الحمدللہ امسال 14 اگست کو پاکستان 79 برس کا ہو جائے گا۔ پاکستان کا قیام ایک نظریاتی ریاست کی حیثیت سے ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے لیے چلائی جانے والی تحریک میں حصہ لینے والے تمام قائدین اس اصولی مؤقف پر متفق تھے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی اور اجتماعی حقوق کا اس وقت تک تحفظ ممکن نہیں جب تک کہ ان کے لیے ایک علیحدہ مملکت کو حاصل نہ کر لیا جائے۔ گو برصغیر پر کئی صدیوں تک مسلم حکومت کر چکے تھے لیکن انگریز نے برصغیر پر تسلط کے بعد جس انداز سے مسلمانوں کو ہدف بنا کر ہندوئوں کو ان پر مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘ اس کے نتیجے میں اس بات کے امکانات وسیع پیمانے پر نظر آ رہے تھے کہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسے وطن میں رہنا انتہائی مشکل ہوتا چلا جائے گا جہاںریاست کا انتظام وانصرام عددی اکثریت کی بنیاد پر ہندوئوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔
تقسیم برصغیر سے قبل ہی ہندوئوں کی ریاستی حکومتوں میں مسلمان اس انداز میں جبر کا نشانہ بنائے گئے کہ عام آدمی ذہنی طور پر پسماندگی کا شکار ہو چکا تھا اور معاشرے اور ریاست کی قیادت ایک طرف رہی‘ مسلمان اپنی شناخت کے اعتبار سے بھی مختلف قسم کے بحرانوں کا شکار ہو چکے تھے۔ ان حالات میں مسلم رہنمائوں کی یہ سوچ ہر اعتبار سے درست تھی کہ ایک علیحدہ وطن کے حصول کے ذریعے ہی مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ دو قومی نظریے کے فروغ کے لیے قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ محمد اقبال‘ مولانا ظفر علی خان‘ مولانا محمد علی جوہر اور ان کے ہمراہ علمائے اسلام نے برصغیر کے طول وعرض میں مسلمانوں کو بیدار کرنے کی بھرپور انداز سے کوشش کی۔ اس تحریک میں ان علاقوں کے مسلم زعما اور عوام نے بھی حصہ لیا جو پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتے تھے۔ اس لیے کہ ان کی یہ سوچ تھی کہ اگر ایک علیحدہ وطن حاصل ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ اس وطن میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا بلکہ گردو نواح میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کی بات بھی ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمان مظلوم اور مغلوب ہوں گے‘ ان کی بھی شنوائی ہو سکے گی۔ قیامِ پاکستان کو یقینی بنانے کے لیے برصغیر کے قریہ قریہ اور نگر نگر میں ''پاکستان کا مطلب کیا... لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا۔ اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں قربانیاں پیش کیں۔ آزادی کی منزل کو حاصل کرنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنے گھر بار کو چھوڑا‘ ہزاروں‘ لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا‘ معصوم بچوں کو ذبح کر دیا گیا‘ مائوں‘ بہنوں کے دوپٹوں کو نوچا گیا لیکن مسلمان یہ تمام قربانیاں دینے کے بعد اس بات پہ مطمئن تھے کہ ایک علیحدہ وطن کے حصول کے نتیجے میں ان کے تمام دکھوں اور غموں کا ازالہ ہو جائے گا۔
پاکستان کا قیام بہت سی قربانیوں کے بعد ہوا اور آج اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم ایک آزاد مملکت میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بسنے والے مسلمان اپنی عبادات کو انجام دینے اور تہواروں کو منانے کے لیے ہر اعتبار سے آزاد ہیں۔ اگر آزادی کی نعمت کی قدر پوچھنی ہو تو بھارت کے مسلمانوں سے پوچھنی چاہیے جہاں عید قربان کے موقع پر مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے سے روک دیا جاتا ہے‘ مسلمان بیٹیوں کو ان کے گھروں سے اغوا کر لیا جاتا اور مسلمان نوجوانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے استحصال اور استیصال کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا خصوصی فضل ہے کہ ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں اور اپنے مذہبی معاملات کی انجام دہی میں ہر اعتبار سے آزاد ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ کئی معاملات میں پاکستان کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت جن امور پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے‘ درج ذیل ہیں:
1۔ معاشی معاملات کی اصلاح: پاکستان کے معاشی معاملات بہت سی سیاسی جماعتوں کے برسر اقتدار آنے اور ان کے معاشی پروگراموں کے نفاذ کے باوجود درست نہیں ہو سکے ہیں۔ معاشی معاملات اس لیے الجھے ہوئے ہیں کہ یہاں مضبوط منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ پاکستان میں صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں ہو سکیں۔ معاشی معاملات کی اصلاح کے لیے سب سے پہلی ذمہ داری حکومتِ وقت پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ خود کو اور عوام کو اس بات پر آمادہ و تیار کرے کہ اپنے معاملات اپنے وسائل کی حدود میں انجام دینے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ جب تک کفایت شعاری کو نہیں اپنایا جائے گا اور اخراجات و آمدن کے درمیان توازن پیدا نہیں ہو گا‘ اس وقت تک پاکستان کے معاشی معاملات کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے معاشی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے ذہین افراد کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اور صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے توانائی کو سستے نرخوں پر فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے قدرتی وسائل کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں شمسی ‘ پانی اورہوا کے ذریعے توانائی کے پیداواری ذرائع کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ان ذرائع کو صحیح طور استعمال کیا جائے تو پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتوں میں خود بخود کمی آ جائے گی۔
2۔ سیاسی استحکام: پاکستان میں تاحال سیاسی استحکام نہیں آ سکا۔ گزشتہ کئی عشروں سے انتخابات کے موقع پر سیاسی مخالفین ایک دوسرے پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی کشمکش اور افراتفری کی کیفیت اور فضا برقرار رہتی ہے۔ 1971ء میں ملک کے دولخت ہونے کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہی تھا۔ انتخاب جیتنے والی جماعت کو حکومت نہیں دی گئی جس سے پاکستان کے مشرقی حصے میں احساسِ محرومی پیدا ہوا اور یہ احساسِ محرومی بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گیا کہ ملک دولخت ہو گیا۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ دھاندلی کے الزامات لگائے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسا لائحہ عمل تیار نہیں کیا جا سکا جس پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوں اور ان کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔ پاکستان کا قیام لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر ہوا تھا لیکن لسانی تعصبات نے ملک کی وحدت کو کمزور کر دیا۔ آج بھی اگر مذہب کی افادیت کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو ملک کو مضبوط اور مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ بعض عناصر پاکستان کو نظریاتی ریاست کے بجائے قومی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان جیسی کثیر القومی ریاست کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ہی متحد رکھا جا سکتا ہے۔
3۔ جرم و سزا کے مؤثر نظام کا قیام: پاکستان میں جرم وسزا کے مؤثر نظام کا قیام ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر ملک کے ہر فرد کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ اس کو انصاف میسر آ سکتا ہے اور عدالتوں سے جاری ہونے والے فیصلوں کے بارے میں عدم اعتماد کے بجائے یقین اور اعتماد کی فضا پیدا ہو جائے تو ملک کے معاملات بہترین طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ انسان خواہ کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو‘ اس کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا اور اس سلسلے میں نبی کریمﷺ کا اسوہ ہمارے سامنے موجود ہے کہ جنہوں نے بنی نوع انسان کو یہ بات سمجھائی کہ اگر بفرض محال نبی کی لختِ جگر بھی چوری کرے تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔
ان تمام نکات پر توجہ دینے کے لیے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ سیاسی ومذہبی رہنمائوں اور بااثر لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کی حیثیت سے مضبوط اور مستحکم فرمائے اور اس کو تاقیامت قائم ودائم رکھے‘ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments