قارئین جانتے ہیں کہ اسرائیل کا پودا برطانوی استعمار نے لگایا تھا۔ 1917ء میں اعلانِ بالفور ہوا۔ یہ ایک مختصر سا خط تھا جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ برطانوی حکومت فلسطین میں یہودیوں کے وطن کی حمایت کرتی ہے۔ آرتھر بالفور اُس وقت برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے اور یہ خط برطانوی یہودیوں کے سربراہ والٹر روتھ شیلڈ کو لکھا گیا تھا۔ دراصل برطانیہ کو متمول یہودی کمیونٹی کی پہلی عالمی جنگ میں حمایت درکار تھی۔ برطانیہ کو مکمل یقین تھا کہ فلسطین جلد اس کے مکمل کنٹرول میں آ جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ عربوں کو ترکی سے بدظن کیا گیا‘ انہیں کئی سبز باغ دکھائے گئے۔ مثلاً بالفور کے خط میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ یہودیوں کے فلسطین جانے سے عربوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔ مگر آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ آج فلسطین کے عرب اپنے ہی وطن میں 'ریڈ انڈین‘ بنے ہوئے ہیں۔ یہودی آبادکار روزانہ مغربی کنارے پر فلسطینیوں پر بندوقیں تانے ہوتے ہیں اور اسرائیلی حکومت اغماض سے کام لیتی ہے۔ 1947ء تک فلسطین میں یہودی آبادی 32 فیصد ہو چکی تھی جبکہ عرب 67 فیصد تھے۔ نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کا فارمولا وضع کیا۔ اس فارمولے کے تحت فلسطین کا 55 فیصد حصہ یہودیوں کو ملنا تھا جبکہ 42 فیصد عربوں کو۔ القدس جسے یہودی یروشلم کہتے ہیں‘ کو بین الاقوامی شہر کا درجہ دیا جانا مقصود تھا۔ عربوں نے یہ پارٹیشن پلان رد کر دیا کیونکہ انہیں اپنی آبادی سے کہیں کم رقبہ مل رہا تھا۔ اب برطانیہ سمیت 12مغربی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے پر بنی ہوئی یہودی بستیوں پر تجارتی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ امریکہ اس مشترکہ اعلان کا حصہ نہیں ہے؛ البتہ کینیڈا اور فرانس برطانیہ کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ اس مشترکہ اعلامیے کی اہمیت علامتی سی ہے لیکن غزہ کے شہیدوں کا خون کسی حد تک رنگ ضرور لا رہا ہے۔ نیرنگیٔ زمانہ دیکھئے کہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر برطانیہ اور فرانس مل کر مڈل ایسٹ کے ممالک کے اپنی پسند کے نقشے بنا رہے تھے۔ 1956ء میں برطانیہ‘ فرانس اور اسرائیل نے مل کر مصر پر ہوائی حملے کیے۔ مصر کا قصور یہ تھا کہ جمال عبدالناصر نے نہر سویز کو قومیانے کا اقدام کیا تھا‘ تب امریکہ نے سہ فریقی حملے کی مذمت کی تھی۔ آج امریکہ دل و جان سے اسرائیل کے ساتھ ہے اور برطانیہ اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کر رہا ہے۔ اسرائیل نے فوراً ردعمل دیا اور کہا کہ برطانیہ تیس روز کے اندر القدس میں اپنا قونصلیٹ بند کر دے؛ البتہ تل ابیب میں برطانوی سفارتخانہ موجود رہے گا۔ اسرائیل کی اپنی پالیسی وقت گزرنے کے ساتھ واضح طور پر شہرت پسند ہوتی گئی ہے۔ شامیر اور رابین جیسے لیڈر چاہتے تھے کہ فلسطینیوں کے ساتھ معاملات طے ہو جائیں اور کسی طرح بقائے باہمی کا راستہ نکل آئے۔ اسی سپرٹ کے تحت اوسلو کا معاہدہ ہوا۔ یہ کوئی آئیڈیل معاہدہ نہیں تھا‘ اس میں پانچ سال کا روڈمیپ دیا گیا تھا کہ اس دوران فائنل بارڈر‘ فلسطینی مہاجرین کی واپسی اور القدس کی حتمی حیثیت کے بارے میں گفت و شنید ہو گی‘ لیکن وہ پانچ سال کبھی پورے نہ ہو سکے۔ اُس وقت بھی حماس کو اوسلو معاہدے پر اعتراضات تھے‘ یہودی شدت پسند بھی اوسلو معاہدے کے خلاف تھے۔ اسی معاہدے کی وجہ سے اسرائیلی لیڈر اسحاق رابین کو قتل کر دیا گیا۔ شدت پسند معاشروں میں معتدل مزاج لیڈرز کی زندگیاں خطرے میں رہتی ہیں۔ 1948ء میں مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ پاکستان کو اس کے حصے کے اثاثے دیے جائیں‘ تو انہیں قتل کر دیا گیا۔ گاندھی قتل ہوئے تو آر ایس ایس نے انڈیا میں شیرینی بانٹی۔ موجودہ حکمران پارٹی بی جے پی اسی آر ایس ایس سے نکلی ہے۔
اسحاق رابین کا قتل ہوا تو بنیامین نتین یاہو کی لیکوڈ پارٹی اقتدار میں آ گئی۔ لیکن آج کے اسرائیل میں بات لیکوڈ پارٹی سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ مخلوط حکومت میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی چھ جماعتیں شامل ہیں جو اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہیں کہ فلسطین پر صرف یہودیوں کا حق ہے۔ ان میں سے کئی اس بات پر راسخ ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی جگہ یہودی معبد ہونا چاہیے۔ اس مخلوط حکومت کا ایک اتحادی اتمار بن گویر آئے روز جلوس لے کر مسجد اقصیٰ کے باہر پہنچا ہوتا ہے اور فلسطین پر یہودی حقوق کی حمایت میں نعرے لگاتا ہے۔ وہ اسرائیلی کابینہ میں وزیر بھی ہے۔
مغربی کنارے پر 146یہودی بستیاں بن چکی ہیں اور ان سب کو اسرائیلی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ حکومت نئی یہودی بستیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ان بستیوں کیلئے نئی سڑکیں بنتی ہیں‘ ٹیکس معاف کیے جاتے ہیں۔ مشرقی القدس جو مغربی کنارے کی طرح مقبوضہ علاقہ ہے‘ وہاں اڑھائی لاکھ یہودی آباد کیے گئے۔ نئی یہودی بستیاں بنانے کیلئے فلسطینیوں کے گھر آئے دن مسمار ہوتے ہیں۔ جو لوگ مزاحمت کرتے ہیں ان پر اسرائیلی پولیس گولیوں کی بوچھاڑکرتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اعداد وشمار کے مطابق مغربی کنارے میں اس سال ایک سو جبکہ غزہ کی پٹی میںنو سو فلسطینی شہید ہوئے۔ مغربی کنارے میں شہید ہونے والوں میں دو طرح کے لوگ ہیں؛ ایک وہ جو اسرائیلی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے اور دوسرے وہ جنہیں مسلح یہودی آباد کاروں نے قتل کیا۔ فلسطینیوں کی کھڑی فصلیں تباہ کر دی جاتی ہیں‘ زیتون کے باغات اجاڑ دیے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ ظلم جنین کے مہاجر کیمپ پر ہوتے ہیں‘ جسے اسرائیلی حکومت باغیوں کا گڑھ قرار دیتی ہے۔ 1967ء تک مغربی کنارہ اردن کے کنٹرول میں تھا جبکہ غزہ مصر کے پاس۔ اس جنگ کے نتیجے میں دونوں علاقے اسرائیل کے قبضے میں آ گئے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 338 اور 442 اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے اور وہاں فلسطینی ریاست بنائی جائے۔ دونوں قراردادوں کو بھاری اکثریت سے پاس کیا اور آج جب برطانیہ اور بارہ مغربی ممالک یہودی بستیوں سے تجارت بند کرنے کا اعلان کر رہے ہیں تو دلیل یہی ہے کہ یہ بستیاں فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ بن جائیں گی۔ اسرائیل نے جان بوجھ کر بین الاقوامی قراردادوں کو اہمیت نہیں دی۔ غور کریں تو بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل پالیسی کو کاپی کر رہا ہے۔
اوسلو معاہدے سے بھی اسرائیل نے یکطرفہ فائدہ اٹھایا اور دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹا کہ پی ایل او نے ہمیں تسلیم کرکے مسلح جدوجہد ختم کر دی ہے۔ اوسلو معاہدے کے بعد کئی ممالک بشمول مسلم ملک نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل کیلئے امریکی سپورٹ میں واضح اضافہ ہوا لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ صدر ٹرمپ جیسا اسرائیل نواز لیڈر امریکہ کی تاریخ میں نہیں آیا۔ ایک عرصے سے اسرائیلی حکومت کی شدیدخواہش تھی کہ امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے القدس شفٹ ہو جائے لیکن ٹرمپ سے پہلے کسی صدر نے اسرائیلی حکومت کی یہ ڈیمانڈ نہیں مانی۔ وجہ یہ ہے کہ مشرقی القدس مقبوضہ علاقہ ہے اور مقبوضہ علاقے میں سفارتخانہ رکھنا غیر قانونی قبضے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مگر ٹرمپ نے اپنی پہلی ٹرم میں 2017ء میں امریکی ایمبیسی کو تل ابیب سے القدس شفٹ کر دیا۔ اس وقت باقی سفارتخانے تل ابیب میں ہیں جبکہ صرف دو القدس میں۔
سوال یہ ہے کہ اس وقت برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کو فلسطینی حقوق کا خیال کیوں آ رہا ہے؟ اس وقت تقریباً 7.5 لاکھ یہودی مغربی کنارے اور القدس میں ناجائز طریقے سے آباد ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں ایک ہزار یہودی گھر بنانے کی منظوری دی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ مغربی کنارے پر موجود یہودی بستیوں کے ساتھ ان بارہ ممالک کی تجارت کتنی ہو گی۔ میرے خیال میں یہ اقدام محض علامتی ہے۔ غزہ میں قتلِ عام کے بعد یورپی رائے عامہ میں جو غم وغصہ دیکھا گیا یہ اسے کسی حد تک ٹھنڈا کرنے کی کوشش ہے ‘اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments