (فیلڈ مارشل ایوب خان) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے رہنمائوں کو گرفتار اور ان پر سراسر جھوٹے مقدمات چلوا کر اُنہیں جیلوں میں بند کرنا شروع کیا تو قصوری صاحب جیسے باضمیر اور بااُصول شخص کو بھٹو صاحب کی سیاسی رفاقت اور وزارت‘ دونوں کو خیرباد کہنا پڑا۔ ویسے بھی بھٹو صاحب نے جس طرح جے اے رحیم (جنہیں وہ ایک زمانہ میں اپنا قائد کہتے تھے) پر اپنی پروردہ پولیس فورس سے جسمانی تشدد کر کے اور بہت بے عزت کر کے انہیں وزارت سے ہٹایا تھا‘ اس کے بعد قصوری صاحب کا بھٹو کے ساتھ گزارہ مشکل ہو چکا تھا‘ جن کے چہرے پر پڑے ہوئے سب نقاب اُتر چکے تھے۔
محمود قصوری صاحب نے قانونی پریکٹس کے ساتھ عملی سیاست میں یوں قدم رکھا کہ وہ قیام پاکستان سے پہلے انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ‘ دونوں میں شامل ہوئے۔ اس زمانے میں دونوں جماعتوں کی بیک وقت رکنیت کی اجازت تھی اور دونوں سیاسی جماعتیں باہم اتفاقِ رائے سے ایک ہی شہر میں ایک ہی وقت اپنا سالانہ اجلاس منعقد کرتی تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کا حال دیکھ کر وہ اس سے علیحدہ ہو گئے اور آزاد پاکستان پارٹی بنانے والوں میں شامل ہو گئے۔ اگلا مرحلہ نیشنل عوامی پارٹی (جو ترقی پسند اور بائیں بازو کی ملک گیر سیاسی جماعت تھی) میں شمولیت تھی۔ میاں محمود علی قصوری کا آخری سیاسی پڑائو ایئر مارشل (ر) اصغر خان کی تحریک استقلال تھی‘ جس کے ساتھ وہ 1987ء میں اپنی وفات تک وابستہ رہے۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میاں محمود علی قصوری کو سوویت یونین کی طرف سے سٹالن امن انعام بھی دیا گیا تھا۔ وہ برطانیہ میں عالمی شہرت کے حامل فلاسفر اور عالمی امن کی خاطر جدوجہد کرنے والوں کے قائد برٹرینڈ رسل کے بنائے ہوئے ''رسل ٹریبونل‘‘ کے رکن بھی نامزد کیے گئے۔ اس ٹریبونل کا کام یہ تھا کہ ویتنام میں امریکی جنگی جرائم کی چھان بین کر کے عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے۔ اگرچہ قصوری صاحب کی شخصیت پر تعارفی مضامین تو بہت سے ہیں مگر میری نظر سے ان پر کوئی جامع کتاب نہیں گزری۔ ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز میں 22 اپریل 1993ء کو ان کے ایک بیٹے کا ایک مفید آرٹیکل شائع ہوا تھا۔ مضمون نگار نے ان کے خاندان سے رابطہ کر کے اتنے بڑے آدمی کی خدمات سے اگلی نسل کو متعارف کرانے کی درخواست کی تھی مگر افسوس کی بات ہے کہ ایسے بلند مرتبہ شخص کے ورثہ کو زندہ رکھنے کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...