پاکستان اپنے قیام کے 79 سال مکمل کر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے تاحال ملک معاشی اعتبار سے مستحکم نہیں ہو سکا۔ برصغیر کے دیگر ممالک معاشی اعتبار سے پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں۔ بھارت کی معیشت پاکستان کے مقابلے میں خاصی مستحکم ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش بھی معاشی اعتبار سے ہم سے آگے نکل چکا ہے۔ ملک میں معاشی مسائل کی وجہ سے بہت سے پاکستانی اپنا وطن چھوڑ کر مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک میں جا کر آباد ہو چکے ہیں۔ ان تارکین وطن کی بڑی تعداد مغربی معاشروں میں اس طرح جذب ہو چکی ہے کہ وہ اپنے وطن واپس آنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیں تو اس بات کا مشاہدہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت اس وقت سخت معاشی دبائو کا شکار ہے۔ ملازمت پیشہ افراد ہوں اور کاروبار کرنے والے‘ لوگوں کی بڑی تعداد معاشی حوالے سے گلے شکوے کرتی نظر آتی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو یوٹیلیٹی بل اور گھر کا کرایہ تک ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ہر محب وطن پاکستانی کی یہ خواہش ہے کہ وطن عزیز اس بحران سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جائے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس حوالے سے مختلف تجاویز کو عوام اور حکمرانوں کے سامنے پیش کرتی رہتی ہیں اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے کئی مرتبہ منظم احتجاج بھی کیا جاتا ہے۔
حالیہ ایام میں جماعت اسلامی نے ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے دیے ہوئے ہیں۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے‘ مال روڈ پر دھرنے کا انعقاد کیا گیا ہے اور یہ دھرنا گزشتہ سات دنوں سے جاری ہے۔ اس دھرنے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات شرکت کر چکی ہیں۔ جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر جاوید قصوری سے میرے کئی برسوں پر محیط دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے اور جمعیت اتحاد العلماء کے نمائندگان نے مجھے اس دھرنے میں شرکت کی دعوت دی۔ 22 اگست بروز ہفتہ‘ مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد میں دھرنے میں شرکت کے لیے پہنچ گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی قیادت میں دھرنا جاری وساری تھا۔ جماعت اسلامی کے رہنمائوں ڈاکٹر طارق سلیم‘ ضیا الدین انصاری اور جاوید قصوری نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ مجھے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے دعوت دی گئی۔ میں نے جن گزارشات کو سامعین کے سامنے رکھا‘ ان کو کچھ کمی بیشی اور اضافے کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں :
بہت سی سیاسی جماعتوں کے برسر اقتدار آنے‘ ان کے دعوئوں اور ان کے معاشی پروگراموں کے نفاذ کے باوجود پاکستان کے معاشی معاملات درست نہیں ہو سکے ہیں۔ معاشی معاملات اس لیے بھی زیادہ الجھے ہوئے ہیں کہ یہاں مضبوط منصوبہ بندی کا فقدان ہے اور بالعموم وقت گزاری کے لیے چھوٹے موٹے پروگرام اور وقتی اصلاحات کا نفاذ کیا جاتا ہے جبکہ ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک مربوط اور منظم حکمت عملی اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں ہو سکیں۔ ایک وقت تھا کہ جب پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پوری دنیا میں معروف تھی لیکن بتدریج وہ بھی اپنے معیار اور ساکھ کو برقرار نہیں رکھ سکی۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھی ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ معاشی معاملات کی اصلاح کے لیے سب سے پہلی ذمہ داری حکومتِ وقت پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ خود کو اور عوام کو اس بات پر آمادہ و تیار کرے کہ اپنے معاملات اپنے وسائل کی حدود میں انجام دینے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ جب تک کفایت شعاری کو سنجیدگی سے نہیں اپنایا جائے گا اور اخراجات اور آمدن کے مابین توازن پیدا نہیں ہو گا اس وقت تک پاکستان کے معاشی معاملات کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ بنگلہ دیش دسمبر 1971ء میں ایک الگ مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا لیکن بتدریج معاشی اعتبار سے مستحکم ہوتا رہا۔ اس وقت اس کی کرنسی کی قدر ہم سے دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نہ تو کفایت شعاری سے کام لیا جاتا ہے اور نہ ہی کرپٹ عناصر کا صحیح طریقے سے احتساب کیا جاتا ہے۔ کرپٹ عناصر بالعموم رشوت اور سفارش کی وجہ سے قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے معاشی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے ذہین افراد کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع تبھی پیدا ہو سکتے ہیں جب ملک کا صنعتی ڈھانچہ مضبوط ہو۔
صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے توانائی کو سستے نرخوں پر فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے قدرتی وسائل کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں شمسی‘ آبی اور ہوا کے ذریعے توانائی کے پیداواری ذرائع کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسی طرح جوہری توانائی کے ذریعے بھی توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان تمام معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ان ذرائع کو صحیح طور استعمال کیا جائے تو پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتوں میں خود بخود کمی آ جائے گی۔
پاکستان کی معیشت کے کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ بیرونی قرضے اور سودی لین دین ہے۔ جب ہم نے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر قائم کیا تھا تو پھر ہماری یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ سود کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات واضح ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 278 تا 281 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائو‘ ہاں اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے‘ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے اور صدقہ کرو تو تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے‘ اگر تم میں علم ہو۔ اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جائو گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ پر غورو خوض کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات پر چلتے ہوئے سودی لین دین سے کلی طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے معاملات کی اصلاح کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں حتی المقدور قرضوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔
معاشی معاملات کی اصلاح کے لیے جب تک ریاست اور عوام اپنی اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کریں گے‘ اس وقت تک معاشی معاملات کی اصلاح ممکن نہیں ہو گی۔ حکومت کو عوام کے بارے میں خیر خواہی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے نام پر بھاری رقم کی وصولی کسی بھی طور مناسب نہیں۔ عوام الناس کو اشیائے ضروریات سستے نرخوں پر فراہم کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس حوالے سے ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے تو شہریوں میں خود اعتمادی پیدا ہو گی اور وہ ملک کی خدمت کے لیے اپنی توانائیوں کو بھرپور طریقے سے صرف کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں گے۔ اس عمل کے نتیجے میں ملک کے معاشی معاملات بہتر سے بہتر ہوتے چلے جائیں گے‘ ان شاء اللہ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments