"JDC" (space) message & send to 7575

سفارتی ریوڑیاں … (2)

جنرل (ر) سرفراز جب دمشق میں سفیر تعینات ہوئے تو ان کی عمر 65سال سے اوپر تھی۔ میرے خیال میں کسی 65 سال سے زائد عمر والے کو سرکاری عہدہ نہیں دینا چاہیے۔ ایک تو اُس شخص کی ذہنی صلاحیتیں روبہ زوال ہوتی ہیں‘ دوسرے وہ کرسی سے چمٹ کر کسی کم عمر مگر باصلاحیت افسر کا حق غصب کر رہا ہوتا ہے۔ اب مراکش والے سفیر 80 سال سے متجاوز ہیں‘ حالانکہ وزارتِ خارجہ کو ہمہ وقت حاضر دماغ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب میری اردن میں پوسٹنگ ہوئی تو یہاں ہمارے سفیر پروفیسر احسان رشید تھے۔ بہت سلیقہ مند انسان تھے‘ خوش لباس اور خوش گفتار۔ ان کی بیگم بھی شاندار شخصیت کی حامل تھیں۔ پروفیسر صاحب کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ کراچی یونیورسٹی میں ہنگامے ہوئے تو ایک سال کیلئے ہارورڈ یونیورسٹی چلے گئے۔ اُس وقت ان کی عمر تقریباً 60سال تھی اور صحت بھی ٹھیک تھی۔ اقتصادیات پر انہیں مکمل عبور تھا۔ اردن میں متعدد جگہ ان کے لیکچرز ہوتے تھے۔ دونوں میاں بیوی پاکستان کا خوبصورت چہرہ تھے۔ بیگم نیّر رشید کی شہزادی ثروت سے بھی دوستی تھی اور دونوں ویلفیئر کے کاموں میں پیش پیش رہتی تھیں۔
اردن میں مجھے ایک سال ہی گزرا تھا کہ جدہ کیلئے پوسٹنگ آرڈر آ گئے۔ میں کافی حیران ہوا کیونکہ عموماً پوسٹنگ تین سال کیلئے ہوتی تھی۔ دراصل ہوا یوں کہ جنرل ضیا الحق کا دور تھا اور وہ سعودی عرب تواتر سے جاتے تھے۔ ایک دورے میں وہ پاکستانی سفارتخانے بھی گئے‘ جہاں تمام افسر جمع تھے۔ جنرل صاحب نے پوچھا کہ آپ میں سے عربی زبان پر کتنے لوگ عبور رکھتے ہیں؟ پتا چلا کہ سفارتخانے میں کوئی عربی دان نہیں؛ البتہ حج ڈائریکٹوریٹ میں بحراللہ ہزاروی عربی جانتے تھے‘ جو دینی مدرسے میں عربی تعلیم حاصل کر چکے تھے۔ گو کہ پروفیشنل ترجمان یعنی Interpreter وہ بھی نہیں تھے۔ جنرل صاحب نے پاکستان واپس آتے ہی حکم صادر کیا کہ سعودی عرب میں دو عربی دان افسر تعینات کرکے مجھے کنفرمیشن دی جائے۔ چنانچہ قرعہ فال میرے نام نکلا۔
جدہ پہنچا تو نجم الثاقب خان وہاں سفیر تھے۔ کیریئر سفارتکار تھے۔ لکھنے پڑھنے اور بولنے سے متاثر کرتے تھے۔ ان کا تجزیہ اور رپورٹیں پڑھ کر مزہ آ جاتا تھا لیکن شومیٔ قسمت سے چند ماہ بعد ان کا تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ بریگیڈیئر امیر گلستان جنجوعہ کو جدہ بھیجا گیا۔ جنجوعہ صاحب گائیڈز کیولری میں جنرل ضیا الحق کے ساتھ رہے تھے اور جنرل صاحب نے اقتدار سنبھالتے ہی انہیں بطور سفیر نیپال بھیج دیا۔ بعد ازاں ان کا ٹرانسفر متحدہ عرب امارات میں ہوا اور پھر سعودی عرب۔ وہ گر بہ کشتن روزِ اول والی پالیسی پر عمل کرتے تھے۔ جدہ ایمبیسی کا پاسپورٹ ویزہ سیکشن خاصا بڑا تھا اور اس کے بارے میں لوگوں کو شکایات بھی رہتی تھیں۔ بریگیڈیئر جنجوعہ نے آتے ہی قونصلر سیکشن کے چار پانچ مقامی ملازموں کی چھٹی کرا دی۔ ہر سفارتخانے میں دو طرح کے اہلکار ہوتے ہیں‘ ایک وہ جو اپنے ملک سے آتے اور دوسرے وہ جو اُسی ملک میں مقیم ہوتے اور سفارتخانے میں انہیں جاب مل جاتی ہے۔ یہ خاصی بڑی ایمبیسی تھی اور جنجوعہ صاحب روزانہ ہر سیکشن میں جاتے تھے۔
ایک روز سفیر صاحب پاسپورٹ ویزہ سیکشن میں گئے۔ وہاں فرسٹ سیکرٹری مدثر نور انچارج افسر تھے۔ نہایت ایماندار اور اچھے افسر تھے۔ سفیر صاحب نے دیکھا کہ ایک بیرا چائے کا ٹرے اٹھا کر دفتر میں داخل ہو رہا ہے‘ جنجوعہ صاحب نے چائے والے ٹرے کو زور سے ہاتھ مارا۔ برتن گر کر ٹوٹ گئے۔ ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا۔ انہوں نے ویزہ سیکشن میں داخل ہوتے ہی انچارج افسر سے اونچی آواز میں استفسار کیا ''تم یہاں کام کرنے آتے ہو یا چائے پینے؟‘‘۔ کسی بھی باس کو اپنے افسر کی یوں سرِعام تذلیل نہیں کرنی چاہیے مگر وہ ڈسپلن کے معاملے میں خاصے سخت تھے۔ دوسری جانب پڑھنے لکھنے میں قدرے کمزور۔ تقریر بھی واجبی سی کرتے اور زیادہ وہ خوش لباس بھی نہیں تھے جو ایک اچھے سفارتکار کو ضرور ہونا چاہیے۔ اس سب کے باوجود میرے ساتھ ان کا سلوک بہت اچھا تھا۔
وزیراعظم بینظیر بھٹو نے 1989ء میں اسلام آباد کے ایک نجی سکول کی مالکن کو امریکہ میں سفارتکار لگانے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم کی یہ خواہش فارن آفس کو بھجوائی گئی کیونکہ بیرونِ ملک تقرریاں فارن آفس کے ذریعے ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ہمایوں خان اس وقت فارن سیکرٹری تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقرری نہیں ہو سکتی کیونکہ رولز یہ کہتے ہیں کہ صرف حاضر سروس سول سرونٹ کو ہی قونصل جنرل لگایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ہمایوں کو اس انکار کی قیمت ادا کرنا پڑی اور اپنے عہدے پر وہ زیادہ دیر نہ رہ سکے۔ لیکن وہ عظیم شخص اپنے مؤقف پر قائم رہا۔ کئی سال بیت گئے‘ مسلم لیگ (ن) کا تیسرا دورِ حکومت تھا‘ جب فارن آفس کو ایک صاحب کے بارے کہا گیا کہ انہیں ایک خلیجی ملک میں قونصل جنرل لگایا جائے۔ یہ وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری رہے تھے۔ اب فارن آفس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ پی ایم آفس کو قاعدے قانون سمجھائے۔ چنانچہ تقرری ہو گئی۔ یہ فارن منسٹری کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کوئی ریٹائرڈ افسر بطور قونصل جنرل باہر بھیجا گیا۔ اب فارن آفس میں کوئی ڈاکٹر ہمایوں خان نہیں تھا۔ ہمارے تمام ادارے رفتہ رفتہ کمزور ہو رہے تھے۔ اس سے قبل نوے کی دہائی میں ایک ٹریکٹر کمپنی کے اکاؤنٹنٹ کو بطور سفیر برما بھیجا گیا تھا۔ موصوف حاکمِ وقت کے قریبی عزیز تھے چونکہ اس موضوع پر میں ایک کالم پہلے ہی لکھ چکا ہوں لہٰذا قصہ دہرانا نہیں چاہتا۔ البتہ زیر تحریر خود نوشت میں اس کہانی کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اسی برس ایک بینکار کو کینیا میں سفیر لگایا گیا۔
1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو اپنے پرانے دوست میجر جنرل (ر) مصطفی انور حسین کو انڈونیشیا میں سفیر لگایا۔ موصوف نے تمام قواعد اور رولز کو طاقِ نسیاں میں رکھ کر سفارتخانے کی دو عدد عمارتیں مع بیس کنال زمین ایسے بیچیں جیسے ان کی ذاتی جائیداد ہوں۔ نہ فارن آفس سے اجازت لی گئی اور نہ ہی اخبارات میں کوئی اشتہار آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف سے باقاعدہ منظوری عمارتیں بیچنے کے بعد لی گئی۔ آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیا کہ حکومت کو اس سودے میں بھاری نقصان ہوا لیکن نقصان پہنچانے والے کا کوئی بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ سفارتخانے میں دوسری پوزیشن پر موجود مشتاق حیدر رضوی نے اس پر بڑا شور مچایا کہ یہ سودا بدنیتی پر مبنی ہے جس پر انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا۔
پچھلے سال حکومت نے کئی آزاد سفیر مقرر کیے۔ یہ رسم کسی زمانے میں پیپلز پارٹی نے شروع کی تھی۔ گو کہ پابند سفرا کے علاوہ آزاد سفیروں کی بھی ضرورت ہے۔ البتہ ان لوگوں کی تنخواہ اور مراعات کتنی ہیں‘ یہ مجھے معلوم نہیں لیکن ان سب لوگوں کے پاس سرخ رنگ کا سفارتی پاسپورٹ ضرور ہے اور خدشہ ہے کہ جو بے وقعتی ہمارے سبز پاسپورٹ کی دنیا بھر میں ہوئی ہے‘ وہی افتاد سفارتی پاسپورٹ پر بھی نہ آ پڑے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت ایک آزاد سفیر ہماری نوجوان نسل اور برآمدات کی پروموشن کر رہے ہیں۔ ایک کو جنوبی ایشیائی ایک ملک کے ساتھ تعلقات اور خصوصی سفارتی فرائض کیلئے لگایا گیا ہے۔ ایک کا کام بیرونِ ملک سے سرمایہ کاری لانا ہے۔ دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ ایک صاحب‘ جن کا فرض ایک خلیجی ملک کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانا ہے‘ پچھلے سال اسلام آباد کے ایک گرلز کالج گئے اور اساتذہ اور طالبات سے کہا کہ میں آئندہ آپ کے کالج میں ریاضی پڑھانے آؤں گا۔ اس ملک میں کوئی شخص اپنے کام پر فوکس نہیں کر رہا اور یہی ہمارا المیہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں