"JDC" (space) message & send to 7575

خلیجی جنگ کے دور رس اثرات

28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ نے صرف خلیج کے خطہ کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ کا عالمی بھرم متاثر ہوا ہے۔ نیٹو کے عسکری اتحاد میں مزید دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔ تیل کی قیمتیں بے قابو ہو رہی ہیں۔ عالمی معیشت میں بے یقینی کی کیفیت ہے۔خطرہ ہے کہ عالمی معیشت ایک عرصہ تک کساد بازاری کا شکار رہے گی‘ پیداوار کم ہو گی‘ تجارت پر منفی اثر پڑے گا اورافراطِ زر کی وجہ سے قیمتیں بڑھتی رہیں گی۔
صدر ٹرمپ نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ انتہائی عجلت میں کیا۔ نہ کانگریس سے منظوری لی اور نہ ہی یو این کے پاس گئے۔ یہ فیصلہ ان کے بعض قریبی یورپی اتحادی ممالک کو بھی حیران کر گیا۔ اب اتحادی ممالک کو کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کریں مگر اتحادی ممالک مدد کرنے کے موڈ میں نہیں۔ وہ جو امریکہ کا سپر پاور والا بھرم تھا آسٹریلیا اور جاپان وغیرہ فوری طور پر امریکی حمایت میں بیانات دینے لگ جاتے تھے‘ ایسا کچھ بھی اس مرتبہ نہیں ہوا۔ دنیا کی واحد سپر پاور قدرے عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ عالمی اخلاقی لیڈر شپ کا جواز تو امریکہ ایک عرصے سے کھونے لگ گیا تھا مگر ایران پر حملے نے غزہ کی غارت گری کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو ایک صف میں کھڑا کردیا ہے۔ یادش بخیر1956ء میں مصر پر برطانیہ‘ اسرائیل اور فرانس نے مل کر حملہ کیا۔ مصر کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے نہر سویز کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا۔ امریکہ نے اُس وقت ڈٹ کر اس حملے کی مخالفت کی۔ امریکہ اس وقت مظلوم کے ساتھ کھڑا تھا ۔پوری دنیا نے امریکہ کے اخلاق اور اصولوں پر مبنی مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ۔ آج امریکہ ڈٹ کر ظالم اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکہ کے بارے میں آج عالمی رائے عامہ کیا ہے‘ یہ مجھ سے بہتر آپ جانتے ہیں۔ 1956ء سے موازنہ کریں تو یہ بالکل الٹ ہے۔
آبنائے ہرمز کو امریکہ نہیں کھلوا سکا۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو اور روایتی اتحادیوں سے مدد کی درخواست کی۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں سے امریکہ ہی نہیں پوری دنیا پریشان ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے وارننگ بھی جاری کر دی کہ اس سلسلے میں عسکری اتحاد نے امریکہ کی مدد نہ کی تو نیٹو کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ برطانیہ بطور نیٹو رکن عراق اور افغانستان میں امریکہ کا کلیدی حلیف رہا ہے‘ اب برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ ان کا ملک دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کھلوانے کا پلان تیار کر رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شروع سے واضح ہے کہ موجودہ جنگ نیٹو کی جنگ نہیں۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ اس جنگ سے پہلے باہمی مشاورت نہیں ہوئی اس لیے جرمنی اس جنگ میں قطعاً شریک نہیں ہوگا۔ جاپان‘ آسٹریلیا‘ پولینڈ‘ یونان‘ سپین اور سویڈن بھی عسکری مدد کیلئے تیار نہیں۔ یورپی یونین نے بھی اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ بڑے عرصے بعد امریکہ آج سیاسی اور عسکری طور پر عالمی تنہائی کا شکار ہے۔
اس جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی افادیت کے بارے میں بھی سوال کھڑے ہو ئے ہیں۔ پوچھا جا رہا ہے کہ یہ اڈے امریکی مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں یا خلیجی ممالک کی؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ اڈے خلیجی ممالک میں نہ ہوتے تو کیا یہ ممالک ایرانی حملوں سے محفوظ نہ ہوتے؟ خلیجی ممالک میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی افادیت کے بارے میں غورو فکر قدرتی بات ہے؛ البتہ ایک چیز واضح نظر آ رہی ہے کہ سعودی عرب‘ پاکستان ‘ ترکیہ اور مصر کا عسکری تعاون اب بڑھے گا کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ خطے میں اسرائیلی (اور انڈین) بالادستی کو روکنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ قارئین کو علم ہوگا کہ خلیجی ممالک میں غیر ملکی اڈوں کے اخراجات خلیجی ممالک اٹھاتے ہیں اور امریکی عسکری دستوں کو اپنے ملک میں مہمان رکھنا خاصا مہنگا سودا ہے۔ یہ اڈے انقلابِ ایران اورایران عراق جنگ کے تناظر میں بنائے گئے تھے کیونکہ اُس وقت امریکہ اور خلیجی ممالک عراق کے حامی تھے۔ آج صورتحال سرا سر مختلف ہے۔ اب خلیجی ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ کو سب سے زیادہ اسرائیلی سکیورٹی کی فکر ہے۔ خلیجی ممالک کی سکیورٹی اس کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ ایران یہ جنگ نہیں ہارے گا لیکن آئندہ کا ایران کمزور ضرور ہوگا۔وہاں بمباری سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ ہزاروں گھر تباہ ہوئے ہیں۔30 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔بحالی میں کئی برس لگیں گے۔ایران خلیجی ممالک پر پہلے بھی حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا اور اب بھی ایسا نہیں ہوگا‘ لہٰذا امریکی اڈوں کا جواز بالکل ختم ہو گیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک میں غذائی مواد کی کمی کو پاکستان پورا کر سکتا ہے۔ یقینا یہ اچھا قدم ہو گا‘ ہماری برآمدات بڑھیں گی اور عرب بھائیوں کی مدد بھی ہو جائے گی لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہم مستقبل کا سوچیں۔ چاول‘ آم ‘ کینو یا گوشت برآمد کرکے ہماری ایکسپورٹس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکتا۔
اگر عرب ممالک کی اقتصادیات اس جنگ کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوئیں‘ کاروبار مندی کا شکار ہوئے تو عین ممکن ہے کہ ہمارے بہت سے ورکرواپس آنے لگیں‘ بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ شمالی امریکہ اور یورپ سے آئے ہوئے لاکھوں وائٹ کالر ورکر مڈل ایسٹ سے حال ہی میں جنگ کی وجہ سے واپس گئے ہیں۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ہمارے 92 ہزار لوگ واپس آئے ہیں۔ اب یہ تو معلوم نہیں کہ ان میں سے کتنے واپس اپنی جاب پر آئیں گے لیکن یہ بات حتمی ہے کہ ہزاروں وائٹ کالر جابز خالی ہوں گی جو پاکستان‘ انڈیا‘بنگلہ دیش جیسے ممالک سے تعلیم یافتہ ورکر پورا کریں گے۔لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ باہر جاب میرٹ پر ملتی ہے اور شاید اب گلف کی کمپنیاں پہلے والی اعلیٰ تنخواہیں بھی نہ دے سکیں۔
پاکستانی معیشت اس جنگ کی وجہ سے صدمے کا شکار ہے۔ کیا یہ حقیقت میں آئندہ کی پیش بندی پر مجبور کرے گی یا ہم پہلے کی طرح ڈنگ ٹپائو معاشرے کی طرح چلتے رہیں گے؟ جب جنگ شروع ہوئی تو حکومت پاکستان کے پاس 28 دن کا تیل کا ذخیرہ تھا جبکہ انڈیا کا ذخیرہ تقریباً دو ماہ کا تھا۔ سب سے پہلے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف باتیں نہ کریں ‘ یہ وقت عمل کرنے کا ہے اور انرجی ذخائر کو بڑھانے کا۔ تیل کی اندرونِ ملک سپلائی بہتر کرنے کیلئے ریلوے کے نظام کو بہتر کریں کیونکہ ایک گڈز ٹرین درجنوں ٹینکرز کے برابر ہوتی ہے اور کم خرچ ہوتی ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے بہت سی عالمی تنظیموں اور اداروں پر سوالیہ نشان ہیں۔ برکس جو امریکی بالادستی کو کم کرنے کیلئے بنی تھی مکمل طور پر خاموش ہے۔ او آئی سی پہلے بھی فعال نہیں تھی اب اس کے غیر فعال ہونے کے مزید ثبوت آ گئے ہیں۔ چین کی پیش بندی کیلئے امریکہ کا وضع کردہ چار ملکی اتحاد جسے Quadکہا جاتا ہے‘ غیر مؤثرنظر آ رہا ہے۔ اس میں امریکہ کے علاوہ انڈیا‘ جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ یہ ممالک بھی امریکہ سے مایوس نظر آتے ہیں کیونکہ امریکہ نے صاف کہہ دیا ہے آبنائے ہرمز کھلوانے میں اپنی مدد آپ کے اصول پر کام کریں اور ایران سے اپنے اپنے جہاز نکلوانے کیلئے ڈائریکٹ بات کریں۔تو گویا پورا عالمی نظام جو دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہوا تھا اور جس میں امریکہ کی کلیدی حیثیت ہونے کے علاوہ انٹرنیشنل قانون کی پاسداری ضروری تھی وہ نظام غزہ اور خلیجی جنگ کے بعد منہدم ہو گیا ہے۔ جلد ہی دنیا کو ایک نئے نظام کی ضرورت ہو گی کیونکہ عالمی معاشرہ بار بار تباہ کن جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تو کیا پاکستان میں ہم نے نئے نظام کے بارے سوچنا شروع کردیا ہے؟ نئے اقتصادی اور سیاسی نظام میں ہمارا کیا کردار ہوگا؟ خلیجی ممالک کی سکیورٹی میں ہمارا کردار کیا ہوگا؟ ویسے یہ بات خوش آئند ہے کہ ایران ابھی تک ڈٹا ہوا ہے۔ پاکستان کے استحکام کیلئے ایک مستحکم ایران ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں