یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

علامہ اقبال نے یہ اُمید اپنے ہم عصروں سے باندھی تھی کہ وہ اپنے دور کا ابراہیم (جو بُت شکنی‘ آتشِ نمرود میں بے خطر کود جانے اور پرانے صنم کدوں کو گرا کر نیا شوالہ بنانے کی علامت ہیں) تلاش کریں گے۔ یہ امید روس‘ چین اور ویتنام سے لے کر ایران اور کیوبا تک میں آنے والے انقلابات کی صورت میں تو کسی قدر پوری ہو گئی مگر باقی دنیا بدستور سرمایہ داری (پاکستان میں جاگیرداری بھی) کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اقبال آسمان کی طرف دیکھتے اور سوال کرتے:
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
جواب ملتا ہے کہ روزِ مکافات کا انتظار کرو۔ وہ مبارک دن ضرور آئے گا جب محنت کو سرمایہ پر ترجیح دی جائے گی۔ وہ روشن دن (جلد یا بدیر) تم ضرور دیکھو گے۔ اور بقول فیض: لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔
ریاست کشمیر کے ضلع پونچھ کے دور دراز گائوں (کوٹ مٹے خان) کے سدہن گھرانے میں اپریل 1915ء میں ایک بچہ پیدا ہوا تو والدین نے اس کا نام ابراہیم رکھا۔ اہلِ خاندان اور اہلِ قبیلہ کو اس ابراہیم سے جو توقعات تھیں‘ اس نے بڑے ہو کر وہ سب پوری کر دیں۔ پرائمری تک تعلیم گائوں کے سکول میں حاصل کی۔ اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ 1938ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ یہ روایت ثقہ سمجھی جاتی ہے کہ جب سدہن قبیلہ اور پڑوس کی دیہاتی خواتین روٹی پکانے کیلئے آٹا گوندھنے لگتیں تو وہ ایک مٹھی آٹا علیحدہ نکال کر رکھ دیتی تھیں کہ یہ ابراہیم کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے کے کام آئے گا۔ 1941ء میں ابراہیم نے لندن یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی اور اگلے برس بیرسٹر بن گئے۔ وطن واپس آئے اور سرینگر میں وکالت شروع کر دی۔ 1947ء میں ہزاروں مسلم سپاہیوں اور افسروں نے ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو ابراہیم‘ یعنی سردار ابراہیم خان نے اس کی قیادت کی۔ پاک بھارت جنگ بندی کے بعد کشمیر کا کچھ حصہ بھارتی تسلط سے آزاد ہو گیا‘ جو آزاد جموں و کشمیر کہلایا۔ سردار ابراہیم اس کے پہلے صدر بنے۔ حکومت پاکستان آزاد روش کے حامل سردار ابراہیم کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکی اور انہیں 1950ء میں برطرف کر دیا گیا۔ وہ اس کے بعد مزید تین بار آزاد کشمیر کے پھر صدر بنے اور ان کا آخری عہدِ صدارت 2000ء میں ختم ہوا۔
1946ء میں وہ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن چنے گئے۔ 19 جون 1947ء کو اُنہوں نے پونچھ میں ایک بڑے اجتماع کے انعقاد کا اہتمام کیا جس میں مہاراجہ سے آزادی حاصل کر کے پاکستان میں شمولیت کی قراردادا متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ 24 اکتوبر 1947ء کو پونچھ کی عوامی فوج نے مہاراجہ کی فوج کو شکست دی تو نئی آزاد حکومت معرضِ وجود میں آئی۔ کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ اور جھڑپیں تقریباً پندرہ ماہ تک جاری رہیں اور پھر اقوام متحدہ نے جنگ بندی کرا دی۔ سردار صاحب نے The Kashmir Saga جیسی ایک اچھی کتاب لکھ کر جدوجہدِ آزادی کو جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ سردار صاحب نے 86 برس کی عمر میں سیاست سے ریٹائرمنٹ لی اور 31 جولائی 2003ء کو 88 برس کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے اسلام آباد کے اُسی گھر میں وفات پائی جہاں میں پانچ چھ بار اُن کا اور اُن کے جانشین بیٹے خالد ابراہیم خان (مرحوم) کا مہمان بنا تھا۔ ایک بار انہوں نے مجھ سے یہ گلہ بھی کیا کہ آپ میرے دوست ہیں مگر آتے ہیں تو خالد سے مل کر چلے جاتے ہیں‘ ایسا کیوں؟ عرض کی کہ اب آپ پہلے کی طرح سرگرم نہیں۔ میں خالد کے اشتراکِ عمل کا خواہاں ہوں مگر وہ وقت آنے والا ہے جب خالد کو بھی ملے بغیر چلا جایا کروں گا اور اُس کے بیٹے حسن کو اپنا نیا سیاسی ساتھی بنائوں گا۔ یہ بات تو مذاق میں کہی گئی تھی مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ 2018ء میں سردار خالد ابراہیم 69 برس کی عمر میں فوت ہوئے تو حسن ابراہیم کو ان کا جانشین بنا دیا گیا اور اب مجھے آزاد کشمیر میں کام کے لیے حسن ہی سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
میرا سردار ابراہیم سے تعارف کب اور کس طرح ہوا‘ یہ دلچسپ کہانی ہے۔ 1965-66ء کا عرصہ میرے لیے معاشی طور پر بہت کٹھن تھا۔ میں فیملی کے ساتھ گلبرگ (لاہور) میں رہتا تھا۔ کسی مشترکہ دوست نے میری یہ مدد کی کہ میں سردار صاحب کے (ایک یا دو) بچوں کو ہر روز دو گھنٹے انگریزی‘ اُردو اور سماجی علوم پڑھانے لگ گیا۔ یہ سلسلہ تین ماہ یا چھ ماہ جاری رہا۔ اس دور میں سردار صاحب سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں نے بابائے سوشلزم شیخ رشید اور دوسرے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر مئی 1966ء میں پیپلز کنونشن کے انعقاد کی تیاری شروع کی تو سردار ابراہیم میرے سب سے بڑے مددگار بنے۔ میرے برطانیہ چلے جانے کی وجہ سے ان ملاقاتوں میں پھر لمبا وقفہ آ گیا۔ Lord Avebury میرے مہمان بن کر جب پاکستان آئے تو اسلام آباد میں سردار ابراہیم خان ہی ہمارے میزبان تھے۔ ایک بار وہ ہم دونوں کو بذریعہ ہوائی جہاز راولا کوٹ (جو اُن کا نیا مسکن تھا) بھی لے کر گئے۔ سردار صاحب عمر میں مجھ سے 21 برس بڑے تھے مگر دوستی نے عمر کا یہ فرق مٹا دیا تھا۔ اچھی بات یہ ہے کہ اُنہوں نے بے داغ سیاست کی جو روایت ڈالی‘ خالد ابراہیم نے اسے تمام عمر نبھایا (اور یہی اُمید مجھے اب خالد کے بیٹے سے ہے)۔ سردار خالد عمر میں مجھ سے بارہ برس چھوٹے تھے مگر میں نے اُنہیں ہمیشہ ایک ہم عمر دوست اور چھوٹا بھائی سمجھا۔ وہ 2018ء میں ہم سے جدا ہوئے مگر ابھی تک مجھے اس المناک خبر پر اعتبار نہیں آتا۔ آنکھیں بند کر کے چیڑ کے درختوں کے جھنڈ کے پاس بنے ان کے گھر کے لان میں گزارے خوشگوار لمحات کو یاد کروں تو باپ بیٹے کا مسکراتا چہرہ نظر آتا اور ان کی شریفانہ‘ مہذب اور مدہم آواز سنائی دیتی ہے۔ سردار ابراہیم نے اپنی سوانح حیات ''متاعِ زندگی‘‘ کے نام سے لکھی۔ سردار صاحب نے کشمیر پر اپنی انگریزی کتاب پر نظرثانی کی تو یہ حل تجویز کیا کہ دونوں اطراف سے کشمیری علاقوں کو ایک ایسی آزاد مملکت بن جانے کی اجازت دی جائے جو اسی طرح غیر جانبدار ہو جیسے یورپ میں سوئٹزر لینڈ۔ سردارصاحب نے امریکہ کے اپنے دوروں اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ ایوب مارشل لاء میں سردار صاحب کو ایک جھوٹے الزام پر گرفتار کیا مگر ایک ہفتہ بعد ہی جب غلطی پکڑ لی گئی تو سردار صاحب کو رہائی مل گئی۔ حکومت کیلئے سردار صاحب جب بھی سردردی کا باعث بنتے تو انہیں مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے کے نام پر جبراً بیرونِ ملک بھجوا دیا جاتا۔ وہ کئی بار برخاست یا مستعفی ہونے پر مجبور کیے گئے مگر رزم ہو یا بزم‘ سردار صاحب نے کشمیری عوام کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔ سردار صاحب کی سوانح کے صفحہ 188پر درج چند سطور یہاں نقل کر کے میں اُن پر لکھے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔
''اس عرصہ میں شیخ عبداللہ نے نہرو کے خلاف کشمیر میں بغاوت کر دی۔ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم (مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر) محمد علی بوگرا بڑی اُمیدیں لے کر نہرو کے پاس مصالحت کیلئے گئے تھے لیکن مصالحت کے بجائے نہرو نے شیخ عبداللہ کو راتوں رات گرفتار کر کے جیل پہنچا دیا۔ سرینگر میں بھارتی فوجوں نے (احتجاج کرنے والے) کشمیریوں کے سینے چھلنی کر دیے۔ بوگرا صاحب کو پنڈت نہرو نے حبہ خاتون کی لمبی لمبی ایسی کہانیاں سنائیں کہ بوگرا صاحب واپس آکر دورانِ ملاقات مجھ سے دریافت کرنے لگے کہ یہ حبہ خاتون کون ہے۔ مجھے جو اُن کی کہانی معلوم تھی وہ انہیں بتا دی۔ مجھے علم ہوگیا کہ پنڈت نہرو نے ہمارے وزیراعظم کو کس طرح کہانیاں سنا کر ٹالا ہے‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...